واشنگٹن کے بدلتے موسم
ستمبر وارد ہوچکا ہے۔ درختوں سے پتے گر رہے ہیں۔ ٹہنیاں سوکھنے لگی ہیں۔ پودے پیلے پڑے ہوئے ہیں۔ پھول کملا گئے ہیں۔
امریکا آنے کے بعد میں چند ماہ میں پانچواں موسم دیکھ رہا ہوں۔ سخت سردی میں آمد ہوئی تھی۔ زندگی میں پہلی بار برف باری دیکھی۔ بلکہ برفانی طوفان میں دفتر گیا اور آیا۔
بہار تاخیر سے آئی لیکن ایسے کہ باغوں کے شہر لاہور کے عاشقوں کو حیران کردیا۔ پھول ہی نہیں، گھاس، پتے، پودے اور درخت بھی دھنک اوڑھ کے رقص کرتے نظر آئے۔ انسانوں کو کم اور پرندوں کو بہار کا جشن مناتے زیادہ دیکھا۔
ایک معجزہ یہ ہوا کہ گرمی آگئی لیکن بہار نہیں گئی۔ ہر صبح گھر سے نکل کر ایک نیا پھول دیکھا اور ایک نئے پرندے کا گانا سنا۔
گرمی نے کراچی کی یاد دلائی اور کسی کسی دن پسینے کے ساتھ چیخیں بھی نکلوائیں لیکن ہر بار بادل دل بہلانے کو پہنچے۔
بادل کراچی میں بھی بہت آتے ہیں لیکن ترسا کے چلے جاتے ہیں۔ یہاں بادل ایسے برستے ہیں جیسے فلم رین کوٹ میں بارش ہوتی ہے۔
اکثر اوقات بادل یکلخت پھٹ جاتے ہیں اور ایک دم اتنا پانی آسمان سے اترتا ہے کہ حد نگاہ صفر ہوجاتی ہے۔ میں کئی بار کار چلاتے میں اس صورتحال کا شکار ہوچکا ہوں۔ وائپر فل اسپیڈ سے چلانے کے باوجود ونڈ اسکرین کے آگے کچھ سجھائی نہیں دیتا۔
یہاں مکان لکڑی سے بنائے جاتے ہیں۔ بارش ہوتی ہے تو ہماری چھت گنگنانے لگتی ہے۔ اس گنگناہٹ سے ہم اندازہ لگا لیتے ہیں کہ آٹا چھن رہا ہے یا چھینٹا پڑرہا ہے یا موسلادھار ہے یا بے شمار ہے۔
خانیوال میں آندھی دیکھی تھی کہ چند منٹ میں گھر مٹی سے بھر جاتا تھا۔ تیز بارش اس کا تعاقب کرتی تھی۔ دبئی میں کئی بار گرد کا طوفان دیکھا۔ ایک بار چار پانچ دن تک شہر بھر میں ریت اڑتی رہی۔ کراچی میں آندھی نہیں آتی۔ اس کے بغیر ہی سب مٹی ہوجاتا ہے۔
یہاں ہوا باتیں کرتی ہے۔ میں رات کو پہلی منزل پر خواب گاہ کی کھڑکی کھول کر کھڑا ہوجاتا ہوں۔ ہوا سرگوشیاں کرتی ہے۔ ٹٹیریاں سیٹی بجاتی ہیں۔ جھینگر مشاعرہ پڑھتے ہیں۔ میں داد دیتا ہوں۔
سردی، گرمی، بہار، برسات کے بعد اب خزاں دبے پاؤں آرہی ہے۔ یہ کوئی پھول نہیں کھلاتی۔ یہ کوئی گیت نہیں سناتی۔ لیکن یہ ہزار رنگ دکھاتی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ امریکا میں پھول بہت لیکن خوشبو نہیں ہوتی۔ سچ کہ بہار کی خوشبو نہیں ہوتی۔ لیکن خزاں مہکتی ہے۔ اور ایسی مہکتی ہے کہ کبھی خوش کردیتی ہے اور کبھی اداس۔
اگر آپ میری طرح کئی شہروں میں رہ چکے ہیں اور کئی زندگیاں جی چکے ہیں تو یہ الف لیلوی خزاں آپ کو ہر شام ماضی کے کسی دروازے پر لے جائے گی۔ پلٹیں گے تو پیچھے سے آوازیں آئیں گی۔ مڑ کے دیکھیں گے تو پتھر کے ہوجائیں گے۔


