شہباز شریف اور آصف زرداری کی مشترکہ فتح


یوں تو ڈاکٹر عارف علوی کی بطور صدر پاکستان کامیابی کی مبارک باد عمران خان اور تحریک انصاف کو دینی چاہئے کہ ان کا تعلق اس پارٹی سے ہی ہے لیکن گزشتہ برس بلوچستان اسمبلی میں ’بغاوت‘ کے بعد سے شروع ہونے والے سیاسی سانحات کی روشنی میں دیکھا جائے تو اس مبارک باد کے اصل مستحق سابق صدر آصف زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف ہیں ۔ ان دونوں کی ملی جلی کاوشوں اور سیاسی طور سے ریلیونٹ رہنے کے لئے کی جانے والی کوششوں کے نتیجے میں ہی عمران خان گزشتہ ماہ آسانی سے وزیر اعطم منتخب ہوسکے تھے اور اب دونوں بڑی پارٹیوں کے لیڈروں نے جس طرح صدارتی انتخاب پر ایک دوسرے کے ساتھ سینگ پھنسائے اور نوشتہ دیوار پڑھنے کے باوجود اپنے اپنے سیاسی ایجنڈے پر کاربند رہنے کو ترجیح دی تو اس کے نتیجے میں ہی ڈاکٹر عارف علوی کسی تردد کے بغیر پاکستان کے تیرہویں صدر منتخب ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ بظاہر شہباز شریف اور آصف زرداری ایک دوسرے کے مد مقابل ہیں۔ یوں تو انتخاب میں ناکامی کے بعد یہ مقابلے بازی بھی شرمناک پہلو لئے ہوئے ہے لیکن درحقیقت یہ دونوں اسٹبلشمنٹ کے ساتھ خیر سگالی کے اظہار کے لئے اپنے اپنے ترپ کے پتے استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

پارلمینٹ میں صدارتی انتخاب کے لئے ہونے والی ووٹنگ کو دیکھا جائے تو عارف علوی کو اگر 212 ووٹ ملے ہیں تو ان کے مد مقابل مشترکہ اپوزیشن کے مولانا فضل الرحمان کو 131 اور پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن کو 81 ووٹ ملے جن کی مجموعی تعداد 212 ہی بنتی ہے۔ اس ووٹنگ میں چھ ووٹ مسترد بھی ہوئے ہیں۔ اس طرح یہ کہنا مشکل ہے کہ پارلیمنٹ میں درحقیقت کس پارٹی کو اکثریت حاصل ہے۔ یا کم از کم یہ قیاس تو کیا جاسکتا ہے کہ تحریک انصاف نہایت کمزور بنیاد پر حکومت سنبھالے ہوئے ہے۔ لیکن اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں نے اپنے اپنے مفاد کے لئے حکمران پارٹی کو ناقابل تسخیر اور مستحکم بنا دیا ہے۔ انتخابات کے بعدامید کی جارہی تھی کہ قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کو چونکہ نہایت قلیل اکثریت حاصل ہے اور اسے پارلیمانی امور کا تجربہ بھی نہیں ہے، اس لئے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے تجربہ کار اور منجھے ہوئے پارلیمنٹرینز حکومت کی گرفت کے لئے ہر وقت مستعد اور چوکنا رہیں گے۔ لیکن وزیر اعظم کے انتخاب میں مشترکہ امید وار کے معاملہ پر شروع ہونے والے تنازعہ سے سیاسی کھینچا تانی کا دارز ہونے والا سلسلہ آج ڈاکٹر عارف علوی کی کامیابی کی صورت میں اپنے انجام کو پہنچا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مضبوط و توانا اپوزیشن کا خواب بھی چکنا چور ہؤا۔

تحریک انصاف کے امید وار کی بطور صدر کامیابی سے اقتدار کے سب مراکز پر پارٹی کی گرفت مضبوط ہو گئی ہے۔ صدر کا عہدہ اگرچہ محض رسمی ہوتا ہے اور عملی طور پر اس کے پاس کوئی اختیارات نہیں ہوتے ، اس کے باوجود یہ عہدہ علامتی طور سے بے حد اہم ہوتا ہے اور حکمران پارٹی کی سیاسی امور پر دسترس اور کنٹرول کو ظاہر کرتا ہے۔ اس لئے اگر تحریک انصاف اپنا صدر منتخب کروانے میں کامیاب نہ ہوتی تو اسے پارلیمنٹ میں مسلسل اس ہزیمت پر کھسیانا ہونا پڑتا اور اپوزیشن جماعتیں اس کا تمسخر اڑاتے ہوئے مضحکہ خیز مخلوط حکومت کے اتحاد کا پول کھولتی رہتیں۔ اس کے برعکس زرداری اور شہباز شریف نے یہ یقینی بنایا دیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو اس وقت تک کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے جب تک بڑے گھر سے اسے گھرکیاں نہ ملنا شروع ہوجائیں۔

اس وقت عددی اعتبار سے اگرچہ پارلیمنٹ میں مضبوط اور جاندار اپوزیشن موجود ہے لیکن عملی طور سے اس کا وجود آج کی ووٹنگ کے بعد ملیا میٹ ہو چکا ہے۔ اس وقت شہباز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) اور آصف زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی اس امید پر اسٹبلشمنٹ کی بی ٹیم کا رول پوری مستعدی سے ادا کررہی ہیں کہ جلد یا بدیر جب تحریک انصاف سے اصل حکمرانوں کا دل بھر جائے گا تو انہیں آزمائے ہوئے پرانے خدمت گار یاد آ جائیں گے۔ اس حکمت عملی کو اختیار کرکے جمہوریت، ووٹ کی عزت یا عوامی حاکمیت کا نام لینے والے سیاسی لیڈروں کو آئینہ دیکھنے اور خود ہی شرمسار ہونے کی ضرورت ہے۔

پیپلز پارٹی نے اس سال کے شروع میں بلوچستان اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے وزیر اعلیٰ ثنا اللہ زہری کے خلاف شروع ہونے والی ’بغاوت‘ کے بعد سینیٹ چئیرمین کے انتخاب تک جو کھیل کھیلا، اسی کھیل کے پارٹ ٹو کا مظاہرہ شہباز شریف نے 13 جولائی کو کیا جب نواز شریف اور مریم نواز گرفتاری دینے کے لئے لندن سے لاہور پہنچے تھے۔ شہباز شریف پھنکارنے اور لاہور کی سڑکوں گلیوں کا چکر لگانے کے باوجود بھائی اور اپنے سیاسی قائد نواز شریف کا استقبال کرنے ائیر پورٹ نہیں پہنچ سکے۔ ملک میں جمہوریت کی جد و جہد کو بارآور ہوتا دیکھنے کے خواہشمندوں نے اسی وقت یہ اندازہ کرلیا تھا کہ شہباز شریف کیا کھیلنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اسی کا تسلسل انتخابی مہم کے دوران بھی دیکھنے میں آیا جب شہباز شریف، نواز شریف کے بیانیہ ’ووٹ کو عزت دو‘ کو آگے بڑھانے اور اسٹبلشمنٹ کو براہ راست چیلنج کرنے کی بجائے کراچی کو پیرس بنانے اور پنجاب میں کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگنے کی کوشش کرتے رہے۔ انتخابی مہم کے دوران شہباز شریف کی کم ہمتی، بزدلی اور ناکام حکمت عملی ہی دراصل مسلم لیگ (ن) کی عبرت ناک شکست کا سبب بنی ہے۔

شہباز شریف نے اسی پر اکتفا نہیں کیا اور انتخاب میں پنجاب کی حکومت گنوانے اور نواز شریف کے علاوہ مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی مسلسل قید کے باوجود بھی اپنا طرز عمل تبدیل نہیں کیا۔ انہوں نے عوام کی آواز بننے، جمہوریت کے نام پر رچائے جانے والے ڈرامہ کا اصل رخ سامنے لانے اور درپردہ قوتوں کی سیاست گری کو مسترد کرنے کی بجائے خود کو مرکز میں اور پنجاب میں اپنے بیٹے حمزہ شہباز کو پہلے وزارت عظمی و وزارت اعلیٰ  اور پھر اپوزیشن لیڈر کا امید وار بنوا کر جمہوریت اور ووٹ کے احترام کے بیانیہ سے بریت اور لاتعلقی کا عملی اعلان کیا ہے۔ شہباز شریف کا کوئی بیان اور کوئی سیاسی فیصلہ کسی قد آور لیڈر کی شبیہ سامنے نہیں لاتا۔ یہ ایک ایسے شخص کا سایہ ہے جو اقتدار کے بغیر بے چین ہر وہ اقدام کرنے پر تیار ہے جس سے کسی طرح دربار میں اس کی نیک نامی کا چرچا ہونے لگے اور عمران خان کے سر پر ہما بٹھانے والوں کو احساس ہو جائے کہ شہباز کو کھو کر انہوں نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔

 البتہ اس جدوجہد میں شہباز شریف یہ سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں کہ وہ عمران خان کی خوبیوں کا بدل نہیں ہو سکتے۔ عمران نیا چہرہ ہیں، لوگوں میں مقبول ہیں، ان کے ذریعے اسٹبلشمنٹ یہ بات بچے بچے کو ذہن نشین کروانے میں کامیاب ہو چکی ہے کہ شریف خاندان اور زرداری ’چور‘ ہیں ۔ ملک کا اصل مسئلہ وسائل کی کمی، دہشت گردی، آبادی میں اضافہ، خود سر ہمسائے اور ناراض سپر پاور نہیں ہے بلکہ اصل مسئلہ قوم کی چوری کی گئی وہ دولت ہے جسے ملک کے نااہل اور بددیانت سیاست دانوں نے سوٹزرلینڈ کے بنکوں اور آف شور کمپنیوں میں جمع کررکھا ہے۔ اسی تفہیم کو آگے بڑھانے کے لئے اب سپریم کورٹ نے خصوصی تحقیقات کے ذریعے صرف متحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں کے ڈیڑھ سو ارب ڈالر کا سراغ لگالیا ہے۔

قوم کو اب بس اس دن کا انتظار ہے کہ ملک کے اربوں ڈالر واپس لائے جائیں اور طاغوتی قوتوں کا سب قرض اتار کر ملک کو جلد از جلد خوشحالی اور ترقی کے راستے پر گامزن کردیا جائے۔ یہ درست ہے کہ خوابوں کو ایک نہ ایک دن ٹوٹنا ہوتا ہے اور الزام تراشی اور جعلی اعداد و شمار کے نام پر قائم ہونے والی امیدیں بھی دم توڑتی ہیں۔ ایک نہ ایک دن، کوئی نہ کوئی تو یہ کہے گا کہ سوٹزرلینڈ سے 200 اور متحدہ عرب امارات سے 150 ارب ڈالر واپس آ بھی گئے تو وہ کتنے دن بائیس کروڑ آبادی کا پیٹ بھر سکیں گے۔ کوئی تو حکومت اور اس کے بھولے عوام کو بتائے گا کہ قوموں کو آگے بڑھنے کے لئے چندوں اور لوٹ کا مال سمیٹنے کی بجائے قومی پیداوار میں اضافہ کرنا پڑتا ہے۔ محنت کرنی پڑتی ہے۔ مستقبل کی صورت گری اپنے خون سے کرنا ہوتی ہے۔

سچ یہ ہے کہ اس وقت قوم بد عنوانی کرنے والے بے ایمان سیاست دانوں کی دولت کو تلاش کرنے کے کام میں پوری طرح مصروف ہے ۔ یہ نعرہ ان کے دنوں کو سہانا اور راتوں کو رنگین بنائے ہوئے ہے۔ اگر اس حوالے سے کوئی کمی رہ جائے تو ہالینڈ میں توہین آمیز خاکوں کا مقابلہ رکوا کر اور امریکہ کو معاوضہ کی رقم کو امداد کہنے پر کرار ا جواب دے کر واہ واہ سمیٹی جاسکتی ہے۔ ایسے میں شہباز شریف کی وفاداری یا آصف زرداری کی کاری گری کی مارکیٹ ویلیو میں مسلسل کمی ہورہی ہے۔ لیکن یہ دونوں بدستور اپنے اثاثوں کی قیمت میں اضافہ کے لئے ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں مصروف ہیں۔ اس کا ایک عالیشان مظاہرہ آج ملک کے صدارتی انتخاب میں دیکھنے میں آیا ہے۔ ورنہ اس انتخاب میں مسترد کئے جانے والے 25 اور بلوچستان میں حکمران جماعت کے امید وار کو ملنے والے45 ووٹوں کو نظر میں رکھا جائے تو اکثریت، مضبوط جمہوریت اور چھوٹے منہ سے بڑے کام کرنے کے دعوؤں کی قلعی کھل جاتی ہے۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن کا وجود عملی طور سے ختم ہو چکا ہے۔ مولانا فضل الرحمان، اسفند یار خان ولی اور محمود خان اچکزئی اسمبلیوں سے باہر رہ کر تن تنہا اپوزیشن کا رول ادا کرسکتے ہیں۔ یا نواز شریف اور مریم نواز جیل کی سلاخوں سے اپنے ہی بھائی اور چچا کے ہاتھوں ’ووٹ کو عزت دو‘ کے نعرہ کا ستیا ناس ہوتے دیکھ سکتے ہیں۔ عمران خان کو مبارک ہو آج صرف عارف انعام علوی صدر ہی نہیں بنے، آج ان کے راستے کی سیاسی مزاحمت کے سامنے بند باندھ دیا گیا ہے۔ اب ان کے پاس اپنے وعدوں کو پورا نہ کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں رہے گا۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali