جج صاحب کی فلم فلاپ نکلی


ایک کمرے کے کونے میں ایک شخص بیٹھا ہے۔ اس کے پاس شراب کی ایک بوتل دھری ہے جس سے وہ گاہے بگاہے گھونٹ بھر لیتا ہے۔ قریب ہی چند افراد سر جوڑے کچھ سلگا رہے ہیں۔ وہ نشئی ہیں۔ اچانک باہر گلی میں ایک موٹر کے انجن کی آواز آتی ہے۔ شرابی چوکنا ہو جاتا ہے۔ نشئی اپنے حال میں مست رہتے ہیں۔ گاڑی کی آواز قریب آتی ہے۔ پھر ایک شخص کمرے میں داخل ہو کر بلند آواز سے کہتا ہے ”تم سب مجرم ہو۔ تمہیں سزا مل کر رہے گی“۔ ایک خوفزدہ سی آواز سنائی دیتی ہے ”جج صاحب نے چھاپا مار دیا ہے“۔

جج صاحب اپنی بیلٹ سے بندھی ہتھکڑیاں نکالتے ہیں اور کمرے میں موجود مجرموں کی طرف بڑھتے ہیں۔ چند مجرم جج صاحب کے سامنے خود کو بے بس پا کر اپنے ہاتھ آگے بڑھا دیتے ہیں۔ لیکن شرابی تیزی سے اٹھتا ہے اور جج صاحب کو بوتل مارنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن جج صاحب ایسا چھاپا پہلی مرتبہ تو نہیں مار رہے۔ وہ مجرموں کے ان تمام حربوں کے لئے تیار ہیں۔ وہ اپنی پستول نکالتے ہیں، ٹھائیں کی آواز آتی ہے اور پھر ایک کراہ۔ نابکار شرابی کیفر کردار کو پہنچ جاتا ہے۔ وہ باقیوں کو ہتھکڑی پہناتے ہوئے کہتے ہیں ”دستیاب شواہد کی روشنی میں تمہیں پانچ پانچ برس قید بامشقت کی سزا سنائی جاتی ہے“۔

ایک دفتر کا منظر ہے۔ چند لوگ کمپیوٹر پر کام کر رہے ہیں۔ اچانک سیکیورٹی الارم بجنے لگتے ہیں۔ لوگ چونک جاتے ہیں لیکن اس سے پہلے کہ وہ کچھ کر پاتے، پھٹاک سے دروازہ کھلتا ہے اور اس میں جج صاحب کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ حکم دیتے ہیں ”اپنا ریکارڈ چھوڑ کر ایک طرف کھڑے ہو جاؤ۔ “ تمام افراد دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ جج صاحب کی نظر ایک شخص پر پڑتی ہے جو میز کے نیچے چھپ کر کمپیوٹر کے کیبورڈ پر ہاتھ مار رہا ہے۔

جج صاحب پستول نکالتے ہیں اور دھائیں سے ایک فائر داغ دیتے ہیں۔ میز میں ایک بڑا سا سوراخ ہو جاتا ہے۔ وہ شخص سہم کر تیزی سے دوڑتا ہوا دیوار کی طرف بڑھتا ہے۔ جج صاحب کمپیوٹر کی کچھ چھان پھٹک کرتے ہیں اور حکم دیتے ہیں ”تم سب کو بلیک منی رکھنے کے جرم میں دس دس سال قید با مشقت کی سزا دی جاتی ہے اور اس آخری شخص کو شواہد چھپانے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی جاتی ہے“۔ اس کے بعد جج صاحب تمام افراد کو گرفتار کر کے لے جاتے ہیں۔

جج صاحب کو پورے اختیارات حاصل ہیں کہ وہ پولیس، جج اور جلاد کا کام تن تنہا انجام دے دیں اور فوری انصاف کریں۔ کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں۔ چاہے وہ کسی بھی جگہ چھاپا ماریں اور موقع پر ہی انصاف کر ڈالیں۔ لیکن جہاں سو سجن ہوتے ہیں وہاں دس دشمن بھی نکل آتے ہیں۔ کئی مرتبہ جج صاحب کے خلاف سازشیں ہوئیں۔ ایک مرتبہ تو انہیں ہی جیل میں ڈال دیا گیا۔ لیکن سب سے خوفناک واقعہ وہ تھا جب انہیں چند جرائم پیشہ آدم خور اٹھا کر لے گئے لیکن اپنے چند دوستوں کی عنایت سے وہ بچ گئے۔ جج صاحب کی داستان حیات ایسے ہی انصاف اور دلیری کے واقعات کا مرقع ہے۔

یہ ساری کہانی ایک امریکی کامک سیریز کے جج کی ہے۔ کامک کا عمومی ترجمہ تو مزاحیہ یا مسخرہ پنا وغیرہ بنتا ہے لیکن امریکہ میں کامک تصویری کہانیوں کی کتابوں کو کہا جاتا ہے۔ جج ڈریڈ کے نام سے یہ کامک سیریز بہت مشہور ہے۔ یہ 1977 میں پہلی مرتبہ شائع ہوئی تھی۔

اس پر سنہ 1995 میں فلم بھی بنی تھی جس میں عظیم ایکشن ہیرو سلویسٹر سٹالون (جان ریمبو) نے کام کیا تھا۔ اس کا منظر نامہ یہ ہے کہ سنہ 2080 میں دنیا تباہ و برباد ہو جاتی ہے۔ کروڑوں کی آبادی والے چند بڑے بڑے شہر باقی بچتے ہیں جن کا نام میگا سٹی ون، ٹو تھری وغیرہ ہوتا ہے جن میں مختلف جرائم پیشہ مافیا چھائے ہوتے ہیں۔

جرائم پر قابو پانے کے لئے ججوں کا سکواڈ بنایا جاتا ہے۔ اس سسٹم میں دو طرح کے جج ہوتے ہیں۔ چند جو دفتر میں بیٹھے کاغذی کام کیا کرتے ہیں اور بیشتر سٹریٹ جج (گلی کوچے والے جج)۔ سٹریٹ جج کو مکمل اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ پولیس، جج اور جلاد کے اختیارات اپنی صوابدید پر استعمال کرے اور موقع پر ہی گرفتار بھی کر لے، سزا بھی سنا دے اور اس پر عمل درآمد بھی کر دے۔ وہ عموماً سزائے موت نہیں دیا کرتے لیکن کوئی مجرم مزاحمت کرے تو اسے موقع پر ہی پھڑکانے کا اختیار جج کے پاس ہوتا ہے۔

فوری انصاف کی فراہمی کے لئے یہ ایک دلچسپ نظریہ ہے۔ جج ڈریڈ کی کامک بکس تو خیر اچھی ہیں ہی لیکن فلم بھی کمال کی ہے۔ ہماری ناقص رائے میں سلویسٹر سٹالون نے بطور جج ڈریڈ بہت اچھی اداکاری کی ہے گو ناقدین کہتے ہیں کہ جج صاحب اوور ایکٹنگ کر گئے۔ سلویسٹر ہے بھی تو کمال کا ایکشن ہیرو۔ اس کی ہر فلم ہی بلاک بسٹر ہوتی ہے۔ بس یہی جج ڈریڈ والی فلم فلاپ نکلی۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar