اوئے ٹرمپ اب پرچی کا زمانہ چلا گیا ہے
ہمارے وزیر اعظم عمران خان سے ٹرمپ بے حد ڈرا ہوا ہے۔ پاکستان میں لیاقت علی خان کے بعد پہلی مرتبہ ایک ایسی ایماندار، مخلص اور دلیر قیادت آئی ہے جو پاکستانی کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کو مکا دکھانے کا حوصلہ رکھتی ہے۔ ایسی قیادت ہی دنیا کے ایک عام سے ملک کو سپر پاور بنا سکتی ہے۔ تاریخ میں اس بات کی شہادت موجود ہے۔
روایت ہے کہ سکندر اعظم کے ابا شاہ فیلقوس کے زمانے میں مقدونیہ ایک چھوٹا سے غیر اہم ملک ہوتا تھا۔ رقبہ اس کا کل اتنا ہی بنتا تھا جتنا ہمارے ضلعے اوکاڑہ کا ہے۔ اس زمانے میں ایران سپر پاور تھا اور خراسان سے لے کر یونان تک اس کا سکہ چلتا تھا۔ یونان بھی اسے خراج دیتا تھا اور مقدونیہ کا شاہ فیلقوس بھی۔ فیلقوس کی حادثاتی موت کے باعث جس میں سکندر کی اماں ملکہ اولمپیاس کا ہاتھ بھی بتایا جاتا ہے، سکندر بادشاہ بنا۔
سالانہ خراج کا وقت آیا تو ایران کے بادشاہ دارا نے اپنا پٹواری مقدونیہ بھیجا کہ محصول کا سونا اکٹھا کر کے لاؤ۔ سکندر اعظم نے اسے جواب دیا کہ جو مرغی سونے کے انڈے دیتی تھی وہ فوت ہو گئی ہے۔ اس پر دارا اس سے لڑنے نکلا لیکن اسے علم نہیں تھا کہ سکندر ایک دلیر، ایماندار اور قابل قیادت ہے۔ وہ سکندر کے ہاتھوں مارا گیا۔
یقیناً ہمارے علاوہ یہ روایت سپر پاور امریکہ کے صدر ڈانلڈ ٹرمپ نے بھی سن رکھی ہے اس لئے وہ ہمارے وزیر اعظم عمران خان سے خوفزدہ ہے۔ آپ خود فیصلہ کریں کہ کیا وجہ ہے کہ جب ٹرمپ صدر منتخب ہوا تو حلف اٹھانے سے بھی پہلے اس نے اپنی سائیڈ ٹیبل پر موجود فون اٹھا کر سیدھا پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کا نمبر ملا دیا، اور لگا بے وقوف بنانے کہ ”میاں صاحب، آپ کی بہت اچھی ریپوٹیشن ہے۔ آپ کمال کے آدمی ہیں۔ آپ خیرہ کن کام کر رہے ہیں جو ہر طرف دکھائی دے رہا ہے۔ میں آپ سے ملاقات کی آس میں گھڑیاں گن رہا ہوں۔ حل طلب مسائل کو سلجھانے کے لئے آپ جیسا حکم کریں، میں ویسا رول ادا کرنے کے لئے تیار ہوں اور اس کا خواہش مند ہوں۔ یہ میرے لئے بہت عزت کی بات ہو گی اور میں ذاتی طور پر یہ کروں گا“۔
لیکن اب جب کہ ڈانلڈ ٹرمپ امریکہ کا با اختیار صدر ہے تو اسے اتنی جرات نہیں ہوئی کہ ہمارے وزیر اعظم عمران خان کو براہ راست فون کر لے۔ وہ اتنا ڈرا ہوا تھا کہ اس نے اپنے سیکرٹری مائک پومپیو سے ہمارے وزیر اعظم کو فون کروایا۔ پومپیو کا بھی خوف سے برا حال تھا۔ ٹرمپ نے تو اسے کہا تھا کہ پاکستانی وزیر اعظم کو وہی ڈو مو ڈو مور کہو جو امریکی صدر پچھلے پانچ سالوں سے کہتے چلے آ رہے ہیں، اور ساتھ زور ڈالو کہ پاکستان حقانی گروپ اور طالبان وغیرہ کے خلاف کارروائی کرے، لیکن پومپیو کا یہ کہنے کا حوصلہ نہ پڑا۔
پومپیو نے ہمارے وزیر اعظم کو بس اقتدار سنبھالنے کی مبارک باد وغیرہ دے دی۔ اس کے بعد اس نے اپنی ترجمان ہیتھر نائرٹ کے ذریعے بیان جاری کروا دیا کہ سیکرٹری صاحب نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کو فون کیا ہے اور ان کی حکومت کے ساتھ نتیجہ خیز تعلقات بنانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے ان کو کہا کہ پاکستان اب اپنی سرزمین پر موجود تمام دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا فیصلہ کر لے۔
یہ خبر پاکستان پہنچی تو ہمارے وزیر اعظم خود تقریر کرنے لگے تھے کہ ”اوئے ٹرمپ، جھوٹ مت بولو، اب یہ پرچی کا زمانہ نہیں ہے جو تم سے کانپ کانپ کر پاکستانی وزیر اعظم تمہیں سبق سناتا رہے، یہ نیا پاکستان ہے جہاں اب نیا وزیر اعظم پرچی کے بغیر بے نقط سناتا ہے۔ یقین نہیں تو میرا پارلیمنٹ سے پہلا خطاب دیکھ لو“۔
لیکن غالباً وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ان کو کچھ سنبھال لیا اور کہا کہ ”ہم نے بھی ترجمان رکھا ہوا ہے اور اسے بھاری تنخواہ دیتے ہیں۔ ہم بھی ترجمان سے جواب دلوائیں گے۔ آپ کا منصب نہیں کہ چھوٹے موٹے سرکاری اہلکاروں کے منہ لگیں، جب امریکہ جانا ہو تو ٹرمپ سے براہ راست خطاب کر لیں“۔
پھر حسب حکم پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے اپنا ٹویٹر کھولا اور امریکیوں کا علاج شروع کر دیا۔ انہوں نے فرمایا کہ ”پاکستان امریکہ کے محکمہ خارجہ کے اس جھوٹے بیان کا نہایت ہی زیادہ برا مناتا ہے جو وزیر اعظم خان اور سیکرٹری پومپیو کی فون پر بات چیت کے بارے میں دیا گیا۔ ساری بات چیت میں تو پاکستان میں کام کرنے والے دہشت گردوں کا کوئی ذکر ہی نہیں ہوا تھا۔ اسے فوراً ٹھیک کیا جانا چاہیے“۔ اس پر مس ہیتھر نائرٹ نے کھسیانی ہو کر کوئی تین مرتبہ کہا کہ وہ اپنے بیان پر قائم ہیں۔ ظاہر ہے کہ ہمارا ترجمان سچ بول رہا ہے۔ جہاں تک ہیتھر کی بات ہے تو ہمارے شاعر صدیوں سے بتاتے آ رہے ہیں کہ حسینوں کا تو کام ہی جھوٹ بولنا ہوتا ہے۔
لیکن جھوٹ کی بھی کوئی انتہا ہوتی ہے۔ اتنا زیادہ جھوٹ بولنا غلط ہے۔ شیم آن یو امریکیو۔ تم یہ سوچ لو کہ جب پارلیمنٹ میں خان صاحب نے جب اپنی تقریر ایک طرف رکھ کر دلیری سے حق بیان کیا تھا اور تمام کرپٹ لوگ ان کے خوف سے چھپتے پھر رہے تھے تو بعد میں شاہ محمود قریشی نے ہی بتایا تھا کہ ”عمران خان جو تقریر کرنا چاہتے تھے اپوزیشن کے احتجاج کی وجہ سے وہ نہ کر سکے۔“ لگتا ہے کہ ٹرمپ کے ساتھ بھی ویسی ہی سیدھی بات ہو گی۔
خان صاحب کچھ ڈھلمل سے ہیں کہ امریکہ جا کر اقوام متحدہ سے خود ہی خطاب کر دیں یا شاہ محمود قریشی کو بھیجیں۔ اگر خود چلے گئے تو قیامت ہو گی۔ ٹرمپ نے یہ سمجھ کر کہ پاکستان کا نیا وزیر اعظم بھی نواز شریف جیسا پرچی والا ہے، خان صاحب پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تو خان صاحب جو تقریر وائٹ ہاؤس میں کرنا چاہتے ہوں گے وہ نہیں کریں گے بلکہ ٹرمپ کو اس کی اوقات یاد دلاتے ہوئے للکاریں گے کہ ”تم سے جو ہو سکتا ہے کرو، دھرنا دو، ناکہ بندی کرو میں تمہیں پوری مدد دوں گا مگر کسی بدمعاش کو نہیں چھوڑوں گا۔ بچ سکتے ہو تو بچ جاؤ“۔
ڈانلڈ ٹرمپ زمین پر پہلا فرعون نہیں ہے۔ اس سے پہلے ہٹلر بھی بہت مشہور ہوا تھا۔ ممتاز مورخ وسعت اللہ خان صاحب سے روایت ہے کہ ممدو اور عنایت ایک ہی گاؤں سے تھے اور ایک ہی رجمنٹ میں سپاہی تھے۔ جب ان کی رجمنٹ مصر میں جنرل رومیل کا انتظار کر رہی تھی تو عنایت کو ایک ماہ کی چھٹی مل گئی۔ عنایت گاؤں آیا اور ممدو کی ماں کو بتایا کہ ممدو خیریت سے ہے اور ہٹلر کی فوجوں سے بڑی بے جگری سے لڑ رہا ہے۔ ممدو کی ماں نے ہاتھ اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ’ایک تو ہٹلر بڑا ضدی ہے دوسری طرف میرا ممدو بھی غصے کا بہت تیز ہے۔ خدا خیر کرے!‘
ڈانلڈ ٹرمپ خیریت چاہتا ہے تو ہٹلر کی طرح وہ بھی محتاط رہے۔ ہمارے وزیر اعظم بھی غصے کے بہت تیز ہیں۔


