گستاخانہ خاکے اور ہمارے رویے


کچھ دنوں بعد گستاخی کا پھر کوئی نیا شوشا چھوڑدیا جاتا ہے۔ پھر عوام سڑکوں پر آتی ہے۔ پھر ختم ہوجاتا ہے۔ گذشتہ پندرہ بیس سالوں سے یہی ہوتا آرہا ہے۔ ویسے بھی عوام احتجاج سے زیادہ کر بھی کیا سکتی ہے؟ یہ کام تو حکمرانوں اور اعلیٰ حکام کا ہے جو اپنے اختیارات استعمال کرکے فوری طور پر اس معاملے کو عالمی سطح پر اٹھاسکتے ہیں اور گستاخی کرنے والے ملک کا بائیکاٹ کرسکتے ہیں۔ اگر تمام اسلامی ممالک اس ملک سے اپنا اپنا سفیر واپس بلاکر اس ملک کے سفیر کو اپنے وطن سے نکال دیں اور ایمبیسی کو تالا لگادیں تو قوی امید ہے کہ اس طرز عمل سے گستاخی کرنے والے اپنے ناپاک عمل کو روکنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ ہالینڈ پہلے بھی کئی مرتبہ گستاخانہ خاکے شائع کرچکا ہے اور گستاخانہ فلمیں بھی بناچکا ہے۔ لیکن مسلمان حکمرانوں کی بے حسی کا عالم یہ ہے کہ ہالینڈ کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا۔

مسلمان حکمرانوں کی اسی بے حسی، غفلت اور سستی کی وجہ سے ہالینڈ آج ایک مرتبہ پھر اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل میں مصروف ہے۔ بدقستی سے مسلمان حکمرانوں کی سیاسی ترجیحات میں حرمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا اہم ترین نکتہ موجود نہیں جس کی وجہ سے مغربی ممالک میں پائے جانے والے منفی عناصر کی بیخ کنی کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی۔ بیان بازی اور مذمتیں بہت ہوگئیں اب وقت کا تقاضا یہ ہے کہ فوری طور پر نیدرلینڈ (ہالینڈ) کی ایمبیسی کو تالا لگایاجائے اور اس کے ساتھ ہر قسم کی خارجی و سفارتی تعلقات ختم کیے جائیں اور بین الاقوامی سطح پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا جائے۔ المیہ یہ ہے کہ جو لوگ محض ایک کرسی کی خاطر آل پارٹیز کانفرنس تو بلالیتے ہیں لیکن ناموسِ رسالت کی حفاظت پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

ایسے موقع پر عوام کو بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ ایک وقت تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی خبریں منظر عام پر آتی تھیں تو پورے ملک سے لوگ سڑکوں پر آجاتے تھے اور مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے اپنی اپنی بساط کے مطابق ناموسِ رسالت پر پہرہ دیتے تھے۔ لیکن جوں جوں وقت گزر رہا ہے اور آئے روز گستاخیاں بڑھتی جارہی ہیں، لیکن بدقسمتی سے ایمانی جذبہ کمزور ہوتا جارہا ہے۔ اب کہیں سے گستاخی کی خبر آتی ہے تو شروع میں اس کا رد عمل صرف سوشل میڈیا پر نظر آتاہے پھر کہیں جاکر علاقوں میں چھوٹی چھوٹی ریلیاں نظر آتی ہیں۔

عوام اب یہ سمجھ رہی ہے کہ آئے روز خاکے بنائے جا رہے ہیں۔ ان کو ہمارے احتجاج سے کوئی فرق نہیں پڑتاتو ہم اپنی توانائیاں کیوں صرف کریں۔ اگر ہم نے یہ سوچ اپنالی تو سمجھ لیں کہ اسی میں ان گستاخوں کی کامیابی ہے۔ ان کا مقصد ہی یہ ہے کہ کسی نہ کسی طرح مسلمانوں کے دلوں سے حرمت رسول پر جان دینے کا جذبہ ختم کیا جائے۔ لہٰذا ہمیں اپنی طاقت اور بساط کے مطابق احتجاج کرکے حکومت کو عملی اقدام اٹھانے پر مجبور کرنا چاہیے تاکہ عالمی سطح پر یہ معلوم ہوجائے کہ مسلمانوں کے دلوں میں ایمانی جذبہ برقرار ہے اور وہ آج بھی حرمت رسول پر جان قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2