شیخ رشید، رضیہ بٹ اور نسیم حجازی


آج کل کراچی کے عمران اسماعیل کی تعلیمی قابلیت پر بہت شور مچ رہا ہے۔ تحریک انصاف والے بتاتے ہیں کہ وہ فلاں فلاں ملک سے فلاں فلاں چیز میں انجینئرنگ کر کے آئے ہیں مگر ان سے جلنے والے چند سرکاری کاغذات لہراتے ہوئے بتاتے ہیں کہ نہیں صاحب وہ تو ایف اے پاس ہیں۔ اب تو کراچی والوں کو مان لینا چاہیے کہ پنڈی والے ان سے بہت آگے ہیں۔ پنڈی کے تو وہ وزیر بھی جن کی ڈیوٹی چھک چھک کرنے اور دھواں چھوڑنے کی لگائی گئی ہے، دیگر تعلیمی قابلیت کے علاوہ رضیہ بٹ کے حافظ نکلے ہیں۔ کیا کراچی کا کوئی گورنر یا وزیر ایسا ہے جس نے رضیہ بٹ کو پڑھا ہو؟ ہمارے پنڈی کے تو سب سے دبنگ وزیر بھی اتنے نرم دل ہیں کہ انہوں نے رضیہ بٹ کے علاوہ کچھ نہیں پڑھا۔ کم از کم ان کے اعمال سے تو یہی گمان ہوتا ہے۔

اس بات کا انکشاف کچھ یوں ہوا کہ گزشتہ دنوں وہ ریلوے ہیڈ کوارٹرز گئے۔ اب آپ اگر کانفرنسوں اور پریزنٹیشنوں میں جانے کے عادی ہوں تو آپ کو علم ہو گا کہ ادھر ہوتا ہواتا کچھ نہیں بس کہانی سنا دیتے ہیں اور سکرین پر سبز باغ دکھا کر واپس کر دیتے ہیں۔

غالباً ریلوے کی اس پریزنٹیشن میں بھی یہی ہوا ہو گا۔ چند افسران نے انہیں ساس بہو کے قصے سنا کر چکر دینے کی کوشش کی تو وہیں تاڑ گئے کہ رضیہ بٹ کے کس ناول سے پلاٹ چرا کر یہ پریزنٹیشن بنائی گئی ہے۔

سنا ہے کہ جیسے ہی کوئی افسر کہانی پھینکنے کی کوشش کرتا تو شیخ صاحب فوراً بتا دیتے کہ یہ پلاٹ رضیہ بٹ کے فلانے ناول سے لیا گیا ہے اور ڈانٹ دیتے کہ مجھے رضیہ بٹ کے ناول مت سناؤ۔ ویسے ریلوے والے ہیں فنکار، ہمیں کبھی گمان ہی نہیں ہوا تھا کہ رضیہ بٹ کے دھانی رومانی ناولوں کو پریزنٹیشن میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ رضیہ بٹ کے ناولوں میں وہی سٹار پلس جیسے پلاٹ والی کہانیاں ہوتی ہیں جو ساس بہو کی سیاست کے گرد گھومتی ہیں اور کچن میں فلمائی جاتی ہیں۔

یہی سوچ کر خیال آیا کہ یہ ضرور ریلوے کی ڈائننگ کار سے متعلق کہانیاں ہوں گی۔ افسران نے سن رکھا ہو گا کہ شیخ صاحب پنڈی کے ہر تھڑے سے کھانا کھا چکے ہیں۔ اسی پس منظر میں انہوں نے کوئی فلم چلا دی ہو گی۔ مگر ان کی بدقسمتی کہ جب وہ اعداد و شمار دیتے کہ ہمیں ہر سال اتنی آمدنی ہو رہی ہے اور اس جگہ لگ رہی ہے، شیخ صاحب فوراً تاڑ جاتے کہ یہ ضرور ڈپٹی نذیر کی ماما عظمت والی فنکاری دکھا رہے ہیں۔

آخر دق ہو کر شیخ صاحب نے رضیہ بٹ کی شرمیلی بہو کا کردار ایک طرف رکھا اور ظالم ساس کا کردار ادا کرنے لگے جس کے بعد ریلوے کے افسران سراسیمہ ہو گئے کہ ہم تو شیخ صاحب کو بہت پڑھا لکھا وزیر سمجھتے تھے، یہ تو ظالم ساس نکلے، وہ بھی اندرون شہر کے مشہور تھڑوں کی فصیح و بلیغ بامحاورہ زبان بولنے والے۔ اس پر ایک افسر نے تو لمبی چھٹی کی درخواست ہی دے ڈالی کہ اس ساس کے ساتھ میرا گزارا نہیں ہو گا، مجھے الگ گھر لے دو۔

افسر شکر کریں کہ شیخ صاحب نے صرف رضیہ بٹ کو پڑھا ہے اور ساس کے انداز میں زبان چلانی جانتے ہیں۔ انہوں نے نسیم حجازی کو پڑھا ہوتا تو وہ کشتوں کے پشتے لگا دیتے۔ ایک جنا بھی نہ بچتا اس میٹنگ ہال میں۔ رضیہ بٹ کے اس حافظ نے تو صرف عزت کا خون کیا ہے، اگر وہ نسیم حجازی کے حافظ ہوتے تو پھر وہ بحر ظلمات کی گھپ تاریکی میں اپنی عقل کے گھوڑے دوڑا دیتے اور ریلوے کا ہی خون کر ڈالتے۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar