سازشیں اور ہیلی کاپٹر کا تکلیف دہ سفر


سازشیں تو اُسی وقت سے شروع ہو گئی تھیں جب نیا پاکستان بننے کی بشارتیں ملنا شروع ہوئیں۔ آپ کو یاد ہی ہو گا کہ جب ایک وزیر اعظم جو دھاندلی سے الیکشن جیت کر حکومت پر ناجائز قبضہ کیے بیٹھا تھا اور ترقی کے نام پر دھڑا دھڑ طرح طرح کے منصوبے بناۓ جا رہا تھا، پانامہ لیکس کے کیس کے دوران ایک دبئی اقامہ نکل آنے پر نااہل ہو گیا تھا اور ملک میں عوام نے ہر طرف خوشی کے شادیانے بجاۓ تھے کہ چلو ایک کرپٹ حکومت سے جان چھوٹی اور نئے پاکستان بننے کے آثار نظر آنے لگے تھے۔

مگر سازشیوں کو کہاں یہ منظور تھا کہ نیا پاکستان بنانے والے آسانی سے حکومت بنا لیں اور عوام سُکھ کا سانس لیں۔ لہٰذا انہوں نے ساتھ ہی اپنا کام شروع کر دیا۔ انہی سازشوں کو بھانپ کر کپتان نے ایسےالیکٹبلز جو عرفٰ عام میں لوٹے کہلاۓ، کو محض اس وجہ سے اپنی پارٹی میں شامل کر لیا کہ وہ کسی اور پارٹی میں رہ کر الیکشن جیت سکتے تھے اور پھر نئے پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے والوں کے ساتھ شامل ہو سکتے تھے۔

مگر کپتان نے اُن کو اپنی پارٹی میں شامل کر کے الیکشن لڑنے کا ٹکٹ دیا اور حسبِ توقع وہ ہار گئے اس طرح قوم کی بچت ہو گئی۔ مگر اُن سازشوں کے نتیجے میں قوم کی نجات دہندہ جماعت انتہائی مقبولیت کے باوجود دو تہائی اکثریت لیتے لیتے رہ گئی بلکہ سادہ اکثریت بھی نہ لے پائی اور ایسی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے پر مجبور ہو گئی جن کو پہلے ڈاکو، قاتل اور نجانے کیا کیا کچھ قرار دیا ہؤا تھا۔ نئے پاکستان کی معمار ٹیم کے کپتان تاریخ کا اتنا بڑا بوجھ اُٹھانے پر کیسے راضی ہو گئے یہ انکشاف تو اب تاریخ خود ہی کسی مناسب وقت پر کرے گی فی الحال تو تاریخ نے جغرافیہ ٹھیک کرنے کی ذمہ داری لی ہوئی ہے تا کہ نیا پاکستان بننے میں آسانی رہے۔ مؤرخ تاریخ کے اس تعاون کا مشکور رہے گا۔

نئی حکومت کے چارج سنبھالنے کے بعد بھی سازشی عناصر کو چین نہیں آیا اور انہوں نے ذیادہ شد و مد سے اپنے سازشی پروگرام پر عمل در آمد کرنے کا تہیہ کر لیا ہؤا ہے۔ بلکہ اب اس سازشی نیٹ ورک میں بین لاقوامی عناصر بھی شامل ہو گئے ہیں اور مغرب جو اس سے پہلے صرف جماعت اسلامی کے خلاف ہی سازشیں کرنے کی شہرت رکھتا تھا، اب ان سازشی کرداروں میں شامل ہو گیا ہے اور صاف شفاف ٹیلیفون گفتگو پر بھی قضیے کھڑے کر دئے ہیں۔

تاہم فکر کی کوئی بات نہیں ہے، ہماری منتخب حکومت ایسے تمام عناصر سے نمٹ لے گی اور ان سازشیوں کو نہ صرف بے نقاب کرے گی بلکہ ان سازشوں کو ناکام بھی کرے گی۔ اس سلسلے میں نئی کابینہ نے جو سب سے پہلا فیصلہ کیا ہے وہ ہے ہی سازشیوں سے نمٹنے کا کہ جیل میں قید نواز شریف اور اسکی بیٹی داماد کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا مُبادا کہ جیل حکام کی ملی بھگت سے وہ تینوں جیل سے فرار ہو جائیں اور پھر کسی سازشی گروپ کی مدد سے اسی دن جہاز پہ بیٹھ کر ملک سے باہر چلے جائیں۔ اب اگر وہ جیل سے فرار ہونے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں تو بھی مجبوراً اپنے ملک میں ہی کسی جگہ چھپنا پڑے گا اور بالآخر حکومت کے ہتھے چڑھ جائیں گے۔

اب سازشیوں نے گھبرا کر اپنی سازشوں کا رخ حکومت کی فیصلہ سازی کے مختلف مراحل کی طرف موڑ دیا ہے۔ حکومت چاہتی تھی کہ ہفتے کے روز کی چھٹی ختم کے جاۓ مگر یہ نہیں ہونے دیا گیا، نئی حکومت کے وزیر خزانہ نے کافی باریک بینی کے ساتھ حساب لگایا تھا کہ پیٹرول کی قیمت پچاس ساٹھ روپے فی لیٹر سے زیادہ ہونی ہی نہیں چاہئے اب جبکہ وہ خود اس منصب پر فائز ہیں تو وہ یہ نیک کام جلد از جلد سر انجام دینا چاہتے ہیں اور حکومت بھی پیٹرول کی قیمت پچاس ساٹھ روپے فی لیٹر مقرر کرنے پر بضد ہے مگر حکومت میں ہی شامل کچھ لوگ اس فیصلے میں تاخیر کا سبب بن رہے ہیں۔ ڈالر کو ہی دیکھئے، حکومت کی خواہش ہے کہ وہ سیدھے طریقے سے پچاس روپے پہ آ جاۓ مگر نجانے کون سی ایسی اندرونی اور بیرونی قوتیں ہیں کہ وہ ڈالر کو ایک سو چوبیس سے نیچے اُترنے ہی نہیں دے رہیں۔

سازشیوں کا ہدف حکومتی فیصلے ہی نہیں خود کپتان کی رہائش کے معاملات بھی ان سازشی عناصر سے محفوظ نہیں ہیں۔ وزیر اعظم نے اپنی پہلی ہی تقریر میں وزیر اعظم ہاؤس میں نہ رہنے کا اعلان کر دیا تھا اور اپنی رہائش کے لئے وزیر اعظم ہاؤس کے کچھ حصے، پنجاب ہاؤس کی انیکسی اور سپیکر ہاؤس تک دیکھ لیا گیا۔ مگر تا حال ان میں سے کسی بھی فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ ظاہر ہے اس کے پیچھے بھی حکومت کے اندر موجود سازشی عناصر ہی ہو سکتے ہیں۔ اس سے جہاں یونیورسٹی کے قیام میں تاخیر ہو رہی ہے وہیں چاروناچار وزیر اعظم اور خاتونِ اوّل کو روازنہ اپنی بنی گالہ والی رہائش گاہ سے وزیر اعظم سیکریٹریٹ آنے جانے کے لئے سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کرنا پڑتا ہے جو ایک تکلیف دہ عمل ہے اور اس عمر میں اتنا سفر کرنا مناسب بھی نہیں ہے مگر مجبوری ہے۔

تاہم فکر کی کوئی بات نہیں ہے، حکومت جونہی اپنے سو دن والے ایجنڈے سے فارغ ہو گی ان تمام معاملات اور سازشیوں سے بھی نمٹ لے گی۔ سو دن کا ایجنڈا تیزی سے تکمیل کی طرف گامزن ہے اور اب صرف بانوے دن ہی باقی رہ گئے ہیں۔ اس کے بعد اگلے پونے پانچ سالوں میں پیٹرول اور ڈالر کی قیمت وغیرہ کی طرف بھرپور توجہ دی جاۓ گی۔ مگر اس سے پہلے حکومت کے اندر موجود سازشیوں سے گُزارش کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنی حرکتوں سے باز آ جائیں تا کہ نئے پاکستان کی منزل حاصل کی جا سکے۔ اگر سازشی یہ سطور پڑھ رہے ہیں تو وہ خود ہی اس گُزارش پر غور فرماویں۔ عین نوازش ہو گی۔

Facebook Comments HS