پاکستان میں سیاحت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا آپ جانتے ہیں سوئزرلینڈ جرمنی فرانس اٹلی ہر سال ملک گھومنے آنے والے سیاحوں سے کتنا پیسہ کماتے ہیں؟ چلیں مغرب کو چھوڑیں۔ کیا آپ کو معلوم ہے نیپال سری لنکا مالدیپ بھوٹان سنگاپور اور تھائی لینڈ جیسے چھوٹے ممالک کی معشیت کا دارومدار ہی سیاحت پر ہے یعنی سیاحت اتنی بڑی انڈسٹری ہے کہ یہ مکمل ملک چلانے کی اہلیت رکھتی ہے۔ دور کیوں جائیں اپنے ہمسایہ بھارت کی مثال لیتے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ بھارت جس کی دو درجن ریاستوں میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں مسلح شورش برپا ہے انہوں نے اک سال میں سیاحت میں پچیس لاکھ نوکریاں پیدا کی ہیں انہوں نے سیاحت کو باقاعدہ انڈسٹری کی شکل دے رکھی ہے اور اس اک انڈسٹری کی بنیاد پر ان کی ہوٹل فوڈ ریلوے حتیٰ کہ میڈیا انڈسٹریز بھی گرو کر رہی ہیں۔

ذرا غور کریں ان ممالک میں ایسا کیا ہے جو ہمارے وطن پاکستان میں نہیں پاکستان جہاں اک طرف قدرت کی فیاضی کے منہ بولتے ثبوت ،پہاڑوں ،جھرنوں،ندی نالوں آبشاروں، بہترین وادیوں پرفضا اور خوبصورت مقامات، بہتریں جھیلوں سے مزین ہے وہاں سمندر صحرا ساحل خوب صورت میدان تاریخی مقامات کا انگنت ورثہ موجود ہے دنیا کی چودہ بلند ترین پہاڑی چوٹیوں میں سے پانچ پاکستان میں ہیں، ماونٹ ایورسٹ کے بعد دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ،کے ٹو،اور پاکستان کا دوسرا بڑا پہاڑی سلسلہ نانگا پربت شامل ہے جس کی اونچائی چھبیس ہزار چھ سو چھیاسٹھ فٹ ہے، وادی کشمیر میں میں بھی دس ہزار فٹ کی بلندیوں پر پر فضا مقامات، کے پی کے میں ناران ،کاغان کالام جھیل سیف الموک قدرت کی صناعی سیاحوں کو مہبوت کر دینے کی صلاحیت رکھتی ہے، کراچی کا سمندر، سندھ کے بے شمار علاقے جیسے ٹھٹھہ میں دنیا کے سب سے بڑا قبرستان مٹی ،ایشیا کی سب سے بڑی جھیل ‘کینجھر’ اور دنیا کا سب سے بڑا قلعہ ‘رانی نوٹ’ جو خوش قسمتی سے ابھی تک اپنی اصلی حالت میں موجود ہے پنجاب میں زمین کی ناف سمجھا جانے والا ملتان قدیم ترین تہذیبوں کے امین ساہیوال خوشاب آثار قدیمہ میں ہڑپہ اور موہنجو داڑو کھیوڑہ میں نمک کی کان کے علاوہ ہندووں اور سکھوں کے بے شمار مقدس مقامات بھی پاکستان میں موجود ہیں۔

ہم اگر دنیا کے ساتویں بڑے نہری نظام رکھنے والے زرعی ملک کے فصلات و پھل ریکوڈک اور سینڈک میں کاپر و سونے کے ذخائر سوئی کے گیس ذخائر کھیوڑہ میں نمک کی کانوں دنیا کی بہترین سپورٹس انڈسٹری کو شمار میں نہ بھی لائیں تو صرف سیاحت کی انڈسٹری کے حوالے سے ہمارے پاس اتنا کچھ ہے کہ اربوں ڈالر سالانہ کی کمائی کی جا سکتی ہے لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم نے کبھی اس سے فائدہ اٹھانے کی ٹھیک طرح سے کوشش ہی نہیں کی پاکستان میں سیاحت کس حال میں ہے ،کسی کو خبر ہے؟ سیاحت کو عروج پر پہنچانے کے لیے تین بنیادی نقاط ہیں حفاظت سہولیات اور پروپیگنڈا اور بدقسمتی سے ہم ان تینوں میں بری طرح فیل ہو چکے ہیں۔ حفاظت کی بات کریں تو پرامن ترین کمیونٹی پر مشتمل جنت ارض گلگت بلتستان کے حالات اکثر بہار کے دنوں یعنی مارچ اپریل اور مئی میں خراب ہو جاتے ہیں مثال کے طور پر مئی 1988 کے مذہبی فسادات، پھر مئی 1992 کے مذہبی فسادات، کوہستان واقعہ 28 فروری پھر 23 مارچ 2005 آئی جی پی پولیس شکیل ترین کا قتل۔ کارگل ڈراپ سین مارچ اپریل گندم دھرنا بھی مارچ اپریل۔

کیا کبھی آپ نے غور کیا کہ بہار کے دنوں میں جب دنیا بھر سے سیاح اس علاقے میں آنے کے لیے فروری اور مارچ کے مہینوں میں تیاری شروع کرتے ہیں۔ حکومت پاکستان سے ویزہ وغیرہ کے لیے اپلائی کرتے ہیں ایسے میں اچانک گلگت بلتستان میں ایسے حالات پیدا کیے جاتے ہیں کہ یہ سارے سیاح کسی اور ملک کسی اور علاقے کی جانب رخ کر جاتے ہیں ہمسایہ ملک ایسے واقعات کو پہت بڑھا چڑھا کر نشر کرتے ہیں اس طرح گلگت بلتستان کی معشیت کو ہر سال بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے کیا آپ کو معلوم ہے کہ صرف پاکستانی شہری ہی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا بغیر روک ٹوک سفر کر سکتے ہیں جبکہ غیر ملکی شہریوں کو ان علاقوں میں سفر کرنے کے لیے پاکستان کی وزرات داخلہ کی طرف سے تحریری اجازت درکار ہوتی ہے۔ اجازت مل جانے کی صورت میں بھی غیر ملکیوں پر لازم ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول سے آٹھ کلومیٹر دور رہیں جبکہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی لائن آف کنٹرول کی دوسری طرف وادی کشمیر میں غیر ملکی سیاحوں کے سفر کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

سہولیات کی بات کریں تو حکومت پاکستان بہتر سڑکیں صاف پانی اچھے ہوٹل اور کسی حادثے کے نتیجے میں فوری امداد پہنچانے سے قاصر دکھائی دیتی ہے۔ پروپیگنڈے اور ایڈوٹائزمنٹ کا سن لیں بھارتی ہندو مسلمانوں مغلوں سے بھلے نفرت کرتے ہوں مگر انہوں نے مغلوں کی نشانیوں کو سینت سینت کر رکھا ہوا ہے اور اس سے اربوں ڈالر سالانہ منافع کماتے ہیں۔ یہاں ہم نے ہندوں بدھوں اور سکھوں کی نشانیوں کو چن چن کر مسمار کیا ان پر کیا موقوف مسلمانوں کی بنائے ورثے کی حالت کون سا قابل رشک ہے پرانی عمارتیں قلعے مندر بھوت بنگلے بن کر کھنڈرات میں تبدیل ہو رہے ہیں بھارت سیاحوں کو متوجہ کرنے کے لیے صف اول کے اداکاروں کو لے کر امیزنگ انڈیا سیو ہرٹیج اپنا راجھستان جیسے خوش نما ناموں پر مشتمل کمپین چلاتے ہیں جس سے متاثر ہو کر غیر ملکی سیاح ہزاروں ڈالر خرچ کر کے ریت کے ٹیلوں اور اونٹ پر سواری کرنے آ بھی جاتے ہیں بھارت ڈسکوری ہسٹری اور نیشنل جیوگرافک جیسے چینلز پر ڈاکومینٹریز چلاتا ہے یہاں پاکستان میں ایسا کوئی رواج نہیں ایسا نہیں کہ ہم ایسا کر نہیں سکتے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم کرنا ہی نہیں چاہتے۔

میں نے پاک فوج اور سیاحت کے حوالے سے ڈاکومینٹریز بنانے کے لیے متعدد بار گزشتہ حکومت کو پروپوزل بھیجے مگر کسی نے جواب تک دینا گوارہ نہیں کیا کہ اپنے ملک کو پروموٹ کیا جائے۔ عامر مغل لاہور سے تعلق رکھنے والے اک نوجوان ہیں ٹورسٹ ہائیکر فوٹوگرافر اور بائیکر عامر مغل نے اندرون ملک حتیٰ کہ بیرون ملک سے لوگوں کو پاکستان ایکسپلور کرنے کے لیے انسپائر کیا ان کے بلاگز کی وجہ سے دنیا بھر میں پاکستان کی مثبت پہچان بنی ہے وہ اب بائیک پر بلوچستان گھومنا چاہتے ہیں مگر سیکیورٹی مسائل کی وجہ سے وہ اس خواہش کو پایہ تکمیل تک پہنچانے سے قاصر ہیں حکومت پاکستان کو چاہیے عامر مغل محمد اشفاق اور علی اصغر جیسے دوستوں کو آگے لائے۔ ورثے کی حفاظت کے اقدامات اٹھائے۔ سیاحوں کے لیے سہولیات انفراسٹرکچر اور سیکیورٹی پر بھرپور توجہ دے اور سب سے اہم اس ڈیجیٹل دور میں دنیا کو دعوت دینے کے لیے منظم کمپین ڈاکومینٹریز چلائیں۔ یقین جانیں اگر صرف سیاحت کی صنعت کو ہی فروغ دے دیا جائے تو پورے ملک میں پیسے کی چہل پہل ہونے کے ساتھ یہاں سے غربت دم دبا کر بھاگ سکتی ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).