طلبہ او ر سیاست: قائدِ اعظم کی نظر میں

قائد اعظم کی دور رس نگاہوں نے جان لیا تھا کہ مستقبل میں کس طرح کے حالات ہوں گے اور نوجوانوں کو کس طرح کے اوصاف سے متصف ہونا پڑے گا۔ نیز ان کی دور رس نگاہیں یہ بھی دیکھ رہی تھیں کہ آزاد مملکت میں نوجوانوں کی کس قدر ضرورت ہوگی۔ اسی لیے انہوں…

Read more

سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی نصیحتیں

حضر ت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلا علیہ الرحمہ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ آپ یکتائے زمانہ ولی کامل تھے۔ آپ ولیوں کے امام تھے۔ آپ محض صاحب کرامت بزرگ نہیں تھے بلکہ اپنے زمانے کے متقی پرہیز گارعالم باعمل اور صوفی باصفا تھے۔ ظاہری و باطنی علوم کے ماہر تھے۔ مخلوق خدا آپ…

Read more

نوجوان طلبہ میں تخلیقی اور تحقیقی صلاحیتوں کا فقدان۔ وجوہات اور اثرات کا جائزہ

تحقیق کا مرحلہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ ہر تحقیق کے بعد کوئی نئی تحقیق سامنے آجاتی ہے۔ اور یہ کوئی برا فعل یا امر نہیں ہے۔ انسان اپنی ذہنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے دور کے تقاضوں کے مطابق تحقیق کے میدان میں اپنا کردار ادا کرتا رہتا ہے اور نت نئی تحقیقات…

Read more

رحمۃ للعالمین کانفرنس (سرکاری) کا آنکھوں دیکھا حال

بارہ ربیع الاوّل کو رحمۃ للعالمین کانفرنس سیرینا ہوٹل اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ یہ کانفرنس 44 ویں رحمۃ للعالمین کانفرنس تھی جس کا موضوع ”ریاستِ مدینہ اور اسلامی فلاحی مملکت کا تصور۔ ۔ تعلیماتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں ’‘ تھا۔ اس کانفرنس میں تمام مسالک کی نمائندگی، متعدد مذہبی اور…

Read more

شعبۂ تعلیم اور نظام تعلیم: توجہ اور خاطر خواہ اقدامات کے منتظر

ملک کی ترقی کا دار و مدار تعلیم پر بھی منحصر ہوتا ہے۔ تعلیم انسان کو اچھائی اور برائی کی تمیز سکھاتی ہے۔ صحیح اور غلط کی پہچان کراتی ہے۔ تعلیم انسان کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ اپنی زندگی بہتر انداز سے گزار سکے۔ پوری دنیا میں تعلیمی نظام پر بہت زور دیا…

Read more

چاند کا تنازعہ: مسئلہ کچھ اور ہے!

خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں مقامی سطح پر مسجد قاسم خان کے مفتی شہاب الدین پوپلزئی ”صرف“ رمضان اور شوال کے چاند کا اعلان کرتے ہیں اور ہمیشہ سرکاری رویت ہلال کمیٹی کی مخالفت کرتے ہیں۔ مسجد قاسم علی خان کو عید الفطر کے چاند کی 100 سے زیادہ شہادتیں موصول ہوئیں جس کی بنیاد…

Read more

تبدیلی اور نا اہلی

گذشتہ دنوں پہلے وزیر اعظم عمران خان نے اپنی کابینہ کے کئی وزراء تبدیل کیے۔ ناقص کارکردگی دکھانے والے وزراء کو تبدیل کر دیا گیا۔ گویا کہ وہ وزراء نا اہل تھے کیونکہ انہیں جو ذمہ داری سونپی گئی تھی وہ اسے درست طریقے سے نہیں ادا کرسکے۔ وزیرِ خزانہ نے معیشت کو کہاں سے کہاں پہنچادیا۔ ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ مہنگائی کی شرح بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر وزراء کی تبدیلی بظاہر بڑی خوش آئند ہے کہ عمران خان نے اپنی ہی پارٹی کے لوگوں کو وزارت سے فارغ کردیا۔

Read more

استقبالِ ماہِ رمضان

خالقِ کائنات نے انسان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا۔ انسان کو اس کی استطاعت کے مطابق عبادت کا مکلف کیا اور اسے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا۔ دراصل انسان روح اور جسم کے مجموعے کا نام ہے۔ حقیقت میں دونوں اپنی ضروریات و تسکین کی محتاج ہیں۔ اللہ رب العزت نے جسم کی ضروریات کا سامان یا اہتمام زمین سے کیا کہ تمام تر اناج غلّہ پھل اور پھول وغیرہ زمین سے اُگائے جبکہ روح کی غذا کا اہتمام آسمانوں سے کیا۔ سال کے گیارہ مہینے جسمانی ضروریات اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ اشیاء سے پوری کی جاتی ہیں جبکہ روح کی غذا ئی ضروریات کو پوراکرنے کے لیے ایک مہینہ مقرر کیا گیا جسے رمضان کا مہینہ کہا گیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :اے ایمان والو! تم پر روزہ رکھنا فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلی امتوں پر روزہ رکھنا فرض کیاگیا تھاتاکہ تم متقی بن جاؤ۔ (سورہ البقر: 183 )

Read more

احترام رمضان آرڈیننس

جنرل ضیاء الحق نے 1891 ء میں پاکستان میں کل دس دفعات پر مبنی ”احترام رمضان آرڈیننس“ متعارف کروایا جس کے تحت روزے کے اوقات میں پبلک پلیسز (عوامی مقامات) پر کھانے پینے کی اشیاء بیچنے یا کھاتے ہوئے پکڑے جانے پر تین ماہ قید کیا جائے گا، یا پھر اسے 500 روپے جرمانہ دینا…

Read more

غریبوں کی مدد کریں۔ مگر عزت کے ساتھ!

معاشرے میں معاشی توازن برقرار رکھنے کے لیے غریبوں، مسکینوں، یتیموں اور بیواؤں کی مدد کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اسلام بھی ضرورتمندوں کی ضرورت پوری کرنے اور حاجتمندوں کی حاجت روائی کرنے پر زور دیتا ہے۔ معاشی توازن برقرار رکھنے کے لیے اسلام نے مسلمانوں کو صدقہ، فطرا نہ اور زکوٰۃ کا نظام دیا تاکہ دولت صرف امیر اور مالداروں کے ہاتھوں میں مرتکز ہوکر نہ رہ جائے بلکہ غریب بھی بآسانی گزر بسر کرسکیں۔ اسی لیے اسلام میں سال میں ایک مرتبہ مخصوص شرح کے مطابق مالداروں پر زکوٰۃ فرض کی گئی جبکہ صدقات کے لیے کوئی قید نہیں لگائی گئی۔ مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ وقتاً فوقتاً اپنے مال میں سے صدقہ کرتے رہیں تاکہ اس کی برکتیں بھی حاصل ہوتی رہیں اور غریبوں کی مدد بھی ہوتی رہے۔

Read more