میں ہوتا تو کہتا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بات میں دم ہو تو” ا” کی مداخلت سے دام لگ ہی جاتا ہے۔

“چھی، چھی، چھی۔ انسان کو اتنا مادہ پرست بھی نہیں ہونا چاہیے۔”

کون کہتا ہے “دام” کا مطلب صرف پیسا ہی ہے؟ کیا سیاست دان کو نعرے، ادا کار کو ستائش، اور شاعر کو ملنے والی داد، دولت سے کم ہوتی ہے؟

“ہرگز نہیں، لیکن پہلے سیدھی لکیر لگانا تو سیکھ لو، سین شین کے دندے بہت بعد کی بات ہے۔ ۔۔۔ ابجدی قاعدہ آتا نہیں اور چلے ہیں داستانِ امیر ہمزہ کی داد سمیٹنے۔”

یہ تنقیدی شعور بھی بڑی ظالم شے ہے۔ ایک سادہ سے ابتدائیے کی چیر پھاڑ سے بھی نہیں چوکتا۔

کہنا صرف یہ مقصود تھا کہ معنی اگر بات میں ہے تو لفظ خواہ ہوا کے دوش پر سماعتوں کے ذریعے دل میں اتریں یا برق پاروں میں تحلیل ہو کر کمپیوٹر سکرین پر، اپنا اثر دکھا ہی دیتے ہیں۔ تاہم مسئلہ یہ در پیش ہے کہ دَم دار بات کہتے کس کو ہیں؟ ہم تو باتوں کے جنگل میں رہتے ہیں جہاں ہر نوع کی باتیں اور ہر بات کی سینکڑوں چینی کاپیاں دستیاب ہیں۔ ہم کسے بڑی بات مانیں اور کس کی پیروی کریں٫ یہاں تو سب بڑے اور سچے ہیں۔

اوریا مقبول جان کا فکر انگیز اضطراب ہو یا طلعت حسین کا ٹھنڈا سچ، حسن نثار کا مدہوش واویلا ہو یا نصرت جاوید کا سٹھیایا ہواملامتی جذبہ، مبشّر لقمان کی سرانڈی حقیقت پسندی ہو یا وسعت اللہ خان کا اِملی زدہ طنز، جاوید چودھری کے نیک پروین منٹو نامے ہوں یا ہارون رشید کے مزین خطبے، کامران شاہد کی کبوتر بازی ہو یا ڈاکٹر دانش کی گم گشتہ دانائی، عامر لیاقت حسین کی مذہبی خود نمائی ہو یا بلال قطب کا پر خلوص تفکر، شیخ رشید کے پوٹھو ہاری گلے شکوے ہوں یا شیخُ الاسلام کا ڈرامائی انقلاب، اہالیانِ انصاف کے میوزیکل نعرے ہوں یا اہلِ نون کی ماتم زدہ بونگ چنا جمہوریت، جنرل ڈائر کے پاکستانی جان نشینوں کا عوام سے انگوری تیموری عشق ہو یا سندھ و ملتان کے سیّدوں کا شطرنجی تصوف،پختونوں کی خشک خوبانی کی سی کھردری مٹھاس ہو یا سندھیوں کی مونجو داڑو قوم پرستی،بلوچیوں کے ہوا میں معلق ٹہنیوں پر لٹکے رس بھرے سڑتے سیب ہوں یا پنجاب کے پیاز پسند،ہیں تو سب ہی بڑے اور سب ہی سچے۔۔۔۔۔’میرے عزیز ہم وطنو! ان سب باتوں میں سے کسی پر حد نہیں لگتی کوئی جملہ آرٹیکل چھ کی خلاف ورزی تصور نہیں ہو سکتا۔ اسم صفت کی طالب علمانہ تعریف کی روح سے متذکرہ موصوفوں کی یہی صفات بنتی ہیں۔

خیر۔۔۔۔ اگر ایسا ہے تو ہم بھی میلے لفظوں کی پوتر گنگا میں ہاتھ دھو لیتے ہیں۔ یہ کون نہیں مانتا کہ بہتا پانی پاک ہوتا ہے۔ تو چلیے:

ایک دانائے راز کا کہنا ہے کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ بیاسی چوراسی کے کسی پی ٹی وی کے خبر نامے میں پاک افغان سرحد پر تازہ کشیدگی کی اطلاع پر تفکر کیا تو ابھی یہیں پہنچا تھا کے ‘یہ کشیدگی کیسی ہوتی ہو گی کہ نیند آ گئی۔ تین دہایاں گزر گئیں، معلوم نہیں خوابوں کا دیو متذکرہ کشیدگی کی ہول ناک ڈرامائی تفسیر پیش کر رہا ہے یا دانائے راز کا تفکر ہی آفاقی نوعیت کا تھا۔

قصہ کچھ بھی ہو پاک افغان سرحد پر تب بھی کشیدگی تھی اور اب بھی ہے۔ اتار چڑھاؤ تو ہر خطے کی منڈیوں میں آتے جاتے ہیں سو کشیدگی کی منڈی پر بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ فیصلہ تب بھی نہیں ہو پایا تھا جب ڈیورنڈ لائنیں کھنچی تھیں اور رستہ اب بھی کوئی سجھائی دیتا نظر نہیں آتا۔ افغانی پہاڑوں کو مفتوح کرنے کے تمنائی بدلتے رہتے ہیں لیکن ان بھول بھلیوں میں نہ آج تک کسی کی دال گل سکی نہ اب گلتی نظر آتی ہے۔ انگریز بہادر نے تو افغانستان کے دو طرف لکیریں کھینچ کر اسی خیال میں عافیت جان لی کہ افغانی، لکیروں میں محصور ہو گئے۔ البتہ روسی سرخے سوپر پاوری کے نشے میں ایسے بد مست ہوئے کہ گرم پانیوں تک رسائی کے چکر میں ٹکڑے ٹکڑے ہو کر ٹھنڈے ہو گئے۔ امریکی بھی کچھ ایسے ہی نشے میں آئے تھے۔تاہم نتیجہ وہی زیرو بٹا زیرو۔

اب امریکی، ‘کھسیانی بلّی کھمبا نوچے’ کی تفسیر بننے کے مرحلے سے گزر رہے ہیں اور اس ندامتی عمل میں پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرا کر اپنی خفّت مٹانا چاہتے ہیں۔ اس عمل کا اول و آخر مدعا ‘ڈومور’ ہے۔ گزشتہ حکومتیں بھی اپنے اپنے انداز میں اس تقاضے پر اپنا ردِ عمل دیتی رہی ہیں اور نو مولود حکومت نے بھی حال ہی میں اس فرمائش پر جوابی اظہارِ خیال کیا ہے۔ اس جواب میں اگرچہ کوئی غیر معمولی جواں مردی یا طرّم خانی رویہ نہیں ہے لیکن ہم (بہ شمول )موافقین و مخالفین بلکہ منافقین و حاسدین( عمرانی حکومت سے کچھ غیر معمولی سننے کو ذہن بنا بیٹھے ہیں۔ اسی لیے چند ماہ قبل ہمیں خواجہ آصف کے اُس ٹویٹر پیغام میں وہ غزنوی دھاک محسوس نہیں ہوئی جو حکومتی ایما پر دفترِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل اور پھر شاہ محمود قریشی کی دبنگ وضاحت میں نظر آئی۔ حالانکہ خواجہ صاحب نے بھی اپنے تئیں خوب دلیری کا مظاہرہ کیا تھا۔ جن دوستوں کو اس بات پر یقین نہیں وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے شکوے کے جواب میں خواجہ صاحب کا تین جنوری 2018 کا یہ ٹویٹر پیغام پڑھیں:

‘جو آپ کا دشمن،وہ ہمارا دشمن،ہم نے گوانٹانامو بے کو بھر دیا. ہم آپ کی خدمت میں اتنے مگن ہوئے کہ پورے ملک کو دس سال تک لوڈ شیڈنگ اور گیس شارٹیج کے حوالے کیا، معیشت برباد ہو گئی لیکن خواہش تھی آپ راضی رہیں، ہم نے لاکھوں ویزے پیش کیےبلیک واٹر،ریمنڈ ڈیوس نیٹ ورک جگہ جگہ پھیل گئے۔ 4 سال سے دہائیوں کا ملبہ صاف کر رہے ہیں۔ہماری افواج بے مثال جنگ لڑ رہی ہیں۔قربانیوں کی لا متناہی داستاں۔ماضی سکھاتا ہے امریکہ پہ اعتماد میں احتیاط۔ ہماری دہلیز پر اپنی ناکامی کا ملبہ نہ رکھو۔آپ خوش نہیں افسوس ہے۔ہمارے وقار پہ اب سمجھوتہ نہیں ہو گا۔’

اگر اس پیغام میں احباب کو پاکستانیت نظر نہیں آتی تو مارچ 2018ء میں پاکستانی وزیرِ خارجہ کی قومی اسمبلی میں کی گئی تقریر پڑھ لیجیے۔ جس میں موصوف نے صاف کہہ دیا تھا کہ اب ہم کسی کی پراکسی بننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہم افغانستان میں ان کے مفادات کا تحفظ کریں لیکن اب ہم سب سے پہلے اپنے مفادات کو دیکھیں گے۔

سنا ہے ‘سب سے پہلے پاکستان’ کا نعرہ دینے والا محبِ وطن بھی بہت بہادر تھا اور وہ بھی کسی سے ‘ڈرتا ورتا’ نہیں تھا۔

خیر! ‘زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے!’ بات اتنی سی ہے کہ موجودگان کی دلیری کو سلام لیکن حالات اتنے سادہ نہیں ہیں جتنے سادہ لوح سمجھ رہے ہیں۔ ممکن ہے پانچ ستمبر سے ہی کچھ کچھ پردہ اٹھنا شروع ہو جائے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ڈاکٹر فیصل کمال حیدری کی دیگر تحریریں
ڈاکٹر فیصل کمال حیدری کی دیگر تحریریں