مانیکا کی بیٹی پولیس کو لے ڈوبی


رضوان گوندل نے عدالت کو مزید بتایا کہ رات دس بجے وزیراعلی سے ملاقات کے لئے کمرے میں بٹھایا گیا تو پہلے ایک شخص آیا اور اس کے کچھ دیر بعد وزیراعلی آئے۔ وزیراعلی نے بتایا کہ یہ میرا بھائی ہے آپ سے کچھ بات کرے گا۔ بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ اس کا نام احسن جمیل اقبال گجر ہے اور وہ پرائیویٹ شخص ہے کوئی سرکاری عہدیدار نہیں۔ احسن گجر نے کہا کہ پاکپتن میں مانیکا فیملی کے خلاف سازش ہو رہی ہے۔ میں نے جواب دیا کہ ایسی کوئی بات میرے علم میں نہیں۔ احسن گجر نے کہا کہ میں نے ایک اوورسیز دوست کے ذریعے بھی آپ کو پیغام بھیجا تھا لیکن آپ نے عمل نہ کیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آرمی کا کوئی کرنل شرنل بھی تھا۔ رضوان گوندل نے جواب دیا کہ آئی ایس آئی کا کرنل طارق ہے، فیصل آباد میں پوسٹنگ ہے اس نے فون کیا تھا کہ خاور مانیکا کے بیٹھے کے پاس چلے جائیں۔ چیف جسٹس نے پوچھا اس کا نام کیا ہے، اوورسیز دوست کون تھا؟ رضوان گوندل نے بتایا کہ خاور کے بیٹے کا نام ابراہیم مانیکا ہے جبکہ اوورسیز سے فون کرنے والا کورس میں مجھ سے سینئر افسر عظیم ارشد ہے اس نے واٹس ایپ پر فون کیا جو میں نہ سن سکا تو بعد میں پیغام بھیجا۔ میں نے ان سے کہا کہ ڈیرے پر کیسے جاؤں، اس سے میری فورس کا مورال گر جائے گا۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ احسن گجر کا کیا تعلق ہے؟ رضوان گوندل نے کہا کہ اس کی بیوی فرح خاتون اول کی دوست ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ وہی فرح ہیں جن کے گھر خاتون اول کا نکاح ہوا تھا۔ پھر کہا کہ خاور مانیکا اور احسن گجر کو فوری طور پر بلایا جائے۔ چیف جسٹس نے آئی جی کو ہدایت کی کہ باہر جا کر دونوں سے رابطہ کریں اس دوران ہٹائے گئے ڈی پی او اپنا بیان جاری رکھیں۔

رضوان گوندل نے بتایا کہ احسن گجر نے مجھ سے کہا کہ آپ بڑے پن کا ثبوت دے کر مانیکا کے پاس جائیں، ان کے دادا، پردادا بڑے لوگ تھے، اب سے نہیں بہت پہلے سے جاگیردار فیملی ہے، انگریز دور میں ڈی سی اور ڈی پی او ان کے ڈیرے پر جاتے تھے۔ میں نے جواب دیا کہ وہ اتنی بڑی فیملی ہے تو ان کو کرٹسی دکھانا چاہیے اور میرے گھر آ جائیں اگر دفتر نہیں آتے۔ رضوان گوندل نے کہا کہ دونوں واقعات کے دوران پولیس اہلکاروں کو گالیاں دی گئیں۔ مانیکا نے پہلے واقعے کے بعد ایلیٹ فورس والوں کو کہا کہ ہم تمہیں اٹھا کر لے جائیں گے، اس نے ایلیٹ کمانڈر کو فون کیا اور کہا کہ تمہارے گھر والوں کو گاؤں سے اٹھا کر لے جائیں گے۔ ایلیٹ کمانڈر گھبرا گیا تھا مگر بعد میں اس نے مجھے بتا دیا۔

رضوان گوندل نے بتایا کہ 26 اگست کو رات گئے وزیر اعلی کے سیکرٹری کا دوبارہ فون آیا، کہا کہ وزیراعلی نے کہا ہے کہ آئی جی سے کہیں کہ گوندل کل صبح نو بجے دفتر میں نہ ہو۔ رضوان گوندل نے بتایا کہ اس فون کال میں دو افراد تھے، ایک سیکرٹری اور دوسرا وزیراعلی کا چیف سیکورٹی افسر۔ اس کے بعد ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹر شہزادہ سلطان نے فون کیا اور کہا کہ آئی جی دفتر کے ساتھ ہیں، ڈی پی او کا دفتر چھوڑ دیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ حتمی طور پر یہ وزیراعلی کا حکم تھا کہ آپ صبح دفتر میں نہ ہوں۔ رضوان گوندل نے بتایا کہ سیکرٹری کا پھر فون آیا اور مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ نے چارج چھوڑ دیا ہے۔ رضوان گوندل نے کہا کہ میں نے اسے بتایا کہ گھر کا سامان پیک کر رہا ہوں جس پر اس نے کہا کہ وزیراعلی پوچھ رہے ہیں، میں نے تصدیق کے لئے فون کیا ہے۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ذرا آرٹیکل باسٹھ ون ایف (تا حیات نا اہلی) دکھائیں، کہاں کہاں لاگو ہو سکتا ہے۔ انہوں نے عدالت میں بیٹھے سینئر وکیل مخدوم علی خان سے کہا کہ آپ کو معاون مقرر کر کے اس آرٹیکل کو دیکھ لیتے ہیں۔ اس آرٹیکل میں دیانت دار اور امین اور سچا ہونے کے لئے کہا گیا ہے۔ اس کے لئے نہ سہی کسی اور وزیراعلی کے لئے کام آ جائے گا۔

اس کے بعد عدالت نے ریجنل پولیس افسر (آر پی او) ساہیوال کو موقف بتانے کے لئے روسٹرم پر بلایا۔ آر پی او شارق کمال نے بتایا کہ اسپیشل برانچ نے اطلاع دی تھی کہ پانچ چھ اگست کی درمیانی شب خاتون اول بننے والی ننگے پاؤں مزار پر جائیں گی اس کے لئے سیکورٹی ہونی چاہیے۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ بننے والی خاتون اول کی بیٹی ہیں جو رات کو مزار پر پیدل جا رہی تھیں۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ آئی جی نے آپ کو وزیراعلی سے ملنے جانے سے منع نہیں کیا؟ آر پی او نے جواب دیا کہ نہیں کیا۔

آر پی او نے کہا کہ خاور مانیکا کو ناکے پر روکا لیکن وہ نہیں رکے، ان کی گاڑی کا تعاقب کر کے شناخت کی گئی اور یہ پولیس کا کام ہے۔ خاور مانیکا نے پولیس والوں کو برا بھلا کہا۔ آر پی او نے بتایا کہ وزیراعلی سے ملاقات اس بات پر ختم ہوئی کہ ڈی پی او اور مانیکا میں مزید بات چیت نہیں ہو سکتی اس لئے آپ مداخلت کریں۔

آئی جی نے عدالت کو بتایا کہ میں نے ڈی پی او سے کہا کہ آج چلے جائیں آئندہ نہیں جانا۔ یہ 24 اگست کا واقعہ ہے تبادلہ 26 اگست کو ہوا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایسی کیا قیامت آ گئی تھی کہ رات کو تبادلہ کر دیا۔ یہ آپ نے دباؤ کے تحت حکم مان کر تبادلہ کرایا، صوبے میں کسی کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ پولیس کو ایسا حکم دے۔ کڑیاں مل رہی ہیں کہ وزیراعلٰی کے کہنے پر تبادلہ کیا گیا۔ کلیم امام نے کہا کہ میں سچ بول رہا ہوں، سید ہوں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ عدالت سے واپس آئی جی کے طور پر نہیں جائیں گے۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ آپ کمانڈر ہیں کیا اس طرح کرنے سے پولیس فورس کا مورال ڈاؤن نہیں ہوگا۔

آئی جی نے کہا کہ 5 اگست کی رات مانیکا کی بیٹی سے بدتمیزی ہوئی، یہی وجہ ہے کہ مانیکا سمجھ رہا ہے کہ اس کے خلاف سازش ہو رہی ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ وہ ڈی پی او سے کہہ رہے ہیں کہ تمہاری شکل صبح نہیں دیکھنا چاہتے، اس میں اتنی جلدی کیا تھی کہ رات کو ہی تبادلہ کر دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ سیاسی اثر و رسوخ اور سیاسی ڈکٹیشن کا معاملہ ہے، کوئی غیر آدمی وزیراعلی کے پاس جا کر کیسے یہ کر سکتا ہے؟ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ وزیراعلی کس قانون کے تحت کہہ سکتا ہے کہ فلاں سول سرونٹ کی شکل نہیں دیکھنا چاہتا۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا 5 اگست واقعہ پر خاور مانیکا نے تحریری درخواست دی تھی؟ آئی جی نے بتایا کہ انہوں نے ای میل کی تھی۔ چیف جسٹس نے آئی جی ایک بار پھر سخت سرزنش کی اور کہا کہ پورے بیان کے دوران آپ نے ایک ہی بات بار بار کی ہے اور اصل سوال کا جواب نہیں دے رہے کہ کس کے کہنے پر تبادلہ کیا اور رات کو کیوں کیا؟

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3