گائیڈ کا راجو اور پاکستان کا نواز شریف

  نواز شریف کی صحت اور اس کو لے کر ڈیل، ڈھیل، این آر اووغیرہ کا تمام غُل مجھے رہ رہ کر گائیڈ فلم کی کہانی کی یاد دلا رہا ہے۔ 1965 میں بھارت میں ریلیز ہونے والی مشہور زمانہ فلم"گائیڈ" آر کے نارائن کے اسی نام کے ایک ناول کی فلمی تشکیل تھی۔ اپنےمقبولِ…

Read more

کارگل سے یو این او: بیس سال اور میڈیا

تقریر ہوگئی، اچھا ہوا۔ داد و تحسین کے ڈونگرے برس لئے، مزید اچھا ہوا۔ بھارت کی مندوب کا جوابی بیان آیا، ہم نے کِھلی اڑائی، بھارتی میڈیا نے ہاہاکار مچائی، ہم نے اپنی بہادری، غیرت، اور بنیے کی بزدلی، اور کم ہمتی کی مالا جپی، کیا اچھا کیا؟ سوچتے ہیں۔ گو ہماری سرشت میں شامل…

Read more

ریسٹ اِن پیس، بیوی!

” مجھے جانے دیں خدا حافظ، ٹھیک ہے“

پانچ جنوری 2019 کی شام سی ایم ایچ لاہور کے آئی سی یو میں تاروں، ٹیوبوں، پٹیوں، نالیوں، پائپوں اور بوتلوں میں جکڑی ہوئی، نیم غنودگی یا بیہوشی کے بین بین کسی کیفیت میں یہ اس کے آخری الفاظ تھے جو میری سماعت نے سنے۔ اتنی نحیف آواز کہ سننے کے لئے کان آکسیجن ماسک کے ساتھ لگانا پڑے۔

Read more

تصورِ انصاف اور تحریکِ انصاف

عدل ایک عظیم تصور ہے، زندگی کی ہر جہت میں اعتدال، برابری اور مساوات۔ اس تصور کی بنیاد نظامِ عدل پر دھری جاتی ہے۔ جزا و سزا کا نظام۔ قانون کی حکمرانی کا تصور۔
انصاف ہونا ہی نہیں چاہیے، ہوتا نظر آنا بھی چاہیے۔
چاہے سو مجرم چھوٹ جائیں، مگر ایک معصوم کو سزا نہیں ہونی چاہیے۔
آپ معصوم ہیں، تاوقتیکہ آپ مجرم ثابت نہ ہوجائیں۔

Read more

عمران کون؟ میرا ہیرو

اگر جنابِ من جہانا (محترم جہانزیب عزیز، مبادا آپ جاناں ملک سمجھ لیں ) نے سال ڈیڑھ سال قبل ابنِ صفی کی عمران سیریز پر کام کرنے کا تذکرہ نہ کیا ہوتا تو 2018 کے الیکشن مہم کی گہماگہمی کے عروج پر ”عمران کون؟ “ کو میں کسی سیاسی تحریر کا عنوان ہی سمجھتا۔

ہم جیسی ستر کی دہائی میں لڑکپن گزارنے والی نسل کا پالا عمران نام کے دو ہیرووں سے پڑا، کھیل کے میدانوں کے رسیا لڑکوں (اور ان سے زیادہ لڑکیوں کا) آیئڈیل یونانی دیومالائی دیوتاؤں کا حسن لئے عمران خان، اور سخن شناسی کے دعویداروں کے لئے ابں ِ صفی کا تراشیدہ چُلبُلا، چالاک، لا ابالی، اور بلا کا ذہین سیکرٹ ایجنٹ عمران۔

Read more

رویتِ ہلال۔ ایک مختلف زاویہ نگاہ

رویتِ ہلال اور اسلامی تقویم کے حوالے سے موجودہ بحث اور ہاؤ ہو ایک سیاسی اور مذہبی سرکس سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ اس لئے میں حالیہ بیانات در بیانات سے ہٹ کر اس مسئلے پر ایک مختلف زاویے سے بات کرنے کی کوشش کروں گا۔اس معاملہ پر اختلاف اور ابہام کے بنیادی نکات شاید کچھ اس طرح ترتیب دیے جا سکتے ہیں۔1۔ مذہبی حوالے سے مہینے کی شروعات کے لئے شرط چاند کا موجود ہونا ہے یا اس کا دیکھا جانا؟2۔ مذہبی اور انتظامی ہر دو اعتبار سے کیا ایک عالمی تقویم پر متفق ہونا چاہیے یا فرداَ فرداَ ہر ملک اپنے طور پر یہ کام کرے۔3۔ یہ خفت کہ عالمی سطح پر غیر مسلموں کو مختلف ملکوں میں مختلف تاریخ ہونے کی، اور اس کے نتیجے میں اسلامی تہوار مختلف شمسی تاریخوں پر منائے جانے کی کیسے وضاحت کی جائے۔

Read more

اب خوابوں کے سوداگروں کو پہچاننا چاہیے

آج سے نصف صدی قبل مارٹن لوتھر کنگ نے امریکی سیاہ فاموں کے حقوق کی جنگ لڑتے ہوئے اپنی شہرہ آفاق تقریر میں ایک نعرہ دیا تھا، ”میرا ایک خواب ہے“۔ کم و بیش چالیس سال بعد ایک افریقی امریکی کے صدر بننے کو اس خواب کی تعبیر گردانا گیا، مگر آج بھی آپ امریکی…

Read more

زندگی کو سرمئی رنگ میں کھوجیں

کمپیوٹر سے پرنٹ لینا ہو تو پرنٹر میں کلر (رنگین) ، گرے سکیل (سرمئی پیمانہ) یا پیور بلیک اینڈ وائیٹ ( خالص سیاہ و سفید) کی آپشن کے درمیان انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ رنگین اور بلیک اینڈ وائیٹ کا فرق تو سمجھ میں آتا ہے، مگر یہ گرے سکیل کیا بلا ہے؟

اگر پرنٹ کیا جانے والا ڈاکیومنٹ سادہ اور واضع ہو مثلاَ کوئی تحریر، تو پیور بلیک اینڈ وائیٹ میں کچھ کمی محسوس نہیں ہوتی۔ اس میں صرف دو ہی شیڈ آتے ہیں، سیاہ یا سفید۔ اس طرح روشنائی کی بچت ہوتی ہے۔ مگر کسی رنگین تصویر کو بلیک اینڈ وائیٹ پرنٹ کرنا ہو تو گرے سکیل زیادہ بہتر رہتا ہے۔ جہاں مختلف رنگ موجود ہوں، پیور بلیک اینڈ وائیٹ کی آپشن زیادہ مناسب نہیں رہتی۔ کیونکہ سارے رنگ صرف سیاہ اور سفید دو رنگوں میں تقسیم ہوجاتے ہیں، اس لئے تصویر کے کئی خدو خال، کئی اہم مناظر گم ہو جاتے ہیں یا منظر نامے کے کئی حصے ایک دوسرے میں خلط ملط ہو جاتے ہیں۔ جبکہ گرے سکیل میں سیاہ اور سفید کے علاوہ سرمئی رنگ کے مختلف شیڈ تصویر کے ہر رنگ کی عکاسی کرتے ہوئے منظر کو واضع رکھتے ہوئے ساری حقیقت بیان کر دیتے ہیں۔

Read more

گویا کہ چنانچہ۔ ۔ ۔ ۔

چونکہ سورج مشرق سے نکلتا ہے چنانچہ مغرب میں کفر و الحاد کا اندھیرا ہے، اس لئے ہمیں گندم کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے، تاکہ جرائم کی روک تھام کے لئے اقدامات کیے جا سکیں، مگر پاکستان کی ترقی کے لئے ڈیم انتہائی ضروری ہیں لہٰذا ملکی بقا کے لئے ناقابلِ تسخیر دفاعی نظام وقت کی اہم ضرورت ہے۔اوپر درج عبارت میں ربط تلاش کیے بغیر چونکہ، چنانچہ، اس لئے، تاکہ، مگر، لہٰذا، ہٹا کر الگ الگ پڑھیں تو ہر جملہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے، مگر کیا استدلال منطقی کہلا سکتا ہے؟ ہر گز نہیں۔مگر ستم ظریفی دیکھیے کہ ایسے استدلال سے ہمارا واسطہ روزانہ کی بنیاد پر پڑتا ہے۔صحافی ہوں یا سیاست دان، تجزیہ نگار ہوں یا اپنی اپنی فیلڈ کے پروفیشنلز، ہمارا طرزِ استدلال ایسا ہی بن گیا ہے کہ ہم سچی بات کے لئے بھی درست دلیل ڈھونڈنے سے قاصر ہیں۔

Read more

اپنے تئیں ایک فیمینسٹ کا بیانِ اقبالی

مجھے اندازہ نہیں کہ میرے خیالات اور نظریات کی سمت کب اس نہج پر متعین ہو گئی کہ مجھے میرے اردگرد کے لوگوں نے فیمینسٹ سمجھنا اور کہنا شروع کردیا۔ شاید یہ ایک ارتقائی عمل تھا۔ ایک متشدد حد تک میل شاؤنسٹک معاشرے میں شاید یہ محفوظ ترین باغیانہ راستہ تھا اس لئے مجھ جیسے بے عمل اور کم کوش کو اس ٹائٹل کو اپنانے میں یک گونہ احساسِ تفاخر نظر آیا اور میں نے خود بھی اپنے تئیں یہ سہرا سر پر باندھ لیا۔

مگر آج میں اس تحریر کے ذریعے یہ قبول کرنا چاہتا ہوں کہ میں فیمینسٹ نہیں ہوں۔ زبانی کلامی دعوؤں میں اور عملی قدم اٹھانے میں جو فرق ہوتا ہے، اس کا ادراک مجھے پچھلے دنوں اپنی اہلیہ کے انتقال کے بعد اس کے مالی معاملات طے کرتے ہوئے ہوا۔ مرحومہ نے بارہ تیرہ سال تدریس کے فرائض انجام دیے، اس کے والد کی وفات پر جائیداد میں حصہ بھی اسے ملا، مگر آج جب میں اس کا ترکہ بانٹنے بیٹھا تو اس کی ملکیت کے نام پر چند تولے سونا میرا منہ چڑا رہا ہے

Read more