قصور میرا ہے!

کبھی کبھی سوچتی ہوں ہماری بھی کیا زندگی ہے۔ وہی تھکے ہارے سونا اور صبح تھکے ہارے اٹھ کر دنیا داری نبھانا۔ اپنی زندگی سے نا خوش اور نا امید سا رہنا اور اپنی تمام تر ناکامیوں کا وجوہات کسی دوسرے کے سر تھوپ کر دوبارہ تھک کے سوجانا۔ ہمیں اپنی ذات سے نکلنے کا…

Read more

یہ رہی لاہور کی سنبل: کدھر ہے اب وہ کراچی والی مسز خان؟

میں ایک حوا کی بیٹی ہوں۔ صنف نازک ۔۔۔ جس کی مرد جب ناز برداری اٹھانے کو آتا ہے تو ماں جیسی عظیم ہستی کو بیوی کے کہنے پر کچرے میں پھینک جاتا ہے اور کبھی ماں کے کہنے پر اپنی بیوی کو لاتوں، گھونسوں سے اتنا مارتا ہے کہ وہ مر نہیں جاتی تو…

Read more

ڈے کیئر سینٹر یا ٹارچر سیل

سوشل میڈیا پر خبر سر گرم ہے۔ دل اداس سے زیادہ چوکنا ہوگیا ہے۔ ان ویڈیوز کو میں نے بڑے غور سے بار بار دیکھا۔ ایک دفعہ پھر ہمارے معاشرے کا بھیانک چہرہ سامنے آگیا ہے جہاں انسانیت نام کی باقی نہیں رہی ہے۔ ہمارا معاشرہ کس طرف چل پڑا ہے، وہ کون سے عوامل ہیں…

Read more

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

عورت نصف انسانیت ہے۔ عورت کے تصور سے ہی کائنات میں رنگ وبو ہے۔ عورت مختلف اور منفرد خصائل وصفات کی مالکہ، فہم وفراست، عود ومشک گلاب سے بہتر عزت وقار میں عرفہ وشفقت رحمت سے اس کے معور کا ہر خاکہ رنگین ومذین ہے۔ علامہ اقبال نے نہ جانے کس ترنگ میں آکر اپنے ایک مصرع میں وجود زن کو کائنات کی تصویر میں رنگ قرار دیا۔ بس ہم ان کے اسی ایک مصرع کو پکڑ کر کچھ ایسے بیٹھ گئے کہ زن بے چاری کو شمع محفل بنا کر ہی دم لیا۔ کیا شاہراہوں پر لگے قد آدم بل بورڈز اور کیا ٹیلی وژن پر چلنے والے الم غلم اشیاء کے اشتہار ’ان سب میں عورت ہی سے رنگ آمیزی کی کوشش کی جاتی ہے۔یہ مصرع ہر خاص و عام فہم کا شخص اس طرح استعمال کرتا ہے کہ جیسے عورت فقط ایک

Read more

ہمارے پاک فوج کے جواں!

وطن عزیز سے پیارا کچھ نہیں ہوتا۔ ایک شہری اپنے ملک و قوم کے لئے اپنے آپ میں وہی جذبات رکھتا ہے جوکہ ایک فوجی جوان۔ آج کی سیاہ رات دیگر راتوں سے منفرد ہے۔ سنا ہے کہ میرے وطن کے جانباز نوجوان وطن کی سرحدوں پر بڑی جیدہ دلیری سے دشمن وطن سے لڑ…

Read more

آگیا 16 دسمبر

آج کا سورج طلوع ہوا اور ماضی کی تلخ یادوں کو تازہ کرگیا۔ ہاں آج 16 دسمبر ہے۔ وہی صبح جو آج سے کچھ سالوں پہلے کئی گھروں کو ماتم کدہ بنا کر چھوڑ گیا تھا اور اے پی ایس کے بچوں کے لیے درد کی ایک داستان لکھ گیا تھا۔ یہ وہی دن ہے…

Read more

آنچل، لیڈر اور نفرت

ماں دونوں بھائیوں کے درمیان آ چکی تھی۔ جھگڑا اتنا بڑھ چکا تھا کہ سلیم نے اپنے ہاتھوں میں پسٹل اٹھا لی تھی۔ ان کی بے بس ماں کبھی سلیم کو دیکھتی تو کبھی جمیل کو۔ آمنہ کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ ماجرہ کیا ہے اور کس بات پہ ان بھائیوں کی…

Read more

بندر کا سیاسی تماشا

’بچہ جمورا صاب کو سلام کر۔ شاباش‘مداری نے ڈگڈگی بجائی۔ ’صاب کو افسر بن کر دکھاؤ۔ شاباش‘اور بندر سینہ تان کر منہ میں پینسل دبائے چل کر دکھانے لگا۔ اور تماشبین شور مچا کر خوش ہوکر تالیاں بجانے لگے۔ میں وہی کھڑا یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا۔ یہ بندر تماشہ پولنگ اسٹیشن سے کچھ…

Read more

مٹھی بھر مٹی

“اماں بی! اک تو مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ اتنے چھوٹے سے گھر میں یہ پودے کیوں لگا رکھ دیے ہیں۔ نا جانے اس مٹی میں کیا کھوجتی رہتی ہیں آپ؟ “ اپنی بہو کی آواز پر میں لمحہ بھر کو چونکی اور نگاہ اٹھتے ہی پہلی نظر قائد اعظم کے مزار پر پڑی…

Read more

ووٹر کسی کا نہیں ہوتا

'ارے شانو تجھے پھر چھٹی چاہیے۔ آخر وجہ کیا ہے روز روز چھٹی کرنے کی۔' سارہ نے پریشان ہوتے ہوئے کہا۔ 'باجی! کل دراصل پارٹی کا جلسہ ہے وہاں جانا ضروری ہے۔ الیکشن ہونے والے ہیں نا۔' شانو  نے مزے لیتے ہوئے کہا۔ 'جلسہ؟ الیکشن؟ اور کام نہیں کروگی تو کھاو گی کیا؟' سارہ نے…

Read more