پوسٹر "مشن امپاسیبل” کے اور فلم "شیر خان”

سنیما بینی کاشوق زندگی کے مختلف ادوار میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہا۔ میری یادداشت میں پہلے پہل سنیما جا کر فلم دیکھنے کے واقعات سات آٹھ سال کی عمر تک محدود ہیں ۔ ان فلموں کے بارے میں مجھے کچھ یاد نہیں ۔
اپنے ہوش و حواس میں پہلی دفعہ سنیما جا کرفلم دیکھنے کا اتفاق فرسٹ ائیر میں ہوا۔ اوائل اَسی کی دہائی میں سرگودھا شہر میں گنتی کے چار ،چھ سنیما تھے جہاں پنجابی فلموں کا راج تھا۔ تقریباَ ہر فلم میں انجمن یا رانی لازمی جز تھے، جبکہ سلطان راہی اور مصطفیٰ قریشی کی جوڑی ایکشن فلموں میں اور علی اعجاز اور ننھا کی جوڑی مزاحیہ فلموں میں جلوہ گر ہوتی۔ ایف ایس سی کے دو سالوں کے دوران ہم سب کلاس فیلو پنجابی فلمی کلچر، بڑھکوں اور جگتوں کے ماہر بن چکے تھے ۔
اگلا دور یونیورسٹی کی تعلیم کا تھا، جو کراچی میں شروع ہوا۔ یہاں انگریزی فلموں کا رواج تھا،چنانچہ بغیر کسی شعوری کوشش کے، ہم پنجابی میڈیم سے انگریزی میڈیم میں منتقل ہو گئے۔ آٹھ دس مہینے بعد ایک دفعہ خیال آیا کہ پنجابی فلم دیکھے بہت عرصہ ہوگیا ہے، ڈھونڈ ڈھانڈ کر ایک پنجابی فلموں کا سنیما دریافت کیا اور ٹکٹ خرید کر اندر جا گھسے۔ لیکن یہ ایڈونچر بیس منٹ سے زائد ہضم نہ ہوپایا اور ہم حیراں اور غلطاں باہر نکل آئے۔ سٹوری لائین کی خامیوں، کیمرہ ورک کی غلطیوں ، اداکاری کے سٹینڈرڈ اور پروڈکشن کوالٹی کی حالتِ زار پر سیر حاصل بحث کے بعد بھی ہم اس عقدے کا حل تلاش نہ کر سکے کہ آخر چند مہینے پہلے تک ہم یہی سب اتنے ذوق و شوق سے کیسے دیکھا کرتے تھے اور تب حماقتوں کی حد تک فاش یہ تمام خامیاں ہماری نظروں سے کیونکر اوجھل تھیں۔
ستم ظریفیِ حالات کے تحت، تعلیم کا آخری دور رسالپور میں مکمل کرنا پڑا۔ یوں ایک دفعہ پھر پنجابی اور ایک آدھ بار پشتو فلموں سے بھی پالا پڑا اور حیرت انگیز طور پر ابتدائی رد و کد کے بعد ہم پھر اس کے عادی ہو گئے۔ عملی زندگی کے جھمیلوں اور وی سی آر کی سہولت نے کافی عرصہ سنیما سے دور رکھا، مگر نوے کی دہائی میں بیگم اور بہنوں کی فرمائش پر اور سنیما بینی کا ناسٹیلجیا ہمیں فیملی کے ساتھ "سرگم” دیکھنے ایک دفعہ پھر سنیما ہال لے گیا، اچھی خاصی خوبصورت فلم، مضبوط کہانی، جاذبِ نظر سنیماٹوگرافی اور تکنیکی لحاظ سے کافی حد تک قابلِ قبول پروڈکشن ہونے کے باوجود، سنیما کی حالتِ زار اور ہال میں گونجنے والے واہیات اور فحش تبصرے اس تجربے کو بھی غارت کرنے کو کافی تھے۔
موجودہ انتخابات کے بعد کا سیاسی منظر نامہ بھی اس سے ملتا جلتا ہی ہے مجھ جیسے "سٹیٹس کو” کے پروردہ انسان کے لئے خان صاحب کی حکومت پر معترض ہونے کو کچھ بھی میسر نہیں۔ ہاں، وہ جو تبدیلی کی آس میں نکلے تھے ،ان کے لئے قدم قدم پر "ڈیجاوو” کی صدائیں حرز جاں بنی ہوئی ہیں۔
مسئلہ ان فلم بینوں کا ہے جنہیں مسلسل تشہیری مہم کے ذریعے باور کروا دیا گیا ہے کہ اب کے پاکستانی فلم "ایوینجر” کے مقابلے کی ہے۔ نتیجہ یہ کہ وہ "سرگم” جیسی پرفارمنس پر مطمئن ہونے کے بجائے نوے کی دہائی کے سنیما بینوں کی طرح وہ طوفانِ بدتمیزی برپا کئے ہوئے ہیں کہ سب کی طبیعت مکدر ہو رہی ہے۔ دوسری جانب مسئلہ ان تماش بینوں کا بھی ہے جو بڑے شہروں کی ” آئی میکس” اور "سینی پلیکس” کی چکا چوند میں بھول بیٹھے ہیں کہ لاہور، کراچی اور اسلام آباد سے باہر ابھی بھی چرخی پر گھومتے فیتے کے ذریعے فلم دکھائی جاتی ہے اور اس ٹیکنالوجی پر اب بھی سلطان راہی کی بڑکوں، انجمن کے ٹُھمکوں اور ننھے کی جُگتوں والی فلم ہی چلتی ہے ۔ عوام کو یہی میسر ہے، اور اسی سے ان کا منورنجن بطریقِ احسن ہورہا ہے ۔ ان کا ذوق اسی معیار کے سانچے پر ڈھل چکا ہے۔ ان کے نزدیک آج بھی حکومت میں آنے کا مطلب ” سیاں بھئے کوتوال، اب ڈر کاہے کا” سے ذیادہ کچھ نہیں، اس لئے تبدیلی والی چڑیا کے مدُھر گیت ابھی ان کو ہضم نہیں ہوتے۔ اس میں خرابی فی النفسہی اتنی نہیں جتنی فلم کی نمائش سے پہلے والی اشتہاری مہم نے پیدا کر رکھی ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ یہ مہم فلم کی نمائش کے بعد اور اب تک جاری ہے۔
جیسا میں نے پہلے کہا، فلم بری نہیں، البتہ اب پبلک سیانی ہو گئی ہے (اور بدتمیز اسے آپ نے خود کردیا ہے) ،اب یہ "مشن امپاسیبل” کے پوسٹر دیکھ کر "شیر خان” پر راضی نہیں ہو گی۔



