شہباز شریف سورۃ الکوثر کی تلاوت نہیں کر سکے
پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں کابینہ کے ایک اجلاس میں اس وقت کے وزیر داخلہ رحمان ملک سورۃ اخلاص کی تلاوت کرتے کرتے اٹک گئے تھے، انہوں نےکئی بارکوشش کی لیکن زبان نے ساتھ نہ دیا جس پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بننا پڑا ۔
اعتزاز احسن جن کے زور خطابت کا ایک عالم معترف ہے کے ساتھ بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آ چکا ہے ، 2013 میں وہ بھی صدر آصف زرداری کے استقبالیہ میں سورت اخلاص جو بچوں کو بھی یاد ہوتی ہے وہ بھول گئے تھے۔
پرویز مشرف کے دور میں وفاقی وزیر تعلیم جاوید اشرف قاضی نے "قرآن کے چالیس پارے” والے بیان سے ”شہرت“ پائی تھی
الیکشن کے دنوں میں سیاست دانوں کی سبکی کے اکثر و بیشتر ایسے واقعات دیکھنے میں آتے ہیں جب ریٹرنگ آفیسر کے سامنے انہیں کبھی دعائے قنوت بھول جاتی ہے تو کبھی نماز عشا کی رکعات ، اب مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کے ساتھ بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا ہے۔ صدارتی الیکشن کا دباؤ تھا یا گھبراہٹ، وہ اسلام آباد میں پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں قرآن پاک کی سب سے چھوٹی سورۃ الکوثر ہی بھول گئے۔ ادھوری تلاوت کے بعد اجلاس شروع کر دیا۔

