کوہِ ارارت کے پہلو میں


ایرانی امیگریشن اہلکار نے خروج کی مہر میرے پاسپورٹ پر ثبت کی اور اس کے بعد وہاں موجود دیگر ایرانی مسافروں کے ہمراہ کھڑا کردیا جو دوسری بسوں کے ذریعے سرحد تک پہنچے تھے۔ اُن میں زیادہ تعداد خواتین کی تھی۔ ایرانیوں کے لیے ترکی کا ویزا درکار نہیں۔ دفتری اوقات کے مطابق یہ ایرانی سرحد عبور کرنے والا آخری قافلہ تھا۔ تمام خواتین سیاہ چادروں اور سیاہ برقعوں میں حجاب میں تھیں۔ مجال ہے کسی کا ایک بال بھی نظر آئے۔ ایرانی اہلکار نے ایران ترکی سرحد پر لگا قفل کھولا۔ اس قافلے میں سب سے پہلا قدم میرا تھا جس نے ترک سرحد کو چھوا۔ میرے بعد چالیس پچاس کے قریب ایرانی مرد و خواتین ترک سرحد میں داخل ہوئے۔ ترک امیگریشن نے میرا ویزا دیکھنے کے بعد ترکی میں داخلے کی مہر میرے پاسپورٹ پر ثبت کردی اور پھر اس کے بعد سب ایرانی مسافرین کے پاسپورٹ چیک ہوئے۔

چیک پوسٹ سے باہر آیا تو ایک نئی دنیا میرے سامنے تھی۔ اتاترک کا مجسمہ اور سرخ رنگ کا لہراتا ترک پرچم۔ بے تاب نگاہوں نے جب اپنی دائیں جانب دیکھا توآنکھیں ششدر رہ گئیں۔ لاہور سے چلا مسافر، تین سو ڈالروں پر انحصار کرتے طویل جہاں گردی، چڑھتی جوانی، نئے جہانوں کو پالینے کا تجسس اور خوشی، نہ یقین آنے والی ملی جلی کیفیت۔ میری دائیں جانب کوہِ ارارات تھا۔ وسط سے لے کر چوٹی تک برف پوش۔ اسی برف میں صدیوں سے پوشیدہ حضرت نوح ؑ کی کشتی۔ ”اوہ! تو کیا میں واقعی لاہور سے بسوں، ٹرینوں اور ٹرکوں پر سفر کرتے کرتے ارارات کے پہلو میں پہنچ گیا ہوں۔ ‘‘ ایسی خوشی کہ جس کا یقین نہیں آتا۔ بچوں کی طرح ناچنے کو جی چاہ رہا تھا۔ ارارات۔ اوہ، اس کے دوسری طرف سوویت یونین کی قدیم مسیحی ریاست آرمینیا۔

شام ڈھل رہی تھی۔ اگست کی 29تاریخ اور سردی کی لہر۔ جہاں گرد کوہ قاف کے پہلو میں کھڑا تھا۔ مجھے اب ترکی کے اندر پہلی بستی دوغبا یزید پہنچنا تھا۔ دُور دُور تک کسی سواری کا نشان نہیں تھا۔ یکایک ایران سے آئے دوسرے مسافرین کا غول ترکی میں داخل ہوا۔ یہ وہی ایرانی تھے جو قطار میں سرحد عبور کرتے میرے ہمراہ تھے۔ سیاہ چادریں اور برقعے یوں اترے کہ جیسے آندھی اڑا لے گئی ہو۔ انقلابِ ایران کے بعد اس سیاہ چادر نے دنیا بھر کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔ عالمی سیاست کے حوالے سے کتابوں کے ٹائٹل سے لے کر اخباروں تک ایران کے ذکر کے ساتھ سیاہ چادر پوش ایرانی خواتین کی تصاویر۔ مگر سرحد بدلتے ساتھ ہی سب کچھ بدل گیا۔

ترکی میں میری پہلی رات دوغبا یزید کے ایک معمولی سے ہوٹل میں گزری۔ صبح ہوئی تو توپوں کی آوازوں نے مجھے گہری نیند سے جگا دیا۔ ہڑبڑا کر اٹھا۔ توپوں کے گولے رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ یہ کیا ہے؟ نیند میں دوڑتا ہوٹل کے مینیجر کے پاس پہنچا۔ اس نے ترک الفاظ میں مدعا بیان کیا کہ ”جنگ، عسکر۔ ‘‘ اوہ تو کیا جنگ شروع ہوگئی ہے، روس ترکی کے مابین؟ دل دھڑکنے لگا۔ اپنی بے چینی، خوف اور تجسس کے سبب گلی میں آیا تو ترک فوجی مارچ پاسٹ کررہے تھے۔ جہاں گرد حیران تھا۔ تو جنگ شروع ہوگئی، سوویت یونین اور ترکی میں؟ فوجی تو جوش میں تھے لیکن گاؤں کے لوگ مطمئن۔ یقینا معاملہ کچھ اور ہے! 30اگست کی پہلی صبح ترکی میں۔

30 اگست ترک ”عیدِ فتح‘‘ (ظفر بیرام) کے طور پر مناتے ہیں۔ 30اگست 1922ء کو ترکوں نے غازی مصطفی کمال پاشا اتاترک کی قیادت میں غیرملکی حملہ آوروں کو دُملوپنار کے میدان میں آزادی کی آخری جنگ میں شکست سے دوچار کیا۔ ترکی میں عیدالفطر اور عیدالضحیٰ اور عیدِ ظفر (عیدِفتح) ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر منائی جاتی ہیں۔ جہاں گرد، دوغبا یزید کے باسیوں کے ساتھ گاؤں کی گلیوں میں عیدِ فتح کے جشن میں شامل ہوگیا۔ ترکی میں میری پہلی صبح۔ جشن ِفتح۔ اور سامنے خاموش سفید برف میں ڈھکا ارارات۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2