اظہار محبت و عقیدت کے مختلف انداز
مسلمانوں کا احتجاج رنگ لایا اور ہالینڈ میں منعقد ہونے والے خاکوں کے مقابلے کی منسوخی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔مغرب اور یورپ میں آزادئ اظہار رائے کی آڑ میں اس طرح کی ناپاک اور مزموم کاوشیں اس سے پہلے بھی کی جا چکی ہیں۔اسلام ہی نہیں انسانی اخلاقیات بھی اس بات کی متقاضی ہیں کہ کسی شخص کے عقیدے،مذہب،مسلک اور فرقے کو نہ چھیڑا جائے۔اسلام کی تعلیمات تو اس حوالے سے بہت واضح اور روشن ہیں۔دین کہتا ہے کہ کافروں کے جھوٹے خداؤں کو بھی برا بھلا نہ کہو مبادا وہ آپ کے رب کے بارے میں برے کلمات کہیں۔مغرب اور یورپ میں عام طور پر
برداشت،تحمل،بردباری اور رواداری کا ماحول ہے۔ایک جگہ رہنے والے مختلف مذاہب،تہذیبوں اور رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والےلوگ باہمی رواداری اور ایک دوسرے کے عقائد و نظریات کا پاس کرتے ہوئے زندگی گزارتے ہیں۔وہاں مذہب اور مسلک کے نام پر ہماری طرح گلے کاٹنے کا رواج بھی نہیں ہے۔مگر کچھ عرصے سے وہاں ہمارے پیارے نبی حضرت محمد کی سیرت و کردار پر بڑے بہیمانہ،سفاک،بزدلانہ اور پست و رکیک حملے کیے جا رہے ہیں۔اس سے پہلے بھی ڈنمارک اور فرانس میں نبی کے اسوہ کامل کے حوالے سے متنازعہ خاکے شائع کرکے دنیا بھر کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی دل آزاری کی گئی۔ ا س بار بھی نومبر میں گستاخانہ خاکوں کے انعقاد کا اعلان کیا گیا تھا مگر امت مسلمہ نے بھرپور احتجاج کر کے ہالینڈ کی حکومت اور مقابلے کے منتظمین کو اپنے فیصلے سے رجوع کرنے پر مجبور کردیا ۔یہ حقیقت ہے کہ کمزور سے کمزور ایمان کا حامل مسلمان بھی نبی آخر الزمان کی شان میں گستاخی برداشت کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔نبی کی محبت ایمان کے حصے سے بڑھ کر ایمان کی بنیاد ہے۔
نہ جب تک کٹ مروں میں خوجہ یثرب کی حرمت پر
خدا شاہد کامل میرا ایمان ہو نہیں سکتا
اہل مغرب ایسا کیوں کرتے ہیں اور اس مزموم کوشش کے پس پردہ ان کے کیا مقاصد ہوتے ہیں؟اس حوالےسے ایک سے زائد آرا ہیں۔وہ یہ سب کچھ آزادئ اظہار رائے کے نام پر کر رہے ہیں۔مگر ہولوکاسٹ پرآ کر یہ اظہاررائے دم توڑ دیتا ہے اور وہ کٹڑ اور انتہا پسند مذہبی بن جاتے ہیں۔ہو سکتا ہے اس تناظر میں ان کے پاس اپنی کوئی توجیہ ہو مگر حقیقت یہی ہے کہ کسی کے عقیدے اور مسلک پر یوں حملہ آور ہونا پرلے درجے کی حماقت اور سفاکی ہے۔نبی کی ذات ہماری محبتوں اور عقیدتوں کا مرکز ہے۔عملی طور پر بے شک ہم شعائر اسلام اور نبی پاک کے فرامین مقدسہ سے کوسوں دور ہوں مگر بنی کی شان میں معمولی سی گستاخی بھی برداشت نہیں کر سکتے۔
ہمارے ہاں مسلمانوں میں تحفظ ناموس رسالت کے حوالے سے بھی دو طرح کے ردعمل پائے جاتے ہیں۔ ایک علمی،استدلالی،منطقی اور غیر جذباتی ہے۔دوسرا عملی،متشدد،جذباتی اور روایتی ہے۔پہلے کے سرخیل سر سید احمد خاں ،مولانا مودودی ،جاوید احمد غامدی اور پیر مہرعلی شاہ ہیں۔دوسرے کے علمبردار غازی علم الدین شہید، عامر چیمہ اور ممتاز قادری ہیں۔دونوں نبی پاک سے والہانہ محبت و عقیدت کا دعوی کرتے ہیں مگر دونوں کے میدان ہائے عمل مختلف ہیں۔ ہمارے ہاں غازی علم الدین کی روایت زیادہ مستحکم،توانا اور مقبول ہے جب کہ دوسری روایت کچھ کمزور اور نحیف سی ہے۔لبھورام جب نبی کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو غازی علم الدین کا جوش ایمانی متلاطم اور طوفانی دریا بن جاتا ہے۔نبی سے محبت کا تقاضا اس کے نزدیک یہ ہےکہ فوری طور پر اپنی عدالت لگا کر گستاخ رسول کا سر قلم کرکے خود سولی پر جھول لیا جائے۔تاریخ میں علم الدین کی جاں بازی اور جاں فروشی ہمیشہ سنہری حروف میں لکھی جاتی رہی ہے۔مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں توہین سالت کے قانون کو غلط طور پر بھی استعمال کیا جاتارہا ہے۔مذہب بہت حساس اور نازک مسئلہ ہے۔اس کا نام لے کر بڑی آسانی سے مسلمانوں کو مشتعل کر کے کسی بے گناہ کی سر عام جان لی جا سکتی ہے۔باچہ خان یونیورسٹی میں کچھ عرصہ قبل ہونےوالا اندہو ناک واقعہ اس کی ایک عبرت انگیز مثال ہے۔اول تو توہین مذہب یا رسالت کا کوئی واضح ثبوت نہیں ہوتا اور اگر کوئی ایسی بات ہوبھی تو ایک مشتعل اور برانگیختہ ہجوم کو یہ حق کس نے دیا کہ وہ سر راہ اپنی عدالت لگا کر موقعے پر جزا و سزا کا فیصلہ کرے؟اس کےلیے قوانیں،عدالتیں،قواعد اور طریق کار سب کچھ موجود ہے۔ کیا ہر موقعے پر نبی کے ساتھ محبت و عقیدت کے اظہار کا واحد طریقہ یہی ہے کہ ہم کسی کی جان لے لیں۔نبی پاک تو سراپا شفت،مہربانی،لطف و کرم اور محبت و ملاطفت تھے۔پھر ان کے نام پر ایسی بربریت اور سفاکی کی گھناؤنی وارداتیں کیوں؟ اگر گستاخی نہ ہو اور کسی کی طبع نازک پر گراں نہ گزرے تو ایک سوال پوچھنے کی جسارت کرتا ہوں۔فرض کریں کسی اہل ایمان اور حب رسول میں مستغرق شخص کے سامنے کوئی آدمی دانستہ یا نادانستہ مذہب یا نبی پاک کی شان میں کسی نوع کی گستاخی کر ے تو اہل ایمان کا اسے جوش ایمانی سے مغلوب ہو کر فوری طور پر تہ تیغ کرنا زیادہ بہتر ہے یا تحمل و برداشت سے کام لے کر اسے سمجھا بجھا کر اسلام کی حقانیت اور نبی پاک کی حقیقی محبت و عقیدت کی طرف لا کر اس کی دنیا و آخرت سنوارنا زیادہ مستحسن ہے؟نبی پاک نے خود اپنی حیات مبارکہ میں دشمنان اسلام کی کس درجے کی گستاخیاں اور مظالم برداشت نہیں کیے ہیں،ہم ان کے نام لیوا ہیں تو ان کی سیرت کا ہلکا سا پرتو بھی ہماری زندگیوں میں کیوں نظر نہیں آتا؟ممکنہ خاکوں کے مقابلے کے ردعمل میں کسی جوشیلے مسلمان کی طرف سے ایک پوسٹ ایسی بھی دیکھی کہ جس میں لکھنے والے نے کہا تھا کہ تم ہمارے نبی کے بارے میں ایک خاکہ شائع کرو گے ہم تمھارے نبی کے متعلق ہزاروں خاکے شائع کریں گے۔حالانکہ اسلام ہمیں تمام انبیا کی برابر عزت کرنے کا درس دیتا ہے۔قرآن کہتا ہے کہ ہم نبیوں میں کوئی تفریق نہیں کرتے۔
عقیدے اور نظریے کا تحفظ دلیل اور براہین سے کیا جانا چاہیے نہ کہ اس کے لیے ہر وقت تلوار اٹھا کر سراپا قہر و غضب بنا جائے۔ ایک انگریز سکالر ولیئم میئور نے جب life of muhammad نامی کتاب لکھ کر نبی پاک کی سیرت کے کچھ پہلوؤں پر اعتراض اٹھائے تو عظیم مفکر،دانشور،مصلح قوم اور مفسر اسلام سر سید احمد خاں اپنے ذاتی اخراجات پر لندن گئے۔وہاں لائبریریوں کی خاک چھان کر خطبات احمدیہ کے نام سے ولئیم کی کتاب کا جواب لکھا اور ہندوستان میں شائع کرنے کے لیے بھیجی۔ کتاب شائع کرنے کے لیے سرمایہ نہیں تھا۔اس کے لیے انہوں نے اپنے بیٹے کو لکھا کہ آبائی مکان بیچ کر یہ کتاب چھاپنے کا اہتمام کیا جائے۔سر سید کے فہم اسلام پر ہم بے شمار اعتراضات کرتے ہیں بلکہ کچھ ستم ظریف تو انہیں کافر بھی قرار دیتے ہیں مگر ان کا یہ علمی اور فکری کارنامہ نبی پاک کے ساتھ سچی محبت کی دلیل ہے۔اسی طرح فتنہ قادیان کے رد میں پیر مہر علی شاہ نے مرزا غلام احمد قادیانی کی فکر پر نقدو جرح کرکے اپنے مؤقف کو بڑی خوبصورتی سےاجاگرکیا ہے۔اس کتاب(مہر منیر) کی خاص بات یہ ہے کہ باوجود غلام احمد سے شدید اختلاف کے انہوں نے پوری کتاب میں مرزا کو مرزا صاحب کہہ کر مخاطب کیا ہے۔یہ وہ عظیم اور برگزیدہ ہستیاں تھیں جنہوں نے اپنی زبان اور قلم کو کبھی گالم گلوچ اور سب و شتم سے آلودہ نہیں کیا۔اسی طرح مولانا مودودی صاحب نے بھی قادیانی فتنے کےرد میں علمی سطح پر اپنے دلائل دیے۔کبھی قلم کو شمشیر برہنہ بنا کر مسلمانوں کو برانگیختہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔آج عالم اسلام میں ایسے مسلم دانشور اور علمائے کرام کتنے ہیں جو علمی اور فکری سطح پر غیر مسلموں کی طرف سے نبی پاک اوراسلام پر کیے جانے والے رکیک حملوں کا مؤثر جواب دے رہے ہیں؟ بدقسمتی سے عوام کی کثیر تعداد ان نام نہاد علما کی شعلہ فشانی اور طرز تخاطب کو زیادہ پزیرائی دیتی ہے جو ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے بھی گالم گلوچ اور دریدہ دہنی کا راستہ اختیار کیےہوئے ہیں۔ تعجب اس امر پرہوتا ہے جب اعلی تعلیم یافتہ لوگ ایسے علما کی حمایت کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ یہ گالیاں کب وہ اپنے لیے دیتے ہیں؟ ابھی تو اللہ کا شکر ہے کہ ہالینڈ میں یہ مقابلے منسوخ کر دیے گئے ورنہ ہمارے شعلہ بداماں اور سیخ پا مشتعل گروہ نہ جانے تحفظ ناموس رسالت کی تحریک کا نام لے کر وطن عزیز میں کیا گل کھلاتے؟جوش ایمانی کے ساتھ ساتھ کیا ہمیں تحفظ ناموس رسالت کےلیے سر سید،مولانا مودودی اور پیر مہرعلی شاہ کی علمی میراث کو نہیں اپنانا چاہیے؟


