اللہ معاف کر دیتا ہے، بندے نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل نئے منتخب وزیر اعظم جناب عمران خان کی عید کی نماز ہر جگہ موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ ایک بڑا حلقہ جوان کے مداحین اور طرفداروں پر مشتمل ہے، ان کے دفاع میں پوری شدو مد سے کمربستہ ہے۔ الیکٹرانک میڈیا پر جب جناب صدر، گورنرز، وزرائے اعلی، وزرا، چیف جسٹس سمیت دوسرے درجے کے رہنماؤں کے بارے میں بھی باتصویر عید پڑھنے کی خبریں عام ہوئیں تو لوگوں کو نئے وزیراعظم کی عید کے بارے میں تشویش ہوئی۔ اپوزیشن والے تو ایسے کسی موقعے کی تلاش میں رہتے ہیں۔

گیارہ بجے تک سوشل میڈیا پر اس حوالے سے طوفان بدتمیزی مچ چکا تھا۔ مخالفین طنز و تعریض کے تیر برساتے ہوئے حکومتی اہلکاروں اور پی ٹی آئی والوں سے تقاضا کر رہے تھے کہ وہ عمران خان کی نماز عید کی تصویر جاری کریں۔ تب عمران کے مداحین نے مسئلے کو سنجیدہ لیتے ہوئے تصویر کے لیے دوڑ دھوپ شروع کر دی۔

سوشل میڈیا کے مجاہدین نے پرانے نئے تمام ریکارڈ چھان مارے مگر سوائے ایک مبہم سی پرانی تصویر کے کچھ ہاتھ نہ آیا۔ یہ عید، عیدالفطر بھی نہیں تھی کہ جو خیر سے ہمارے ہاں تین دن تک مسلسل پڑھی اور منائی جاتی ہے۔ چھوٹی عید ہوتی تو کہا جا سکتا تھا کہ خان صاحب کل ہی مفتی پوپلزئی کی امامت میں پشاور میں ادا کر چکے ہیں۔ یا معترضین اور نکتہ چینوں کو چاند نظر آنے یا نہ آنے کے مخمصے اور سیاپے میں الجھا کر عزت بچائی جا سکتی تھی کہ جب چاند ہی دکھائی نہیں دیا تو عید کی نماز کیسے پڑھی جا سکتی ہے کیونکہ ادھر ہر سال بقول شاعر صورت حال کچھ یوں ہوتی ہے کہ

چاند کو ہاتھ لگا آئے ہیں اہل ہمت
ان کو یہ دھن ہے کہ جانب مریخ بڑھیں
ایک ہم ہیں کہ دکھائی نہ دیا چاند
ہم اسی سوچ میں ہیں عید پڑھیں یانہ پڑھیں

بہرحال ایسا کوئی کرشمہ برپا نہ ہوا اور ایوان وزیر اعظم والے اور ترجمان و طرف داران سب سٹپٹا گئے کہ اب حریفان ستم کیش کے حملوں کو کیسے پسپا کیا جائے؟ اب یہ معترضین تنقید سے کئی ہاتھ آگے نکل کرباقاعدہ دریدہ دہنی اور دشنام طرازی پر اتر آئے تھے۔ اور مزے کی بات یہ تھی کہ ان کے لب اتنے شییریں بھی نہیں تھے کہ وہ رقیب کی طرح گالیاں کھا کے بد مزہ نہ ہوتے۔ جب ہر طرف سے کوئی مفید مطلب اور کار آمد تصویر نہ ملی تو اپنا سا منہ لے کے رہ گئے مگر ان میں سے کچھ اپنے قائد کے نقش پا پہ چلتے ہوئے آخری وقت تک ہارماننے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ جب ہر طرف پسپائی دیکھی تو کاری وارکے لیے مذہب کے ذاتی مسئلے والا ایک دوسرا محاذ سنبھال لیا اور بغیر نشانہ لئے ہی تابڑ توڑ گولہ باری شروع کر دی۔

اس محاذ پر بھی ان کو اپنی شکست فاش یقینی نظر آ رہی تھی کیونکہ ان کے لیے یہاں جائے فراراس لیے نہیں تھی کہ ان کا لیڈر ریاست مدینہ کی بنیاد رکھنے کا دعوی کر چکا تھا۔ اور ریاست مدینہ میں تو امیر ریاست خود نماز عید پڑھاتا تھا کجایہ کہ نیند کے غلبے کی وجہ سے اپنی ہی نماز قضا کر بیٹھے۔ مگراس کے باوجود اپنے محبوب قائد کی مدافعت میں اندھادھند ہاتھ پاؤں مار رہے تھے۔ ان کی حالت بقول شاعر یہ تھی
شامل ہوں کھیل میں تیری تفریح کے لیے
بازی تو بڑی دیر سے ہارا ہوا ہوں میں

یہ طرف بھی دبتی دیکھی تو عبادات کی تشہیر کو ریاکاری اور دکھاوے پر محمول کر کے تھوڑی دیر منہ زور مخالفین کا ناطقہ بند کرنے کی سعی لاحاصل کی۔ کیونکہ عمران تو اس سے پہلے ایسے واقعات کی تصویریں بنوا کر سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر جاری کروا چکے تھے تواب ریاکاری یانمود و نمائش کا سوال کہاں سے پیدا ہو گیا تھا؟ اس حوالے سے جب بھی ان سے سوال پوچھا جاتا وہ بپھر کر پرانی حکومت کے قائدین کی کوئی خامی منظر عام پر لانے کی بے محل کوشش کرتے جس کے جواب میں اس طرح کی طعنہ زنی اور شکوہ سنجی سامنے آتی۔
خیال جس کا تھا مجھے خیال میں ملا مجھے
سوال کا جواب بھی سوال میں ملا مجھے

اگلے تین چار دن بھی اس حوالے سے میدان پانی پت کی طرح پائے مال رہا۔ عمران خان نے پنجاب میں الیکشن جیتنے اور حکومت بنانے کو پانی پت کی جنگ میں فتح حاصل کرنے سے مماثل قراردیا تھا تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا تھا کہ وہ پانی پت کی کون سی جنگ کی بات کر رہے تھے کیونکہ اس مشہور تاریخی میدان میں تو تاریخ کی تین بڑی جنگیں ہوئی ہیں۔ شاید انہیں بھی شیخ رشید کی طرح ایک ہی جنگ کے بارے میں پتہ ہو۔ ان دنوں تو یوں لگ رہا تھا کہ عمران کی نماز عید کا مسئلہ، مسئلہ کشمیر سے بھی بڑھ کر اہمیت حاصل کر گیا ہے۔ ہمارے ہاں مذہب کا نام لے کر کوئی بھی معرکہ سر کیا جا سکتا ہے۔ مذہب ہمارے ہاں بہت حساس نوعیت کا مسئلہ ہے۔ اس کے سوئے استعمال کی بے شمار قبیح مثالیں ہیں کہ جہاں کتنے ہی بے گناہوں کو عوامی عدالت لگا کر بڑی بے دردی سے قید حیات سے آزاد کر دیا جاتا ہے۔ شکر ہے کہ اس ہجوم سے بچت نہیں رہی۔

ہم عمران خان کی بھی کچھ ناگفتہ مجبوریوں کے باعث ان کے صبح تڑکے نہ اٹھ سکنے کے احوال سے واقف ہیں مگر اس کے باوجود مفت مشورہ پیش خدمت کر دیتے ہیں کہ جس طرح انہوں نے دفتری اوقات کو صبح 8 بجے کے بجائے 9 بجے شروع کرنے کا مستحسن فیصلہ کیاہے اسی طرح عیدین کی نماز کا وقت بھی 9 بجے مقرر کیا جا سکتا ہے۔ عوام بھی مطمئن رہیں گے، پی ٹی آئی والوں کی پریشانی بھی دور ہو جائے گی اور جناب وزیراعظم بھی شانت رہیں گے کیونکہ خان صاحب کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارے جیسے معاشروں میں مذہبی شعائر کی عدم ادائیگی پر اللہ تعالی تو معاف کر دیتے ہیں مگر اللہ کے بندے ہرگز معاف نہیں کرتے۔ ویسے ہم اگر حکومتی نمائندوں اور عمرانی مداحین میں شامل ہوتے تو ان کے نماز عیدنہ پڑھ سکنے کے عمل کو ادیبانہ اور شاعرانہ اسلوب میں کچھ اس طرح سے تحفظ فراہم کرتے ہوئے مخالفین کی خدمت میں یوں عرض پرداز ہوتے

اچھی صورت کو سنورنے کی ضرورت کیا ہے
سادگی میں بھی قیامت کی ادا ہوتی ہے
تم جو آجاتے ہو مسجد میں ادا کرنے نماز
تم کو معلوم ہے کتنوں کی قضا ہوتی ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •