گویا کہ چنانچہ۔ ۔ ۔ ۔

چونکہ سورج مشرق سے نکلتا ہے چنانچہ مغرب میں کفر و الحاد کا اندھیرا ہے، اس لئے ہمیں گندم کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے، تاکہ جرائم کی روک تھام کے لئے اقدامات کیے جا سکیں، مگر پاکستان کی ترقی کے لئے ڈیم انتہائی ضروری ہیں لہٰذا ملکی بقا کے لئے ناقابلِ تسخیر دفاعی نظام وقت کی اہم ضرورت ہے۔اوپر درج عبارت میں ربط تلاش کیے بغیر چونکہ، چنانچہ، اس لئے، تاکہ، مگر، لہٰذا، ہٹا کر الگ الگ پڑھیں تو ہر جملہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے، مگر کیا استدلال منطقی کہلا سکتا ہے؟ ہر گز نہیں۔مگر ستم ظریفی دیکھیے کہ ایسے استدلال سے ہمارا واسطہ روزانہ کی بنیاد پر پڑتا ہے۔صحافی ہوں یا سیاست دان، تجزیہ نگار ہوں یا اپنی اپنی فیلڈ کے پروفیشنلز، ہمارا طرزِ استدلال ایسا ہی بن گیا ہے کہ ہم سچی بات کے لئے بھی درست دلیل ڈھونڈنے سے قاصر ہیں۔

Read more

اپنے تئیں ایک فیمینسٹ کا بیانِ اقبالی

مجھے اندازہ نہیں کہ میرے خیالات اور نظریات کی سمت کب اس نہج پر متعین ہو گئی کہ مجھے میرے اردگرد کے لوگوں نے فیمینسٹ سمجھنا اور کہنا شروع کردیا۔ شاید یہ ایک ارتقائی عمل تھا۔ ایک متشدد حد تک میل شاؤنسٹک معاشرے میں شاید یہ محفوظ ترین باغیانہ راستہ تھا اس لئے مجھ جیسے بے عمل اور کم کوش کو اس ٹائٹل کو اپنانے میں یک گونہ احساسِ تفاخر نظر آیا اور میں نے خود بھی اپنے تئیں یہ سہرا سر پر باندھ لیا۔

مگر آج میں اس تحریر کے ذریعے یہ قبول کرنا چاہتا ہوں کہ میں فیمینسٹ نہیں ہوں۔ زبانی کلامی دعوؤں میں اور عملی قدم اٹھانے میں جو فرق ہوتا ہے، اس کا ادراک مجھے پچھلے دنوں اپنی اہلیہ کے انتقال کے بعد اس کے مالی معاملات طے کرتے ہوئے ہوا۔ مرحومہ نے بارہ تیرہ سال تدریس کے فرائض انجام دیے، اس کے والد کی وفات پر جائیداد میں حصہ بھی اسے ملا، مگر آج جب میں اس کا ترکہ بانٹنے بیٹھا تو اس کی ملکیت کے نام پر چند تولے سونا میرا منہ چڑا رہا ہے

Read more

بھائی وہ پرانے والا مِلے گا؟

پچھلے دنوں ٹیچرز ڈے منایا گیا تو میری یادیں اپنے سکول کے زمانے میں جا پہنچیں۔ ہائی سکول کی تعلیم میں نے 1976 سے 1981 تک مکمل کی۔ آٹھویں جماعت میں ایک استاد ملے، اعجاز پرویز۔ ابھی نوجوان ہی تھے۔ ریاضی میں سیٹس تھیوری ان دنوں نئی نئی نصاب میں شامل ہوئی تھی اور اکثر…

Read more

چھاچھ سے جلی قوم کا حلف

ایک مچھلی فروش نے اپنی دکان پر نیا بورڈ آویزاں کیا۔ ”یہاں پر تازہ مچھلی فروخت ہوتی ہے“ ایک صلاح کار نے مشورہ دیتے ہوئے فرمایا، ”میاں جو بھی بورڈ پڑھے گا، یہاں آکر ہی پڑھے گا ناں، تو اس فقرے میں ”یہاں پر“ فالتو ہے۔ “ مچھلی فروش نے برش پکڑ کر پہلے دو…

Read more

پوسٹر “مشن امپاسیبل” کے اور فلم “شیر خان”

سنیما بینی کاشوق زندگی کے مختلف ادوار میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہا۔ میری یادداشت میں پہلے پہل سنیما جا کر فلم دیکھنے کے واقعات سات آٹھ سال کی عمر تک محدود ہیں ۔ ان فلموں کے بارے میں مجھے کچھ یاد نہیں ۔ اپنے ہوش و حواس میں پہلی دفعہ سنیما جا کرفلم دیکھنے…

Read more

سفر اور زندگی

کہتے ہیں زندگی ایک سفر ہے، اگر یہ سچ ہے تو کیا زندگی گزارنے کے لئے اصول اور رہنمائی ٹریفک کے بہاؤ سے حاصل کی جا سکتی ہے؟ آئیے کوشش کرتے ہیں ٹریفک سگنل ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ آدھی رات کو سنسان چوراہے پر کبھی ٹریفک سگنل سرخ دیکھ کر رکے…

Read more