ڈپریشن کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟


ہر موسم کا اپنا اثر اور مزاج ہے جو ہماری طبیعت پر اثر انداز ہوتا یے ۔ جتنا تعمیری خزاں کا موسم ہے شاید ہی کوئی اور موسم ہو ۔ یہ راستہ دیتا ہے ایک نئی رت کو جو زمین میں سہمی سانس لیتی ہے۔ خزاں تماتر اداسی بیجوں میں سمو دیتی ہے ۔ اور یہ بیج بہار کے رنگوں میں ڈھل جاتے ہیں ۔
یہ فطرت کا پہلا مثبت سبق ہے ۔
مگر ہم فطرت سے کچھ نہیں سیکھ سکے ہیں ۔ یہ حقیقت ہے کہ موجودہ دنیا کو بے شمار مسائل درپیش ہیں جن میں دہشت گردی، جنگیں، سیاسی عدم استحکام، حادثات و قدرتی آفات وغیرہ شامل ہیں۔ ایسے حالات میں انسان قدرتی طور پر ذہنی یا نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جو قدرتی امر ہے ۔ کوئی بھی کیفیت ایک سی نہیں رہتی ۔ آج آپ ایک کیفیت میں ہیں اور کل کسی اور رنگ میں ۔
زندگی تبدیل ہوجاتی ہے ۔ اس کی بنیاد تبدیلی پر ایستادہ ہے۔ یہ انٹروپی زندگی کی ضرورت ہے ، جہاں چیزیں پھلتی پھولتی اور تباہ ہوجاتی ہیں۔

مقصد میں ناکامی، متضاد رویے و حالات، توقعات کے برعکس نتائج کا ملنا اور اچانک صدمے کی کیفیت میں چلے جانا وہ اسباب ہیں جو ذہنی دباء کا سبب بنتے ہیں۔ اور اگر وقت پر اس مستقل مایوسی کا علاج ممکن نہ ہوسکا تو کسی پیچیدہ ذہنی مرض کو راستہ مل جاتا ہے ۔ اور آپ کا رابطہ حقیقت سے منقطع ہوجاتا ہے ۔
طویل عرصے تک افسردگی کی کیفیت میں مبتلا رہنا اس مرض کی تشخیص کا سبب بن جاتے ہیں۔ ایک نارمل انسان حالات کے مطابق خوشی و اداسی محسوس کرتا ہے۔ اگر یہ کیفیت مستقل اداسی میں بدل جائے تو پھر اس کے اثرات کی شدت انسان کو زندگی سے بیزار کر دیتی ہے۔ خودکشی کا رجحان بڑھ جاتا ہے اور مختلف طبعی بیماریاں حملہ ور ہوجاتی ہیں ۔ باکستان میڈیکل ایسوسئیشن کے مطابق ہمارے ملک میں ڈپریشن باقی دنیا کے مقابلے مین بڑھا ہوا ہے۔ اور شھر کے لوگوں میں اس کا تناسب زیادہ ہے ۔ کراچی میں اس مرض کا تناسب پینتیس فیصد ہے۔ یہی حال باقی آبادی کا ہے۔ اب آتے ہیں وجوہات کی طرف جس میں حساسیت، موروثی اثر، پرورش، بے جا لاڈ و پیار، عدم تحفظ ، نا پختہ شخصیت، ذہنی صدمہ ، فرصت ،وٹامن ڈی کی کمی اورتنگ و تاریک گھر وغیرہ شامل ہیں۔

۔اس کے بعد مزید خطرناک مرحلہ اس وقت شروع ہو جاتا ہے جب ڈپریشن سے متاثرہ لوگ مستقل خواب آور دواؤں کا استعمال کرنے لگتے ہیں۔ جس کے انھیں الگ مضر اثرات بھگتنے پڑتے ہیں۔ سب کچھ سوچ کا کرشمہ ہے ۔ معجزہ بھی تو حادثہ بھی جو خیال کے مختلف پہلو ہیں ۔ سوچ ذہن میں پختہ ہوکر اپنا اثر دکھاتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو نیوروسائیکوامیونولاجی کی ماہر ڈاکٹر کینڈ س پرٹ یہ نہ کہتیں کہ انسانی ذہن جسم کے ہر خلیے میں سانس لیتا ہے ۔

آپ کا انر ڈائلاگ کیا ہے؟ آپ کی خودکلامی یا سیلف ٹاک کیسی ہے ؟ کہیں خودرحمی ، شکایات یا حسد و رقابت پر مبنی تو نہیں ؟ تو جان لیجئے روزمرہ کی زندگی میں آپ کے ہزارہا خلیے تباہ ہوتے رہتے ہیں ۔
اس منفی کیفیت سے بچنے کے لیے اکثر لوگ بری صحبت و عادات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ آج کل جس طرح کے حالات جدید دنیا کو درپیش ہیں، اس میں ہر انسان خود کو تنہا اور غیر محفوظ سمجھتا ہے۔ نوجوان نسل میں پرمژدگی کے آثار ان کی صحت و مستقبل کو غیر یقینی صورت حال سے دو چار کر دیتے ہیں۔ والدین کے جارحانہ رویے بھی نئی نسل کو مایوسی و اخلاقی پستی کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔
مستقل پریشانی کا شکار افراد اذیت پسند ہو جاتے ہیں۔ ایسے لوگ دوسروں کی پرسکون زندگی کو اپنے متضاد رویوں سے منتشر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چونکہ ڈپریشن میں قوت برداشت و قوت فیصلہ کم ہونے کی صورت میں کام کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ لہٰذا ایسے افراد کو مستقل تنقید کا نشانہ بننا پڑتا ہے، جس سے ان کی ذہنی حالت مزید بگڑ جاتی ہے۔ معاشرے میں خواتین کے لیے دہرا معیار پایا جاتا ہے لہٰذا مردوں کے مقابلے میں خواتین اس مرض کا زیادہ شکار ہوتی ہیں۔
زندگی کی پریشانیوں سے متاثر ہونا ناگزیر ہے اور دکھ و مایوسی موجودہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ لیکن ماہر نفسیات یہ بھی کہتے ہیں کہ ڈپریشن کا ہونا بھی ضروری ہے۔ جس طرح غصہ ایک طرف انسان کی صحت کو نقصان پہنچاتا ہے۔ مگر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ غصے کا اظہار ذہن و جسم کو سکون کی حالت میں واپس لانے میں معاون و مددگار ثابت ہوتا ہے۔ غصہ دبانا یا غصے کا اظہار نہ کرنا بھی صحت کے لیے نقصان دے ثابت ہوتا ہے۔
غیریقینی حالات کی بناء پر حساس لوگوں کے ذہن میں دکھ و مایوسی مستقل بسیرا کر لیتی ہے۔ درحقیقت یہ مستقل مایوسی اور دکھ انسان کی زندگی میں تحرک کا سبب بھی بنتے ہیں۔ جن سے باہر نکلنے کی کوشش میں بعض اوقات انسان تخلیقی کاموں میں حصہ لینے لگتا ہے۔ مایوسی اور تخلیق ایک ہی راہ کے ہمسفر ہیں۔
ارسطو کا کہنا ہے کہ ”تمام غیر معمولی اور ممتاز فلاسفر، شاعر، فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے افراد و سیاستدان واضح طور پر مایوسی کا شکار تھے” John Hopkins Hospital کے سائیکالوجسٹ کے۔ آر جیمیسن کے مطابق برطانیہ کے 47 ادیبوں میں سے 38 فیصد لوگ ڈپریشن کا شکار تھے اور جنہوں نے علاج کروایا۔ انگریزی کے بہت بڑے ادیب و آرٹسٹ بھی ڈپریشن کا شکار رہے ہیں جن میں نیوٹن، چارلس ڈکنز، ارنیسٹ ہیمنگوے، وان گو، چارلس لیمب اور بیتھون شامل ہیں۔
معروف سائنسدان نیوٹن نے تو زندگی کا بیشتر حصہ ڈپریشن میں گزارا اور پچاس سال کی عمر میں ان کے ذہنی امراض میں شدت پیدا ہو گئی۔ ایک اور ریسرچ کے مطابق یورپ میں ایک ورک شاپ منعقد کیا گیا۔ جس میں 30 کے قریب ادیب شامل تھے۔ جن میں 24 لوگ ڈپریشن کی کیفیت میں مبتلا تھے۔ بلکہ نفسیاتی ماہر نے تخلیق اور شیزوفرینیا Schizophrenia میں ربط ڈھونڈ نکالا۔
شیزوفرینیا یا اسکزوفرینیا ایک دلچسپ اور پرتخیل نفسیاتی بیماری ہے، جس میں مریض سوچ کے انوکھے تانے بانے بنتا ہے اور وہ پرفریب سوچ و خیال اسے حقائق کی دنیا سے دور لے کر جاتے ہیں۔ ایک تخلیق کار بھی حقیقت کی دنیا سے کوسوں دور ہوتا ہے۔ ڈپریشن میں ذہن معمول کے بجائے زیادہ تیز رفتار سے کام کرتا ہے، اپنی نارمل کارکردگی کو بحال رکھنے کے لیے اور یہی کوشش تخلیقی صلاحیتوں کا پیش خیمہ بن جاتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں ڈپریشن ہو یا اینگزائٹی یا کوئی اور ذہنی بیماری ہو اسے اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ ماہر نفسیات سے علاج کرانا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو شک بھی ایک ذہنی بیماری ہے، جس کی بناء پر کئی افراد کی زندگیاں تباہ ہوتی ہیں۔
حد سے زیادہ غصہ آنا بھی ایک غیر فطری عمل ہے۔ بلکہ تمام منفی رویے جو انتہا کو پہنچ جاتے ہیں، کسی نہ کسی ذہنی عدم استحکام کو ظاہر کرتے ہیں۔ ترقی یافتہ ملکوں میں ذہنی پریشانی یا دباؤ کی صورت میں یوگا، میڈیٹیشن، ریکی، ہپناسس یا ہپنوتھراپی وغیرہ کی کلاسز میں داخلہ لیا جاتا ہے۔ کوئی نیا خیال یا تصور زندگی کی یکسانیت و پریشانی کے جمود کو توڑ سکتا ہے۔ والدین اولاد پر ناپسنددہ مضامین مسلط نہ کریں تو سب سے بڑا احسان ہوگا معاشرے پر۔
کوئی بھی تبدیلی پریشان کن سوچ کے زاویے بدل دیتی ہے۔ ہمارے ذہن کے دو حصے کہلاتے ہیں۔ دونوں کا کام الگ ہے۔ بائیں ذہن (منطقی ذہن) کا مقصد شخصیت میں استحکام پیدا کرنا ہے جو تبدیلی کو آسانی سے قبول نہیں کرتا۔ جب کہ دایاں ذہن (تصوراتی ذہن) تبدیلی کو پسند کرتا ہے۔ جیسے اگر کھیل کود و تخلیقی سرگرمیاں میسر آ جائیں تو ذہن کی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے۔
ہمارے ملک میں ذہنی بیماریوں کا بڑھتا تناسب خطرناک نوعیت اختیار کرچکا ہے جو موجودہ غیر انسانی جرائم فروغ دے رہا ہے۔ سیریل کلرز اور پیڈوفیلیا اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ 2025ء تک ڈپریشن کو بیماریوں کی فہرست میں اولیت حاصل ہوگی۔

سندھ کے مزار ذ ہنی عارضے میں مبتلا لوگوں سے بھرے پڑے ہیں۔ جنھیں مسلسل پیروں، فقیروں و عاملوں کو دکھایا جاتا ہے۔ وقت پر علاج کی سہولتیں نہ ملنے پر ان مریضوں کی ذہنی حالت مزید بگڑ جاتی ہے۔
اکثر لوگ دکھ و پریشانی سے دور بھاگتے ہیں اور ان کا حقیقت پسندانہ انداز سے سامنا نہیں کر پاتے ۔ جب کہ اگر انسان کو فقط خوشیاں میسر ہوں تو حیات ٹھہرے ہوئے پانی کی طرح ہو کر رہ جائے گی۔ کچھ کھوئے بغیر انسان میں جستجو کی کیفیت پیدا نہیں ہو پاتی۔ مایوسی کو بند گلی سے باہر نکلنے کا راستہ چاہیے۔ یہ انسان کی سوچ پر منحصر ہے کہ دکھوں کو تباہ کن بنانے کے بجائے وہ زندگی کی مایوسی کو تعمیری سوچ میں بدل دے۔ تعمیری مشغلے اور جسمانی مشقیں یکسانیت میں تحرک پیدا کرسکتی ہیں۔

ہمیں رویوں کی ازسرنو تعمیر کرنی ہوگی۔ دوہرا معیار ترک کرکے درگذر کی عادت اپنانی ہوگی۔
لہذا اپنی بیماری سے دوستی اور اسے سمجھنے کی کوشش کافی معاملات بہتر کرسکتی ہے ۔ سوچ کو نئے تناظر میں دیکھنے کی کوشش اور خیال کا نیا پن سورج کی مانند ، سوچ کی ہٹ دھرمی اور بے حسی کو پگھلا سکتا ہے ۔

Facebook Comments HS