مردوں کے ساتھ تصویریں کھنچوانے کا تہوار


یہ لوگ مردے کو قبر سے نکال کر اس کے ساتھ تصویر کیوں بنوارہے ہیں؟ اصل وجہ جان کر آپ بھی کانپ اُٹھیں گے

مرنے والے کو اس کی آخری آرامگاہ میں پہنچانے کے بعد دوبارہ باہر آنے کی زحمت دی جائے، یقیناً اس بات کا تصور بھی ناممکن دکھائی دیتا ہے، مگر انڈونیشیا کے جزیرے سولاویسی پر بسنے والے قبائلیوں کو کون سمجھائے۔ یہ اپنے مُردوں کو ناصرف قبروں سے نکالتے ہیں بلکہ ان کے ساتھ ایسی ایسی حرکتیں کرتے ہیں کہ جان کر عقل حیرن رہ جائے۔

میل آن لائن کے مطابق اس جزیرے پر بسنے والے ہر تین سال بعد قبرستانوں کا رخ کرتے ہیں اور اپنے پیاروں کی لاشوں کو نکال لاتے ہیں۔ یہ کام ”مانینے تہوار“ کے موقع پر کیا جاتا ہے جو ہر تین سال بعد منایا جاتا ہے۔ تہوار کے موقع پر لوگ اپنے مُردوں کی لاشوں کی صفائی کرتے ہیں، انہیں خوب سجاتے سنوارتے ہیں اور سجی سنوری لاشوں کو گلی گلی اٹھائے پھرتے ہیں۔

اس بارمانینے تہوار کے موقع پر کچھ سیاح بھی اس جزیرے پر جا پہنچے اور انہوں نے بھی لاشوں کے ساتھ تصاویر بنوائیں، جنہیں دیکھنے والے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں کر پا رہے۔ ایک ایسی ہی تصویر میں ایک سفید فام جوڑا مقامی لوگوں کے ساتھ موجودہے اور ان کے درمیان ایک خاتون کی لاش ہے جسے انہوں نے اپنے ہاتھوں سے تھام رکھا ہے۔ اس مردہ خاتون کو نیلے رنگ کا نیا لباس پہنایا گیا ہے جبکہ اس کے گلے میں موتیوں کی مالا نظر آتی ہے اور اسے چوڑیاں و دیگر آرائش و زیبائش کا سامان بھی پہنایا گیا تھا۔

سیاحوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے قبیلے کی تمام رسومات میں شرکت کی، جس کے دوران وہ قبروں سے لاشیں نکال کر لائے، انہیں صاف کیا گیا اور پھر انہیں خوب سجا سنوار کر گلیوں میں گشت کروایا گیا۔ تہوار کے اختتام پر لاشوں کو نئے تابوتوں میں ڈال کر دوبارہ ان کی قبروں میں دفن کردیا گیا تا کہ اگلے تین سال تک یہ آرام کر سکیں۔

Facebook Comments HS