نشہ کر کے 15 انڈے دینے کی کوشش کرنے والے نوجوان کا انجام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آدمی نے 15 انڈے دے دئیے، اس کے جسم میں یہ کہاں سے آئے؟ جان کر ڈاکٹروں کے بھی ہوش اُڑگئے

انڈہ دینے کی مشکل ذمہ داری ہمیشہ سے مرغی کے پاس رہی ہے مگر پہلی بار جب ایک انسان نے یہ بھاری ذمہ داری اٹھانے کی کوشش کی تو نتیجہ کچھ ایسا دردناک نکلا کہ یقیناً آئندہ کوئی بھول کر بھی ایسی کوشش نہیں کرے گا۔ یہ حیرتناک واقعہ نیدرلینڈز میں پیش آیا ہے جہاں ایک نوجوان نے مرغی بننے کی کوشش میں ایک درجن سے زائد انڈے اپنے جسم میں داخل کر لئے، تا کہ ایک ایک کر کے دے سکے، مگر ایسی مصیبت میں گرفتار ہوا کہ فوری ہسپتال جانا پڑ گیا جہاں پیٹ چاک کر کے اس کے جسم سے انڈے نکالے گئے۔

میل آن لائن کے مطابق نوجوان کے دماغ پر یہ خبط ایک طاقتور نشہ آور دوا استعمال کرنے کے بعد سوار ہوا۔ ”جی ایچ بی“ نامی منشیات کے استعمال سے اس کا دماغ ایسا گھوما کہ اُس نے انڈے دینے کا فیصلہ کر لیا۔ اس کے لئے ضروری تھا کہ پہلے انڈے جسم میں موجود ہوں، سو اُس نے پہلے انڈے ابالے اور پھر انہیں ٹھنڈا کرنے کے بعد ایک ایک کر کے اپنے جسم میں داخل کرنا شروع کر دیا۔ جب وہ 15 انڈے اپنے جسم میں داخل کر چکا تو ان کے غیر معمولی دباﺅ کی وجہ سے اس کی بڑی آنت کا ایک حصہ پھٹ گیا اور وہ درد سے بلبلانے لگا۔

بدقسمت نوجوان کو نازک حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا جہاں اُس کا علاج کرنے والے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ ” جب وہ ہمارے پاس آیا تو اس کے دل کی دھڑکن بے حد تیز ہوچکی تھی جبکہ وہ سانس لینے کے لئے بُری طرح ہانپ رہا تھا۔ معائنے سے معلوم ہوا کہ اس کے معدے اور خصوصاً بڑی آنت کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ اس کے جسم میں اضافی ہوا اور مائعات کی بھی بڑی مقدار جمع ہوچکی تھی۔ یہ ایک ایمرجنسی صورتحال تھی جس کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت تھی۔ لیپروٹومی سرجیکل پروسیجر کے ذریعے ہم نے اس کا پیٹ چاک کیا جس کے بعد انڈے باہر نکالے گئے اور پیٹ کی صفائی بھی کی گئی۔ آپریشن کے بعد مریض کو انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا ہے لیکن اب اس کی حالت کافی بہتر ہے۔“

واضح رہے کہ جی ایچ بی نامی منشیات عموماً نوجوان افراد جنسی طاقت کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ بعض اوقات اسے میتھا مفیٹامین یا میفیڈرون کے ساتھ ملا کر بھی استعمال کیا جاتا ہے جس کے باعث اس کے اثرات مزید خطرناک ہوجاتے ہیں اور یہ انسان کو نیم پاگل کر دیتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •