خاتون خانہ کو سبھا کی پری کیسے بنایا جائے؟


اکبر الہ آبادی کا ایک شعر ہے۔ تعلیم عورتوں کی ضروری تو ہے مگر۔ خاتون خانہ ہوں وہ سبھا کی پری نہ ہوں۔ مذکور بالا شعر کی تشریح ہماری اکثریتی لحاظ سے جاگیر دارنہ پس منظر رکھنے والی پارلیمان میں بلکل الٹ مفہوم میں نظر آتی ہے۔ یعنی خواتین کو پارلیمان میں ایک اقلیت کے طور پر محض نمائشی نکتہ نظر سے برتا جا تا ہے۔

پاکستان کی آبادی میں مردوں کا حصہ 51 فیصد جبکہ خواتین کا تناسب 49 فیصد ہے۔ خواتین کی شرح تعلیم بھی لگ بھگ 43 فیصد ہے۔ درآں حال یہ کہ مجموعی طور پر پاکستان کی شرح تعلیم 58 فیصد ہے۔ یہاں فکر انگیزنکتہ یہ ہے کہ پارلیمان میں خواتین کا تناسب مخصوص نشستوں پر 17 سے 18 فیصد ہے۔ 342 نشستوں کے ایوان زیریں میں صرف 60 نشستیں خواتین کے لئے مخصوص ہیں۔

یعنی ملک کی تقریبا آدھی آبادی جو کہ تعلیم کے تناسب میں بھی مردوں کے قریب قریب ہی ہے اقلیت کی طرح شمار کی جاتی ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ریاستی امور میں خواتین کا تناسب اتنا کم ہے؟ اس المیہ کی وجوہات کا جائزہ لینے کے لئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے معاشرے میں خواتین کے ساتھ صنفی امتیاز اس وقت تک ختم نہیں ہوسکتا جب تک مرد و زن کی عمل کی راہیں ایک نہ ہو جائیں۔

یہاں مراد یہ ہرگز نہیں ہے کہ تمام خواتین کولازمی طور پر مردوں کے شانہ بشانہ کسب معاش کی جدوجہد میں شامل ہونا چاہیئے۔کسب معاش تو خواتین برابر کر رہیں ہیں۔

ایک خاتون خانہ امور خانہ داری سر انجام دیتے ہوئے محتاط اندازے کے مطابق متوسط طبقے میں 40 سے 50 ہزار روپے جبکہ طبقہ بالا میں 80 سے 90 ہزار روپے ماہوار کا کام سر انجام دیتی ہے اور معیشت میں اپنا حصہ ڈالتی ہے۔ ہم ایسا کیوں نہیں سوچتے کے مردوں کو خانگی امور میں عورت کا ہاتھ بٹانا چاہیے۔ اگر اس معاشرے کی عورت کھیتوں، ملوں، کارخانوں، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور بازاروں میں معاشی تگ دو کرنے کے ساتھ ساتھ خانگی امور بھی سر انجام دے سکتی ہے تو مردوں کی تخلیق میں ایسے کیا خاص اجزائے ترکیبی ہیں جو خانگی امور کی انجام دہی ہے مانع ہو جاتے ہیں؟

ہمارے معاشرے کی عورت تعلیم حاصل کرنے میں مردوں سے بلحاظ تناسب قریب قریب ہے۔ آبادی کے لحاظ سے کوئی بعید نہیں کہ یہ "اقلیت” آنے والے کچھ عرصہ میں اکثریت میں بھی شمار ہونے لگے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ خانگی امور کی زمہ داری مرد بھی برابر سے اٹھائیں۔ تبھی خواتین اپنی تعلیم اور صلاحیتوں کا موثر استعمال کرکے کے معاشرے کا ایک مفید ، مستحکم اور مزید کار آمد فرد بن سکتی ہیں۔

پارلیمان میں سبھا کی پری کا کردار ادا کرنے کا درست مفہوم یہ ہونا چاہئے کہ خواتین کو برابری کی بنیاد پر مواقع ملیں۔ محض نمائشی نمائندگی حاصل ہونے سے تو جاگیر دارانہ سوچ کے حامل مرد اس "اکثریتی اقلیت” کا استحصال ہی کرتے رہیں گے۔

Facebook Comments HS