ٹانگ کی بوٹی

”یہ مرغی صبح تک بچنے والی نہیں، مولوی صاحب سے چھری پھروا لو“ پڑوس والے قاضی صاحب نے بیمار مرغی کی حالت دیکھتے ہوئے کہا تو کُکو کو بیک وقت مرغی کی ممکنہ وفات پر افسوس اور گھر میں مرغی کا سالن پکنے کی امید پر ایک گونہ خوشی بھی محسوس ہوئی۔ لاہور کے مضافاتی علاقے میں رہن سہن شہری اور دیہاتی طرزِ معاشرت کا گنگا جمنی مزاج رکھتا تھا۔ لوئر مڈل کلاس کے گھر میں مرغی کا سالن پکنے

Read more

جنت میڈ ایزی

ہماری طالبِ علمی کے زمانے میں درسی کتب کے علاوہ مزید دو طرح کی کتابیں طالبِ علموں کے درد کا مداوا ہوا کرتی تھیں۔ ایک کہلاتے تھے درسی ماڈل ٹیسٹ پیپرز، جن میں درسی کتب کے اسباق کی مشقوں کا حل دیا گیا ہوتا تھا اور ان کے اختتام میں پرانے بورڈ کے پیپرز سمیت کچھ نمونہ پیپرز دیے گئے ہوتے تھے۔ دوسری ہوتی تھیں میڈ ایزی بکس۔ یہ عموماً انگریزی میں ہوا کرتی تھیں اور مختلف مضامین کی گائیڈ

Read more

پارلیمانی جمہوریت میں ریاستی ڈھانچے کا علمی تجزیہ

انتخابات کے بعد حکومتی تشکیل کے حوالے سے جاری سرگرمیوں کے دوران پیپلز پارٹی کی فیصلہ کن حیثیت کے باعث سب نظریں زرداری صاحب پر لگی تھیں کہ اس دوران بلاول بھٹو کے اعلان نے تہلکہ مچا دیا۔ پارلیمانی جمہوریت میں ایسی معلق پارلیمان کوئی غیر معمولی بات نہیں اور اس کے نتیجے میں اقلیتی حکومتوں کا قیام بھی کوئی انہونی نہیں۔ البتہ پاکستان کے معروضی حالات میں جہاں دو تہائی اکثریت والی حکومتوں کے قدم بھی خلا میں معلق

Read more

کیا پاکستانی دھروا کے بیل کھانے کو تیار ہیں

مستنصر حسین تارڑ صاحب کے شہرہ آفاق ناول بہاؤ میں ایک ذیلی کردار دھروا کا ہے۔ زمانہ قبل از تاریخ کے پس منظر میں لکھی ہوئی اس عظیم الشان کہانی میں ایک بنجر ہوتے گاؤں کی روداد بیان کی گئی ہے جس میں دوسرے کرداروں کے ساتھ ساتھ ایک بوڑھا دھروا بھی ہے۔ دھروا کے پاس کچھ بیل ہوتے ہیں جو گاؤں والوں کی گائیوں کو گابھن کرنے کے کام آتے تھے۔ یوں مویشیوں کی افزائشِ نسل اور دودھ دہی

Read more

طوائف کا دوپٹہ کس نے چھینا؟

سن 72 میں ریلیز ہونے والی مشہور زمانہ فلم پاکیزہ کا شہرہ آفاق نغمہ ”انہی لوگوں نے لے لینا دوپٹہ میرا“ غلام محمد کی موسیقی میں سارنگی کی سنگت میں طبلے اور تالی کی تھاپ، لتا جی کی لوچ دار ادائیگی، مینا کماری کے باوقار رقص اور کمال امروہوی کے پرت در پرت سجائے ہوئے کوٹھے کے سیٹ جیسے حوالوں سے ہمیشہ میرا پسندیدہ گیت رہا ہے۔ البتہ مجروح کی شاعری اس گیت میں کبھی میری توجہ حاصل نہ کر

Read more

6 ستمبر کا طغرا اور دوسری عالمی جنگ کی ایک تصویر

گوگل پر انگریزی میں ورلڈ وار ٹو امیج لکھ کر تلاش کریں تو جو سب سے نمایاں تصویر سامنے آتی ہے وہ چند سپاہیوں کی ایک امریکی جھنڈا ایستادہ کرتے ہوئے کھنچی گئی ایک تصویر ہے۔ یہ تصویر 23 فروری 1945 کو پیش آنے والے ایک واقعے کی تصویر ہے، جس میں کئی دنوں کی گھمسان کی جنگ کے بعد امریکی میرین فوجی جاپان کے ایک جزیرے آیوو جیما کی ایک چوٹی ماؤنٹ سوریباچی پر قبضے کے بعد فتح کی

Read more

پچاس سالہ سخت جان نامرد

اپنی ازدواجی زندگی کے چوبیسویں سال میں سلطنت بی بی اپنے تیسرے بچے کو جنم دینے والے تھی اور اسی گومگو میں تھی کہ بچے کا مستقبل کیا ہو گا۔ اسے یاد نہیں تھا کہ وہ کس انتظام کے تحت ملک مقتدر کے زیر تصرف تھی؟ کیا وہ اس کی شرعی منکوحہ تھی یا محض طاقت کے بل پر رکھیل بنا لی گئی تھی؟ لیکن یہ طے تھا کہ اپنے تئیں ملک مقتدر سلطنت بی بی پر اپنے استحقاق کو

Read more

زمان پارک کا پائیڈ پائپر

پچھلی ایک دہائی میں ملکی سیاسی افق پر رونما ہونے والے ایک رجحان پر اکثر حیرت ہوتی رہی۔ اس رجحان، اس فینامینن کا نام ہے عمران خان۔ سیاسی یا نظریاتی بنیاد پر پسندیدگی یا مخالفت اپنی جگہ، لیکن کسی سیاسی رہنما کی مقبولیت کوئی حیرت کی بات نہیں ہونی چاہیے۔ البتہ خان صاحب کے معاملے میں اس حیرت کی وجہ سیاسی یا نظریاتی اختلاف نہیں تھی۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ ان کے فالوورز میں معاشرے کا وہ طبقہ

Read more

آئینی سرکس اور ہوش کی باتیں

دو صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد الیکشن شیڈول جاری کیے جانے میں پس و پیش سے پیدا ہونے والی صورتحال کے بارے میں جاری سیاسی، قانونی، اور آئینی موشگافیوں سے قطع نظر نوے دنوں میں انتخابات کا انعقاد ایک آئینی تقاضا ہے۔ اس تقاضے سے گریز میں امن و امان کی صورتحال، بجٹ کی کمیابی، سیاسی مصلحت یا کوئی بھی دوسرا جواز کسی صورت بھی جمہوریت پسند رویہ نہیں کہلا سکتا۔ عدلیہ، الیکشن کمیشن، گورنر ہاؤسز اور ملکی میڈیا

Read more

پینسل گم ہونے اور چوری ہونے میں فرق

ایک بچے کو اس کی پینسل نہیں مل رہی، وہ نیچے لکھے ہوئے فقروں میں سے کوئی بھی فقرہ بول کر یہ بات بتا سکتا ہے مجھے میری پینسل نہیں مل رہی مجھ سے میری پینسل گم ہو گئی ہے میری پینسل کھو گئی ہے کسی نے میری پینسل لے لی ہے میری پینسل چوری ہو گئی ہے میری پینسل کسی نے چرا لی ہے کسی چور نے میری پینسل چوری کرلی ہے اگر آج ہم اپنے بچوں کو ان

Read more

کھل کے سوچیے

اسی کی دہائی میں انجینئرنگ کی تعلیم کے دوران کمپیوٹر پروگرامنگ کی پہلی کلاس میں ہمارے ریاضی کے استاد (اس زمانے میں کمپیوٹر ریاضی کے مضمون کی طور پر پڑھایا جاتا تھا) نے ایک فقرے میں کمپیوٹر کی ساری تھیوری سمجھا دی۔ فرمایا کمپیوٹر ہر مسئلے کو اسی طرح حل کرتا ہے جیسے ہمارا ذہن، اگر ہمیں اپنے ذہن کے سوچنے کا انداز سمجھ میں آجائے تو کمپیوٹر پروگرامنگ بھی سمجھ میں آجائے گی۔ لیکن اب یہ کیسے سمجھا جائے

Read more

شعر کو انگلیوں پر پرکھ لیں

اب یہ ہمارے نظام تعلیم کی خامی ہے یا کچھ اور، لیکن ایک ایسے معاشرے میں جہاں اردو، اور اس کے علاوہ دیگر علاقائی زبانیں بھی ایک وسیع اور لازوال شعری روایت اپنے اندر سموئے ہوئے ہوں، وہاں کا پڑھا لکھا طبقہ شاعری کی بنیادی ساخت اور بنت سے اس قدر نابلد ہو، بڑے افسوس اور تشویش کی بات ہے۔

Read more

منکہ مسمی روبوٹ چودھری

منکہ مسمی روبوٹ چودھری سکنہ موضع کافرستان، حال محلہ خیالستان، مستقبل ریاست مدینہ بقلم خود باعث تحریر آنکہ حال ہی میں وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب عمران خان صاحب نے اپنے ایک انٹرویو میں اس ناچیز کا تذکرہ فرمایا، چنانچہ اپنے کوائف ماضی و حال درج ذیل تحریر کر دئے ہیں تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آوے۔

یہ ناچیز چند دہائیوں قبل اپنے جیسے کثیر دیگر روبوٹوں کی طرح عدم سے وجود میں آیا۔ اپنے ارد گرد کے ماحول سے آشنائی حاصل کرتے ہوئے ہوش سنبھالا تو زمانے کی روش کے مطابق ہر قسم کی کشش ہائے جنسیت کے لوازمات دستیاب پائے

Read more

پہلے سیاسی کنویں سے غیر جمہوری مداخلت کا کتا نکالیے

موجودہ سیاسی سرکس سے قطع نظر، ایک مستقل بحث ہمارے یہاں تواتر سے جاری رہتی ہے اور وہ ہے جمہوری اور غیر جمہوری بندوبست کا تقابل۔ ہر دو جانب سے دلائل کے انبار لگائے جاتے ہیں، جمہوریت کی مخالفت میں اسلام سے لے کر ہمارے علاقائی معاشرتی ڈی این اے تک ہر جانب سے دور سے دور تک کی کوڑی لائی جاتی ہے۔ ملکی ترقی میں آمرانہ ادوار کی مبینہ کارگزاری اور سیاسی ادوار کی کرپشن کی داستانوں کا تذکرہ ہوتا ہے اور ہر دفعہ تان یہیں آ کر ٹوٹتی ہے کہ ملک کی بدحالی کی تمام تر ذمہ داری سیاست دانوں کی کرپشن، بد عنوانی، آئین و قانون کی خلاف ورزی اور ان کا غیر جمہوری رویے پر عائد ہوتی ہے۔

Read more

سینیٹ الیکشن: سوال گندم جواب چنا

پچھلی کئی مرتبہ سے سینیٹ کا الیکشن اپنے ساتھ ایک مسلسل لیکن لاحاصل بحث لے آتا ہے کہ ووٹ کی خرید و فروخت کیسے روکی جائے۔

آج کل پھر یہ معاملہ زوروں پر ہے اور موجودہ حکومت کہ جس کا سارا نظام ہی میڈیا پرسیپشن کی بنیاد پر چل رہا ہے، اس موضوع پر بھی انکشافات کی بھرمار کے ساتھ علاج میں خوب دور کی کوڑیاں لا رہی ہے۔ الیکشن کے طریق کار میں تبدیلی سے لے کر خود سینیٹ وجود کے جواز تک ہر گفتنی نا گفتنی بات ہو رہی ہے، جس میں تازہ ترین درفنطنی متناسب نمائندگی کی تشریح پر عدالت عظمیٰ میں چھوڑی گئی کہ آئین میں سینیٹ کے انتخاب کے حوالے سے متناسب نمائندگی کا مفہوم صوبوں کی برابر نمائندگی تک محدود نہیں بلکہ ہر سیاسی جماعت کی متناسب نمائندگی تک وسیع ہے۔ (چونکہ یہ عدالتی معاملہ ہے اس لیے اس پر فی الحال چپ ہی سادھی جا سکتی ہے۔ )

Read more

مسز زمان

”زمان نہیں رہے“ مسز زمان نے شدت جذبات سے لرزتی آواز میں فون پر اسے بتایا اور اس کے ذہن میں بیتے دنوں کی یادیں در آئیں۔ **** زمان کے ساتھ اس کے خاندانی مراسم، دوستی، بے تکلفی اور احترام، ہر طرح کا رشتہ تھا۔ تقریباً دس گیارہ سال قبل ایک دن زمان نے باتوں باتوں میں ذکر کیا، ”یار آج کل اکثر سر میں درد رہتا ہے“ ” بڈھے ہو رہے ہیں جناب“ زمان اس سے عمر میں کوئی

Read more

آخری دس منٹ باقی ہیں

”آخری دس منٹ باقی ہیں“ اس کی پاٹ دار آواز ہال میں گونجی، جواب میں ایک مانوس بھنبھناہٹ ابھری، کچھ قلم مزید تیزرفتاری سے کاغذ پر گھسٹنے لگے، کچھ نے غیریقینی انداز میں اپنی کلائی کی گھڑیوں پر نظر ڈالی، ایک دو احتجاجی آوازیں اور کچھ التجائیہ فقرے۔ سر پانچ منٹ اور، پیپر بہت مشکل تھا، نہیں نہیں سر مشکل نہیں لمبا تھا۔ اور اس تمام بھگدڑ میں اس کی نظر اس چہرے پر پڑی۔ وہ چہرہ جو ہر کلاس

Read more

از کجا می آید ایں آواز دوست

جناب نواز شریف نے چپ کا روزہ کیا توڑا، سیاسی ماحول یکایک تلاطم خیز ہو گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی مخالفین کے وہ طعن و تشنیع بھی زور پکڑنے لگے ہیں، کہ وہ ملک سے باہر رہ کر (یا بقول ان کے فرار ہو کر) سیاست کیوں کر رہے ہیں، ملک میں آ کر مردانہ وار قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیوں نہیں کر رہے۔ ماضی میں مشرف دور میں ان کی جلا وطنی بھی ان کے لئے ایک سٹگما کی حیثیت رکھتی ہے، جس پر مسلم لیگ کے رہنما اور سپورٹر بہر حال معذرت خواہانہ انداز اختیار کیے رہتے ہیں۔

سیاسی عمل میں مردانگی اور مصلحت اندیشی کے مابین کیا تناسب ہونا چاہیے، یہ ایک دل چسپ بحث ہے۔ میاں صاحب کے ناقدین ہمیشہ ان پر تنقید کرتے ہوئے بھٹو خاندان کی شہادتوں کو ایک بہادرانہ طرز عمل قرار دیتے ہیں۔ پیپلز پارٹی بجا طور پر ان شہادتوں پر فخر کر سکتی ہے۔ اسے اپنی سیاسی طاقت کا منبع قرار دیتی ہے۔ اس بحث میں پڑے بغیر کہ ذوالفقار علی بھٹو کے پاس پھانسی قبول کرنے کے علاوہ کوئی آپشن موجود تھی بھی یا نہیں، یعنی کیا ان کو جاں بخشی کی کوئی آفر میسر بھی تھی یا نہیں، ذرا چشم تصور سے دیکھیے کہ 1986ء میں بے نظیر کی بجائے ذوالفقار علی بھٹو پاکستان تشریف لاتے، اور 1988ء کے الیکشن کے بعد ایک نا تجربہ کار بے نظیر بھٹو کی بجائے غلام اسحاق خان کو، ذوالفقار علی بھٹو سے معاملات طے کرنا پڑتے، تو ملک کی سیاسی تقدیر کتنی مختلف ہوتی۔ اسی طرح اگر 2008ء میں مشرف کو نواز شریف کے ساتھ ساتھ بے نظیر کا بھی سامنا ہوتا تو اس کے لئے معاملات کتنے مشکل ہو جاتے۔

Read more

نواز شریف اور عمران خان کی پراگریس ٹرینڈ لائنز

اسی کی دہائی میں انجینئرنگ کی تعلیم جس ادارے سے حاصل کی، وہاں اس زمانے میں بھی سمیسٹر سسٹم رائج تھا۔ سمیسٹر کے اختتام پر خراب رزلٹ کی صورت میں سٹوڈنٹ کے مستقبل کا فیصلہ ہوا کرتا۔ اس کے لئے ایک پالیسی وضع تھی، مگر اس پالیسی پر من و عن عمل کی بجائے سٹوڈنٹ کو کمانڈانٹ کی سربراہی میں قائم ایک فیکلٹی کی کمیٹی کے سامنے پیش کیا جاتا، جہاں وہ اپنی خراب پرفارمنس کا دفاع کرنے کی کوشش کرتا۔ گاہے بگاہے کسی سٹوڈنٹ کی قسمت یاوری کرتی اور پالیسی کے برعکس بھی اسے کچھ ریلیف مل جاتا۔

اس ضمن میں ایک متھ مشہور تھا، کہ فیکلٹی کمیٹی آپ کی سمیسٹر کے دوران پراگریس دیکھتی ہے، اگر شروع میں اچھی کارکردگی ہو مگر اختتام کے نزدیک پرفارمنس خراب ہو جائے تو اسے لاپرواہی کی نشانی سمجھتے ہوئے سخت فیصلہ ہوتا ہے، جبکہ اگر شروع میں پرفارمنس خراب ہو اور بتدریج بہتری ہو رہی ہو لیکن فائنل میں کچھ اونچ نیچ رہ جائے تو ہمدردانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے کچھ رعائت مل جاتی ہے۔ اس ساری تھیوری کو پراگریس ٹرینڈ لائن سے تعبیر کیا جاتا تھا، کہ اگر ٹرینڈ مثبت ہے تو بہتر، اور اگر ٹرینڈ منفی ہے تو معاملہ گڑبڑ ہے۔

Read more

نظام بدلیے نہیں، اس پر عمل کیجئے

”ہمیں نظام بدلنے کی ضرورت ہے“

یہ فقرہ فیشن کی حد تک زبان زد عام ہو گیا ہے۔ اگر ہم عصری عالمی سیاسی منظر نامے پر نظر دوڑائیں تو جہاں ہمیں یورپ، امریکہ اور کئی ایشیائی ممالک میں جمہوریت (پارلیمانی، صدارتی، وحدانی یا کوئی اور) ایک کامیاب نظام حکومت کے طور پر نظر آتا ہے، جبکہ یہی جمہوری نظام دیگر کئی ممالک میں ناکام ہوتا بھی دکھائی دیتا ہے، وہیں دوسری جانب کئی ممالک میں آمریتیں ( کمیونسٹ یا سوشلسٹ حکومتیں، بادشاہتیں، فوجی حکومتیں ) بھی کماحقہ اپنے عوام کی ضرورتیں پوری کر رہی ہیں، مگر کئی دوسرے ممالک ان آمریتوں کے ہاتھوں ٹوٹ پھوٹ اور شکست و ریخت کا شکار بھی ہو رہے ہیں۔

Read more

ڈبوں میں بٹی قوم

پچھلے تین ہفتوں سے ہم گھر کی چار دیواری میں پابند ہیں۔ کھلی فضا اور کشادگی کو ترس رہے ہیں۔ مگر کیا ہم حقیقی معنوں میں کبھی کھلی فضا اور کشادگی میں رہ پائے ہیں؟ یا اپنے اپنے ڈبوں میں مقید رہے ہیں؟ بھانت بھانت کے رنگ برنگے ڈبے۔ مزے کی بات ہے کہ ہم بیک وقت کئی ڈبوں میں رہ رہے ہوتے ہیں۔ اپنی گم کردہ شناخت کے پیچھے مذہب، فقہ اور فرقہ، صوبہ، زبان، ذات پات، پیشہ، برادری،

Read more

عمران خان قوم کو دریلیس – ارطغرل ڈرامہ کیوں دکھانا چاہتے ہیں؟

اگرچہ میں محترم وزیرِ اعظم عمران خان صاحب کے مشورے سے پہلے ہی پروڈکشن کوالٹی اور معیار کی تعریف سن کر ترکی ڈرامہ ”دریلیس۔ ارطغرل“ دیکھنا شروع کر چکا تھا، لیکن وزیرِ اعظم صاحب کے فرمان کے بعد میں نے اس تفریحی ڈرامے کو اصلاحِ معاشرہ اور قوم سازی کے نکتہ نظر سے بھی پرکھنا شروع کردیا۔ اور لاک ڈاؤن کی بدولت آج لگ بھگ پانچ سو اقساظ پر مشتمل پانچ سیزنز مکمل کر کے فارغ ہوچکا ہوں۔ تیرہویں صدی

Read more

گائیڈ کا راجو اور پاکستان کا نواز شریف

  نواز شریف کی صحت اور اس کو لے کر ڈیل، ڈھیل، این آر اووغیرہ کا تمام غُل مجھے رہ رہ کر گائیڈ فلم کی کہانی کی یاد دلا رہا ہے۔ 1965 میں بھارت میں ریلیز ہونے والی مشہور زمانہ فلم”گائیڈ” آر کے نارائن کے اسی نام کے ایک ناول کی فلمی تشکیل تھی۔ اپنےمقبولِ عام گانوں اور وحیدہ رحمان کی ڈانس پرفارمنس کی وجہ سے مقبولیت پانے والی اس فلم کی کہانی ایک ٹورسٹ گائیڈ راجو کے حالاتِ زندگی

Read more

کارگل سے یو این او: بیس سال اور میڈیا

تقریر ہوگئی، اچھا ہوا۔ داد و تحسین کے ڈونگرے برس لئے، مزید اچھا ہوا۔ بھارت کی مندوب کا جوابی بیان آیا، ہم نے کِھلی اڑائی، بھارتی میڈیا نے ہاہاکار مچائی، ہم نے اپنی بہادری، غیرت، اور بنیے کی بزدلی، اور کم ہمتی کی مالا جپی، کیا اچھا کیا؟ سوچتے ہیں۔ گو ہماری سرشت میں شامل نہیں، مگر ٹھنڈے دل سے صورتحال کا ماضی سے موازنہ کر لینے میں کوئی حرج نہیں۔ کوشش کرکے دیکھ لیتے ہیں۔ پچھلے چند دن سے

Read more

ریسٹ اِن پیس، بیوی!

” مجھے جانے دیں خدا حافظ، ٹھیک ہے“

پانچ جنوری 2019 کی شام سی ایم ایچ لاہور کے آئی سی یو میں تاروں، ٹیوبوں، پٹیوں، نالیوں، پائپوں اور بوتلوں میں جکڑی ہوئی، نیم غنودگی یا بیہوشی کے بین بین کسی کیفیت میں یہ اس کے آخری الفاظ تھے جو میری سماعت نے سنے۔ اتنی نحیف آواز کہ سننے کے لئے کان آکسیجن ماسک کے ساتھ لگانا پڑے۔

Read more

تصورِ انصاف اور تحریکِ انصاف

عدل ایک عظیم تصور ہے، زندگی کی ہر جہت میں اعتدال، برابری اور مساوات۔ اس تصور کی بنیاد نظامِ عدل پر دھری جاتی ہے۔ جزا و سزا کا نظام۔ قانون کی حکمرانی کا تصور۔
انصاف ہونا ہی نہیں چاہیے، ہوتا نظر آنا بھی چاہیے۔
چاہے سو مجرم چھوٹ جائیں، مگر ایک معصوم کو سزا نہیں ہونی چاہیے۔
آپ معصوم ہیں، تاوقتیکہ آپ مجرم ثابت نہ ہوجائیں۔

Read more

عمران کون؟ میرا ہیرو

اگر جنابِ من جہانا (محترم جہانزیب عزیز، مبادا آپ جاناں ملک سمجھ لیں ) نے سال ڈیڑھ سال قبل ابنِ صفی کی عمران سیریز پر کام کرنے کا تذکرہ نہ کیا ہوتا تو 2018 کے الیکشن مہم کی گہماگہمی کے عروج پر ”عمران کون؟ “ کو میں کسی سیاسی تحریر کا عنوان ہی سمجھتا۔

ہم جیسی ستر کی دہائی میں لڑکپن گزارنے والی نسل کا پالا عمران نام کے دو ہیرووں سے پڑا، کھیل کے میدانوں کے رسیا لڑکوں (اور ان سے زیادہ لڑکیوں کا) آیئڈیل یونانی دیومالائی دیوتاؤں کا حسن لئے عمران خان، اور سخن شناسی کے دعویداروں کے لئے ابں ِ صفی کا تراشیدہ چُلبُلا، چالاک، لا ابالی، اور بلا کا ذہین سیکرٹ ایجنٹ عمران۔

Read more

رویتِ ہلال۔ ایک مختلف زاویہ نگاہ

رویتِ ہلال اور اسلامی تقویم کے حوالے سے موجودہ بحث اور ہاؤ ہو ایک سیاسی اور مذہبی سرکس سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ اس لئے میں حالیہ بیانات در بیانات سے ہٹ کر اس مسئلے پر ایک مختلف زاویے سے بات کرنے کی کوشش کروں گا۔اس معاملہ پر اختلاف اور ابہام کے بنیادی نکات شاید کچھ اس طرح ترتیب دیے جا سکتے ہیں۔1۔ مذہبی حوالے سے مہینے کی شروعات کے لئے شرط چاند کا موجود ہونا ہے یا اس کا دیکھا جانا؟2۔ مذہبی اور انتظامی ہر دو اعتبار سے کیا ایک عالمی تقویم پر متفق ہونا چاہیے یا فرداَ فرداَ ہر ملک اپنے طور پر یہ کام کرے۔3۔ یہ خفت کہ عالمی سطح پر غیر مسلموں کو مختلف ملکوں میں مختلف تاریخ ہونے کی، اور اس کے نتیجے میں اسلامی تہوار مختلف شمسی تاریخوں پر منائے جانے کی کیسے وضاحت کی جائے۔

Read more

اب خوابوں کے سوداگروں کو پہچاننا چاہیے

آج سے نصف صدی قبل مارٹن لوتھر کنگ نے امریکی سیاہ فاموں کے حقوق کی جنگ لڑتے ہوئے اپنی شہرہ آفاق تقریر میں ایک نعرہ دیا تھا، ”میرا ایک خواب ہے“۔ کم و بیش چالیس سال بعد ایک افریقی امریکی کے صدر بننے کو اس خواب کی تعبیر گردانا گیا، مگر آج بھی آپ امریکی افریقی کمیونیٹی سے پوچھیں توزمینی حقائق مارٹن لوتھر کنگ کے خواب سے کوسوں دور ہیں، ۔ تو کیا خواب دیکھنا چھوڑ دیں؟ امریکی سیاہ فاموں

Read more

زندگی کو سرمئی رنگ میں کھوجیں

کمپیوٹر سے پرنٹ لینا ہو تو پرنٹر میں کلر (رنگین) ، گرے سکیل (سرمئی پیمانہ) یا پیور بلیک اینڈ وائیٹ ( خالص سیاہ و سفید) کی آپشن کے درمیان انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ رنگین اور بلیک اینڈ وائیٹ کا فرق تو سمجھ میں آتا ہے، مگر یہ گرے سکیل کیا بلا ہے؟

اگر پرنٹ کیا جانے والا ڈاکیومنٹ سادہ اور واضع ہو مثلاَ کوئی تحریر، تو پیور بلیک اینڈ وائیٹ میں کچھ کمی محسوس نہیں ہوتی۔ اس میں صرف دو ہی شیڈ آتے ہیں، سیاہ یا سفید۔ اس طرح روشنائی کی بچت ہوتی ہے۔ مگر کسی رنگین تصویر کو بلیک اینڈ وائیٹ پرنٹ کرنا ہو تو گرے سکیل زیادہ بہتر رہتا ہے۔ جہاں مختلف رنگ موجود ہوں، پیور بلیک اینڈ وائیٹ کی آپشن زیادہ مناسب نہیں رہتی۔ کیونکہ سارے رنگ صرف سیاہ اور سفید دو رنگوں میں تقسیم ہوجاتے ہیں، اس لئے تصویر کے کئی خدو خال، کئی اہم مناظر گم ہو جاتے ہیں یا منظر نامے کے کئی حصے ایک دوسرے میں خلط ملط ہو جاتے ہیں۔ جبکہ گرے سکیل میں سیاہ اور سفید کے علاوہ سرمئی رنگ کے مختلف شیڈ تصویر کے ہر رنگ کی عکاسی کرتے ہوئے منظر کو واضع رکھتے ہوئے ساری حقیقت بیان کر دیتے ہیں۔

Read more

گویا کہ چنانچہ۔ ۔ ۔ ۔

چونکہ سورج مشرق سے نکلتا ہے چنانچہ مغرب میں کفر و الحاد کا اندھیرا ہے، اس لئے ہمیں گندم کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے، تاکہ جرائم کی روک تھام کے لئے اقدامات کیے جا سکیں، مگر پاکستان کی ترقی کے لئے ڈیم انتہائی ضروری ہیں لہٰذا ملکی بقا کے لئے ناقابلِ تسخیر دفاعی نظام وقت کی اہم ضرورت ہے۔اوپر درج عبارت میں ربط تلاش کیے بغیر چونکہ، چنانچہ، اس لئے، تاکہ، مگر، لہٰذا، ہٹا کر الگ الگ پڑھیں تو ہر جملہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے، مگر کیا استدلال منطقی کہلا سکتا ہے؟ ہر گز نہیں۔مگر ستم ظریفی دیکھیے کہ ایسے استدلال سے ہمارا واسطہ روزانہ کی بنیاد پر پڑتا ہے۔صحافی ہوں یا سیاست دان، تجزیہ نگار ہوں یا اپنی اپنی فیلڈ کے پروفیشنلز، ہمارا طرزِ استدلال ایسا ہی بن گیا ہے کہ ہم سچی بات کے لئے بھی درست دلیل ڈھونڈنے سے قاصر ہیں۔

Read more

اپنے تئیں ایک فیمینسٹ کا بیانِ اقبالی

مجھے اندازہ نہیں کہ میرے خیالات اور نظریات کی سمت کب اس نہج پر متعین ہو گئی کہ مجھے میرے اردگرد کے لوگوں نے فیمینسٹ سمجھنا اور کہنا شروع کردیا۔ شاید یہ ایک ارتقائی عمل تھا۔ ایک متشدد حد تک میل شاؤنسٹک معاشرے میں شاید یہ محفوظ ترین باغیانہ راستہ تھا اس لئے مجھ جیسے بے عمل اور کم کوش کو اس ٹائٹل کو اپنانے میں یک گونہ احساسِ تفاخر نظر آیا اور میں نے خود بھی اپنے تئیں یہ سہرا سر پر باندھ لیا۔

مگر آج میں اس تحریر کے ذریعے یہ قبول کرنا چاہتا ہوں کہ میں فیمینسٹ نہیں ہوں۔ زبانی کلامی دعوؤں میں اور عملی قدم اٹھانے میں جو فرق ہوتا ہے، اس کا ادراک مجھے پچھلے دنوں اپنی اہلیہ کے انتقال کے بعد اس کے مالی معاملات طے کرتے ہوئے ہوا۔ مرحومہ نے بارہ تیرہ سال تدریس کے فرائض انجام دیے، اس کے والد کی وفات پر جائیداد میں حصہ بھی اسے ملا، مگر آج جب میں اس کا ترکہ بانٹنے بیٹھا تو اس کی ملکیت کے نام پر چند تولے سونا میرا منہ چڑا رہا ہے

Read more

بھائی وہ پرانے والا مِلے گا؟

پچھلے دنوں ٹیچرز ڈے منایا گیا تو میری یادیں اپنے سکول کے زمانے میں جا پہنچیں۔ ہائی سکول کی تعلیم میں نے 1976 سے 1981 تک مکمل کی۔ آٹھویں جماعت میں ایک استاد ملے، اعجاز پرویز۔ ابھی نوجوان ہی تھے۔ ریاضی میں سیٹس تھیوری ان دنوں نئی نئی نصاب میں شامل ہوئی تھی اور اکثر اساتذہ بھی اس سے نابلد ہی تھے۔ ایک دن سر اعجاز ہمیں سیٹس میں سے سب سیٹس بنانا سکھا رہے تھے۔ ایک سیٹ میں سے

Read more

چھاچھ سے جلی قوم کا حلف

ایک مچھلی فروش نے اپنی دکان پر نیا بورڈ آویزاں کیا۔ ”یہاں پر تازہ مچھلی فروخت ہوتی ہے“ ایک صلاح کار نے مشورہ دیتے ہوئے فرمایا، ”میاں جو بھی بورڈ پڑھے گا، یہاں آکر ہی پڑھے گا ناں، تو اس فقرے میں ”یہاں پر“ فالتو ہے۔ “ مچھلی فروش نے برش پکڑ کر پہلے دو الفاظ مٹا دیے۔ پیچھے رہ گیا، ”تازہ مچھلی فروخت ہوتی ہے“ ایک اور صاحب نے شگوفہ چھوڑا، ”بھائی صاحب! تازہ کا لفظ جچ نہیں رہا،

Read more

پوسٹر "مشن امپاسیبل” کے اور فلم "شیر خان”

سنیما بینی کاشوق زندگی کے مختلف ادوار میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہا۔ میری یادداشت میں پہلے پہل سنیما جا کر فلم دیکھنے کے واقعات سات آٹھ سال کی عمر تک محدود ہیں ۔ ان فلموں کے بارے میں مجھے کچھ یاد نہیں ۔ اپنے ہوش و حواس میں پہلی دفعہ سنیما جا کرفلم دیکھنے کا اتفاق فرسٹ ائیر میں ہوا۔ اوائل اَسی کی دہائی میں سرگودھا شہر میں گنتی کے چار ،چھ سنیما تھے جہاں پنجابی فلموں کا راج

Read more

سفر اور زندگی

کہتے ہیں زندگی ایک سفر ہے، اگر یہ سچ ہے تو کیا زندگی گزارنے کے لئے اصول اور رہنمائی ٹریفک کے بہاؤ سے حاصل کی جا سکتی ہے؟ آئیے کوشش کرتے ہیں ٹریفک سگنل ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ آدھی رات کو سنسان چوراہے پر کبھی ٹریفک سگنل سرخ دیکھ کر رکے ہیں؟ چلیں میں اقرار کرتا ہوں میں نے ایسا کبھی نہیں کیا تھا، ویسے میں انتہائی ایماندار، قانون پسند اور فرض شناس شہری ہوں، سارا

Read more