گاڑی کی جگہ ہیلی کاپٹر لے لوں؟
کہتے ہیں کہ انسان کو بڑا بول نہیں بولنا چاہئیے۔ وقت بہت بے رحم ہوتا ہے۔ کبھی مہربان نہ ہو تو انسان کا بولا ہوا بڑا بول اس کے سامنے لا کھڑا کر دیتا ہے۔ پاکستان تحریکِ انصاف کے ساتھ بھی آج کل یہی کچھ ہو رہا ہے۔
خبر آئی کہ وزیرِ اعظم عمران خان وزیرِ اعظم ہائوس سے بنی گالہ سرکاری ہیلی کاپٹر پر آتے جاتے ہیں۔ جب عوام کی جانب سے اس فضول خرچی پر تنقید ہونے لگی تو پاکستان تحریکِ انصاف کے ٹائیگرز طرح طرح کی دلیل نکال لائے۔ کسی نے کہا کہ وزیرِ اعظم کی سیکیورٹی سب سے اہم ہے تو کہیں سے آواز آئی کہ اگر وزیرِ اعظم اپنے پروٹوکول کے ساتھ گاڑی پر سفر کریں گے تو اس سے عام شہریوں کو مشکل ہوگی اور سرکاری خرچ بھی زیادہ آئے گا۔ سب سے دور کی کوڑی وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری لائے۔ انہوں نے ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِاعظم عمران خان کے اس ہوائی سفر پر پچاس سے پچپن روپے فی کلومیٹر خرچ آتا ہے۔ جی اچھا؟ اب اس بیان کی بھی کوئی حمایت کر سکتا ہے، ہم یہ سوچ ہی رہے تھے کہ ایک صحافی دوست نے یہ بھی کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک طرح سے فواد چوہدری صحیح کہہ رہے ہیں۔ پائلٹ تو ہر ماہ سرکار سے ہی تنخواہ لیتا ہے۔ ہر سفر پر اسے الگ سے پیسے نہیں دینے پڑتے۔ یوں ہر سفر پر بس ایندھن کا ہی خرچہ آتا ہے۔ ان کی یہ وضاحت سن کر ہمارے منہ سے بس یہ دو الفاظ ہی نکل سکے، بھائی واہ۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے ٹائیگرز جو کہا کرتے تھے کہ اگر ہمارا لیڈر کچھ غلط کرے گا تو ہم ہی سب سے پہلے تنقید کریں گے، اب ایسے غائب ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ شائد سارے کے سارے ہیلی کاپٹر خریدنے نکلے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف سوشل میڈیا پر جائو تو منچلے مختلف قسم کے ہیلی کاپٹر ادھر سے ادھر اڑاتے پھر رہے ہیں۔
ہم ایسے جو گاڑی لینے کا ارادہ کیے بیٹھے تھے، اب سوچ رہے ہیں کہ گاڑی کی جگہ ہیلی کاپٹر ہی لے لیں۔ لاہور کی مصروف سڑکوں پر گاڑی چلانا ہمارے بس کی تو بات نہیں۔ نئے پاکستان کی آزاد فضائوں میں پچپن روپے فی کلومیٹر کے خرچ پر مزے سے ہیلی کاپٹر اڑاتے ہوئے گھر سے دفتر اور دفتر سے گھر پہنچ جایا کریں گے۔ لوگ ہمیں پہلے ہی عورتوں کے حقوق کی علمبردار سمجھتے ہیں۔ ہیلی کاپٹر کی دم کے ساتھ آزادی نسواں کا جھنڈا بھی باندھ دیں گے۔ ایک پنتھ دو کاج والا معاملہ ہو جائے گا۔ ہمارا ہیلی کاپٹر جہاں جہاں سے گزرے گا وہاں کے لوگ ہماری سادگی کے گن بھی گایا کریں گے کہ اس نئے پاکستان میں سادگی سے مراد یہی ہے۔


