مشر، میدان، زنانہ اور ملک


گرمیوں کے روزے تھے جب پہلی بار ہم لوگوں نے رات کو کرکٹ میچ کھیلنا شروع کیے۔ یہ میچ ہم لوگ مین روڈ کی فٹ پاتھ پر لائٹ لگا کر کھیلا کرتے تھے۔ مشر ہمارے ٹولے کا سربراہ تھا۔ اسی نے پیسے خرچ کر کچھ بلب گیند بلا اور وکٹیں فراہم کی تھیں۔ وہ ہمارا کپتان تھا لیکن اسے کرکٹ میں کوئی خاص دلچسپی نہ تھی فٹبال اسے زیادہ پسند تھا۔

ہم لوگ تراویح پڑھ کر آتے روڈ پر ٹریفک کم ہو چکی ہوتی تھی۔ تو ہم اپنا میچ شروع کر دیتے جب سحری کا وقت ختم ہونے والا ہوتا، گھر والے گالیوں پر اتر آتے تو بھاگ کر گھروں کو جاتے کچھ کھا پی کر روزہ بھی رکھ لیتے۔ پھر دن چڑھے دیر تک سوتے رہتے۔

ہم لوگ تو تراویح پڑھنے محلے کی مسجد ہی جاتے تھے۔ ہمارا مشر اپنے موٹر سائکل پر کہیں اور جایا کرتا اس کے بقول اس نے ایک قاری دریافت کیا تھا جس کی رفتار اندھادھند قسم کی تھی اور وہ بیس منٹ میں تراویح پڑھا دیتا تھا۔

جس گھر کے سامنے ہم کرکٹ کھیلا کرتے تھے اس کے مکینوں نے اک زنانہ گھر میں کام کاج کرنے کو رکھا ہوا تھا۔ ہمارے کھیل اور شور سے جب گھر والے تنگ ہوتے تو وہ زنانہ باہر آتا اور ہمارے مشر کے پاس جا کر ”وئی خان مڑ دے کڑم دمرا غوبل مہ کوہ“ یعنی اوئی میں مر گیا اس شور سے کہہ کر فریاد شروع کر دیتا۔ مشر کو اس کا انداز اتنا دلربا لگا کہ وہ روزانہ کوئی ایسا جھگڑا کھڑا کر دیتا۔ لازمی نتیجہ شور کی صورت نکلتا۔ زنانہ بشیر باہر آ کر اوئی میں مر گیا کی فریاد کرنے لگ جاتا۔

اک دن ہم لوگ میچ کھیلنے پہنچے تو دیکھا زنانہ پوری طرح چھڑا ہوا ہے۔ اس میں کرنٹ بھرا ہوا ہے، وہ پھڑک کر اک برقی قسم کا ڈانس مار رہا ہے، ناچ رہا ہے اور بس ناچ ہی رہا ہے۔ مشر ڈانس کا بہت غور سے تکنیکی جائزہ لے رہا تھا۔ آخر زنانے بشیر نے بریک لگائی۔ مشر نے جیب سے سارے پیسے نکال کر اس پر وار دیے۔

مشر کو ہم سب نے رمضان میں سرعام اس بگیرتی یعنی مجرا کرانے پر جھاڑا۔ مشر نے کہا مڑا زنانے بشیر کے دوست آئے ہوئے تھے۔ اسی جیسے تھے میں نے ان کے ساتھ مذاق کیا تھا۔ اتنا ہی کہا کہ سب اکٹھے ہو تو مرو ڈانس ہی کر لو۔ وہ نخرے کرنے لگ گئے۔ تو ہمارا اپنا زنانہ بشیر برا منا گیا۔

اس نے کہا کہ مشر کو خوش کرنا ہمارا فرض تھا۔ تم لوگوں نے مشر کی عزت نہیں کی یہ کہہ کر میدان میں کود گیا۔ پھر جب ڈانس کرنے کو چھڑ گیا تو چھڑ گیا۔ تم لوگ آئے تو یہ رکا ہے۔

زنانے اور مشر کی دوستی کے چرچے ہر طرف ہونے لگ گئے۔ ہم رات کو میچ کھیلنا شروع کرتے تو زنانوں کا ایک چھوٹو سا جلوس بھی پہنچ جاتا۔ پانچ چھ زنانے جو سارے آس پاس مختلف گھروں میں کام کرتے تھے۔ مشر کی بیٹنگ بالنگ اور کپتانی کو داد دینے پہنچ جاتے۔

اس جلوس کو دیکھنے تماشبین بھی آ جاتے۔ ہم لوگوں کو شرم سی آتی۔ ہم پھر اپنے مشر کی حسب توفیق جتنی ممکن ہوتی اتنی بزتی کرتے رہتے۔ وہ ہنستا رہتا۔ اب ہمارے میچ کے بعد اک مقابلہ رقص بھی ہونے لگ گیا۔ مشر سے ہم کہتے کہ یہ تو بس انت ہو گئی ہے۔ یار مشر اب تو حیا کر لوگ ان پر پیسے بھی وارنے لگ گئے ہیں۔

اپنے مشر کا جواب بڑا دلچسپ ہوتا وہ کہتا ”زہ مڑا پریدہ چہ لگیا ای“ چھوڑ لگے رہیں تم سب کو کیا کہتے ہیں۔ یہ اپنی خوشی سے ہی ناچتے ہیں۔ ان کو پیسے دیا کرو یہ لوگوں کی خوشیوں کے لیے ہی دعا کرتے ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ تمھیں خوشیاں نصیب ہوں تاکہ یہ ناچیں تم ان کو پیسے دو، یہی ان کا روزگار ہے۔

اک دن مشر کو ہم نے اپنے ایک یونیورسٹی فیلو سے لڑتے دیکھا دونوں بار بار میدان کا ذکر کر کے گرم ہو رہے تھے ان کے پاس ہی گھبرایا ہوا زنانہ کھڑا تھا۔ جا کر وجہ معلوم کرنے کی کوشش کی تو پتہ لگا کہ اک ڈانس پروگرام کی بکنگ پر جھگڑا ہو رہا مشر اپنے دوست کو کہہ رہا کہ تم ان کو بکنگ کے پیسے تو دو لیکن میدان میں جو گرے وہ لوٹنا زنانوں کا ہی حق ہے۔

مشر کی جتنی ممکن تھی پھر آؤ بھگت کی ہم سب نے کہ کس کام میں پڑ گئے ہو اور کمبخت بات ایسے کر رہے ہو جیسے جنگ کا میدان جیتنے پر بحث ہو رہی ہے۔ زنانہ سائیڈ سے منہ نکال کر بولا ہمارے لئے ڈانس گراؤنڈ جنگ کا میدان ہی ہوتا ہے۔ اس کے ڈائلاگ پر لعنت بھیجتے ہوئے مشر کی ساری کابینہ یعنی ہم سب نے اس کو بتایا کہ تمھارا انجام کچھ اچھا دکھائی نہیں دے رہا لیکن اس پر کوئی اثر ہوتا دکھائی نہ دیا۔

کوئی منحوس گھڑی تھی جو ہماری کہی بات چند دن بعد ہی یوں پوری ہوئی کہ ہم کچھ دوست گھر سے تھوڑا دور واک کر رہے تھے کہ دیکھا ایک گاڑی آ کر مشر کے فلیٹ پر رکی اور ان سے جو مشکوک سواریاں اتریں۔ پہلی نظر میں یہ ساری سواریاں ٹھرکی ٹولہ محسوس ہوئیں۔ ان کے بیل بجانے پر ملک صاحب باہر تشریف لائے۔ ملک صاحب ہمارے مشر کے تایا تھے۔ ملک صاحب ملک تو تھے ہی ان کے اندر اک جنگجو جرنیل جاگتا پھرتا تھا۔ ساتھ ہی ملک صاحب کے اندر ایک عدد شدت پسند مولوی بھی پوری طرح جوان طوفان ہوا رہتا تھا۔

اک وہم سا ہوا کہ کچھ ہونے لگا ہے۔ دوڑ لگا کر ملک صاحب کی جانب بھاگے جو ان مشکوک مہمانوں سے ملنے اپنے فلیٹ سے نیچے اتر آئے تھے۔ یہ ٹھرکی ملک صاحب سے ہمارے مشر کا ہی پوچھ رہے تھے۔ ملک صاحب نے کہا آوارہ آدمی ہے ادھر ہی کہیں لوفر پھر رہا ہوگا۔ اگر اسے پتہ تھا کہ مہمانوں نے آنا ہے تو گھر رہتا۔ خیر خدمت بولو ٹھرکی حضرات نے ملک صاحب کی بارعب شخصیت دیکھی اور ڈرتے ڈرتے کہا کہ جی بکنگ کرانی تھی۔

ملک صاحب کے نزدیک کرکٹ فٹبال بھی غیر اسلامی تھے۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ اس کے کھلاڑیوں کو بھی پانچ پانچ سو کوڑے مارنے کا حکم ہونا چاہیے۔ ملک صاحب نے کم حیرت اور زیادہ غصے سے کہا کہ اچھا اب میچوں کی بھی بکنگ ہوتی ہے۔ یہ کہہ کر انہوں نے ہمارے مشر کی شان میں کچھ ٹوں ٹوں کی۔

جب وقت ہی برا چل رہا ہو۔ جب آفت آنی ہو تو سیدھی بات کا مطلب بھی الٹا ہی سمجھا جاتا ہے۔ ٹھرکی مہمان ملک صاحب کی ٹوں ٹوں سے یہ سمجھے کہ ملک صاحب مشر کے بزرگ تو ہیں ہی۔ وہ کام کے حوالے سے ہونے والی کمائی سے اور مشر دونوں سے ہی مطمئن بھی نہیں ہیں۔

اک ٹھرکی نے حوصلہ پا کر فوری طور پر بکنگ ک تفصیل یعنی زنانوں کی مطلوبہ تعداد تاریخ اور مقام فر فر بیان کر دیا۔ ملک صاھب سن کر پہلے تو گم صم ہوئے اس کے بعد وہ درجہ حرارت کے آتش فشانی ہونے کا انتظار کرتے رہے۔ پہلا ٹھرکی تو پہلے تھپڑ کی تاب نہ لا کر ہی ڈھیر ہو گیا۔ باقی ان گالیوں سے غائب ہو گئے جو اس کے بعد ملک صاحب کے منہ سے جھڑنا شروع ہوئیں۔

مشر کو اسی رات ہاسٹل میں پناہ لینی پڑی اور اپنی تعلیم مکمل ہونے کے سال بعد بھی اس کا قیام وہیں رہا کہتا وہ یہی تھا کہ ہاسٹل لائف کے مزے گھر میں کہاں بس یہ نہیں بتاتا تھا کہ گھر میں ملک صاحب اس کو سارے مزے اکٹھے چکھانے پر تلے ہوئے ہیں دو سال بعد بھی۔

مشر آج بھی کہیں ڈھول والوں کو زنانوں کو دیکھ لے تو رک کر انہیں پیسے دے دیتا ہے اور یہی کہتا ہے کہ انہیں پیسے دے دیا کرو بھلے میدان لوٹنے نہ بلاؤ یہ خوشیوں کے لئے دعا گو رہتے ہیں۔


وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 407 posts and counting.See all posts by wisi