آؤ وادئ یاسین کی سیر کو چلیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مشہور شاعر ساحر لدھیانوی کو کالج کے دنوں میں عشق ہوا اور اُنہیں شاعری کرنے کی پاداش میں کالج سے نکالا گیا۔ بہت عرصے بعد اُنہوں نے اپنے کالج کی شان میں ایک نظم لکھی جس کا عنوان ہے ”نذرِ کالج“۔ ہم نے بھی بچپن میں اپنے علاقے وادئی یاسین سے محبت کی اور سکول میں پڑھائی میں دل لگایا اور نسبتاً بہتر کارگردگی دکھائی تو ہمیں بھی گاؤں سے شہر کی طرف بھیجا گیا اور پھر کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم اور اُس کے فوراً بعد ملازمت ملی تو شہر کی فضا ہمیں اپنے اندر قید کرنے میں کامیاب رہی۔ شہر کی زندگی جب بھی زیادہ تنگ کرتی ہے تو ہم بھاگم بھاگ اپنی خوبصورت وادی پہنچ جاتے ہیں۔ جب بھی وادئی یاسین کے انٹری پوائنٹ پر پہنچ جاتے ہیں یا وہاں کی کوئی خوبصورت تصویر ہماری نظروں سے گزرتی ہے تو ساحر لدھیانوی کی وہی نظم یاد آتی ہے اور اس نظم کا یہ شعر آپ ہی آپ زبان پر آتا ہے۔

اے وادئی جمیل میرے دل کی دھڑکنیں
آداب کہہ رہی ہیں، تیری بارگاہ میں

گلگت بلتستان کے دیگر سیاحتی مقامات کی طرح وادئی یاسین بھی ایک پُر فضا سیاحتی مقام ہے جو گلگت شہر کے غربی شمال میں واقع ہے۔ انتظامی اعتبار سے یاسین ضلع غذر کا ایک تحصیل رہا ہے جسےحال ہی میں سب ڈویژن کا درجہ گیا ہے۔ گلگت بلتستان کی انتہائی شمال میں موجود اس علاقے کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ یاسین کے دو خوبصورت علاقوں درکوت اور تھوئی کی باونڈری واخان کاریڈور سے ملتی ہے یعنی یاسین کی شمالی باونڈری کے صرف 20 کلومیٹر کے فاصلے پر سابق روسی ریاستیں واقع ہیں۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ یہ علاقہ گلگت شہر سے بہت دور ہے۔ گلگت شہر سے وادی یاسین کا فاصلہ لگ بھگ اتنا ہی ہے جتنا گلگت شہر سے ہنزہ کریم آباد تک کا فاصلہ ہے وادی یاسین پہنچنے کے لئے پونیال اور گوپس کی دلکش وادیوں سے گزرنا پڑتا ہے جن کی خوبصورتی نظر کو حیرت پہنچاتی ہے اور گاڑی چلانے والا شخص آپ ہی آپ ایکسیلیٹر پر سے پاؤں ہٹائے دیتا ہے اور یوں یہ کم فاصلہ کوئی تین گھنٹے کے دورانیے میں طے کیا جاتا ہے۔ پونیال کے علاقے شیر قلعہ، جپوکے، گیچ، گلمتی، سنگل، گاہکوچ، ہوپر اور گوپس کے گاؤں رویشین اور سمال سے گزرتے ہوئے اُن علاقوں کی محصور کُن خوبصورتی میں گُم ہونا ایک فطری عمل ہے۔

وادی یاسین شہیدوں کی سر زمین ہونے کے ساتھ ساتھ دریاؤں، چشموں، جھیلوں، آبشاروں، گلیشیئر اور فلک پوش پہاڑوں کی سرزمین بھی ہے جہاں بل کھاتے دریا، شور مچاتے آبشار، بہتے چشمے، لہلہاتے کھیت اور شفاف پانی کے جھیل اس علاقے کی خوبصورتی کو چار چاند لگائے دیتے ہیں۔ اگرشہر کی مصروف ترین زندگی اور آلودہ فضا آپ کو تنگ کر رہی ہےتو وادی یاسین کے دلکش نظاروں کا چشم دید گواہ بننا اوروہاں فطرت کی کاری گری سےلطف اندوز ہونا ایک لازمی امر ہے۔ آپ یاسین کے خوبصورت گاؤں درکوت کے سرسبزو شاداب اور تا حد نگاہ تک سبزاہٹ پر مشتمل میدان میں کمیپنگ کر لیں اور قدرتی موسیقی سُن لیں۔ یقیناً آپ کی تھکاوٹ، پریشانی اور سُستی ہزاروں میل دور چلی جائے گی۔

دریا کے کنارے بیٹھ کر فطرت کی کاریگری کا نظارہ کرنا چاہتے ہیں تو آپ گیندائے سے متصل مشر نامی جگہ میں کچھ وقت کے لئے رُک جائے یا یاسین خاص اور طاؤس کے درمیانی نالہ نمہ جگہ قیام کریں جہاں آپ نازبر کی طرف سے آنے والے دریا کے صاف پانی کے قریب بیٹھ کر اپنے دماغ کو فرحت بخش سکتے ہیں۔ اسی طرح کیمپنگ کے لئے قرقلتی، ماکولی، نازبر، تھوئی، مورونگ اور برنداس جیسی جگہوں کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ اگر پاسین کے مختلف گاؤں کا نظارہ کرنے کا شوق ہو تو آپ بجائیوٹ، کھن یٹے، تھاؤس چھمرکھن، سندی موڈری، سیلپے برکلتی یا شغیتین اور تھوئی میں دراچ یا داپیس سے آپ علاقے کی خوبصورتی کو اپنے کیمرے میں قید کر سکتے ہیں۔

اگر تاریخی مقامات دیکھنے اور رسوم و رواج کی باقیات سے جانکاری کا شوق ہے تو نوح زیارت، تخم ریزی کی تقریب منعقد ہونے والا گھر، یایسین فورٹ، موڈوری فورٹ، چھمرکھن، بحری کھن، قلمقے کھن، دربن ترچھیت، فرنگِ بار وغیرہ کا وزٹ کر سکتے ہیں۔ موڈوری کا واقعہ یاسین کی تاریخ کا سیاہ ترین اور دردناک واقعہ ہے جہاں اُنیسویں صدی کے آخر میں یاسین کے لوگوں کی نسل کشی ہو ئی تھی۔ جارج ہیوارڈ نے اس دردناک واقعے کو دنیا کے سامنے لانے کی کوشش کی تھی تو اُنہیں بھی درکوت کے مقام پر مارا گیا۔

یاسین میں سیاحوں کی ٹریکینگ کے لیے بہترین ٹریکنگ سپاٹس موجود ہیں۔ آپ بجائیوٹ نالے میں ٹریکنگ کر سکتے ہیں۔ نازبر نالے میں ٹریکنگ ایک نہایت ہی یاد گار مہم ہو سکتی ہے۔ اسی طرح قرقلتی اور ماکولی نالے کی ٹریکنگ بھی نہایت لطف اندوز ہو سکتی ہے۔ تھوئی میں مختلف نالے ہیں جن میں دوشتیر، خلتیر، مُشبر اور خایمیت وغیرہ شامل ہیں جہاں سیاح بہتیرین جگہیں دیکھ سکتے ہیں۔ درکوت میں گیکوشی، گرتینجھ وغیرہ ٹریکنگ کے لیے نہایت بہترین جگہیں ہیں۔ درکوت، تھوئی، بازبر اور قرقلتی کے نالے نہایت ہی پُر امن اور پُر سکوں جگہیں ہیں جہاں سیاح دُنیا کے معمول کی زندگی سے دُور فطرت کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کے قومی ہیرو لالک جان شہید (نشان حیدر) کا مزار سیاحوں اور دیگر لوگوں کے وزٹ کے لئے ایک خاص جگہ ہے جو یاسین کے گاؤں ہندور میں واقع ہے۔

درکوت میں گرم چشمہ، نازبر نالے میں کڑوا چشمہ، برکلتی سیلپے اور تھوئی دُشتیر میں بھی خاص قدرتی چشمے موجود ہیں جنہیں لوگ مختلف بیماریوں سے نجات کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ہایئڈرو سٹیڈیز میں شوق رکھنے والے طلبہ اور ریسرچرز کے لئے یہ چشمے اہمیت کے حامل ہو سکتے ہیں۔

یاسین خاص، تھاؤس اور ہندور میں ریستوران اور ہوٹل کی سہولیتیں موجود ہیں جہاں سیاح طعام و قیام کی سہولت حاصل کر سکتے ہیں۔ گلگت شہر سے گاڑیاں روزانہ سروس کی بنیاد پر پونیال روڈ سے یاسین کے مختلف گاؤں تک جاتی ہیں اور یاسین کے لوگ اپنے مہمانوں کی راہنمائی اور حتیٰ المقدور خدمت کے ہمہ وقت تیار ہوتے ہیں۔

ایک ذمہ دار سیاح کی حثیت سے آپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ مقامی چیزیں خریدیں اور مقامی خدمات حاصل کریں اور ساتھ ساتھ علاقے کے لوگوں سے ملیں، اُن کے مسائل پر بات چیت کریں۔ اگر آپ مخیر حضرات میں شامل ہیں تو علاقے میں تعلیم اور صحت کی کسی کاوش میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں اور علاقے کی خوبصورت فوٹوگرافی اور تحاریر سے علاقے کی خدمت کرسکتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ماحول کی آلودگی کا خیال رکھنا آپ کا اولین فرض ہے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
نوید حسین کی دیگر تحریریں
نوید حسین کی دیگر تحریریں