ڈاکٹر کوئٹہ والا اور مسجد کا جن

جہاں اب بھٹائی میڈیکل سینٹر ہے وہاں ہی ڈاکٹر کوئٹہ والا کا صاف ستھرا خوبصورت کلینک تھا۔ تقریباً یہی شہر کا آخری حصہ بھی تھا کہ آگے پھر کاٹن فیکٹری وغیرہ جیسی جگہیں آجاتی تھیں۔ میرپور خاص میں یہاں سے آنے جانے میں ڈاکٹر کوئٹہ والا کو ضرور یاد کرتی ہوں۔ وہ ہمارے فیملی ڈاکٹر تھے۔ڈاکٹر کوئٹہ والا کی کرسی ہمیشہ خالی ہی رہتی وہ بھی عورتوں کے کمرے میں کبھی مردوں کے کمرے میں خود مریض کو دیکھتے چکر لگاتے رہتے یا اپنے کمرے میں بھی کھڑے کھڑے ہی ہارڈ بورڈ پہ پرچی لکھتے ڈاکٹر کوئٹہ والا کا اصل نام احمد تھا پر جیسا کہ وہ مشہور اس نام سے ہوئے تو پرچی پر بھی ڈاکٹر کوئٹہ والا ہی چھپا ہوتا تھا۔ یقینا وہ کوئٹہ سے ہی آئے ہوں گے۔

Read more

کالج میگزین: میری زندگی کے کچھ صفحے

گلابی گالوں بھوری آنکھوں والی تبسم کالج میں ایک کاپی لے آئی تھی۔ اس کاپی میں اس نے مختلف پروڈکٹس کے ریپر کاٹ کر نفاست سے چپکائے ہوئے تھے مجھے یہ کاپی بہت ہی پسند آئی پھر میں نے وہی کاپی بنانا شروع کی پر اس میں یہ اضافہ کیا کہ ریپر کے حساب سے…

Read more

الکیمسٹری اور متاری پر آیا جن

پورے محلے میں یہ خبر آگ کی طرح پھیل گئی تبھی تو مجھ تک کیسے نہیں پہنچتی۔ اصل خبر یہ تھی کہ متاری پہ جن آگیا تھا۔ اس جن کا وہ مجھ سے بارہا ذکر کر چکی تھی۔ میں انتظار کررہی تھی کہ پروفیسرمغز مار بلا بھیجیں تو جاؤں۔ ایساہی ہوا اور میں پرس اور کتاب لے کے باہر نکل آئی۔

جن آنے والی بات تو ان پڑھ لوگ ہی کرتے ہیں پڑھے لکھے لوگ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ یہ نفسیاتی مسئلہ ہوتا ہے۔ میں نے نفسیات کی ایک کتاب پڑھ رکھی تھی۔ مجھے یقین تھا میں متاری کا علاج کرلوں گی۔ یقینا اسے جو بچپن میں محرومی ملی تھی اور لاشعورمیں موجود تھی وہ شعور میں آکر گڑ بڑ کررہی تھی۔

متاری کے گھر پہنچ کے کیا دیکھتی ہوں کہ جس جگہ متاری بیٹھ کر ٹیوی دیکھتی تھی ابھی وہاں پروفیسر ریموٹ کنٹرول لئے بیٹھے ہیں۔ ٹی وی میں ہم ٹی وی کا کوئی ڈرامہ چل رہا تھا۔ وہاں ایک سوٹیڈ بوٹیڈ شخص لمبے سفید بالوں والاخاموشی سے ایک صوفے پر بیٹھا ہوا متاری کی حرکات و سکنات کو غور سے دیکھ رہا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ پروفیسر مغز مار نے میرے آنے سے پہلے ہی ماہر نفسیات کو بلا لیا تھا جو ٹکر ٹکر متاری کو دیکھے جارہا تھا اور تجزیہ کرنے کے بعد ہی علاج کرتا۔

Read more

اندھی مکھی

کچھ دیر پہلے جھلتی جھلاتی بتاشوں والی شاپر گاؤں سے پہنچی تھی۔ غالب گمان یہی تھا کہ کسی کی منگنی ہوئی ہے۔ تھوڑی ہی دیر میں میری سہلیوں کا غول بن بتائے آکر حملہ آور ہوا ہلاکو خان کے انداز لئے۔ گھر میں جو موجود چیز تھی وہ بتاشے ہی تھے جو میں نے نفاست سے ایک پلیٹ میں بچھا کے ان کے بیچ میں رکھے اور خود بھی بیٹھ گئی۔ میں نے سب کو بتایا کہ میں یہاں آپ لوگوں کے ساتھ کچہری کروں گی اورہز ہائینس ہزبنڈ آپ کے لئے بریانی بنائیں گے۔

بتاشوں کو دیکھ کے سب نے ہی وہی پرانی بات بتائی کہ اکثریت ڈائننگ پر ہے۔ اور پھر ایک دو سرے سے مشورے کرنے لگیں جب ہم کچھ کھاتے ہی نہیں تو یہ موا وزن کیسے بڑھ جاتا ہے۔ کچھ نے ذرا سا بتاشہ چکھا بھی وہ سچ کہہ رہی تھیں بتاشوں کو دیکھ کے میں خود بھی اچانک ڈائننگ پہ چلی جاتی ہوں جب تک اگلا پروگرام کسی اچھے ریسٹورینٹ میں نہ بنے۔

Read more

یہ پورس کون تھا؟

باہر بہت ہی گرمی تھی۔ پر جیسے ہی ہم سرنگ میں داخل ہوئے تو ہلکی سی ٹھنڈک کا احساس ہونے لگا۔ ہمارے گروپ میں صرف ایک لڑکے کو چھوڑ کر باقی سب ہی لڑکیاں عورتیں اور بچے تھے۔ ہم سب لوگ فرمانبردار ی سے گائیڈ کے پیچھے پیچھے سرکتے ہوئے چل رہے تھے۔ ہمارا گائیڈ…

Read more

پروفیسر، متاری اور سویٹ گرل

جب سے ویکسی نیشن شروع ہوئی تھی، بچوں کے ایک ٹولے نے گلی میں غل غپاڑہ مچا رکھا تھا یعنی وہ سارا دن ہی کرکٹ کھیلتے رہتے تھے۔ ایک پانچ چھ سال کا بچہ گھر میں اندر آیا تو اس کے ہاتھ میں ہرے رنگ کی بال تھی۔ شاید وہ باﺅلنگ کراتے ہی اندر آگیا…

Read more

پھول ہی پھول

میں پہلے ہی رام کتھا میں شہر میں لئے گھر کے بارے میں لکھ چکی ہوں کہ وہ شہر سے بہت دور ہونے کی وجہ سے سینما اور بازار دور پڑتے تھے۔ جس کی وجہ سے ہماری بڑی بہنیں بابا سے ناراض ہی رہتیں کہ سینما کیسے جائیں۔ وہ گھر بڑا تھا لان پھول تھے…

Read more

‘بابو نگر’ایک شاہکار کتاب

ویسے تو ادب کے فیصلے مستقبل ہی کرتا ہے کہ عالیشان مرتبہ حاصل کرنے والا شاعر اور ادیب کون کون ثابت ہوا۔ حسین احمد شیرازی کی کتاب 'بابو نگر' نے فیصلہ ہی دے ڈالا کہ وہ واقعی میں بہت بڑے ادیب کا درجہ حاصل کرچکے ہیں ۔ حسین احمد شیرازی کی کتاب پڑھتے آپ اندازہ کرسکیں…

Read more

نجی جیل

دن اب شام میں بد ل رہا تھا۔ سارا دن شعلے برساتا سورج تھک ہار کر ڈوبنے چلا تھا۔ نہر پہ کھڑے بوڑھے دھرم جی نے پہلے اپنی دھوتی دھوئی پھر خود نہایا اب اسی صابن سے اپنے گدھے کو نہلارہا تھا۔ سورج ڈھلنے سے پہلے ہی اسے گھر تک پہنچناتھا۔ جب گھر پہنچا تو رات اپنے پر پھیلا رہی تھی۔ لچھمی نے رات کی روٹی ڈال کے رکھی تھی اور اپنے باپو کا انتظار کررہی تھی۔ لچھمی کو اپنے باپ نے ماں بن کے پالاتھا۔ کسی طرح بھی ماں کی کمی محسوس نہ ہونے دی تھی۔

یہی وجہ تھی کہ وہ بھی ان کو باپ اور ماں دونوں کا پیار دھرم جی سے ہی کرتی۔ لچھمی اب اتنی سمجھدار تو تھی ہی کہ اندازہ کرسکتی تھی کہ جیسے ہی زمیندار کچھ پیسے اس کے باپو کی ہتھیلی پہ رکھے گا تو اس کی شادی کردی جائے گی۔ لچھمی کی اپنی ہی دنیا تھی جہاں اسی کی گڑیاں، بکریاں اور دھرم جی تھے۔ وہ ان میں سے کسی کو بھی چھوڑ کے جانا نہیں چاہتی تھی۔ دھرم جی نے اپنی بیٹی کی آنکھوں میں چھپے ستارے دیکھ لئے تھے۔

Read more

ارباب اختیار کو ایک شاعر کلارک کا خط

سرکار نامدار! آپ کو فسانہ دل سنانے پر اس لئے مجبور ہوا ہوں کہ تم ہی ہو محبوب میرے۔ جناب! جتنی جلدی ہوسکے پے اینڈ پینشن کمیٹی کی انجیو پلاسٹی کروائی جائے۔ اس طرح دیار دل سے سرکاری ملازمین کی الفت پاس ہوسکے گی ورنہ تو پہلے ہمیں سبز باغ دکھائے جاتے ہیں جس سے…

Read more
––>