آنچل، لیڈر اور نفرت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ماں دونوں بھائیوں کے درمیان آ چکی تھی۔ جھگڑا اتنا بڑھ چکا تھا کہ سلیم نے اپنے ہاتھوں میں پسٹل اٹھا لی تھی۔ ان کی بے بس ماں کبھی سلیم کو دیکھتی تو کبھی جمیل کو۔ آمنہ کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ ماجرہ کیا ہے اور کس بات پہ ان بھائیوں کی آنکھ میں خون اتر آیا ہے۔

آمنہ کی آنکھوں کے سامنے وہ سارے منظر گھوم گئے جب سلیم اور جمیل ساتھ پلے بڑھے اور محبت کی مثال قائم کی۔ یہ دونوں اک جاں دو قالب تھے۔ دونوں کی عمروں میں صرف ایک سال کا ہی تو فرق تھا پر کون چھوٹا اور کون بڑا تھا۔ کوئی نہیں جانتا تھا۔ ہر شرارت ساتھ میں کرتے ساتھ کھیلتے ساتھ کھاتے پیتے۔ آمنہ نے تو سوچ رکھا تھا کہ دونوں کے لئے ایک ہی گھر سے دو بہنوں کو بیاہ کر لائے گی تاکہ پیار کا ٹانکہ ایسے ہی ٹکا رہے۔

آمنہ اک غریب عورت تھی جس کا شوہر دن بھر مزدوری کرتا اور کاندھے پر بوجھ اٹھائےپھرتا تھا۔ ان پڑھ جاہل تھا تو قسمت بھی ویسی لکھوا کر لایا تھا۔ باپ دادا نے بس جائداد کے نام پر دو کمرے کا چھوٹا سا گھر ہی دیا تھا جس کو دیکھ کر آمنہ کے گھر والے اشفاق سے خوشی خوشی شادی پر رضامند ہوگئے تھے۔ شادی کے بعد اللہ تعالی نے چاند سے دو بیٹے دیے تو آمنہ اور اشفاق نے طے کیا کہ ان کو اپنے جیسا ان پڑھ جاہل نہیں رہنے دیں گے بلکہ اچھی تعلیم دلا کر اک اچھا اور کامیاب انسان بنائیں گے۔ ان ہی سپنوں کے دیپ جلا کر آمنہ نے بھی گھروں میں جاکے کام کرنا شروع کردیا اور جو وقت بچ جاتا اس میں سلائی کڑھائی کا کام پکڑ لیا کرتی۔

اشفاق اور آمنہ مستقبل کے خواب میں مگن رہتے۔ اک اک روپیہ جوڑتے رہتے نہ اپنی صحت کا خیال رہتا اور نہ دن رات کے گزرنے کا۔ بس اپنےبچوں کی پڑھائی اور تربیت کے لئے ہر سہولت مہیا کرتے رہتے۔

سلیم اور جمیل اپنے ماں باپ کے بے حد فرمانبردار تھے۔ ان کو علم تھا کہ ان کے ماں باپ نے کس محنت سے ان کے لئے روشن مستقبل کے خواب بن رکھیں ہیں۔ تبھی وہ دن رات اپنی پڑھائی میں جتے رہتے اور نتیجتا دونوں نے نہ صرف میٹرک میں اعلی نمبر حاصل کیے بلکہ پوزیشن بھی لی جس کی بنا پر ان کا داخلہ بڑی آسانی سے شہر کر سب سے بڑے انجینئیرنگ کالج میں ہوگیا۔
“دیکھا آمنہ ! ” اشفاق کسی گہری سوچوں میں کھو گیا۔

‘وقت کیسے پر لگا کہ اڑ گیا۔ یہ ہمارے ننھے بچے پر لگا کر اڑنے کو ہیں‘۔ ایک اور حسین خیال اشفاق کے مستقبل کو مہکا گیا۔
‘صحیح کہتے ہو۔ اب تو لگتا ہے منزل قریب ہے۔ اب ہمارے آرام کے دن شروع ہونے والے ہیں۔ اللہ نے بڑا کرم کیا ہم پر۔ ‘یہ کہہ آمنہ چولہے پر روٹی ڈالنے لگی۔

اشفاق کو آج وہ ساری اذیتیں یاد آنے لگیں جو وہ تنہا اٹھاتا رہا تھا پر اپنے بیوی بچوں کو خبر تک نہ ہونے دی۔ آج تک اک اک پیسہ جوڑتا رہا یہاں تک اپنی بیماری بھی فقط اس لئے چھپا کر رکھی کہ کہیں وقت پر فیس ادا نہ ہونے کی وجہ سے اس کے بچے تعلیم کی نعمت سے محروم نہ رہ جائیں۔ اکثر آمنہ اشفاق کی چوری پکڑ لیا کرتی پر وہ کوئی نہ کوئی بہانہ کرکے آمنہ کو ٹال جاتا تھا۔ آمنہ اچھی طرح سمجھتی تھی وہ اپنی جان پر جبر کرکے اپنی دوا تک کے پیسے بچا کے رکھتا ہے پر خود کے لیے دوا نہیں لیتا اور آمنہ بھی اس لئے اسرار نہ کرتی کیونکہ وہ بخوبی واقف تھی کہ دن رات کی محنت کے باوجود ان دونوں میاں بیوی کا گزارا بڑا دشوار ہوا کرتا تھا۔ ان کی زندگی کی ساری جمع پونجی یہ دو بیٹے ہی تو تھے جن کے ننھے وجود کو بڑی مشکلوں سے سینچا تھا۔ دھوپ چھاؤں۔ گرم سرد۔ آندھی طوفان۔ ہر طرح کے موسم سے بچا کر۔ ان پودوں کو پروان چڑھایا تھا اور وہ دن دور نہ تھا جب ان تناور درخت کے پھل سے دونوں میاں بیوی فیض یاب ہونے والے تھے۔

آمنہ ماضی کے دریچون سے جیسے لوٹی تو سلیم کے سامنے آکے جمیل کو اپنے آنچل کے پیچھے چھپا لیا۔
‘تو پاگل تو نہیں ہوگیا !‘ آمنہ کا کلیجہ منہ کو اگیا۔
‘ سلیم یہ پسٹل کہاں سے آئی تیرے پاس؟ ‘آمنہ کی آنکھیں حیرت اور صدمے سے پھیل گئیں۔

‘بول کس نے تجھے یہ دیا اور کس مردود نے تم دونوں بھائیوں کے دل میں نفرت کے آگ لگائی ہے۔ بتا سلیم؟ ‘ اک ماں غم سے دیوانی ہو رہی تھی۔
‘نہیں اماں !‘ سلیم دھاڑا۔
‘تو نہیں جانتی اس نے کیا کیا ہے‘۔ سلیم کی آنکھیں انگارا اگل رہی تھیں۔

‘میرے لیڈر کے بارے میں اتنی فضول بکنے کی اس کی ہمت کیسے ہوئی۔ اس کی تو میں زبان کھینچ لوں گا۔ ‘
‘ماں تو ہٹ جا۔ سالے کو ابھی سبق سکھاتا ہوں۔ ‘ یہ کہہ کر وہ غصے سے لرزنے لگا۔

‘کیا بک رہا ہے تو ؟ ‘ آمنہ بلک پڑی
‘کون لیڈر کیسا لیڈر ؟ ‘وہ چیخی۔
‘وہ لیڈر تیرے بھائی تیرے خون سے بڑا کیسے ہوگیا سلیم بیٹے ؟ ‘ماں کی مامتا نے دہائی دی۔
‘اماں میرا لیڈر ہم سب کا مائی باپ اور کون !‘سلیم کی آنکھیں چمک اٹھیں۔

‘ہم نے اس سے وفاداری کا حلف اٹھا رکھا ہے۔ ہم جان لے بھی سکتے ہیں اور جان دے بھی سکتے ہیں پر اپنے لیڈر اور پارٹی پر حرف آنے نہیں دے سکتے۔ ‘سلیم بالکل اجنبی کی طرح مخاطب تھا۔
سلیم نہ جانے کیا کیا بکے جارہا رہا تھا۔ اس پر جیسے کوئی جن آچکا تھا۔ ہاں کوئی آسیب کہ اس کے تیور بدل چکے تھے۔ وہ جوان و توانا لڑکا۔ کس قدر شان سے اس شخص کی ثنائی کر رہا تھا جو محض الیکشن کے دنوں میں کسی برساتی مینڈک کی طرح آن نکلا تھا اور تالاب کے کنارے بیٹھ کر ٹر ٹر کر کے کب کا تالاب کی گہرائی میں چھپ چکا تھا پر اپنی منافقت کا سارا زہر آمنہ کے لخت جگر میں گھول گیا تھا۔

آمنہ کی نظر اپنے خوبرو بیٹے کی وجاہت پر پڑی۔ کتنی مشکلوں سے اور کتنے جتن سے پال پوس کے بڑا کیا۔ رگ رگ میں اپنی خواہشوں اور ارمانوں کا خون قطرہ قطرہ ٹپکاتی رہی تھی۔ راتوں کو جاگ جاگ کے دوسروں کے کپڑے سیتی رہتی۔ دوسروں کے جھوٹے برتن مانجھ مانجھ کے ہاتھ کی کھال تک گھس ڈالی۔

‘کیا نوجوان اور خوبصورت ہے میرا بیٹا !‘ آمنہ اپنے لمبے دراز قامت والے جوان کو دیکھ کر سوچا۔
‘پر اس کی بولی وہ نہیں جو وہ سننا چاہتی تھی۔ ‘ آمنہ کو اک صدمہ ٹکرایا۔
‘ یہ وہ زبان نہ تھی۔ نہیں ہر گز نہیں ! ‘اس کو اک اور درد نے آ گھیرا۔

وہ تو اس زبان سے اپنی تعریف سننے کی منتظر تھی۔ اپنی قربانیوں کی داستان جو اس نے اپنی اولاد کی خاطر دی تھی۔ وہ اس زبان کی کیا۔ وہ تو اپنی اولاد کے تن من کی مالکن تھی۔ وہ اس کی عمر بھر کی کمائی تھا جسے وہ لمحہ لمحہ جوڑ رہی تھی۔ کوئی دوسرا آکر کیسے اس کی تجوری توڑ کر سارا کمایا ہوا خزانہ ہتھیا سکتا تھا۔ کیسے یہ ممکن تھا۔ کیا اس کے لئے اس نے دن رات محنت کی۔ ایماری بیماری سکھ دکھ جھیلتی آئی کہ اک نامراد سیاست دان پلی پلائی کسی کی بھی اولاد کو ہتھیار تھماکر اپنا مہرہ بنالے اور حلف نامے کے نام پر اپنے بھائی کے خون کا ذمہ دار کردے۔ آمنہ اپنی خیالوں کے جال سے لوٹی۔

‘نہیں نہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ تو کیسے اپنے ہی بھائی پر گولی تان سکتا ہے۔ نہیں سلیم سلیم۔ پاگل مت بن !آمنہ کی آواز لرزی۔
‘تجھے خدا کا واسطہ۔ نیچے کر اس منحوس پسٹل کو۔ ‘ یہ کہہ کر آمنہ نے پسٹل کو سلیم کے ہاتھ سے لینے کی کوشش کی۔ پر گولی چلنے کی آواز سے آمنہ کا آنگن گونج اٹھا اور چاروں طرف سے پرندوں کے پروں کے پھڑ پھڑانے اور شور مچانے کی آوازیں سنائی دینے لگی۔

گولی پسٹل سے نکل چکی تھی اور سینے میں پیوست ہو چکی تھی۔ اک اور غریب امیروں کی بنائے ہوئے جال میں پھنس چکا تھا۔ اک اور غریب کا گھر اجڑ چکا تھا۔ اس کے ہرے بھرے کھیت میں کسی کم ظرف نے چنگاری دکھا دی تھی۔

زمین پر گرتے ہوئے آمنہ کی آنکھیں ساکت تھیں۔ اس کی آنکھوں میں حیرت کے ساتھ ساتھ کئی سوال جھلک رہے تھے۔ وہ دنیا کے علم داروں سے بہت کچھ پوچھنا چاہتی تھی۔ وہ پوچھ رہی تھی کہ اس کا قصور کیا تھا۔ اس کا انسان ہونا یا اس کا قصور اس کا غریب ہونا تھا۔ وہ خریداروں سے سوال کر رہی تھی کہ اپنے نقصان کا تخمینہ کیسے لگائے۔ وہ جاننا چاہتی تھی کہ غریبوں کے بچے اتنے سستے کیوں ہوتے ہیں کہ کوئی بھی اٹھا کر ان کا سودا کر دیتا ہے۔ وہ انسانیت کے ناطے اپنے جینے کا سوال کر رہی تھی۔ وہ جی کیوں نہیں سکتی۔ کوئی خواب خرید کیوں نہیں سکتی۔ کیا غریب کی کوئی ماں نہیں ہوتی۔ کوئی باپ نہیں ہوتا۔ کیا اس کا کوئی رکھوالا نہیں ہوتا۔ جو اس کے خون کا بھی حساب مانگے۔ کیا غریب کے پاس کوئی ایسا آنچل نہیں ہوتا ہے کہ جس کی چھاؤں میں وہ پلے بڑھے اور جی سکے؟ کیا غریب ہمیشہ لاوارث ہی مر جاتا ہے۔ آخر کیوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •