تماشہ نہ کریں ،یہاں بدمعاشی نہیں چلے گی،نیب پراسیکیوٹر اور نوازشریف کے وکیل میں تلخ کلامی

نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث کی طرف سے احتساب عدالت میں متفرق درخواست دائرکردی گئی، درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ عدالتی کارروائی کے دوران پیش معاملے پرقانونی حق استعمال کرناچاہتے ہیں۔
اس موقع پر پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر نے کہا کہ خواجہ حارث کوعدالت چھوڑ کرنہیں جاناچاہیے تھا،ہم نے ریکارڈ کےساتھ حسین نواز سے متعلق سوال کاجواب دیا،سردارمظفرکا کہناتھا کہ عدالت نے مخالف فریق کوبہت لچک دی۔
اس پر نوازشریف اورنیب کے وکلامیں تلخ کلامی ہو گئی ،نوازشریف کے معاون وکیل نے کہا کہ اونچا بولنے سے کچھ نہیں ہوگا،اس پر پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ تماشہ نہ کریں،یہاں بدمعاشی نہیں چلے گی۔
نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ ٹیپ ریکارڈنگ رکھیں تاکہ کوئی مکر نہ سکے،جج ارشد ملک نے کہا کہ آپ میری بات سن لیں،خواجہ حارث نے کہا کہ میں بات نہیں سن سکتا،میرے سامنے جوبات ہوئی وہی لکھوارہاہوں،آپ لکھیں پہلے غلط لکھااب ٹھیک لکھوارہے ہیں،آپ نیب کااعتراض لکھیں اورمیراجواب بھی۔
نوازشریف کے وکیل نے کہا کہ افسوس اب اونٹ ٹینٹ کے نیچے آناشروع ہوا،سرآپ ریکارڈٹھیک کریں میں ایسے کام نہیں کروں گا۔
جج ارشد ملک نے کہا کہ یہ لائن آپ نے خودتبدیل کرائی تھی،جولکھا ہے ایسے ہی ہوا،خواجہ حارث نے کہا کہ ایسے نہیں ہوا،ریکارڈخراب نہیں کرنے دوں گا۔جج احتساب عدالت نے کہا کہ آپ بلاوجہ ناراض ہو رہے ہیں،آپ کو عدالت چھوڑ کرنہیں جاناچاہئے۔نیب پراسیکیوشن ٹیم اورواجدضیابھی کمرہ عدالت سے چلے گئے،عدالت نے العزیزیہ سٹیل ملزریفرنس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی۔

