بدیسی ادب: کیٹ شوپن کا معصوم


آرماند کمرے میں داخل ہوا اور بغیر بات کیے میز پر رکھے کاغزوں کو دیکھنے میں مصروف ہو گیا۔

آرماند، روشیل نے ایسی آواز میں اسے مخاطب کیا جو کسی بھی انسان کا جگر چیر سکتی تھی۔ لیکن آرماند نے کوئی توجہ نہیں دی، جیسے سنا ہی نہیں۔

پھر وہ اٹھی اور اپنے شوہر کی طرف چند قدم بڑھی۔

آرماند، اس نے دوبارہ ایسے کہا جیسے اس کی دنیا لٹنے والی ہو۔

اس نے آرماند کا رخ بچے کے بستر کی طرف موڑ کر کانپتی آواز میں کہا۔ آرماند، ہمارے بیٹے کی طرف دیکھو۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ مجھے بتاؤ، اس کا مطلب کیا ہے؟

آرماند نے انتہای سرد مہری سے روشیل کا ہاتھ اپنے بازو سے الگ کر دیا۔

خدا کے یے مجھے بتاؤ اس کا مطلب کیا ہے۔ بتاؤ۔

اس کا مطلب، آرماند نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئِے کہا،

اس کا مطلب ہے کہ یہ بچہ سفید نسل سے نہیں۔

اس کا مطلب ہے کہ تم سفید نسل سے نہیں

روشیل کی آواز ایک چیخ کی طرح نکلی۔ یہ جھوٹ ہے۔ بلکل جھوٹ۔ میں سفید فام ہوں۔ دیکھو، غور سے میرا چہرہ دیکھو، میرا جسم دیکھو۔ دیکھو میرے بال سونے کی تاروں کی طرح سنہرے ہیں یا نہیں؟ میری آنکھیں نیلی ہیں یا نہہیں؟ اس نے اپنے شوہر کی کلائی پکڑ کر اسے اپنے نزدیک کرتے ہوئِے کہا، میری کلائی دیکھو۔ یہ تھماری کلائی سے زیادہ سفید ہے۔ میں سفید فام ہوں آرماند۔ تمھاری طرح۔ میرا بیٹا بھی سفید فام ہے۔

ہاں ایسا سفید جیسے ملازمہ کا دو نسلی بیٹا۔ آرماند کی آواز میں شدید حقارت ٹپک رہی تھی۔ اسے بچے کے ساتھ اکیلا چھوڑ کر وہ کمرے سے باہر نکل گیا۔

جب روشیل کی لرزش میں تھوڑی سی کمی ہوئی تو اس نے قلم ہاتھ میں لیا اور مادام کو ایک خط لکھنا شروع کیا۔

امی، لوگ سمجھتے ہیں کہ میں سفید نسل سے نہیں ہوں۔ آرماند نے آج مجھ سے کہ دیا کہہ میں سفید فام نہیں۔ آپ کو خدا کا واسطہ مجھے بتاییں کہ ایسا نہیں ہے۔ مجھے بتایںٔ امی ورنہ میں مر جاوں گی۔ مجھے بتایں، سب کچھ سچ سچ بتائیں۔

جواب انتہای مختصر تھا۔
میری اپنی پیاری بیٹی۔ تم فورا اپنی ماں کے پاس واپس آجاؤ اور اپنے بیٹے کو بھی ساتھ لے کر آؤ۔

جیسے ہی روشیل کو یہ خط ملا وہ اپنے شوہر کی لایبریری میں گئی جہاں وہ میز پر بکھرے ہوئِے کاغزات دیکھ رہا تھا۔ روشیل نے خط کھول کر میز پر رکھ دیا۔ وہ بلکل چپ تھی۔ اور پتھر کے بت کی طرح ساکن کھڑی رہی۔

آرماند نے خاموشی اور سرد مہری سے خط پڑھا لیکن کوئی جواب نہیں دیا۔
آرماند کیا میں چلی جاوں؟ اس نے چبھتی ہوئی اور تزبزب سے لبریز آواز میں پوچھا۔
جاؤ۔

اس نے ایک لفظ میں جواب دیا۔
کیا تم واقعی چاہتے ہو میں چلی جاؤں؟
ہاں، چلی جاؤ، میں یہی چاہتا ہوں۔
روشیل کو یہ جواب سئن کر ایک جھٹکا سا لگا۔ وہ واپس مڑی۔
خدا حافط آرماند
اسے کوئی جواب نہ ملا۔

روشیل اپنے کمرے میں گئی۔ اس نے بغیر کوئی لفظ کہےآیا کی گود سے بچے کو لیا اور سیڑھیوں سے اتر کر بڑے دروازے سے نکل حویلی کے پھاٹک سے باہر نکل گئی۔

کپاس کے کھیتوں میں کام کرتے ہوئِے سیاہ فام افریقی غلاموں نے روشیل کو پھاٹک سے نکلتے دیکھا۔ کانٹوں سے اس کے نازک پاوں زخمی ہو رہے تھے، ریشمی گاؤن بھی جگہ جگہ سے پھٹنے لگا تھا، اس کے بال کھلے ہوئے تھے، سورج کی روشنی نے انہیں اور بھی سنہرا بنا دیا تھا۔ بچہ اس کی گود میں تھا۔

ایک راستہ مادام کی حویلی کی طرف جاتا تھا، دوسرا گھنے درختوں سے بھرے ہوئے جنگل کی طرف۔ روشیل نے دوسرا راستہ لیا۔
اس کے بعد کسی نے روشیل اور بچے کو دوبارہ نہیں دیکھا۔

چند ہفتوں کے بعد آرماند کے گھر کے باہر ایک عجیب منظر دیکھنے میں آیا۔ حویلی کے بیرونی صحن میں آگ کا ایک بہت بڑا الاؤ تیار کیا گیا تھا۔ بچے کا آبنوسی بستر، کھلونے، روشیل کے ریشمی گاؤن، چادریں، کھڑکیوں کے پردے اور ہر وہ چیز جو آرماند کو روشیل یا بچے کی یاد دلا سکتی تھی بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونکی جا رہی تھی۔ جب تمام چیزیں جل چکیں اور آگ بجھنے کے قریب تھی تو آرماند نے نوکروں کو کمرے سے آخری الماری لانے کے لیے کہا۔ الماری کو آگ میں جھونکنے سے پہلے اس نے ایک دراز کھولی جس کی تہ میں سے روشیل کے لکھے ہوئِے خطوط کا ایک بنڈل نکلا۔ آرماند نے بغیر دیکھے یا پڑھے اسے آ گ میں ڈال دیا۔ سب خط جل چکے تھے۔ وہ دراز کو اگ میں پھینکے ہی لگا تھا کہ اسے ایک ان کھلا خط نظر آیا۔ لیکن یہ خط روشیل کا نہیں تھا۔

آرماند نے خط کھولا۔ یہ بہت پرانا خط آرماند کی ماں کی طرف سے بڑے شاربونو صاحب کے نام تھا جس میں اس نے آرماند کے باپ کو اپنی محبت کا یقین دلایا تھا اور خدا کا شکر ادا کیا تھا کہ اسے شاربونو جیسے نیک نام اور بڑے خاندان سے تعلق رکھے والے ممتاز شخص کی محبت ملی جس کی وہ ہر گز حقدار نہیں تھی۔

‘اور سب سے زیادہ تو میں اس بات پر خدا کا شکر ادا کرتی ہوں‘، خط کی آخری سطروں میں لکھا تھا۔ ’کہ اس کی کرامت سے ہمیں چاند سا بیٹا آرماند ملا، جس میں میری ذرہ برابر بھی شباہت نہیں، جو بلکل مکمل طور پر آپ پر گیا ہے، جس کو کبھی یہ علم ہی نہیں، شک تک بھی نہیں ہو گا کہ اس کی ماں افریقی سیاہ فام غلاموں کی اولاد تھی‘۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2