ہمیشہ جوان رہنے کا سنہری فارمولہ
جیک ریچر دنیا کے طاقتورترین ملک امریکہ کا امیر ترین وکیل تھا۔ زندگی میں اس نے کبھی کوئی مقدمہ نہیں ہارا تھا۔ امریکہ کی معروف لاءفرم میں اس کی شخصیت کا جادو سر چڑھ کر بولتا تھا۔ جیک ریچر کے بنک اکاونٹس میں کروڑوں ڈالرز تھے۔ دنیا کی قیمتی ترین گاڑیاں اس کے زیراستعمال تھی۔ ۔ شرب پینا، تحاشا دولت سمیٹنا، پارٹی گرلز کے ساتھ جنسی تعلقات رکھنا اس کا روز مرہ کا معمول تھا۔ جیک ریچر کی عمر ساٹھ سال کے قریب تھی۔ وہ امریکہ کی معروف ترین شخصیات میں سے ایک تھا۔ ایک روز اچانک ریچر کو دل کا دورہ پڑا۔ ایمرجنسی میں اسے اسپتال لایا گیا۔ ریچر اب اسپتال میں تھا، اسے کسی سے ملنے کی اجازت نہ تھی۔ یہاں تک کے اس کا قریبی دوست سمتھ بھی اس سے نہیں مل سکتا تھا۔ جیک ریچر نے ڈاکٹروں سے بہت منتیں کی کہ اسے سمتھ سے ملاقات کی اجازت دی جائے، لیکن سمتھ کو ریچر سے ملنے نہ دیا گیا۔ ریچر ہارٹ اٹیک سے بچ گیا، کچھ روز بعد اسے اسپتال سے فارغ کردیا گیا،اسپتال سے نکلتے ہی ڈیوڈ نے اپنی تمام جائیداد فروخت کردی،دنیا کی قیمتی ترین گاڑیاں بیچ ڈالیں،یہ سب کچھ کرنے کے بعد وہ منظر سے اچانک غائب ہوگیا۔ ریچر کے دوست سمتھ نے اسے تلاش کرنے کی بہت کوشش کی، لیکن وہ کہیں نہ ملا۔ دو سال گزر گئے،لیکن ڈیوڈ کا کچھ پتہ نہ چلا۔ ریچر منظر سے ایسا غئب ہوا کہ اب اس کے قریبی دوست احباب بھی اسے بھول گئے۔
سمتھ بھی اپنے کام میں مصروف ہوگیا۔ ایک روز سمتھ اپنے کمرے میں بیٹھا دفتری کام نمٹا رہا تھا کہ گھر کے ملازم نے آکر کہا سمتھ،کوئی خوبصورت نوجوان آپ سے ملنے آیا ہے،سمتھ نے جلدی میں کہا،بہت مصروف ہوں،کسی سے مل نہیں سکتا،ملازم نے کہا سمتھ ،جو شخص آپ سے ملنے آیا ہے اس کا کہنا ہے کہ اس کا آپ سےملنا بہت ضروری ہے،جان نے کہا،چلو اسے میرےپاس لے آؤ،تھوڑی دیر کے بعد وہ اجنبی کمرے میں تھا۔ تیس سال کا یہ جوان دیکھنے میں بہت خوبصورت۔ دلکش اور اسمارٹ تھا ،جان اسے دیکھ کر بہت متاثر ہوا،اجنبی نے جب بولنا شروع کیا تو سمتھ کی حیرانگی کی انتہا نہ رہی ،سمتھ نے چیخ کر کہا ،جیک ریچر یہ تم ہو ، تم ساٹھ سال کے تھے۔ لیکن تیس سال کے خوبرو جوان لگ رہے ہو۔ یہ سب کیسے ہو؟سمتھ کے لئے سب سے حیرنگی کی بات یہ تھی کہ وہ ریچر کو جوانی کی حالت میں دیکھ رہا تھا ،ریچر تم جوان کیسے ہو گئے ؟
ریچر نے ہارٹ اٹیک کے بعد کی کہانی سنانا شروع کردی۔ سمتھ ہارٹ اٹیک کے بعد میں نے اپنی زندگی پر نطرثانی کی۔ پہلی دفعہ مجھے محسوس ہوا اس قدر دولت کے باوجود مطمئن کیوں نہیں ہوں ؟ زندگی میں اطمینان نہیں، سمتھ مجھے پہلی دفعہ احساس ہوا کہ کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ گڑبڑ ہے ،میں نے سن رکھا تھا کہ بھارت یا نیپال میں کہیں ایک جگہ ہے ،جہاں پہاڑوں کا ایک خوبصورت سلسلہ ہے ،ان پہاڑوں میں ایک ایسا پہاڑ بھی ہے جہاں پر ہزار سالوں سے قبیلہ بستا ہے ،دنیا میں وہ واحد قبیلہ ہے جس کے انسانوں نے زندگی کے مقاصد کو پہچان لیا ہے،وہ قبیلہ چھ ہزار سال سے اس پہاڑ پر آباد ہے۔ اس قبیلے کا ایک بھی انسان آج تک زمین پر نہیں آیا،پچھلے سو سال سے زمین سے کوئی انسان اس پہاڑ پر اس قبیلے کے کسی فرد سے نہیں مل پایا۔ ریچر نے سمتھ کو بتایا کہ اس نے بہت ساری رقم لی، ضروری سامان ساتھ لیا ،اور بھارت روانہ ہو گیا ،بھارت جاکر ان پہاڑی سلسلوں کا پتہ کیا،بہت کوششوں کے بعد اس پہاڑی سلسلے کی جگہ پر پہنچا،۔ وہاں پر تحقیق شروع کی کہ وہ قبیلہ کس پہاڑ کی چوٹی پر آباد ہے ،بہت کوشش کہ بعد وہاں کے بوڑھے لوگوں نے بتایا کہ نیلے پہاڑ کی چوٹی پر وہ قبیلہ رہتا ہے،لیکن سو سال کا عرصہ گزر گیا ،آج تک کوئی انسان نیلے پہاڑ کی چوٹی تک نہیں پہنچ پایا۔ ریچر نے کہا سمتھ ،بغیر کچھ سوچے میں نے نیلے پہاڑ پر چڑھنا شروع کردیا ،کئی مہینوں تک بڑی مشکلات کا سامنا کرنے کے باوجود سفر جاری رکھا،لیکن اس قبیلے کا کوئی نام و نشان نہیں مل رہا تھا۔ میں مایوس نہیں تھا،تہیہ کر لیا تھا کہ اس قبیلے تک ضرور پہنچوں گا۔
ریچر نے کہا اچانک اسے پہاڑ کی بلندیوں پر ایک شخص نظر آیا،اس شخص نے نیلے رنگ کا مختصر لباس زیب تن کررکھا تھا،اس کی آنکھیں روشن تھی، چہرہ حسین اور دلکش تھا ،وہ پھولوں کی خوشبو سونگھ رہا تھا،میں بھاگتا بھاگتا اس کے پاس گیا۔ ریچر نے کہا سمتھ میں نے اسے اپنی پوری کہانی سنائی۔ ریچر نے کہا سمتھ میں نے اسپتال سے پہاڑ تک کی ساری روداد اسے سنائی ،وہ بولا،جس قبیلے کی تلاش میں تم یہاں آئے ہو، میں اسی قبیلے کا فرد ہوں،بڑے خوش قسمت ہو کہ یہاں تک پہچنے میں کامیاب ہوگئے ہو،گزشتہ سو سالوں کے دوران زمین کا کوئی انسان یہاں تک نہیں پہنچ پایا۔ سمتھ وہ شخص مجھے پہاڑ کی چوٹی پر لے گیا ، پہاڑ کی چوٹی پر پہنچتے ہی میری حیرانی کی انتہا ہو گئی۔ ۔ پہاڑ کی چوٹی کی دنیا کا رنگ ڈھنگ ہی نرالا تھا۔ پہاڑ کی چوٹی پھولوں کا بستر تھی۔ تاحد نظر لال،گلابی ،نیلے،پیلے پھول ہی پول تھے،خوبصورت اور حسین درختوں کی ایک دنیا اس پہاڑ کی چوٹی پر آباد تھی، درختوں کے بیچ و بیچ پھولوں سے بنی جھونپڑیاں تھی،درختوں اور پھولوں کے درمیان قدرت کا حسین شاہکار معصوم پرندے چہچہاتے نظر آرہے تھے، ان جھوپڑیوں میں اس قبیلے کے انسان آباد تھے، پہاڑ کی چوٹی پر ایسا حسین منطر ہوگا،۔ میں نے کبھی سوچا نہ تھا،پھولوں کے بستر سے سجی پہاڑکی چوٹی پر مختصر ملبوسات زیب تن کئے حسین لڑکیاں اور خواتین نغمے گنگنا رہی تھی،دلکش کلاسیکل رقص کررہی تھی ،ایسی حسین و جمیل خواتین میں نے زندگی میں کبھی نہیں دیکھی تھی،
سمتھ ریچر کی گفتگو سے بہت خوش ہورہا تھا۔ سمتھ نے کہا ریچروہاں اور کیا تھا۔ ریچر نے کہا سب کچھ جاننا ہے تو آج کے تمام کاموں سے تمہیں دستبردار ہونا ہوگا۔ سمتھ نے جلدی سے کہادوست،لعنت بھیجو سب کاموں پر،آج میں تمہیں چھوڑ کر کہیں نہیں جارہا،تو سنو سمتھ ،وہ شخص مجھے اپنے سردار کے پاس لے گیا،خوبصورت،حسین اور مطمئن سردار،اس کے اردگرد جوان،بچے،بوڑھے اور خواتین تھیں۔ یقین نہیں آرہا تھا کہ دنیا میں اس قدر حسین چہرے بھی ہو سکتے ہیں۔ میں ان کے درمیان ایک بیمار اور بدصورت بوڑھا لگ رہا تھا۔ سمتھ میں نے قبیلے کے سردار کو کہا،میں اس جگہ اس لئے آیا ہوں کہ مجھے معلوم کرنا ہے کہ زندگی کیا ہے؟زندگی کا مقصد کیا ہے ؟ سمتھ قبیلے کے سردار نے مجھے انتہائی مدبرانہ اور تہذیبانہ انداز میں مخاطب کرتے ہوئے کہا، تمہیں سب کچھ معلوم ہوجائے گا ،تم سب کچھ جاننے کے مستحق ہو،بس وعدہ کرو ،جو کچھ تم کو بتایا جائے گا وہ سب کچھ تم کرو گے۔ اور وآپس جاکر سب کو یہ سب کچھ سکھاؤ گے۔ قبیلے کے سردار نے کہا،آج سے جو کچھ ہم قبیلے والے کریں گے ،تم بھی وہی کرو گے ،تم واحد انسان ہو جو سو سال کے بعد اس جگہ تک پہنچے ہو۔
سمتھ اب میں نے وہ کچھ کرنا شروع کردیا جو قبیلے کے باقی لوگ کرتے تھے۔ صبح ہوتے ہی قبیلے کے لوگ یوگا کرتے۔ اس طرح وہ ابھرتے ہوئے سورج کا استقبال کرتے۔ ان کا ماننا تھا،سورج انہیں طاقت دیتا ہے،نئی امید اور نئی خوشی سے نوازتا ہے۔ وہ ابھرتے ہوئے سورج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ،اس طرح ان کے مطابق ان کے اندر کی دنیا کو ایک نیا اعتماد ملتا، پورا قبیلہ ہر روز کئی گھنٹوں تک یوگا کی نت نئی مشقیں کرتا،ان کاماننا تھا کہ یوگا کرنے سے ان کے اندر لچک پیدا ہوتی ہے اور وہ چست و توانا رہتے ہیں، یوگا کرنے سے ان کے دل و دماغ کے درمیان ہم آہنگی پیدا ہوتی جس سے وہ روحانی تسکین حاصل کرتے،چھ ہزار سال سے وہ قبیلہ یوگا کرتا آرہا تھا ،ان چھ ہزار سالوں سے یہ سب کچھ ان کی زندگی کا معمول تھا۔ یوگا کرنے کے بعد پھولوں سے بنی جھونپڑیوں میں وہ کتابیں پڑھتے۔ کتابیں لکھتے،اور اپنے آباؤ اجداد کی تحریر کردہ کتابوں پر تنقیدی بحث و مباحثہ کرتے،جھونپڑیوں میں کتابیں ہی کتابیں تھی،اس طرح وہ نئی نئی باتیں اور تخلیقی خیالات ایک دوسرے سے شئیر کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ لکھنے،پڑھنے اور بحث و مباحثہ کرنے سے ان کے اندر دانائی پیدا ہوتی ہے ،جس سے وہ اپنے آپ کو دریافت کرتے ہیں ،حیران کن بات یہ تھی کہ پورا قبیلہ الہامی خیالات ونظریات سے ناواقف تھا۔ وہاں موسیقی اور رقص کی محفلیں ہر روز سجتی تھی۔ پھولوں سے مزین پہاڑ کی چوٹی پر جب موسیقی کی محفل سجتی تو اس کا سماں ہی کچھ اور ہوتا،عجیب سی کیفیت طاری ہوجاتی تھی،موسیقی اور رقص وہاں چھ ہزار سال سے مسلسل ہو رہا تھا۔ حسین خواتین ،معصوم بچے،دلکش بوڑھے سب کے سب ہی موسیقی اوررقص کے عادی تھی۔
جب رات ہوتی تو وہ آسمان کی طرف منہ کرکے بیٹھ جاتے اور چمکتے دمکتے چاند اور ستاروں کو خوش آمدید کہتے ،چمکتے چاند اور ستاروں سے انہیں بہت محبت تھی ،رات کی تاریکی کا وہ پرتپاک استقبال کرتے، اس طرح جیسے وہ ابھرتے سورج کو خوش آمدید کہتے ،ہر وقت مسکرانا ان کی زندگی کا معمول تھا،وہ مسکراتے رہتے تھے،صبح سب سے پہلا کام مسکرانا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب انسان نیند سے اٹھے تو سب سے پہلے کچھ لمحوں کے لئے خوب خوش رہے اور مسکراتا رہے۔ اس طرح اس کی شخصیت سارا دن مثبت رہے گی اور پراعتماد دیکھائی دے گی،اور وہ نفسیاتی بیماریوں سے محفوظ رہے گا۔ سونے سے دس منٹ پہلے وہ اپنا احتساب کرتے تھے۔ ان کا معمول تھا نیند سے تھوڑی دیر پہلے وہ اپنے آپ سے باتیں کرتے اور تمام دن کے بارے میں سوچتے کہ آج انہوں نے کیا کیا؟ کیا کھویا اور کیا پایا؟ کھانے میں وہ صرف سبزیاں اور فروٹ کھاتے۔ ان کا کہنا تھا کہ انسان جو کھاتا ہے وہی نظر آتا۔
سیکس کو وہ زندگی کا ضروری حصہ سمجھتے تھے،ان کا ماننا تھا کہ سیکس کے بغیر تخلیقی رویئے انسان میں پیدانہیں ہوسکتے۔ ان کے مطابق دانائی اور زہانت سیکس کے بغیر ممکن ہی نہیں، شادی کا رواج نہیں تھا،لڑکے اور لڑکیاں،بوڑھے اور جوان سیکس اور عشق کے معاملے میں آزاد تھے ،کسی قسم کی بندش نہ تھی،وہ قبیلہ اندر کی دنیا کو آباد کرنے کے لئے سیکس کو ضروری خیال کرتا تھا،سیکس ان کی روحانی دنیا کے لئے ضروری تھا۔ علم و فکر کی ترقی کے لئے پڑھنا لکھنا اہم فیکٹر تھا۔ ہر شخص وہاں ہر روز نئے خیالات پر بات کرتا ،نئے اور تخلیقی نظریات دینے والوں کو وہاں ایوارڈز سے نوازا جاتا۔ وہ فطرت ہی کو سب کچھ جانتے اور مانتے تھے ،فطرت سے خوبصورت اور دلکش تعلق ان کی زندگی کا مقصد تھا،فطرت کے ساتھ وہ ایک ہو چکے تھے ،وہ فطرت میں ڈوبے ہوئے تھے ،فطرت سے انمول رشتہ رکھنا ہی ان کی زندگی کا مقصد حیات تھا۔ حقیقت میں بھی وہ فطرت محسوس ہوتے تھے۔ جب میں وآپس آنے لگا،تو اس قبیلے کی حسین خاتون نے مجھے پھولوں سے سجا ایک گلدستہ پیش کیا، اس نے کہا جب کوئی یہاں سے واپس زمین کی دنیا میں جاتا ہے تو اسے پھولوں کا گلدستہ پیش کیا جاتا ہے۔ تم اس تحفے کے مستحق ہو ،تمہیں یہ تحفہ مبارک ہو،
بس یاد رکھنا جو لوگ خواب دیکھتے ہیں وہ دراصل سوئے ہوئے ہیں،اور دنیا کی خوبصورتی سے غافل ہیں ،اور جو جاگ رہے ہیں اور خواب نہیں دیکھتے وہ فطرت کی دلکشی اور خوبصورتی کے مستحق ہیں،تم جاگ رہے ہو اور ہمیشہ جاگتے رہنا۔ قبیلے کے سردار نے کہا سو سال کے بعد یہاں آئے ہو۔ تم اس جگہ پر آنے کے حقدار تھے ،دانائی اور زہانت فطرت سے محبت کے سبب ہی انسان میں آتی ہیں۔ دانائی کا مطلب ہے اندر کی دنیا کو جاننا،زہین وہ ہوتا ہے جو فطرت کی خوبصورتیوں اور دلکشیوں سے خود بھی محظوظ ہو اور دوسروں کو بھی فطرت کے لطف سے روشناس کرائے۔ وآپسی کے بعد سب سے پہلے میں تمہارے پاس آیا ہوں، ساٹھ سال کا بدصورت بوڑھا وہاں سے ایک خوبصورت جوان بن کر وآپس لوٹا ہے۔ جیک ریچر اور سمتھ کی گفتگو ابھی جاری تھی،اسی دوران سمتھ کی بیوی اور تین بچے شور شرابے ساتھ لئے گھر میں داخل ہوئے۔ ریچر نے سمتھ سے اجازت چاہی۔ اور سمتھ کے گھر سے خاموشی کے ساتھ فطرت کی طرف وآپس لوٹ گیا۔
This story has conceived from the famous book The Monk Who Sold His Ferrari.The Monk Who Sold His Ferrari is a self-help book about the development of character and the discipline in life by Robin Sharma, a writer and leadership guru. It conveys a message that one should also live his life freely in spite of working all day.


