ارشد ملک وڈیو : کیا کرنا چاہیے

برسوں پہلے کی بات ہے، جب طلبہ کو مختلف تقریری مقابلہ جات میں بھیجنے کے لیے تیاری کروایا کرتا تھا تو تقاریر میں رنگ بھرنے کی خاطر کچھ اشعار تراش لیا کرتا تھا۔ ایسے ہی ایک مقابلہ کے لیے یہ اشعار گھڑنے کا اتفاق ہوا: ہوا ہے آج یہ کیا؟ سب صداقتیں چُپ ہیں! بدلتے وقت کی، بے تاب ساعتیں چُپ ہیں! ہے مُدعی بھی پریشان، اور منصف بھی پڑے ہیں گُنگ کٹہرے، عدالتیں چُپ ہیں کوئی شک نہیں کہ

Read more

اے کاش کہ ہم بھی طائر ہوتے

اے کاش کہ ہم بھی طائر ہوتے۔ ناں ای سی ایل میں مندرج ہونے کا ڈر ہوتا ناں اپنی جنم بھومی پر لینڈ کرنے کے لیے شناختی کارڈ کی بحالی کی کوفت سے گزرنا پڑتا۔ لامحدود آزاد فضاوں پر جی بھر کر راج کرتے اور خوب چہچہے بھرتے۔ روے زمین پر تو ایک جان دار قہقہہ بھرنے پر آنکھیں باہر آ جاتی ہیں۔

Read more

میں ہوتا تو کہتا

بات میں دم ہو تو” ا” کی مداخلت سے دام لگ ہی جاتا ہے۔ "چھی، چھی، چھی۔ انسان کو اتنا مادہ پرست بھی نہیں ہونا چاہیے۔” کون کہتا ہے "دام” کا مطلب صرف پیسا ہی ہے؟ کیا سیاست دان کو نعرے، ادا کار کو ستائش، اور شاعر کو ملنے والی داد، دولت سے کم ہوتی ہے؟ "ہرگز نہیں، لیکن پہلے سیدھی لکیر لگانا تو سیکھ لو، سین شین کے دندے بہت بعد کی بات ہے۔ ۔۔۔ ابجدی قاعدہ آتا نہیں

Read more