توہین مذہب ، پاکستان اور عالمی ادارے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے پیغمبر اسلام کے بارے میں توہین آمیز خاکوں کا مقابلہ کروانے کی مذموم کوشش کے خلاف اقوام متحدہ میں آواز اٹھانے کا اعلان کیا ہے ۔ انہوں نے گزشتہ روز سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت پاکستان اسلامی تعاون کی عالمی تنظیم کے ذریعے تمام مسلمان ملکوں کو متحرک کرنے کی کوشش کرے گی۔ یہ ایک خوش آئیند اعلان ہے اور پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں رسول پاکﷺ سے محبت کرنے والے مسلمان اس اقدام پر بجا طور سے اطمینان محسوس کریں گے۔ اور اس عالمی دباؤ کا حصہ بنیں گے جو ہالینڈ کے ایک متعصب سیاست دان کی اسلام دشمن حرکتوں کے خلاف منظم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے رسول پاک ﷺ کے بارے میں مسلمانوں کے جذبات و احساسات کو سامنے لانے میں ناکامی پر مسلمان ملکوں کی کمزوری کا بھی ذکر کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ مسلمان دنیا اب تک بین الاقوامی برادری کو یہ باور کروانے میں کیوں ناکام رہی ہے کہ ایسی حرکتوں سے مسلمانوں کے جذبات اسی طرح مجروح ہوتے ہیں جس طرح دوسری جنگ عظیم میں یہودیوں کے قتل عام یا ہولوکاسٹ کے خلاف بات کرنے سے یہودیوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے‘۔

عمران خان کا یہ بیان تحریک لبیک کے زعما کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا تھا جس میں یہ تنظیم 29 اگست سے اہانت رسول کی نئی کوششوں کے خلاف احتجاج کے لئے لانگ مارچ کرنے اور دھرنا دینے کا اعلان کرچکی ہے۔ اس تنظیم کا کہنا ہے کہ ہالینڈ اگر اس سال کے آخر میں رسول پاک ﷺ کے کارٹون سازی کا مقابلہ کروانے کی مذموم کوشش ترک کرنے میں ناکام رہتا ہے تو حکومت پاکستان اس ملک کے علاوہ اس مجوزہ مقابلہ میں جج بننے والے امریکی کی وجہ سے امریکہ سے بھی سفارتی تعلقات منقطع کرے۔ اور دوسرے مسلمان ملکوں کو بھی اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ وہ ان دونوں ملکوں کا بائیکاٹ کریں۔ تحریک لبیک نے اس وقت تک اس معاملہ پر دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے جب تک یا تو توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کا سلسلہ بند ہو جائے یا پاکستان ہالینڈ اور امریکہ سے تعلقات منقطع نہ کرلے۔ لبیک تحریک اس سے قبل گزشتہ نومبر میں فیض آباد دھرنا کی وجہ سے شہرت حاصل کرچکی ہے ۔ یہ دھرنا انتخابی ایکٹ میں ختم نبوت کے حلف نامہ کے تنازعہ پر شروع ہؤا تھا اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود اسے ختم نہیں کروایا جاسکا تھا۔ بالآخر پاک فوج کی مدد اور رینجرز کی طرف سے دھرنا مظاہرین کی قوت ایمانی کی توصیف اور نقد رقوم پر مشتمل لفافوں کی تقسیم کے بعد ہی یہ دھرنا اختتام پذیر ہو سکا تھا جس کی وجہ سے راولپنڈی اور دارالحکومت اسلام آباد کے درمیان مواصلاتی نظام تین ہفتوں تک معطل رہا تھا۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ عمران خان کے سینیٹ میں بیان کے بعد لبیک تحریک سفارتی ذرائع سے اس معاملہ پر کام کرنے کے اعلان کو قبول کرلے گی یا ماضی کی روایت کے مطابق اس وقت تک دھرنا اور احتجاج ختم نہیں کرے گی جب تک فوج کو حکومت کی مدد کے لئے نہ آنا پڑے۔

توہین رسالت کا معاملہ گزشتہ تین دہائیوں سے عالمی سطح پر موضوع بحث بنا ہؤا ہے۔ اس سلسلہ کا آغاز 1988 میں سلمان رشدی کے ناول ’شیطانی آیات‘ کی اشاعت سے شروع ہؤا تھا۔ ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خمینی نے 1989 میں رشدی کے قتل کا فتویٰ جاری کرکے اس معاملہ کو مغرب اور مسلمان ملکوں کے درمیان بنیادی تنازعہ کی حیثیت دلوا دی تھی۔ اگرچہ سب ملکوں کے عام مسلمانوں نے آیت اللہ خمینی کے فتویٰ کو درست مانتے ہوئے سلمان رشدی کے خلاف مقدمہ چلانے اور اسے موت کی سزا دینے کے مطالبہ کی حمایت کی لیکن کسی دوسرے مسلمان ملک نے اس سوال پر خمینی کے فتویٰ کی تائد نہیں کی تھی ۔ علمائے دین بھی اس معاملہ پر کسی غیر ملکی شہری کے خلاف موت کا فتویٰ جاری کرنے کے سوال پر متفق نہیں ہو سکے تھے۔ دوسری طرف مغربی ممالک کی حکومتوں نے مسلمان ملکوں کے علاوہ اپنے ملکوں میں آباد مسلمانوں کے ذبردست احتجاج کے باوجود یہ مؤقف برقرار رکھا کہ آزادی رائے کا اصول مغربی جمہوریت میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے ۔ مغربی ملکوں کے سیاست دان اور دانشور یکساں طور سے مسلمانوں کے جذبات اور توہین آمیز اظہار کے بارے میں گفتگو کے دوران یہ واضح کرتے رہے ہیں کہ مسلمان گردن پر تلوار رکھ کر اس معاملہ اپنی رائے نہیں منوا سکتے۔ ان ملکوں کا مؤقف رہا ہے آزادی اظہار اور حرمت رسول کے بارے میں مسلمانوں کے جذبات پر بحث اسی صورت میں کسی حتمی نتیجہ تک پہنچ سکتی ہے اگر ایران اپنا فتویٰ واپس لے ۔

2005 میں ڈنمارک کے اخبار ای لاند پوستن نے ’ محمد کا بشرہ‘ کے عنوان سے رسول پاک ﷺ کے چند کارٹون شائع کرکے سلمان رشدی کے ناول سے شروع ہونے والی بحث کو ایک نیا رخ دیا ۔ مسلمانوں میں ایک بار پھر اشتعال پھیلا اور اس موقع پر بعض مسلمان ملکوں نے ڈنمارک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کا عارضی فیصلہ بھی کیا۔لیکن ڈنمارک کی حکومت نے اس معاملہ میں مداخلت سے انکار کردیا ۔ ڈنمارک کا مؤقف رہا ہے کہ حکومت کسی اخبار کی ادارتی پالیسی میں مداخلت نہیں کرسکتی۔ مسلمانوں کا احتجاج بڑھنے اور یورپ کے مختلف ملکوں میں پرتشدد احتجاج کے بعد یورپ کے متعدد اخبارات نے بھی ان کارٹونوں کو شائع کرکے ای لاند پوستن کے ساتھ اظہار یک جہتی کرنا ضروری سمجھا۔ ان دونوں واقعات کے بعد شروع ہونے والے مباحث اب تک جاری ہیں اور یورپ و امریکہ میں امیگریشن کے بارے میں رائے عامہ تبدیل ہونے کے بعد شروع ہونے والے قوم پرستانہ مباحث میں اس موضوع کو بھی شامل کرلیا جاتا ہے۔

 نائن الیون کے بعد دہشت گردی اور اسلام کے حوالے سے ہونے والی بحث اور مزاج سازی میں اظہار رائے اور مسلمانوں کے پر اشتعال رد عمل کے موضوعات بھی زیر بحث آتے رہے ہیں۔ ان مباحث میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز ماحول پیدا کیا گیا ہے جس کے مظاہر امریکہ کے علاوہ بیشتر یورپی ممالک میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ امیگریشن کی بحث کو عام طور سے قومی مفادات کے تحفظ اور مسلمانوں اور اسلام کے خلاف رائے کو مستحکم کرنے کے لئے استعمال کرنے کی منظم کوششیں کی جارہی ہیں ۔ اس طرح یورپ کے مختلف ممالک میں متعدد ایسی قوم پرست پارٹیاں مضبوط ہوئی ہیں جو مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا کر مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ یہ عناصر اسلامی شعائر کے علاوہ رسول پاک ﷺ سمیت اسلامی اکابرین کے خلاف ہتک آمیز اور توہین پر مشتمل مواد عام کرتے رہتے ہیں۔ ان یورپی سیاست دانوں میں ہالینڈ کا گیرٹ وائیلڈرز بھی شامل ہے۔ وہ اس سے پہلے اسلام دشمنی پر مبنی فلم بنا کر منظر عام پر آیا تھا اور اب اس نے اس سال دسمبر میں رسول ﷺ پاک کے کارٹون بنانے کا مقابلہ منعقد کرنے کا اعلان کرکے دنیا بھر کے مسلمانوں کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے۔ ہالینڈ کے وزیر اعظم مارک روٹے نے اس اعلان سے دست برداری کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کا اس قسم کے منصوبہ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وائیلڈرز حکومت کا حصہ بھی نہیں ہے۔ لیکن ہالینڈ میں اظہار رائے کی مکمل آزادی ہے۔

ان تین دہائیوں میں مسلمان حکومتیں اور اہل علم مغربی دانشوروں یا عالمی اداروں کو رسول پاک ﷺ کے ساتھ مسلمانوں کی وابستگی اور محبت و عقیدت کے بارے مدلل طریقے سے متاثر اور قائل کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہوئے۔ اس کی بنیادی وجہ مسلمان ملکوں کے باہمی تنازعات بھی ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی اس وجہ کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ مغربی ممالک جن بنیادی اصولوں اور اقدار کی بات کرتے ہیں، مسلمان ملکوں اور معاشروں میں ان کا احترام عنقا ہے۔ کوئی بھی ایسا مسلمان ملک موجود نہیں ہے جہاں اقلیتی عقائد کو تحفظ فراہم کیا جائے یا ان کے خلاف ظلم و زیادتی کے واقعات رونما نہ ہوتے ہوں۔ پاکستان کے وزیر اعظم جس وقت عالمی اداروں کے ذریعے مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے والی حرکات کے خلاف عالمی سطح پر کوششیں کرنے کا اعلان کررہے تھے، عین اسی وقت ان کی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری ہیومین رائیٹس واچ کے ایشین ڈائیریکٹر بریڈ آدم کی طرف سے پاکستان میں بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی پر سخت رد عمل ظاہرکررہی تھیں۔

بریڈ آدم نے وزیر اعظم عمران خان کے نام ایک خط میں کہا تھا کہ پاکستان کی نئی حکومت کو ملک میں بنیادی انسانی حقوق کے معاملات کو اپنی ترجیح بنانا چاہئے۔ بریڈ آدم نے اپنے خط میں بتایا تھا کہ پاکستان میں ’آزادی اظہار، سول سوسائیٹی پر حملے، مذہب و عقیدہ کی آزادی، خواتین کے خلاف تشدد، تعلیم تک دسترس، سزائے موت کی معطلی اور دہشت گردی کی علت جیسے چیلنجز کا سامنا ہے‘۔ شیریں مزاری نے اس خط کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی حکومت اپنی عالمی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے اور اسے لیکچر دینے کی بجائے ہیومن رائٹس واچ مقبوضہ کشمیر اور مغربی ممالک میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف کام کرے۔

انسانی حقوق کے بارے میں متعلقہ وزیر کا یہ سخت گیر مؤقف ملک کی صورت حال کے بارے میں عالمی اداروں کی رائے تبدیل نہیں کرتا بلکہ اس سے یہ عالمی نقطہ نظر مضبوط ہوتا ہے کہ پاکستان میں بنیادی انسانی حقوق کی حفاظت کے لئے کام کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ اس حوالے سے یہ ذکر کرنا بھی غیر مناسب نہیں ہو گا کہ پاکستان کا وزیر اعظم جس وقت توہین مذہب کے معاملہ پر عالمی اداروں اور اسلامی ملکوں کو جھنجھوڑنے کی بات کررہا ہے، اسی وقت اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں میانمار کے کمانڈر انچیف سمیت چھ جرنیلوں کو روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کے ملزم قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف انٹرنیشنل کریمینل کورٹ میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ پاکستان سمیت کسی مسلمان ملک نے اس رپورٹ کے بعد میانمار سے تعلقات پر نظر ثانی کا عندیہ نہیں دیا۔ اس کے برعکس پاکستان میں عید الاضحیٰ کے موقع پر ایک مذہبی تنظیم نے احمدیوں کی نگرانی کرنے کی مہم چلائی تھی تاکہ وہ قربانی دے کر خود کو مسلمان ظاہر نہ کرسکیں۔ اس دوران احمدی شہریوں اور عبادت گاہوں پر دو حملوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

پاکستان سمیت مسلمان ملکوں کو ضرور دنیا کو مسلمانوں کے جذبات سے آگاہ کرنے اور ان کا احترام کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ لیکن یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ یہ کوششیں اس وقت تک بار آور ہونے کا امکان نہیں ہے جب تک مسلمان خود اپنے ملکوں میں آباد اقلیتوں کی حفاظت کرنے اور ان کے عقائد، شعائر اور اکابرین کا احترام کرنے کا عملی مظاہرہ نہیں کرتے۔ اگر ہمارا عملی کردار ہمارے دعوے کی تصدیق نہیں کرے گا تو دنیاکے ممالک اور شہری بھی ہماری بات کی پرواہ نہیں کریں گے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1127 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali