سوشلزم اکیسویں صدی میں

سنہ 1917 ء میں روس میں سوشلسٹ انقلاب، انسانی تاریخ میں محنت کشوں کی یہ پہلی کامیابی تھی اور یوں انسانی تاریخ میں محنت کشوں نے پہلی مرتبہ اقتدار سنبھالا۔ اس سے پہلے محنت کشوں کی بغاوتوں اور انقلابات کی تاریخ تو پڑھنے کو ملتی ہیں، مگر وہ سب بغاوتیں کچل دی گئیں اور انقلابات بھی شکست سے دوچار ہوئے۔ سوویت یونین ہزاروں سال میں پہلی ریاست ہے جسے محنت کشوں، مزدوروں اور کسانوں کی ریاست کہلانے کا اعزاز حاصل ہوا۔

عالمی سرمایہ داری نے اسے شروع میں ہی ناکام بنانے کی کوششیں شروع کر دیں۔ سوویت یونین نے 1917 ء میں انقلاب برپا ہونے کے بعد پہلے چند ہی سال میں سائنسی ٹیکنالوجی، معاشی اور سماجی ترقی کے حوالے سے شان دار کامیابیاں حاصل کر لیں۔ مگر پھر اس نظام کے اندر ایسے مسائل نے بھی جنم لیا جس نے اسے کھوکھلا کرنا شروع کر دیا۔ سوویت یونین کے بحران میں دو چیزیں نہایت اہم ہیں، جمودیت اور افسرشاہی کی ایک خاص کلاس۔ یہی اس نظام کی تباہی کا سبب بنیں۔

Read more

’نطق‘: آج کے ترکی کی کامیابی کا منشور

ترکی پاکستان کے سیاسی، صحافتی، علمی، ادبی اور عوامی حلقوں میں اب ایک مقبول موضوع بن چکا ہے۔ لیکن ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ اس حوالے سے ہمارے ہاں حال میں لکھی جانے والی تحریریں، کالم، مضامین اور سوشل میڈیا پر وی لاگز، سب تحقیق اور معلومات سے کوسوں دور ہیں۔ کسی قوم، ملک اور سماج کو جاننے کے لیے، تحقیق کے لیے عرق ریزی کرنا پڑتی ہے۔ دعوؤں، خواہشات اور تصورات پر کسی سماج، قوم اور تہذیب کو

Read more

آسیبی شہر کی مسجد

27 ستمبر 2020 ء کو آرمینیا اور آذربائیجان کے مابین یک دم جنگ چھڑی تو یہ معاملہ دنیا سمیت پاکستان کے میڈیا اور سوشل میڈیا میں نمایاں جگہ لے گیا۔ یہ جنگ سوویت یونین کے تحلیل ہونے کے بعد اس وقت شروع ہوئی جب یہ دونوں سوویت ریپبلکس آزاد اور خودمختار ریاستوں میں بدل گئیں۔ یہ جنگ چار سال تک چلی جس میں 38000 لوگ ہلاک ہوئے اور ساڑھے سات لاکھ آذری اور پانچ لاکھ آرمینی اپنے گھروں سے بے

Read more

بھٹو خاندان کی ٹریجڈی: ذوالفقار علی بھٹو کے دو بدنصیب بیٹے

وزیراعظم ترکی جناب بلند ایجوت نے مجھ سے کہا کہ ”آج مجھے ترکی کی گرینڈ نیشنل اسمبلی میں ملنے تشریف لائیں اور وہاں ہم دونوں کھانا ساتھ کھائیں گے۔“ یہ میرے لیے اعزاز تھا، وزیراعظم ترکی کے ساتھ لنچ، دوسرا ترکی کی اس پارلیمنٹ میں ملاقات جو مسلم دنیا کی پہلی پارلیمنٹ ہے۔ پارلیمنٹ کے صدر دروازے پر پروٹوکول والے میرے منتظر تھے۔ وزیراعظم ترکی بلند ایجوت نے مجھے Pick کرنے کے لیے اپنی ذاتی کار بھیجی جسے ان کے

Read more

ڈاکٹر مبشر حسن نے جو مجھے کہا

14 مارچ کی صبح چائے پیتے ہوئے میں نے اپنی شریک حیات ریما گوئندی سے کہا کہ ڈاکٹر مبشر حسن کی طبیعت دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے، آج اُن سے ملنے لازمی جاؤں گا۔ چند منٹ بعد لندن میں مقیم میرے دوست جناب ثقلین امام کا پیغام موصول ہوا کہ ”ڈاکٹر مبشر کا انتقال ہوگیا“۔ ڈاکٹر مبشر حسن سے میری دوستی جدوجہد کی دوستی ہے۔ صرف اُن کی بیٹھک میں بیٹھ کر گپ شپ تک محدود نہیں۔ چار

Read more

اندرا گاندھی کے گھر میں

دہلی کے تاریخی مقامات کی سیاحت کرتے کرتے میں نے نظام الدین اولیاؒ اور خواجہ بختیار کاکیؒ کے مزار، غالب کی قبر، مہاتما گاندھی کی سمادھی، امام ضامن کا مقبرہ، جمالی اور کمالی کا مزار، قطب مینار، تغلق قلعہ، بلبن، ہمایوں، رضیہ سلطان، شمس الدین التمش، حضرت سرمد شہید سمیت لاتعداد حکمرانوں کے مقبروں، قلعوں، حصاری فصیلوں، اجڑی بستیوں، تاریخی محلوں اور محلات کو دیکھ لیا۔ اسی کے ساتھ ہمعصر تاریخ کے دل دکھا دینے والے نوادرات بھی دیکھے۔ میں

Read more

میرا استاد مغرب

جس نے آپ کو پڑھنے لکھنے سے آشناکیا ہو، سب سے پہلے اور آج تک، کئی لوگ ہیں، کئی استاد ہیں۔ میرے لیے ہمیشہ ہی یہ ایک مشکل سوال ہے کہ آپ کا استاد کون ہے؟ میں نے درجنوں استادوں سے سکول، کالج، یونیورسٹی اور اس کے بعد اعلی تعلیم کے لیے پڑھا۔ میری پہلی استاد مس سالک تھیں، انہوں نے سرگودھا میں پہلا اعلیٰ معیار کا پرائیویٹ انگلش میڈیم سکول شروع کیا، اپنی بہن مس جوزف کے ساتھ۔ دلچسپ

Read more

بلغراد کے بے وطنے

بلغراد کا پرانا ریلوے سٹیشن اب آمدو رفت کے لیے بند ہو چکا ہے۔ مگر مجھے اسے دیکھنا ضرور تھا، اس لیے کہ میری دو پسندیدہ سواریاں ہیں، سائیکل اور ریل گاڑی۔ دنیا بھر میں مجھے مختلف ٹرینوں پر سفر کرنے کا شوق چلا آرہا ہے، ایک عجب رومانس ہے اس سواری میں۔ اپنی حالیہ جہاں گردی میں بھی ریل گاڑی ہی زیادہ تر سواری کے طور پر استعمال کی، جہاز پر تو مجبوراً سفر کیا۔ جہاز کا سفر مغرب

Read more

پہنچی وہیں پہ خاک: خشونت اور کلدیپ

2007 ء کے شروع میں بھارت سے میرے ایک دوست خواجہ افتخار احمد صاحب نے مجھ سے رابطہ کیا کہ اپریل کے ماہ میں دہلی میں ایک عالمی کانفرنس منعقد کرنے جا رہے ہیں، آپ نے اس میں پاکستان سے ایک گروپ لے کر آنا ہے اور آپ پاکستان سے نامزد کیے گئے مندوبین کی قیادت کریں گے۔ اس گروپ میں میری طرف سے جن لوگوں کو نامزد کیا گیا، اُن میں موجودہ وزیراعظم عمران خان، سابق وزیر خارجہ سردار آصف احمد علی، ڈاکٹر انور سجاد، خطیب بادشاہی مسجد لاہور مولانا عبدالخبیر آزاد، فاروق طارق، رانا احتشام ربانی، ریما گوئندی اور دیگر لوگ شامل تھے۔

اس کانفرنس کے دوران معروف بھارتی ادیب و صحافی کلدیپ نیئر کو جب ہماری آمد کا علم ہوا تو انہوں نے مجھ سے اپنی اس خواہش کا اظہار کیاکہ میں پاکستان سے آئے آپ تمام دوستوں کو ڈنر پر مدعو کرنا چاہتا ہوں۔ یہ ڈنر ایک یادگار محفل تھی، جس میں پاک بھارت تعلقات، برصغیر میں ملٹرائزیشن اور پاکستان میں جمہوریت سر فہرست موضوعات تھے۔

Read more

اور تہران آ گیا!

گہری نیند میں کسی خلل نے مجھے جبراً اٹھنے پر مجبور کردیا۔ دورانِ سفر اکثر یہ ہوتا ہے کہ آپ جاگنے کے لیے کروٹیں لے رہے ہوں تو کچھ لمحے آپ کو معلوم نہیں ہوتا کہ آپ کس مقام پر ہیں۔ اپنے گھر، اپنے بیڈروم میں یا نہ جانے کہاں۔ اور اگر بیداری ٹرین کے سفر کے دوران ہوتو عجب کیفیت ہوتی ہے۔ میں ہڑبڑا کر اردگرد دیکھنے لگا کہ میں کہاں ہوں۔ ریل گاڑی برابر سیٹی بجاتی جا رہی

Read more

کیا ترکی ایک ملحد ریاست ہے؟

کیا ترکی ایک ملحد ریاست ہے؟ یہ سوال اس لیے اٹھایا ہے کہ ہمارے ہاں تین چار دہائیوں نے رجعت پسند دانشوروں اور سیاسی رہنماؤں نے جب بھی سیکولرازم کا ذکر کیا، کسی فرد یا سیکولر نظام کے حوالے سے تو کہا کہ ”وہ سیکولر ملحد ہے یا سیکولرازم ملحدانہ نظام ہے۔ “ سیکولرازم کی اس تشریح کو پاکستان کے ایک بڑے طبقے نے اسی تناظر میں دیکھناشروع کردیا ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ چند ایک سالوں سے

Read more

عمران حکومت: پرویز الہٰی اور آصف زرداری کے جال میں

وفاقی وزیراطلاعات و نشریات جناب فواد چودھری نے اپنے انتخابی حلقے کے ایک قصبے فتح پور میں اپنی جماعت کے کارکنوں کے ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مسلم لیگ (ق) کے رہنما اور ان کے اتحادی چودھری پرویز الٰہی وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے سامنے آئے تو ہم عثمان بزدار کے ساتھ ہوں گے۔ پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت جس نازک بنیاد پر کھڑی کی گئی ہے، اس حوالے سے جناب فواد چودھری

Read more

چیف ٹریفک پولیس افسر لاہور متوجہ ہوں

لاہور کی ٹریفک کا نظام درحقیقت نظام نہیں، بے نظامی ہے۔ گاڑیاں، موٹرسائیکل، رکشہ، ہرکوئی سڑکوں پر نظام کو توڑتے ہوئے رواں دواں ہے۔ جو لوگ اس نظام کے تحت اس ٹریفک میں گاڑی چلاتے ہیں، وہ اس ”بے نظامی“ کی نفرت، حقارت اور غصے کا نشانہ بن رہے ہوتے ہیں جو اس نظام کو توڑنے کے لیے ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرتے۔ جلدی تیزرفتاری میں وہ واقعی ایک لمحہ بھی صبر کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ لاہور کی

Read more

یورپی جنت کے لالچ میں ترکی میں پھنسے غیر قانونی پاکستانی

گزشتہ روز ہمارے اخبار کی شہ سرخیوں میں سے ایک کے مطابق پاک ایران سرحد عبور کرتے ہوئے ایرانی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں دو پاکستانی ہلاک اور چار زخمی ہوئے۔ مجھے اسی راستے سے ایران ترکی یورپ تک سفر کرنے کا متعدد بار تجربہ ہوا ہے۔ 1983 ء میں پہلی بار اس سرحد کو عبور کیا، اُس وقت بھی میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کیسے روزگار کے لیے تارکِ وطن ہونے والے سینکڑوں لوگ دشوار گزار پہاڑوں، صحراؤں

Read more

عمران خان ایک کامیاب رہبر، مگر کیسے

وزیراعظم عمران خان جس جوش سے اپوزیشن رہبر کے طور پر متحرک تھے، کاش اُسی جذبے، حکمت، دانش، فیصلہ سازی اور وژنری انداز میں حکمرانی میں بھی کامیاب ہوں۔ یہ کہنا کہ پچھلی حکومتیں ورثے میں بہت مسائل دے گئی ہیں، حالات کو ٹھیک ہونے میں بہت وقت لگے گا، کامیاب رہبر کبھی ایسے بیانات نہیں دیتے۔ کامیاب اپوزیشن لیڈر وہ ہوتا ہے جس کو یہ یقین ہو اور اس کے لیے وہ تیار ہو کہ حکومت واقتدار میں آنے

Read more

ریاست اب تو جاگ

ہر قسم کے نظریاتی وسیاسی تجربات کے بعد بھی کیا ہم نے آگے کی جانب سفر کیا ہے؟ اپنے تمام تر دعووں کے مطابق جن میں ایک دعویٰ یہ بھی ہے کہ ہم امت مسلمہ کی قیادت کے لیے پیدا کیے گئے ہیں، کیا ہم خود اپنی قیادت کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں؟ پاکستانی ریاست کی کامیابی، پاکستانی قوم کی قیادت کی کامیابی، ذرا مجھے بتائیں کہ کدھر ہے؟ قراردادِ مقاصد سے لے کر 1973 ء کے اسلامی آئین کی تشکیل اور پھر اس میں جو اسلامی سقم تھے، ان کو جنرل ضیا الحق نے پورا کرکے مکمل اسلامی ریاست میں ڈھال دیا۔

Read more

بھارت میں کسان تحریک، ایک نیا سیاسی ابھار

تقریباً اسّی کروڑ سے زائد دیہی آبادی کے ساتھ بھارت کے دیہات روئے زمین پر مسائل سے بھرے علاقے ہیں۔ میڈیا کوریج اور سرمایہ کاری کے ضمن میں یہ دنیا کے نظرانداز ترین علاقے بھی ہیں۔ سینئر صحافی اور پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا کے بانی جناب پی سائی ناتھ کا کہنا ہے کہ ملکی میڈیا کے نزدیک ہندوستانیوں کی اکثریت کا کوئی وجود ہی نہیں یعنی 75 فیصد ہندوستانی آبادی تو ان کے نزدیک وجود ہی نہیں رکھتی۔ دہلی کے سینٹر آف میڈیا سٹڈیز کے مطابق، بھارت کے قومی اخبارات میں زراعت پر پانچ سالہ اوسط رپورٹنگ تمام تر خبروں کا محض 0.61 فیصد ہے۔

Read more

ہمارے ترقی پسند، سہاروں پر چلنے لگے

پاکستان کی سیاست میں بائیں بازو کی سیاست اپنی آواز کو بھرپور طریقے سے بلند کرتی نظر نہیں آرہی۔ اس پر صرف یہ دلیل دے دینا کافی نہیں کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد ترقی پسند سیاست بری طرح متاثر ہوئی اور پھر وہ لوگ جو کبھی ترقی پسند سیاست میں سرگرم تھے، انہوں نے ترقی پسند سیاست میں سرگرم رہنے کی بجائے این جی اوز میں اپنا کردار ادا کرنا شروع کردیا۔ سرد جنگ کے خاتمے کو تین

Read more

جمال خاشقجی کا قتل، استنبول کے سینے میں ایک اور راز

استنبول دوہزار سال سے زیادہ عرصہ میں عالمی سیاست کا اہم شہر ہے۔ اس تاریخی بستی کو فنیقی تاجروں نے آباد کیا۔ بعد میں رومن، بازنطینی، عثمانی اور جدید ترکی کے قیام تک اس شہر کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہوا ہے کہ بانوے سے زائد حکمرانوں نے یہاں بیٹھ کر حکمرانی کی۔ میرے لیے یہ شہر تاریخی اور مشاہدے کے حوالے سے کوئی اجنبی شہر نہیں۔ حکمرانی میں برپا ہونے والی سازشوں سے لے کر عوامی تحریکوں اور آزادی

Read more

جمال خاشقجی کا معمہ، امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ میں مشکلات

سعودی صحافی جمال خاشقجی کے معاملے نے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران پر معاشی پابندیوں کے نفاذ کی مہم کو کمزور کیا ہے جس کا مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی پر اثرانداز ہونا تھا۔ سعودی عرب، عرب دنیا میں امریکہ کا مرکزی اتحادی ہے سو جب اس کی ساکھ متاثر ہوگی تو ظاہر ہے کہ امریکہ کی ساکھ بھی متاثر ہوگی۔ 5نومبر کو امریکہ کی طرف سے ایران کی تیل کی برآمدات پر سخت پابندیوں کا نفاذ

Read more

عمران خان کے گرد موجود لوگ انہیں ناکام کر رہے ہیں

نومنتخب حکومت کے ابھی سو دن پورے نہیں ہوئے۔ روزِاوّل سے آج تک حکومت سازی سے لے کر سیاسی، اقتصادی اقدامات تک، نئی حکومت سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ اس کی اہم وجہ نومنتخب وزیراعظم عمران خان کی طرف سے پچھلے چند سالوں سے کیے جانے والے بڑے سیاسی دعوے ہیں۔ اگر اُن کا تعلق مسلم لیگ (ق) جیسی جماعت سے ہوتا تو لوگوں کی امید بھری نظریں اور خواہشات ایسی نہ ہوتیں۔ اپنی کامیابی کے امکانات کے لیے انہوں

Read more

بے زمین کو زمین، بے تعلیم کو تعلیم دو

میرے لیے یہ خبر نہیں کہ نئی حکومت نے آئی ایم ایف سے قرضہ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اُن کے لیے خبر ہونی چاہیے جو نئی حکومت کے وزیراعظم جناب عمران خان کے دعووں سے انہیں ایک معجزہ گیر لیڈر سمجھ بیٹھے تھے کہ وہ واقعی اقتدار میں آنے کے بعد قرضہ حاصل کرنے والا کشکول توڑ دیں گے۔ یہ کشکول صرف 1971ء میں اقتدار میں آنے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے وزیرخزانہ ڈاکٹر مبشر حسن کی ذریعے توڑی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے عالمی مالیاتی اداروں بشمول ورلڈ بینک، اپنے اقتدار کے پانچ سالوں میں ایک ڈالر بھی قرض نہ لیا۔ اور یاد رہے وہ پاکستان اِس پاکستان سے کہیں بدحال، پست اور شکست خوردہ تھا۔ آدھے سے زیادہ پاکستان(مشرقی پاکستان) الگ ہوچکا تھا۔ فوج ایک افسوس ناک شکست کا سامنا کرچکی تھی۔ آج کا پاکستان اُس سے کہیں بہتر ہے

Read more

طیب ایردوآن عمران خان سے شدید ناراض ہیں

جب بھی نئی حکومت اقتدار میں آتی ہے توایک ہی جملہ نئی حکومت کے وزرا اور لیڈر کہتے ہیں، ہمیں مسائل ورثے میں ملے ہیں، ان کو حل کرنے میں وقت لگے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر نئی حکومت میں اکثر چہرے وہی ہوتے ہیں جو پچھلی کسی حکومت میں پانچ دس سال پہلے یہی موقف بیان کررہے ہوتے ہیں۔ جمہوریت کے نئے ”انتظام‘‘ میں جو 2002ء سے جنرل مشرف نے اپنی آمریت کی چھتری تلے بحال کیا،

Read more

ہنوئی ہلٹن ہوٹل – ویت نام کا بدنام زمانہ عقوبت خانہ

میں نے اپنی ویتنامی دوست تھاؤ سے کہا کہ مجھے آج ہلٹن ہوٹل جانا ہے۔ ویتنام کا معروفِ عالم ”ہلٹن ہوٹل‘‘۔ وہ مسکراتے ہوئے چونکی۔ اسے پچھلے تین چار روز میں ویتنام میں میری دلچسپی کے دائروں کا علم ہوچکا تھا۔ ہم نے جو کہانیاں پڑھ رکھی تھیں، اس نے اپنے جنم کے ساتھ اپنے اوپر برداشت کیں، وہ دیگر لاکھوں ویتنامیوں کے ساتھ جنگ کی ان کہانیوں کا ایک کردار رہی ہے۔ مگر ویتنامیوں کو میں نے اپنے اس

Read more

در کھلا جب گورنر ہاؤس پنجاب کا

پنجاب کے گورنر ہاؤس کے دروازے کھلے تو ایک بار پھر معلوم ہوا کہ ہم تہذیب وتمدن کی کس انسانی معراج پر پہنچ چکے ہیں۔ نئی حکومت نے اپنے وجود کا احساس دلانے کے لیے یہ عمل اس دعوے کے ساتھ کیا کہ حکومت میں شامل ہم لوگ سادہ زندگی گزاریں گے۔ پاکستان تحریک انصاف کے ”نواقتداری رہبر‘‘ بڑھ چڑھ کر گورنر ہاؤس میں داخل ہونے والی تعداد کے اعلانات کررہے تھے۔ 28اگست 2018ء کو میرا ایک کالم بعنوان”پاکستانی سیاحوں

Read more

ہربھجن سنگھ خربِندہ، بھارت میں میرا ایک دوست

ہندوستان کی ایک ارب بتیس کروڑ آبادی میں اگر آپ کا ایک بھی سکھ دوست بن جائے تو پھر آپ کو کسی اور کو دوست بنانے کی ضرورت نہیں۔ ہربھجن سنگھ خربِندہ، میرے بھارت کے پہلے سفر میں اس وقت دوست بنا، جب دہلی کے پرگتی میدان میں عالمی صنعتی نمائش میں پاکستان کے سٹال پر اس قدر رش تھا کہ یوں لگا جیسے جلسہ ہورہا ہو۔ میں بھارت کے دارالحکومت میں لگے پاکستانی پرچم کو لہراتا دیکھ کر حیران

Read more

محترمہ کلثوم نواز کا انتقال اور سماج بے نقاب

ہم نے یہ طے اور یقین کرلیا ہے کہ بس ہمارے مذہبی لوگ ہی انتہا پسند ہوتے ہیں۔ کبھی ہم نے اپنے رویوں کو ایک نقاد کے طور پر دیکھنے کی جرأت ہی نہیں کی کہ ہم سب ہی کوئی نہ کوئی کسی نہ کسی طرح کی انتہاپسندی کا شکار ہیں۔ ادیب، شاعر، صحافی سے لے کر عام شہری تک حتیٰ کہ وہ موٹرسائیکل سوار بھی جو بغیر کسی باقاعدہ تربیت کے موٹرسائیکل چلا رہا ہے۔ سڑکیں لڑنے بھڑنے کا

Read more

اردلب، شام کا فیصلہ کن میدانِ جنگ

عرب بہار نے سیاسی استحکام کی بجائے مشرقِ وسطیٰ میں نہ صرف سیاسی عدم استحکام کو جنم دیا ہے بلکہ عالمی اور علاقائی طاقتوں کو میدانِ جنگ میں کودنے کے کھلے مواقع فراہم کردیے ہیں۔ عالمی دہشت گرد تنظیم القاعدہ جس کو کچلنے کے بہانے امریکی سامراج نے افغانستان پر یلغار کرکے ایک بار پھر (1979ء کے بعد) اسے میدانِ جنگ میں بدل دیا، وہی القاعدہ شام اور لیبیا میں اسی امریکہ کی اتحادی بلکہ مشرقِ وسطیٰ کو جنگوں کا

Read more

عمران حکومت، سادگی سے زیادہ اہلیت کی ضرورت

نومنتخب وزیراعظم عمران خان نے انتخابات میں کامیابی کے بعد وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز ہونے سے قبل جو تقریر کی، اس میں انہوں نے اپنی سادگی اور حکمرانی کے اخراجات کو کم کرنے پر بہت زورد یا۔ اس تقریر میں انہوں نے وزیراعظم ہاؤس میں رہنے سمیت دیگر سرکاری اخراجات کو نہایت کم یامعمولی کردینے کے فیصلے کا اظہار کیا اور اسی سلسلے میں وزیراعظم ہاؤس، گورنر ہاؤسز کو تعلیمی اداروں اور ہوٹلز میں تبدیل کردینے کا اعلان

Read more

کوہِ ارارت کے پہلو میں

تیزرفتار اوتوبس صبح سویرے تبریز سے روانہ ہوئی۔ تفتان (پاکستان ایران بارڈر ) سے تبریز پہنچتے پہنچتے ایران کی طویل سرزمین کو عبور کرتے ایرانی تہذیب کے کئی رنگوں کو مشاہدہ کرنے کا نایاب موقع ملا۔ قدیم فارس سے لے کر اسلام کے ظہور کے بعد کا ایران۔ شہنشاہیت کے اثرات اور اسلامی انقلاب کا عروج۔ میں نے ایرانیوں کو مشرقِ وسطیٰ میں سب سے تہذیب یافتہ قوم پایا۔ مشرقِ وسطیٰ میں دو قدیم قومیں ہزاروں سال سے آباد ہیں،

Read more

پاکستانی سیاحوں سے خوف

ہمارے بڑے بڑے کالم نگار اس مقولے پر بڑے فخر سے عمل کرتے ہیں کہ ”بندہ چلا جائے مگر کالم نہ جائے‘‘، یعنی اگر کسی کالم سے کسی کا کسی قسم کا نقصان بھی ہو تو کوئی پرواہ نہیں۔ نقصان بھی ایک خوب صورت کالم کی نذر۔ میں اس مقام پر سیلف سینسرشپ کا حامی ہوں۔ ایسے کئی کالم میرے ذہن میں کسی راز کے طور پر پوری طرح محفوظ ہیں کہ اگر اُن کو سپردِقلم کردوں تو نہ صرف

Read more

پی ٹی وی۔ آزادی سے زیادہ تشکیلِ نو کا تقاضا

وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں نئی حکومت کے قیام اور پھر کابینہ کے حلف کے بعد پاکستان کے عوام نئی امیدوں کے ساتھ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی طرف خوش گوار منتظر نظروں سے دیکھ رہے ہیں کہ وہ خواب جو جناب عمران خان نے پچھلے سات سالوں میں دیکھے اور دکھائے، اب ایک ایک کرکے اُن کی تعبیر وتکمیل کا وقت شروع ہوگیا ہے۔ ایسے میں نئے وزیر اطلاعات ونشریات جناب فواد چودھری کے اس اعلان نے پورے

Read more

عمران خان اب دھرنے نہیں حکومت کریں گے

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین جناب عمران خان کو قومی اسمبلی میں اتحادیوں کی حمایت سے وزیراعظم چُن لیا گیا ہے۔ انتخابات کے بعد اپوزیشن جماعتوں کا فوری ردِعمل جس شدت کے ساتھ سامنے آیا، اسمبلی کے اراکین کے حلف اٹھانے تک، اس اتحاد نے نئی شکل اختیار کرنا شروع کردی ہے۔ انتخابات کے بعد دھاندلی کے الزام کے ساتھ ہی اپوزیشن جماعتوں نے مسلم لیگ (ن) کے رہبر میاں شہباز شریف کو وزارتِ عظمیٰ کا متفقہ امیدوار طے کیا۔

Read more

خورشید قصوری اگر صدرِپاکستان ہوں تو․․․

پاکستان کے عوام نئی حکومت سے لامتناہی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔ لوگوں میں امید پھیلانا یقینا ایک اچھی بات ہے، لیکن ان امیدوں کو پورا کرنا اُس سے بھی بڑا کام ہے۔ ایک ایسی قوم جو دہائیوں سے امیدوں اور مایوسیوں کی تاریخ رکھتی ہے۔ اس بار اگر یہ امیدیں ٹوٹ گئیں تو پھر اس قوم کا کیا حال ہوگا، اس پر پھرکسی روز لکھوں گا۔ عمران خان نے اب اپوزیشن نہیں، حکمرانی کرنی ہے۔ اپوزیشن کرنا آسان اور حکمرانی

Read more

عمران حکومت، امیدوں کا پہاڑ اور ابھرتی عوامی تحریک

اگلے چند دنوں میں نومنتخب حکومت، وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں اپنا آغاز کردے گی۔ عمران خان اس وقت اپنے ووٹرز اور تمام لوگوں کے لیے بھی اُن امیدوں کے پہاڑ کو سَر کرنے چلے ہیں جو انہوں نے اپنے بیانات، خطابات، اجتماعات اور بحیثیت اپوزیشن رہنما گزشتہ کئی سالوں میں بنایا۔ عمران خان نے ہمیشہ ہی بڑے اعتماد سے کہا ہے کہ وہ پاکستان کو بدل سکتے ہیں۔ انہوں نے باربار کہا کہ ایک مضبوط معیشت، ایک خوش

Read more

بحران سیاسی نہیں دانش کا ہے

اب ہرکوئی کہتا ہے کہ ہمارا معاشرہ زوال پذیر ہے۔ لیکن جب آج سے پچیس تیس سال قبل میرے جیسے منہ پھٹ اپنی چڑھتی جوانی میں یہ بات کہتے تھے تو ہمیں نا امید شخص قرار دیا جاتا تھا۔ اس زوال، ناکامی اور بدحالی کا ذمہ دار صرف اور صرف سیاسی لوگوں کو قرار دیا جاتا ہے۔ آج بھی اکثر نوجوان جو میرے قلم کے ذریعے مجھ سے متعارف ہوئے اور اُن میں سے ہرکوئی کسی نہ کسی سیاسی لیڈر

Read more

وزیراعظم عمران خان سے وابستہ خواب

چند روز بعد سابق کرکٹر اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین جناب عمران خان، پاکستان کے وزیراعظم کے عہدے پر براجمان ہوں گے۔ اُن کی سیاسی زندگی دو دہائیوں پر محیط ہے۔ بحیثیت سیاست دان یہ ان کے تجربے میں پہلا موقع ہوگا کہ وہ حکمرانی کے ایوان کو سیاسی بیانات سے کہیں مختلف انداز میں دیکھ پائیں گے۔ ذوالفقار علی بھٹو جن کو اُن کے مخالفین بھی پاکستان کا مقبول رہنما ماننے کے ساتھ ساتھ اُن کو ایک عوامی

Read more

عمران خان کے سر حکمرانی کا دمکتا تاج اور دہکتا تخت

بروز ہفتہ 28جولائی 2018ء میرے گزشتہ کالم بعنوان ”جناب عمران خان کے نام!‘‘ میں اُن کی سیاست، انتخابی نتائج اور پاکستان کو درپیش مسائل اور اُن کی حکمرانی کے حوالے سے ایک جائزہ پیش کیا گیا تھا۔ آج تک انتخابی نتائج کے حوالے سے جو صورتِ حال ابھر کر سامنے آئی ہے، اس کو جاننے کے لیے انہی صفحات پر میرے عزیز دوست اور روزنامہ نئی بات کے کالم نگار جناب خالد بھٹی کا کالم ”انتخابات کے بعد کا منظر‘‘

Read more

بلاول بھٹو، ایک لیڈر کا ظہور

ہمارے ہاں اکثر کہا جاتا ہے کہ انتخابات کا تسلسل برقرار رہے تو جمہوریت مضبوط ہوجائے گی اور اس کا پھل عوام کو ملنے لگے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کبھی یہ دلیل ترقی پسند دیا کرتے تھے اور اب یہ دلیل دائیں بازو کے لوگ دیتے ہیں۔ میں اس موضوع پر کئی بار اِنہی صفحات پر تفصیل سے اپنا نقطۂ نظر لکھ چکا ہوں۔ میرے مستقل قارئین یقینا میرے تجزیے سے آگاہ ہوں گے۔ اگر یہ دلیل اسی

Read more

ووٹ غریب کا، حکومت اُمرا کی

”ووٹ کو عزت دو‘‘، اس سیاسی مہم کا آغاز میاں نوازشریف نے اپنی پارٹی کی حکومت کے آخری سال کے آخری مہینوں میں کیا۔ سینٹ میں انتخابات میں اُن کی پارٹی مسلم لیگ (ن) کی شکست کے بعد موجودہ انتخابات سے چند ماہ پہلے، یعنی سینٹ میں اپنی پارٹی کی بالادستی کا خواب چکناچور ہونے کے بعد۔ اس سیاسی مہم ”ووٹ کو عزت دو‘‘ کے پیچھے وہ کشمکش کارفرما ہے جس کو وہ اشاروں کنایوں میں ”سول سپریمسی کی جنگ‘‘

Read more

کیا عمران خان بھی نواز شریف کی طرح ایک بے بس وزیراعظم ثابت ہوں گے؟

میں اپنے گزشتہ کالموں میں میاں نوازشریف اور مریم نواز کی وطن واپسی کے حوالے سے جو نقطہ نظر پیش کرتا رہا ہوں، وہ یہی تھا کہ اُن کے پاس نہ تو وہ پارٹی ہے جو کسی بھی نظام کو پلٹ دے اور نہ ہی کوئی ایسا نظریہ جو اقتدار کے ظاہری اور باطنی مراکز کو توڑ دے۔ 13جولائی کو لاہور پہنچ کر دونوں باپ بیٹی نے خود کو قانون کے حوالے کردیا۔ انسانی حوالے سے باپ بیٹی کو گرفتار

Read more

نوازشریف کی جدوجہد، جیل یا جلاوطنی؟

عمران خان نے سابق وزیراعظم نوازشریف اور اُن کی صاحب زادی مریم نواز کی وطن واپسی پر جو بیان دیا ہے، وہ کسی بھی سطح پر انسانی یا سیاسی معیار پر پورا نہیں اترتا۔ ’’نوازشریف کا استقبال کرنے والوں اور گدھوں میں کوئی فرق نہیں۔‘‘ یہ ایک ایسے لیڈر کا بیان ہے جو نوازشریف کا متبادل بننے کے لیے پچھلے کئی سالوں سے رات دن کوشش کررہا ہے، اور امکان ہے کہ وہ چند دنوں کے بعد ہونے والے انتخابات

Read more

شریف خاندان تباہی کی راہ پر گامزن ہے

سابق وزیراعظم نوازشریف، اُن کی صاحب زادی مریم نواز اور داماد کیپٹن صفدر کو قید اور جرمانے کی سزاؤں کے بعد ملک خصوصاً پنجاب کی سیاسی تقسیم کھل کر سامنے آگئی ہے۔ ایک طبقہ اُن کی سزا کے خلاف مظاہرے اور مسلم لیگ (ن) کے قائد اور اُن کے خاندان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کررہا ہے اور دوسرا خوشی کا اظہار، جس میں پاکستان تحریک انصاف کے حامی بڑھ چڑھ کر عدالتی فیصلے کی حمایت کر رہے ہیں۔ میاں

Read more

سوشل میڈیا اور گریباں چاک

میں حیران ہوں کہ ہمارا سماج کس طرف جارہا ہے۔ میرے جیسے شخص کے لیے یہ شاید اس لیے تکلیف دہ ہے کہ میں اجتماعی فکرپر یقین رکھتا ہوں۔ اگر مجھے صرف اپنی فکر ہوتو مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں کہ معاشرہ کس طرف جا رہا ہے۔ یہ بات میں بڑے دکھ اور کرب سے لکھ رہا ہوں۔ اس کا سبب ہماری سیاسی جماعتوں، اُن کے حامیوں اور دیگر لوگوں کی طرف سے ایک دوسرے کے سیاسی رہنماؤں اور

Read more

کیا ترکی سیکولرازم سے مذہبی ریاست کی جانب گامزن ہے؟

24جون 2018ء کو ترکی میں گرینڈ ٹرکش نیشنل اسمبلی کی چھے سو سیٹوں اور صدر کے لیے انتخابات ہوئے۔ یہ انتخابات ترکی کی سیاسی تاریخ کے حوالے سے بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ الیکشن گزشتہ سال ہونے والے ریفرنڈم کے بعد منعقد کیے گئے۔ گزشتہ سال اپریل کے ریفرنڈم میں 2003ء سے حکومت میں رہنے والے وزیراعظم اور صدر جناب رجب طیب اردوآن نے 18 آئینی ترامیم کو منظور کروانے میں کامیابی حاصل کرلی تھی۔ اپریل 2017ء میں اس ریفرنڈم

Read more

اندلس کا سفر اور اپنے خاندان سے الگ سیر کرنے والے عرب مرد

بھلا کون آئے بار بار، بارسلونا۔ میری فرانسیسی ہمسفر کیتھرین میری جہاں گردی کی صلاحیتوں کی اب گرویدہ ہوچکی تھی۔ بارسلونا پہنچتے پہنچتے جب میں راستے میں ہسپانوی دیہات میں کار کی رفتار کم کرنے کو کہتا اور پرانی عمارتوں کو دیکھنے لگتا تو وہ حیران ہوتی اور پوچھنے لگتی کہ تم ان قدیم عمارتوں میں کیا تلاش کررہے ہو۔ میں کہتا، بتاتا ہوں، بتاتا ہوں بلکہ کہو تو دکھا دوں۔ اس طرح ایک قدیم ہسپانوی قصبہ سیلم (Salim) آیا

Read more

ترکی سے عشق ِ ترکی تک

روزنامہ جنگ میں 27جون کو ایک کالم بعنوان ’’عوامی رہنما ایردوان کی جیت‘‘ شائع ہوا۔ اس کے لکھاری جناب ڈاکٹر فرقان حمید صاحب ہیں۔ اس کالم کا عنوان تو دوست ملک ترکی کے صدر کے انتخاب کے حوالے سے ہے مگر کالم کا بیشتر حصہ راقم کے حوالے سے لکھا گیا۔ نام لیے بغیر میرے مکمل تعارف اور شناخت کے ساتھ پرانی دوستی اور احسانات کا حوالہ دے کر جس طرح موصوف نے تنگ نظری، حسد، تعصب، کردارکشی، صحافتی نااہلی

Read more

اردوآن اور پاکستان میں مغالطے

اتوار 24 جون کے روز ترکی میں پارلیمنٹ کی چھے سو سیٹوں اور نئے صدارتی اختیارات حاصل کردہ صدر کے لیے عام انتخابات منعقد ہوئے، جس میں صدر رجب طیب اردوآن 52.38 فیصد ووٹ حاصل کرکے اگلے پانچ سالوں کے لیے صدارت کا انتخاب جیت گئے ہیں۔ یعنی ڈھائی فیصد اکثریت کے ساتھ۔ اُن کی جیت میں فیصلہ کن کردار ترکی کی ایک معروف قوم پرست جماعت، ملی حرکت پارٹی نے ادا کیا، جس نے 11.3 فیصد ووٹ کے ساتھ

Read more

ترکی میں انتخابات اور نئے سیاسی رحجانات

24جون 2018ءکو اتوار کے روز ترکی میں منعقد ہونے والے انتخابات ترکی کی تاریخ کے اہم ترین انتخابات قرار دئیے جا رہے ہیں۔ 1923ءمیں جب ترکی نے یورپی استعماری طاقتوں کو سرزمین ترکیہ سے باہر نکالا اور ترکی کو جمہوریہ قرار دیا، تو یہیں سے ترکی میں جمہوریت کا ایک نیا سفر شروع ہوا۔ 1950ءمیں ترکی ملٹی پارٹی ڈیموکریسی میں داخل ہوا۔ اس کے بعد ترکی میں آمرانہ حکمرانی اور جمہوری طرزِحکومت کے مابین ایک کشمکش جاری رہی۔ لیکن وقت

Read more

ترکی اور پاکستان کا سیاسی تقابل

تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ ہوچکا ہے کہ میں نے ترکی کی تاریخ، تہذیب، سماج اور سیاست کو جاننے کے لیے مسلسل مطالعے اور مشاہدے کو اپنی زندگی کا اہم حصہ بنا رکھا ہے۔ مطالعے اور مشاہدے سے ایسے ایسے سوالات کے جوابات ملے جو اس ریاست اور سماج کی گہرائی تک جائے بغیر جانے نہیں جاسکتے تھے، بلکہ ایسے نئے سوالات ابھرے جن کا تصور ہمارے ہاں ممکن ہی نہیں۔ میرے لیے ترکی صرف اس لیے اہم نہیں رہا

Read more

شیدا ہوٹل، استنبول اور بلغاریہ کا مشکوک سیاح

ہوٹل زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ مرلے میں بنایا گیا تھا، چھے سات منزلیں اور ہر منزل میں تین سے چار کمرے۔ استنبول کا یہ علاقہ جرائم کے حوالے سے ترکی سے باہر تک مشہور تھا، اس لیے کہ تمام Backpackers اور ہپی مفت یا سستے ہوٹلوں میں رہنے کے لیے یہاں آتے تھے۔ ان ہپیوں اور سیاحوں سے بڑا خبرنگار بھلا کون ہوسکتا ہے، جو جہان جہان کی خاک چھانتے پھرتے تھے۔ میرے پاس استنبول میں قیام کے علاوہ کوئی

Read more

پروفیسر حسن عسکری کی شخصیت کیسی ہے؟

پاکستان میں نگران حکومت کا قیام پنجاب میں تقریباً ایک ہفتہ تعطل کا شکاررہا۔ اس کی وجہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نگران وزیراعلیٰ کے نام پر اتفاق نہ ہونا تھی۔ ناصر کھوسہ کی طرف سے نگران وزارتِ اعلیٰ کا قلم دان مسترد کرنے کے بعد اس تعطل نے افواہوں کے بازار کو ایک مرتبہ پھر گرم کردیا۔ وہ لوگ جو کسی غیبی علم کی بنیاد پر طویل مدتی غیرمنتخب حکومت قائم ہونے کی پیش گوئیاں

Read more

اردنی شہزادے کو تاجِ بادشاہی نہ مل سکا

دنیا کے تقریباً تمام ممالک سے اُن پونے دو سو لوگوں میں مَیں بھی شامل تھا، جنہیں 1997ء میں اقوامِ متحدہ کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر لیڈر شپ پروگرام کے تحت اردن میں اکٹھا کیاگیا تھا۔ ہر شعبہ زندگی کے لوگ تھے، کاروبار، پالیسی ساز، سیاست، سماجی تنظیموں اور حکومتوں سے تعلق رکھنے والے پچاس سال سے کم عمر کے ’’لیڈرز‘‘۔ اس پروگرام کا منتظم ایک مصری پروفیسر عادل الصفتی تھا جو اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بطروس غالی

Read more

”آوارہ ہوں“ کی ترکوں میں مقبولیت

اگست 1983ء میں ایرانی سرحد پار کرکے پاکستان سے رقبے میں تین گنا بڑے ملک ایران کی جہاں گردی کرتے کرتے ایران، ترکی کی سرحد پر پہنچا تو پاکستان میں جنم لینے والے اس نوجوان کی سردی سے حالت اس لیے بگڑنے لگی کہ میں قفقاز کے پہلو میں پھیلے ان پہاڑوں کے موسم سے آگاہ نہیں تھا۔ کوہِ ارارت کی چوٹی سفید برف سے لدی یوں لگ رہی تھی جیسے کسی بوڑھے بزرگ نے سفید پگڑی پہن رکھی ہو۔

Read more

سلیم کرلا مرحوم اور ایم پی اے انشاءاللہ

انتخابات کے دنوں میں سیاسی رنگارنگی میں ثقافتی رنگ بھی خوب ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ رقص، موسیقی، شاعری، نعرے اور تقاریر، جو انفرادی طور پر اور سیاسی جماعتیں بھی اپنا آپ دکھا رہی ہوتی ہیں۔ پرنٹ اور اب الیکٹرانک میڈیا انتخابی دنوں میں نت نئے پروگرام پیش کرکے سیاسی فضا میں طنزومزاح سے اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ پنڈی کے شیخ صاحب جن کو ہمارے الیکٹرانک میڈیا والے سیاسی پیشگوئیاں کرنے والے تجزیہ نگار کے طور پر بڑی کوششوں سے

Read more

لاہور کی تاریخ، تھڑے اور ماحول

لاہور پر بہت کتابیں لکھی گئیں۔ شہروں کی تاریخ لکھنے کے حوالے سے لاہور صرف مؤرخین ہی نہیں، ادیبوں کا بھی پسندیدہ موضوع ہے۔ اس تاریخی شہر پر ناولوں اور افسانوں کے علاوہ فلمیں اور ٹی وی ڈرامے بھی بنے۔ لاہور کو برصغیر کا رومانوی شہر کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ دریائے راوی کنارے آباد اس شہر پر مختلف آراء ہیں، جبکہ میرا یہ ماننا ہے کہ آرکیالوجی کے حوالے سے یہ ایک ہڑپائی شہر ہے۔ پنجاب کے اندر

Read more

نواز شریف، جمہوریت اور اولیگارکی

نوازشریف اسّی کی دہائی سے اقتدار کی سیاست میں سرگرم ہیں۔ صوبائی وزارتِ خزانہ کے قلم دان سے لے کر وزارتِ عظمیٰ تک، انہوں نے اقتدار کے ایوانوں میں طاقت کے مراکز کو جس قدر جانا، شاید ہی کسی اور نے جانا ہوگا۔ میں نے میاں نوازشریف کی سیاست کا پہلا بورڈ شاہ عالمی کے باہر ٹرک اڈے پر تب دیکھا، جب جنرل ضیا الحق نے مارشل لاء لگانے کے بعد اکتوبر 1977ء میں انتخابات منعقد کروانے کا ڈھونگ رچایا

Read more

کون جائے گا ترکی

سیاحت اور تفریح دونوں کسی حد تک مختلف شوق ہیں۔ تفریح کرتے ہوئے آپ کو یہ جاننا ضروری نہیں کہ آپ کہاں کھڑے ہیں، سفر کے بعد کہاں پہنچے ہیں اور آپ جس مقام پر پہنچے ہیں، وہاں کا جہان کیا ہے۔ سیاح تو دنیا کی تلاش میں نکلتے ہیں، علم ومعلومات کے خزانوں کی تلاش۔ آج سے 35سال قبل 1983ءمیں جب میں نے ایران سے سرحد پار کرکے مشرقِ وسطیٰ میں قدم رکھا تو میرے احساسات ناقابل بیان تھے۔

Read more

طیب اردوآن کی نئی آزمائش

ترکی میں 24جون کو صدر اور اسمبلی کی چھے سوسیٹوں پر عام انتخابات ہوں گے۔ ترک صدر رجب طیب اردوآن نے یہ اعلان 18اپریل 2018ء کو کیا۔ اپنے وقت سے ایک سال قبل ہونے والے یہ انتخابات ترک حکمرانی کو ایک نئے دَور میں لے جائیں گے۔ گزشتہ ریفرنڈم جس میں صدر اردوآن ڈیڑھ فیصد ووٹوں کی اکثریت سے ترکی کو پارلیمانی نظام سے صدارتی نظام کی طرف لے جانے میں کامیاب ہوئے، آئندہ ہونے والے انتخابات ان آئینی ترامیم

Read more

شہر اندر جلاوطن، ڈاکٹر انور سجاد

لاہور کا عشق ایک ایسا عشق ہے جو وقت کے ساتھ بڑھتا چلا جاتا ہے اور اگر اس شہر کی تاریخ سے آگاہی ہو تو عشقِ لاہور لامتناہی ہوجاتا ہے۔ میرا دوسرا جنم لاہور میں ہوا، اسی لیے میں اپنے لاہوری ہونے پر فخر کرتا ہوں۔ اندرون شہر کی گلیوں میں جنم لینے اور پلنے والے لوگ میری چڑھتی جوانی میں میرے خوابوں کے ہمسفر بنے۔ لاہور جمنی (لاہور میں پیدا ہونے والے) دوستوں ہی نے میری شخصیت کے اندر لاہوری طرزِزندگی کے گہرے آثار چھوڑے۔

Read more

مدیحہ گوہر کا ”جلوس‘‘

آر اے بازار لاہور کینٹ سے ساندہ تک جانے ولای لاہور اومنی بس بہت پہلے ڈبل ڈیکر (دو منزلہ) ہوا کرتی تھی۔ اس بس کا روٹ نمبر1 تھا۔ یہ لاہور میں اومنی بس کے روٹس میں سب سے نمایاں بس اس لیے تھا کہ اس کے روٹ میں طے ہونے والے بس سٹاپ لاہور کے پُرکشش علاقوں میں واقع تھے۔ گرجا چوک، راحت بیکری، فورٹریس سٹیڈیم، جِم خانہ کلب، سٹیٹ گیسٹ ہاؤس، نہر کو عبور کرنے کے بعد جی او

Read more

دمشق پر امریکی بمباری

13اپریل 2018ء کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام کے دارالحکومت دمشق میں منتخب اہداف پر بمباری کا حکم جاری کیا۔ ان کے اس حکم نامے کا سبب شامی صدر بشارالاسد کی جانب سے شام کے شہر دومامیں شہریوں پر کیمیائی ہتھیاروں کا مبینہ استعمال تھا۔ دوما، شام کے دارالحکومت دمشق سے تقریباً10کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے اور اس پر باغیوں (ISIS طرز کے) کا قبضہ ہے۔ ان کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر امریکی صدر ٹرمپ کی جذباتی پریشانی

Read more

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں کمال کا مکالمہ

ہمارے ہاں دو دہائیوں سے ایک نئے رحجان نے جنم لیا ہے۔ صحافت کے میدان سے قابلِ ذکر لوگوں کا سیاست کے میدان میں چلے جانا اور اس کے ساتھ ساتھ متعدد کالم نگاروں کا کسی نہ کسی جماعت کے ساتھ رکنیت لیے بغیر گہرا تعلق قائم کرلینا۔ جبکہ ہمارا معاملہ الٹ ثابت ہوا۔ بلوغت سے پہلے ایکٹوسٹ بنے، ساری جوانی سیاسی عمل اور سیاسی جدوجہد کی نذر کردی۔ جب سیاست میں لیڈری کے مقام پر پہنچے تو سیاسی جماعت

Read more

گورنمنٹ کالج سرگودھا کی بے دردانہ تدفین

افسوس ہم اپنی تاریخ کے تسلسل کو مٹانے کے حوالے سے اپنی مثال آپ ہیں۔ اور تاریخ کو مٹاتے ہوئے ہم ایک کام بڑھ چڑھ کر کرتے ہیں۔حقائق کو کھرچنا اور خواہش کی خیالی تاریخ کو Glorify کرنا، یہ عمل درحقیقت تاریخی حقائق کو اوجھل کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اسی لیے ہم اپنے آج کو اپنی اصل میں نہیں دیکھ سکتے۔ کسی تہذیب وتمدن اور قوم کے ساتھ یہ رویہ تاریخی نسل کشی کے زمرے میں آتا ہے۔

Read more

”جنگ ِ ستمبر کی یادیں‘‘ از الطاف حسن قریشی

الطاف حسن قریشی کا نام پاکستان کی صحافتی تاریخ میں ایک بے حد نمایاں اور سرفہرست مقام رکھتا ہے۔ وہ پاکستان میں اپنے نقطہ نظر کی صحافت کے امام ہیں۔ ان کا قلم پاکستان کی ہمعصر تاریخ کو تسلسل سے ضبط تحریر کررہا ہے۔ انہوں نے اپنے علم، شعور اور فکر کوصحافت کے میدان میں اپنے مخصوص انداز میں حصہ ڈال کر ایک خاص مقام حاصل کیا۔ اُن کی تازہ تصنیف ”جنگِ ستمبر کی یادیں‘‘ بھی اسی سلسلے کی ایک

Read more