پیپلزپارٹی تحریک انصاف کی بغل بچہ پارٹی، مولانا فضل الرحمن کو ووٹ دیں: نواز شریف کی ہدایت
سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے مضبوط اور جاندار اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کے لئے پیپلزپارٹی سے راہیں جدا کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ انہوں نے پیپلزپارٹی کو تحریک انصاف کی بغل بچہ پارٹی قرار دیا۔ متفقہ صدارتی امیدوار لانے کے معاملے میں لیگی راہنماؤں کو پیپلزپارٹی سے مزید مشاورت کرنے سے منع کر دیا اور انہیں ہدایت جاری کی کہ وہ مولانا فضل الرحمان کو ووٹ دیں۔
گزشتہ روز احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر کمرہ عدالت کے اندر لیگی راہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ( ن ) مزید ایک ساتھ نہیں چل سکتی ۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کی بقا کے لئے ضروری تھا کہ دونوں بڑی سیاسی جماعتیں مل کر کام کریں۔ جعلی مینڈیٹ سے آنے والی حکومت کو آہنی اور قانونی طریقے سے ہٹانے کے لئے پیپلزپارٹی کو ہمارا ساتھ دینا چاہئے تھا۔
انہوں نے کہا کہ مشاہد خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اپنی مجبوریاں ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنے سے شاہد وہ بچ جائیں مگر ممکن نہیں کہ وہ نکل جائیں۔
دریں اثناء میاں نواز شریف کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر لیگی کارکنوں کی خاطر خواہ تعداد موجود نہ تھی ۔ لیگی حکومت کے دوران دودھ پینے والے مجنوں بہت تھے مگر پیشی کے موقع پر اپنے محبوب قائد کے استقبال کے لئے گنتی کے چند افراد تھے ۔ میاں نواز شریف کے چہرے پر پریشانی واضح جھلک دکھائی دے رہی تھی ان کا ہشاش بشاش چہرہ مرجھایا ہوا تھا ۔


