میرا وفادار طوطا
عام طور پر ایسا نہیں ہوتا پر کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے یہ جو چیز ہم ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں مل کے ہی نہیں پاتی۔ جی جناب! یہ ابھی میرے ساتھ بھی ہو رہا ہے۔ پرندوں سے سے بالخصوص طوطوں سے مجھے بہت ہی محبت ہے حیدرآباد سے ہی میں نے اپنے گاؤں میں رہنے والے کتنے ہی لوگوں کو میسج کیے مجھے کوئی چھوٹا سا بچہ طوطا لاکے دو۔
طوطے کو سندھی میں چتوں کہا جاتا ہے پر اب تو سب ہی لوگ طوطا کہتے پائے جاتے ہیں۔ پر مجھے مطلوبہ طوطا نہیں مل رہا ہے۔ حالانکہ گاؤں میں تایا کے گھر کی دیوار میں سوراخ تھا وہاں ایک طوطا بولتا رہتا تھا جہاں صبح کے وقت ڈھیروں ڈھیر طوطے وہاں جمع ہوتے تھے۔ طوطے کا رنگ اتنا خوبصورت ہوتا ہے کہ آنکھوں کو بھلا لگتا ہے۔ دنیا میں طوطے کی پاپیولرٹی بہت ہی زیادہ ہے۔
عام خیال تو یہی ہے کہ جو طوطا آم کے درخت میں موجود گھونسلے سے حاصل کیا جائے وہ زیادہ تیزی سے سیکھتا ہے اور بولتا ہے۔ ویسے بھی آم کا فروٹ اکسیر ہے۔ جگر کے لئے دوائی کا کام کرتا ہے۔ طوطے کی طوطا چشمی بہت ہی مشہور ہے یہاں تک کہ اس کے لئے محاورے بھی ایجاد ہوئے ہیں۔ پر میرا ذاتی خیال نسبتاً مختلف ہے طوطا بیوفا نہیں جیسا اس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے۔
سارا قصور اس کی کمزور یاداشت کا ہی ہے۔ ہوتا کچھ یوں ہے کہ جب اسے پنجرے سے بھاگنے کا موقع ملتا ہے تو وہ حواس باختہ ہوکے تیزی سے اڑجاتا ہے۔ کچھ دیر اڑنے کے بعد ہی اسے اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے جب جنگلی طوطے اسے اپنی برادری کا تسلیم کرنے سے انکار کردیتے ہیں۔ یہ طوطا چونکہ تہذیب یافتہ ہوتا ہے ان طوطوں میں نمایاں اور اجنبی سامحسوس کیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں نو لفٹ ہونے کے بعد اسے وہ گھر اور لوگ یاد آنے لگتے ہیں خاص طور پر بچے جو سارا دن ہی اس سے چھیڑا چھاڑی جاری رکھتے ہیں۔
پر اب واپس جانا بہت ہی مشکل ہوتا ہے وہ کافی آگے نکل آیا ہوتا ہے یاداشت کی کمزوری کے باعث وہ واپس اسی ایڈریس پہ نہیں پہنچ پاتا جہاں وہ داستان چھوڑ کے آیا ہے۔ پھر ہوتا کچھ یوں ہے کہ وہ ادھر ادھر مارا مارا پھرتا ہے اور کہیں نہ کہیں دھرلیا جاتا ہے۔ اس لئے بلی کی یاداشت قابل قدر ہے۔ جہاں بھی چھوڑ آؤ واپس پہنچ جاتی ہے۔
کافی سال پہلے مجھے کہیں سے طوطے کا بچہ ملا حسب دستور اسے پنجرے میں ڈالا کچھ ہی دن میں سب گھر والوں کا لاڈلا بن چکا تھا۔ میں اسے مٹھو بیٹا کہہ کے بلاتی تھی اس نے یہ الفاظ رٹ لئے اب سارا دن ہی مٹھو بیٹا بولتا رہتا ہے۔
طوطے ہمیشہ رٹا ہی لگاتے ہیں ان کند ذہن شاگردوں کی طرح جن کی یاداشت کمزور ہوتی ہے پس یہاں ثابت ہوگیا کہ وہ بیوفا نہیں۔ جب بڑا ہوا تو خود غرضی کا مظاہرہ کرتے بارہا میں نے اس کے پرکاٹے تھے اصل میں مسئلہ یہ تھا کہ وہ پنجرے میں بیٹھنا پسند نہیں کرتا تھا۔ جب دیکھو موقع ملتے ہی کپڑے سکھانے والی رسی پہ جا بیٹھتا۔ ایک دفعہ اسی ڈور پر میری ایک شرٹ بھی سکھانے کے لئے لٹکائی گئی تھی۔
جب وہ باہر کافی دیر تک خاموش بیٹھا رہا تو میں اس کی خبر گیری کے لئے باہر آئی۔ کیا دیکھتی ہوں کہ وہ مستقل شرٹ کے شیشے کترتا جارہا ہے اور چونچ سے خون کے قطرے بھی گرتے جارہے ہیں۔ زبردستی پکڑ کے میں نے اسے الگ کیا تھا سارا دن ہی دکھی رہی۔ جب میں باورچی خانے میں روٹیاں بنانے لگتی تو وہ اڑکر وہیں آجاتا جہاں پھلی روٹی سے ہی اس کی چوری بناتی عید قرباں پر قربانی کا گوشت آنے پر میں جب بھی سکھائے ہوئے گوشت کی بوٹی کھاتی ذرا سی اس کے منہ میں ڈال دیتی۔ اس لئے کہ میرا ضمیر گوارا نہ کرتا کہ اکیلی بوٹیاں کھاؤں اپنے پیارے مٹھو کو نہ کھلاؤں۔
دو تین دن ہم نے گوشت کھایا طوطے کو بھی کھلایا۔ اسی دوران ہمارا ٹولہ گھومنے پھرنے کوئٹہ نکل گیا تھا۔ کوئٹہ سے ہوتے دوسرے دن زیارت کے لئے نکل گئے۔ سندھ والوں کے لئے قریبی ٹھنڈا مقام زیارت ہی ہے۔ جہاں تک زیارت کے بازار کا تعلق ہے وہاں صرف ٹماٹر، ہری مرچی، پیاز ہی فراوانی سے مل پاتی ہے۔ پر سردیوں میں جراب اور سوئیٹر بھی مل جاتے ہیں۔
جس گیسٹ ہاؤس میں ہم رہتے تھے وہاں کچھ اور خاندان بھی موجود تھے۔ گیسٹ ہاؤس رات کے وقت چھوٹی چھوٹی لال ہری بتیوں میں چمکتا رہتا اور شادی کا گھر معلوم دیتا۔ یہ دیکھ کہ تو مجھے حیرت ہوئی کہ جو باورچی رات کو ہمارا کھانا بناتا ہے وہی اس گیسٹ ہاؤس کا مالک ہے۔ رات کے وقت ٹھنڈے ٹھار زیارت میں ہم لوگ لان میں جمع ہوتے سامنے ہی یہ کھانا بناتا اور ڈوئی میں ذرا سا سالن لے آتا کسی نہ کسی لڑکی سے ہی چکھواتا کے چکھ کے بتائیں نمک صحیح ہے۔ ایک دفعہ میں نے ان سے پوچھا کہ چا چا یہ آپ نے اس طرح شادی والی بتیاں کیوں لگائی ہیں۔ بہت ہی ناراض ہوا کہنے لگا مجھے چاچا مت بولو ابھی امارا شادی نہیں ہوا ہے۔
زیارت میں بہت خوبصورت آبشار ہیں سارا علاقہ ہی پہاڑوں میں لپٹا ہوا ہے۔ وہیں آبشار کے آس پاس گھومتے ایک چوٹی پر نظر پڑی وہاں لکھا تھا۔ اکبر خان، میں اور میری بہن اس بارے میں بولنے لگے کہ آخر اتنی بلند و بالا چوٹی پر چڑھنے کی ہمت کس نے کی ہے۔ کسی نے پیچھے سے کہا یہ میں نے لکھا ہے میرا نام اکبر ہے۔
ہم نے اسے بے یقینی سے دیکھا تھا اور کہا کہ ابھی وہ ہمارے سامنے ہی وہاں تک جاکے دکھائے اور نام پر ہاتھ رکھے وہ ایک دم مسکرایا۔ وہ اسی چوٹی تک پانچ منٹ میں ہی پہنچ چکا تھا۔ جیسے ہی اس نے اپنے نام پر ہاتھ رکھا نیچے کھڑے ہوئے سب ہی لوگ تالیاں بجاکے اسے داد دینے لگے۔ بہرحال واپس اترنے میں اس نے کچھ دیر لگائی تھی۔ زیارت میں یہاں وہاں درختوں میں چھوٹے چھوٹے سیب لگے تھے۔ چیری کے درخت پر تو ہر جگہ ہاؤس فل نمائش جاری تھی۔
قائد اعظم ریذیڈنسی جہاں انہوں نے اپنا آخری وقت گذارا اور اور فاطمہ جناح کا کمرہ دیکھا۔ ساری ہی عمارت خوبصورت ہے۔ بم دھماکے کے بعد ان سردیوں میں دیکھا تو زیادہ ہی خوبصورت معلوم دے رہی تھی۔ ہمارے جیسوں کو تو چیری کبھی کبھار ہی مل پاتی ہے یہی وجہ ہے کہ میں نے مفت کی چیری پیٹ کے بھرجانے کے بعد بھی گلے تک کھائی پیٹ میں درد کی وجہ بھی یہی میڈم چیری ہی تھی۔
واپس شہر میں پہنچ کر ڈاکٹر ڈھونڈنا شروع کیا جو ایک گلی کے نکڑ پر موجود گھر میں تھا۔ پتہ کرنے پر دروازہ کھولے بغیر ہی جواب دیا گیا کہ وہ تو میڈیکل اسٹور پر ہوتے ہیں۔ شاید یہ واحد میڈیکل اسٹور ہی تھا یہاں باریش ڈاکٹر صاحب دوائی بیچتے دکھائی دیے۔ ہسپتال میں بیٹھنے کے بجائے وہ دور سے حال پوچھ کے دوا دیتے تھے۔ پتہ نہیں دوا کی قیمت کے ساتھ وہ اپنی فیس لگاتے تھے یا نہیں۔
یہاں سے ہم نے چمن جانے کی کوشش کی تو سب نے ہمیں ڈرایا کہ وہاں قانون نام کی کوئی چیز نہیں کہا وہ آپ لوگوں کو اٹھا کے ہی نہ لے جائیں۔ یہ سن کر ہم نے کانوں کو ہاتھ لگائے اور کوئٹہ واپس آگئے کوئٹہ میں اسمگل شدہ کپڑا قالین کمبل کم قیمت میں اچھی کوالٹی والے مل رہے تھے۔
الیکٹرونک چیزیں بھی ڈھیروں ڈھیر پڑی دکھائی دیتی تھیں۔ گھوم پھر کے شاپنگ لاد کے ہم کچھ دنوں میں گھر واپس آگئے۔ یہاں پہنچ کے دروازے پر ہی آوازدی مٹھوبیٹا اور اس نے ایک دم نان اسٹاپ ٹیں ٹیں کرنا شروع کردی۔ یہاں آکے تو پتہ چلا میرے مٹھو نے میری یاد میں کھانا پینا چھوڑ دیا ہے بلکہ گھر میں موجود لوگوں سے بول چال بھی بند کر رکھی ہے ابھی جو ٹیں ٹیں کررہا ہے آواز وہ لوگ کافی دنوں بعد سن رہے ہیں۔ یہ سن کر تو اپنے مٹھو پر بہت پیار آیا میں نے اس کے پروں پر آہستہ سے سہلایا۔
میرے ساتھ جانے والی لڑکیوں کا خیال تو یہی تھا کہ اس کو تمہاری یاد واد کچھ نہیں آئی ہوگی اصل میں قربانی کے گوشت نے بد ہضمی کردی تھی۔ جبھی اس نے کھانا پینا چھوڑ دیا تھا اور بولتا بھی نہیں تھا۔
اب جاکے ٹھیک ہوا ہے ایک بار پھر جب میں اپنے طوطے کو چھوڑ کر حیدرآباد گئی تو چھوٹے بھانجوں کو میوزیم دکھانے لے گئی۔ میوزیم میں ایک جگہ گھر بنا ہوا تھا اور سندھ کے گاؤں کا گھر تھا تو یہاں اسی مطابق طوطا بھی موجود تھا۔ طوطا دیکھ کے تو مجھے پتہ نہیں کیا محسوس ہوا۔ جو محسوس ہوا وہ مجھے لکھنا نہیں آتا عجیب وارننگ دیتی کوئی حس مجھے کچھ بتانا چاہا رہی تھی۔ خیر کچھ دن میں جب واپس میرپورخاص پہنچی تو پتا چلا آپ کا ضدی طوطا پنجرے میں بیٹھتا ہی نہیں تھا نتیجہ بلی لے گئی۔ بھابھی نے بتایا بچے رو رو کے ہلکان ہو گئے تھے کہ وہ مٹھو کو گھر کا فرد سمجھنے لگے تھے۔ ساتھ ہی اماں بھی بہت روئی جس سے میرے طوطے نے کبھی بنا کے نہیں رکھی تھی وہ اماں کو دیکھ کے غصے میں آجاتا اور اس کے پر کھڑے ہوجاتے تھے۔
بچوں نے گرا ہوا پر میرے لئے سنبھال کے رکھا تھا۔ یہ میرے لئے بہت بڑا صدمہ تھا میری چھٹی حس مجھے اس واقعے کی خبر دینا چاہ رہی تھی۔ پر میں نے اپنی ڈائری میں ٹیپ سے چپکادیا ساتھ ہی ایک آنکھ بنائی جس سے آنسو ٹپک رہے ہیں۔ جل کے دل خاک ہوا آنکھوں سے رویا نہ گیا۔
حاصل مقصد یہ ہے کہ رانی کھیت کی بیماری نے صرف موروں کو بلکہ طوطوں کے لئے بھی خطرہ بنی ہوئی ہے۔ ڈر ہے کہ اگر انتہائی اقدام نہ کیے گئے تو ہمارے علاقے سے یہ دونوں ہی پرندے ختم ہوجائینگے۔ موروں اور طوطوں کی نسل بچانے کے لئے جلد اور موثر اقدامات کیے جانے چاہیے۔


