باپ کی عظمت

باپ۔ اس لفظ کے آتے ہی ذہن کے کتنے دریچے کھل گئے۔ اس لفظ کو اک لفظ یا جملے میں کیسے بیان کیا جائے۔ باپ کا نام آتے ہی اک ناتواں اورضعیف رو صورت آنکھ کے سامنے گھومنے لگتی ہے۔ میرے نزدیک باپ کی قدر و قیمت کسی دوسرے شخص سے کہیں زیادہ ہے کیوں کہ میرا باپ اس دنیا میں حیات نہیں۔ باپ کیا ہوتا ہے کیسا ہوتا ہے اور کیوں ہوتا ہے شاید مجھ سے یا مجھ جیسے

Read more

25 فروری اردو زبان کا دن

ہر قوم کی اپنی تہذیب، ثقافت، اور قومی زبان ہوتی ہے۔ قومی زبان اس کی ترجمان ہوتی ہے اور قومیں زبان سے ہی پہچانی جاتی ہیں۔ اسی لیے بانی پاکستان قائداعظم نے بھی اردو کو قومی زبان تسلیم کیا تھا، بلکہ اس کے نفاذ پر زور بھی دیا تھا۔ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے 25 فروری 1948 کو پاکستان کی سرکاری زبان اردو کو قرار دیا تھا اور قائد اعظم محمد علی جناح نے بحیثیت گورنر جنرل اس پر

Read more

اردو ہماری پہچان

ہرقوم کی اپنی تہذیب، ثقافت، اور قومی زبان ہوتی ہے۔ قومی زبان اس کی ترجمان ہوتی ہے اور قومیں زبان سے ہی پہچانی جاتیں ہیں۔ اسی لیے بانی پاکستان قائد اعظم  نے بھی اردو کو قومی زبان تسلیم کیا تھا بلکہ اس کے نفاذ پر زور بھی دیا تھا۔ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے 25 فروری 1948 کو پاکستان کی سرکاری زبان اردو کو قرار دیا تھا اور قائد اعظم محمد علی جناح نے بحیثیت گورنر جنرل اس پر

Read more

آگیا 16 دسمبر

آج کا سورج طلوع ہوا اور ماضی کی تلخ یادوں کو تازہ کرگیا۔ ہاں آج 16 دسمبر ہے۔ وہی صبح جو آج سے کچھ سالوں پہلے کئی گھروں کو ماتم کدہ بنا کر چھوڑ گیا تھا اور اے پی ایس کے بچوں کے لیے درد کی ایک داستان لکھ گیا تھا۔ یہ وہی دن ہے جب ماؤں نے اپنے بچوں کو صبح طلوع ہونے کی نوید سنائی تھی اپنے ہاتھوں سے اپنے بچوں کو تیار کیا تھا ان کا ماتھا

Read more

الف سے اللہ

بولو بیٹا۔ الف۔ الف سے انار۔ جب کانوں میں الف نام کی آواز آتی ہے تو قدرتی طور پر ذہن میں الف سے انار ہی آتا ہے۔ ایسا آخر کیوں کر پے؟ یہ کون سا طریقہ کار ہے جو بچپن کے نا پختہ ذہن میں محفوظ ہوچکا ہے۔ جو ہر یادآوری پر بغیر کسی تاخیر اپنا جواب ذہن میں منتقل کر دیتا ہے اگر سوچا جائے تو بات بڑی سادہ سی ہے اور اس کا اثر بلا شبہ بڑا گہرا

Read more

اقبال کا تصور خودی

خودی کیا ہے راز دورنِ حیات خودی کیا ہے بیدارئی کائنات ازل اس کے پیچھے ابد سامنے نہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنے زمانے کی دھارے میں بہتی ہوئی ستم اس کی موجوں کے سہتی ہوئی ازل سے ہے یہ کشمکش میں اسیر ہوئی خاک ِ آدم میں صورت پزیر خودی کا نشیمن ترے دل میں ہے فلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہے ڈاکٹر علامہ اقبال ایک ایسا نام جو اپنی پہچان آپ ہے۔ آپ کی

Read more

لیاقت پور ٹرین سانحہ: حادثہ یا غفلت

ایک اور حادثہ، کراچی سے تیز گام جانے والی ٹرین صبح طلوع آفتاب کے وقت انجانی وجوہات کی بنا پر حادثے کا شکار ہوئی اور ایک دفعہ پھر ہم نے خلق خدا کو زندہ جلتا ہوا دیکھا۔ چلتی ریل سے آگ کے بڑے بڑے شعلےنکل رہے تھے پر گاڑی رکی نہیں تھی۔ خبر دیکھتے ہی طبیعت گیرانی کا شکار ہوگئی۔ آخر یہ کیسے ممکن تھا کہ گیس کا سلینڈردھماکے کے ساتھ پھٹا۔ ریل کی تین بوگیوں میں آگ بھڑک اٹھی

Read more

سوشل میڈیا جنریشن

آج کل کی دنیا ایجادات کی بنا پر دن دگنی ترقی پر مامور ہے۔ اس ترقی نے وقت کو جیسے سمیٹ لیا ہے۔ فاصلوں کی اہمیت لمحوں میں لپٹ گئی ہے۔ اپنی بات کو دوسروں تک پہچانا بے حد آسان ہوگیا ہے۔ یہاں ہم نے کچھ سوچا اور دوسرے لمحے اس کی تشہیر ہوجانا اب ایک عام بات ہے۔ ایک زمانہ تھا جب ان باتوں کو جادو یا معجزہ سمجھا جاتا تھا یا دیگر الفاظ میں خواب میں ایسا ممکن

Read more

قصور میرا ہے!

کبھی کبھی سوچتی ہوں ہماری بھی کیا زندگی ہے۔ وہی تھکے ہارے سونا اور صبح تھکے ہارے اٹھ کر دنیا داری نبھانا۔ اپنی زندگی سے نا خوش اور نا امید سا رہنا اور اپنی تمام تر ناکامیوں کا وجوہات کسی دوسرے کے سر تھوپ کر دوبارہ تھک کے سوجانا۔ ہمیں اپنی ذات سے نکلنے کا موقع ہی نہیں مل پاتا۔ ہم تو خود مسئلے مصائب کا شکار رہتے ہیں تو بھلا ہمیں کیا خبر کہ ہمارے ارد گرد کیا ہورہا

Read more

یہ رہی لاہور کی سنبل: کدھر ہے اب وہ کراچی والی مسز خان؟

میں ایک حوا کی بیٹی ہوں۔ صنف نازک ۔۔۔ جس کی مرد جب ناز برداری اٹھانے کو آتا ہے تو ماں جیسی عظیم ہستی کو بیوی کے کہنے پر کچرے میں پھینک جاتا ہے اور کبھی ماں کے کہنے پر اپنی بیوی کو لاتوں، گھونسوں سے اتنا مارتا ہے کہ وہ مر نہیں جاتی تو استری سے اس کا خوبصورت چہرہ داغ دیا جاتا ہے۔ جی کل لاہور کے گرین ٹاون میں 21 سالہ سنبل انسانیت کی بھینٹ چڑھا دی

Read more

ڈے کیئر سینٹر یا ٹارچر سیل

سوشل میڈیا پر خبر سر گرم ہے۔ دل اداس سے زیادہ چوکنا ہوگیا ہے۔ ان ویڈیوز کو میں نے بڑے غور سے بار بار دیکھا۔ ایک دفعہ پھر ہمارے معاشرے کا بھیانک چہرہ سامنے آگیا ہے جہاں انسانیت نام کی باقی نہیں رہی ہے۔ ہمارا معاشرہ کس طرف چل پڑا ہے، وہ کون سے عوامل ہیں جس نے ہمارے دلوں کو مسخ کردیا ہے۔ آج بھی میرا موضوع معصوم بچے ہیں۔ وہ خلق جس کو ہم عام زبان میں فرشتے کے

Read more

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

عورت نصف انسانیت ہے۔ عورت کے تصور سے ہی کائنات میں رنگ وبو ہے۔ عورت مختلف اور منفرد خصائل وصفات کی مالکہ، فہم وفراست، عود ومشک گلاب سے بہتر عزت وقار میں عرفہ وشفقت رحمت سے اس کے معور کا ہر خاکہ رنگین ومذین ہے۔ علامہ اقبال نے نہ جانے کس ترنگ میں آکر اپنے ایک مصرع میں وجود زن کو کائنات کی تصویر میں رنگ قرار دیا۔ بس ہم ان کے اسی ایک مصرع کو پکڑ کر کچھ ایسے بیٹھ گئے کہ زن بے چاری کو شمع محفل بنا کر ہی دم لیا۔ کیا شاہراہوں پر لگے قد آدم بل بورڈز اور کیا ٹیلی وژن پر چلنے والے الم غلم اشیاء کے اشتہار ’ان سب میں عورت ہی سے رنگ آمیزی کی کوشش کی جاتی ہے۔یہ مصرع ہر خاص و عام فہم کا شخص اس طرح استعمال کرتا ہے کہ جیسے عورت فقط ایک

Read more

ہمارے پاک فوج کے جواں!

وطن عزیز سے پیارا کچھ نہیں ہوتا۔ ایک شہری اپنے ملک و قوم کے لئے اپنے آپ میں وہی جذبات رکھتا ہے جوکہ ایک فوجی جوان۔ آج کی سیاہ رات دیگر راتوں سے منفرد ہے۔ سنا ہے کہ میرے وطن کے جانباز نوجوان وطن کی سرحدوں پر بڑی جیدہ دلیری سے دشمن وطن سے لڑ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کے اس تیز دور میں اس کی ساری رپورٹ لمحہ بہ لمحہ مل رہی ہے جبکہ حکومت پاکستان نے اس طرح

Read more

آگیا 16 دسمبر

آج کا سورج طلوع ہوا اور ماضی کی تلخ یادوں کو تازہ کرگیا۔ ہاں آج 16 دسمبر ہے۔ وہی صبح جو آج سے کچھ سالوں پہلے کئی گھروں کو ماتم کدہ بنا کر چھوڑ گیا تھا اور اے پی ایس کے بچوں کے لیے درد کی ایک داستان لکھ گیا تھا۔ یہ وہی دن ہے جب ماوں نے اپنے بچوں کو صبح طلوع ہونے کی نوید سنائی تھی اپنے ہاتھوں سے اپنے بچوں کو تیار کیا تھا ان کا ماتھا

Read more

آنچل، لیڈر اور نفرت

ماں دونوں بھائیوں کے درمیان آ چکی تھی۔ جھگڑا اتنا بڑھ چکا تھا کہ سلیم نے اپنے ہاتھوں میں پسٹل اٹھا لی تھی۔ ان کی بے بس ماں کبھی سلیم کو دیکھتی تو کبھی جمیل کو۔ آمنہ کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ ماجرہ کیا ہے اور کس بات پہ ان بھائیوں کی آنکھ میں خون اتر آیا ہے۔ آمنہ کی آنکھوں کے سامنے وہ سارے منظر گھوم گئے جب سلیم اور جمیل ساتھ پلے بڑھے اور محبت

Read more

بندر کا سیاسی تماشا

’بچہ جمورا صاب کو سلام کر۔ شاباش‘مداری نے ڈگڈگی بجائی۔ ’صاب کو افسر بن کر دکھاؤ۔ شاباش‘اور بندر سینہ تان کر منہ میں پینسل دبائے چل کر دکھانے لگا۔ اور تماشبین شور مچا کر خوش ہوکر تالیاں بجانے لگے۔ میں وہی کھڑا یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا۔ یہ بندر تماشہ پولنگ اسٹیشن سے کچھ فاصلے پر لگا ہوا تھا اور زیادہ تر لوگ ووٹ ڈالنے کے بجائے اس تماشے سے محظوظ ہورہے تھے۔ یہ کراچی شہر کا بڑا اہم

Read more

مٹھی بھر مٹی

“اماں بی! اک تو مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ اتنے چھوٹے سے گھر میں یہ پودے کیوں لگا رکھ دیے ہیں۔ نا جانے اس مٹی میں کیا کھوجتی رہتی ہیں آپ؟ “ اپنی بہو کی آواز پر میں لمحہ بھر کو چونکی اور نگاہ اٹھتے ہی پہلی نظر قائد اعظم کے مزار پر پڑی جو کہ چوتھی منزل کی بالکونی سے دکھائی دے رہا تھا جہاں روشنی کے قمقمے اب بھی جگمگا رہے تھے۔ میرے جھریوں والے ہاتھوں میں

Read more

ووٹر کسی کا نہیں ہوتا

‘ارے شانو تجھے پھر چھٹی چاہیے۔ آخر وجہ کیا ہے روز روز چھٹی کرنے کی۔’ سارہ نے پریشان ہوتے ہوئے کہا۔ ‘باجی! کل دراصل پارٹی کا جلسہ ہے وہاں جانا ضروری ہے۔ الیکشن ہونے والے ہیں نا۔’ شانو  نے مزے لیتے ہوئے کہا۔ ‘جلسہ؟ الیکشن؟ اور کام نہیں کروگی تو کھاو گی کیا؟’ سارہ نے حیرت سے منہ پہ ہاتھ رکھ کے کہا۔ ‘باجی کام ہی تو کرنے جاتے ہیں، ورنہ ہماری سمجھ میں کیا آتا ہے، سیاسی جلسہ جلوس

Read more

ووٹ، دھماکہ اور خواب دیکھنے والی آنکھیں

آج صبح جب آنکھ کھلی تو سر بہت بھاری ہورہا تھا. شاید پچھلی رات کے بخار نے ابھی تک پیچھا نہیں چھوڑا تھا جس کی وجہ سے سارا جسم بوجھل ہورہا تھا۔ فجر کی نماز ادا کرکے اماں سے ایک کپ چائے کا کہہ کر واپس اپنے بستر پر لیٹ گیا۔ اسی اثناء میں میری آنکھ لگ گئی۔۔۔ "اٹھ جاو شکور ! چائے پی کے دوا کھا لینا ۔کل رات سے تم سست سے لگ رہے ہو۔’اماں نے شکور کو

Read more