پرویزمشرف کس شرط پر پاکستان آئیں گے؟


سابق صدر پرویز مشرف نے وطن واپسی کی شرط رکھ دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان ضرور آئیں گے مگر انہیں ایسی سیکیورٹی چاہئے جیسے ایک صدر کو دی جاتی ہے۔ سابق صدر پرویز مشرف نے ایک مرتبہ پھر علالت کے باعث وطن واپس آنے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کے وکیل اختر شاہ نے کہا ہے کہ پرویز مشرف کی دبئی میں طبعیت بہتر نہیں ہے اور وہاں ان کا علاج چل رہا ہے، ڈاکٹروں نے انھیں سفر سے منع کیا ہے، سابق صدر علالت اور سیکیورٹی خدشات کے باعث نہیں آ سکتے۔

اختر شاہ نے کہا کہ وہ ڈاکٹروں کے مشورے کے بعد اور تب ہی سفر کریں گے جب انہیں وہ سیکورٹی فراہم کی جائے گی جو پاکستان کے صدر کے لئے مخصوص ہے۔

خصوصی عدالت میں پرویزمشرف کےخلاف سنگین غداری کیس کی آج ہونے والی سماعت میں سیکرٹری داخلہ نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے پرویز مشرف کو لانے کے لیے انٹرپول سے درخواست کی تھی، انٹرپول نے درخواست مسترد کردی، انٹرپول کے قانونی دائرہ کار میں سنگین غداری کیس نہیں آتا۔ خصوصی عدالت نے حکم دیا کہ انٹرپول کا دیا گیا جواب عدالت میں جمع کرایاجائے۔ سیکرٹری داخلہ نے جواب دیا کہ انٹرپول کا جواب آج ہی عدالت میں جمع کرا دیا جائے گا۔ خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس یاورعلی نے دریافت کیا کہ کیا پرویزمشرف کا 342 کا بیان اسکائپ پر لیا جا سکتا ہے؟ کیا 342 کے بیان کے بغیر کارروائی آگے بڑھائی جا سکتی ہے؟

عدالت نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر اسکائپ پر بیان لینے یا اس کے بغیر کارروائی بڑھانے پر دلائل دیے جائیں جس کے بعد عدالت نے سنگین غداری کیس کی سماعت 10 ستمبر تک ملتوی کردی ۔

Facebook Comments HS