چانکیہ کوتلیہ، اور سلطنت اشرافیہ میں اتفاق کا سریا


ایک شخص حج کے لئے جانے لگا تو تحائف کی فہرست تیار کی۔ اس کے پاس ایک طوطا تھا۔ اس نے جب طوطے سے خواہش پوچھی تو میاں مٹھو نے کہا حضور عرب کی مقدس سرزمین پر کوئی طوطا ملے تو اس کو سلام پیش کردینا۔ وہ شخص مناسک سے فارغ ہوا تو زیارتوں کے لیے نکل کھڑا ہوا۔ ایک وادی میں بہت سے طوطے درخت پہ بیٹھے تھے۔ اس شخص نے ان کو قید طوطے کا سلام دیا تو وہ سب زمین پر اندھے منہ آرہے۔ وہ شخص حیران واپس چلا آیا۔

گھر واپسی پر طوطے نے احوال پوچھا تو اس نے سب سنادیا۔ قصہ سننا تھا کہ میاں مٹھو بھی منہ کے بل گرا اور مرگیا۔ وہ شخص بڑا پریشان ہوا کہ پرانا طوطا تھا مرگیا۔ خیر اس نے طوطے کو پنجرے سے نکال باہر ہھینکا۔ جیسے ہی طوطا باہر گیا وہ یکایک اڑاری بھر کے بولا کہ نسبت داری سب پہ بھاری۔ اس آدمی نے طوطے کی چالاکی پہ کف افسوس ملا۔

بات یہیں پر ختم نہی ہوتی۔ ایک میاں اور بھی تھا جس نے مالکوں کے ساتھ بد عہدی کا مرتکب ہونا تھا۔ اسی کوشش میں ایک بار پنجرے میں بند بھی ہوا لیکن حجاز مقدس سے آنے والے پیغامات سے آزادی نصیب ہوئی۔ ترکیب یہ اب پرانی ہوچلی تھی اور خواہشات ایسی کہ عجب کرپشن کی غضب داستانیں رقم کرنا تھیں۔ ایک ایسی بادشاہت قائم کرنی تھی کہ جس کا بھٹو تو مرسکتا تھا مگر اس کی شرافت لا فانی رہتی۔ اسی کی فکر میں اس بار مغرب کو چھوڑ چھاڑ مشرق کے سورج کو سجدہ ریز ہونے کی ٹھانی اور چانکیہ کے حقیقی وارث سے معاملہ فہمی کی۔

چانکیہ کوتلیہ، ایک عظیم ہندوستانی فلسفی تھا جسے ہندوستان کی سیاست کا جد امجد مانا جاتا ہے۔ چار سو سال قبل از مسیح میں اس شخص کے لکھے گئے افکار آج بھی ہندوتوا میں مذہبی طورپر اپنائے جاتے ہیں۔ ہندوستان کی خارجہ پالیسی کا سینٹر آف گریویٹی وہی اصول ہیں جو اس چالاک بوڑھے نے ایک نو عمر شہزادے چندر گپتا موریا کو سکھلائے تھے جن کی پیروی نے موریا سلطنت کی بنیادوں میں اتفاق کا سریا بھردیا تھا۔ اس بوڑھے کی دو تصانیف ہیں جو زمانے کی گردشوں سے بچتی بچاتی چلی آرہی ہیں۔ ایک آرتھا شسترا جو مالی معاملات کو زیر بحث لاتی ہے اور دوسری چانکیہ نیتی جو دراصل ہندوستان کی عالمی سیاست کا محور و مرکز ہے۔

میاں مٹھو سے شروع ہوکر بات کہاں سے کہاں جا نکلی۔ عالمی سیاست سے ان کا کیا لینا دینا۔ میاں مٹھو کو بس چوری پسند ہے وہ ملتی رہے۔ اسی کے جتن میں امیر المؤمنین کو صنم کدے پر سجدہ ریز ہونا پڑا تو خوشی خوشی ہوگیا۔ انڈینز اپنے دشمن کی کوئی چیز چھینتے تھے تو اس کے ساتھ بھی بارٹر ٹریڈ کرتے تھے جو اکثر خس وخاشاک ہی ہوا کرتی تھی۔ بارڈر کے اطراف جب لاشوں کی تبادلے ہو رہے تھے، میاں مٹھو اپنی مرغوب غذا آم ان کو بھجوا رہا تھا۔

بادشاہوں کو اگر کوئی پھل تحفتا بھیجنا ہو تو آم ہی معقول ہے۔ اگرچہ اس کی ساؤنڈ عام سی ہے لیکن ہے یہ خاص پھلوں کا بادشاہ۔ ویسے بھی مرزا اسداللہ خان غالب ہمارا مشترکہ اثاثہ ہیں اور ان کو بھی بس آم ہی پسند تھے۔ محبت بڑھانے کا ایک سنہری اصول یہ بھی ہے کہ مشترکات کو فروغ دیا جائے۔ یہ الگ بات ہے کہ ادھر سے مٹھاس کی بجائے ساڑھی کا تحفہ ملا جو لپیٹنے کے کام آتا ہے۔ ان کی خواہشات ویسے بھی قیام کے وقت سے ہی یہی رہی ہیں کہ کسی طرح اس سارے نظام کو ہی لپیٹ لیا جائے۔

تحفے تحائف تو تعلقات بنانے کا بہانہ تھے۔ اصل مقصد تو سوچ کے زاویے بدلنا تھا۔ نت نئی ترکیبات اور حرکیات کا باہمی تبادلہ کچھہ یوں طے پایا کہ ریاست کو تابع رکھنے کے لئے طالع آزما اصول میاں مٹھو کو سکھائے گئے۔ اس معاملے میں ہندو بنیا پہلی بار دریا دلی کا مظاہرہ کرتے پایا گیا کہ کبھی تو کلبھوشن جیسے نڈر جانباز اتارے گئے تو کبھی کہنہ مشق استاد اجیت دودل کی خدمات سے سرفراز کیا گیا۔ سجن جندال اور وزیر اعظم مودی نے تو دوستی کا پاس رکھتے ہوئے ہوئے دشمن سرزمین پر غیر سیاسی دورے کرکے تعلقات کو دوام بخشا اگرچہ اسی نوعیت کا علی الاعلان دورہ بیچارے کرکٹ کے کھلاڑی نوجوت سنگھ سدھو کو غدار بنوا گیا۔

آخر وہ سبق تھا کیا جس کے لیے امیرالمومنین کو اتنے پاہڑبیلنا پڑے۔ سبق خالصتاً ہندو مذہب سے تھا کہ جس پر عمل کرلیا جائے تو بعد میں چین ہی چین۔ یہی کچھ انہوں نے میاں مٹھو کو سمجھایا کہ اعمال ناموں کو جلادیا کرو، نہ رہ گا بانس اور نہ بجے گی بانسری۔

میاں مٹھو نے اس پر من وعن عمل کیا۔ وہ کونسا منصوبہ ہے جس کو شریف النسل لوگوں نے شروع کیا ہو اور تکمیل تک اس کے نامہ اعمال کو شمشان گھاٹ نہ پہنچایا گیا ہو۔ لیکن ایک بات بھول بیٹھے کہ کراما کاتبین کی طرح ایک متوازی نظام بھی چلتا ہے جو سب لکھتا رہتا ہے۔ اسی نے آپکڑا۔ ویسے بھی محترم صدر مملکت کم کم ہی گویا ہوتے ہیں۔ لیکن جب بھی گفتگو کی خوب کی، فرماتے ہیں کہ اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہی۔ بد عنوانی کرنے والے جلد ہی گرفت میں آجایا کرتے ہیں۔ آپ نام کے ممنون ہیں اور ہم آپ کے الفاظ پر ممنون کہ گھر کا بھیدی ہی لنکا ڈھایا کرتا ہے۔

Facebook Comments HS