گامے نے علامے کا گیان پانی میں بہادیا


میں ایک بار پھر کتاب میں غرق ہوکر معتزلہ پر مضمون پڑھنے لگا۔ مجھے خبر ہوئی کہ اگر معتزلہ نامی عقل پسند مفکرین ( جو مصنف کی طرح اپنے عہد کے علمی انکشافات کو مشرف بہ مذہب کررہے تھے اور یوں مفکر کی بجائے متکلم کہلا نے کے مستحق تھے ) عجمی سازش کا شکار ہوکر علمی میدان سے باہر نہ کیے جاتے تو عرب کی حالت ہی کچھ اور ہوتی۔ یہ لوگ علمی و فکری معاملات میں اس قدر موشگاف اور سریع الرفتار تھے کہ دوہزار سالہ مغربی فکری میدان ایک جناتی زقند میں مارلیتے۔ اگر معتزلہ باقی رہتے تو کشش ثقل، حرکت کے قوانین، مہر مرکزی نظریہ، نظریہ اضافیت، نظریہ ارتقا مغرب کے برعکس بنا کسی سماجی بنیاد، فکری تسلسل، معاشی اساس کے عرب میں پیش کرتے۔ معتزلہ باقی رہتے تو سب ممکن تھا کیونکہ جدال و قتال پر کتب بینی کو ترجیح دینے والا یزید کا بھائی شاید دراصل نظریہ اضافیت پر کام کررہا تھا۔

یہ سب پڑھ کر میں نے شکر کی گہری سانس لی کہ میں بھی انہی میں سے ہوں۔ پل کی طرف دیکھا تو گاما پھر آتا دکھائی دیا اور میں اس کے شر سے بچنے کے لئے ایک بار پھر مطالعے میں غرق ہوگیا۔ پھر ِ تخیل کے پروں پر سوار ہوا اور جدال و قتال کا کھیل کھیلنے لگا۔ کبھی سومنات، کبھی پرہلاد۔ دشت، بحر، بیابان اور کبھی بحرِ ظلمات میں روشن کھروں والے گھوڑے۔ عجمی تہاذیب کی یکے بعد دیگرے اینٹ سے اینٹ بجنے لگی۔ عذاب کا فیصلہ ہوجانے پر خدا کی طرف سے اتمامِ حجت کے لئے ہستیاں اترنے لگیں۔ ادھر بخت نصر، دارا و سکندر کا تذکرہ اور پھر معتزلہ کا ذکر۔ پھر ہائے کی آواز اور چھاتی پر ہاتھ۔

’معتزلہ کو اگر علمی فتح نصیب ہوتی تو عرب حملہ آور گھوڑوں پر نہیں جنگی جہازوں پر آتے۔ گامے کے گھر پر بم برساتے اور مجھے آنچ تک نہ آتی کیونکہ میں تو ان کا اپنا تھا ‘، میں نے یہ سوچا ہی تھا کہ کسی نے میرے ہاتھ سے کتاب اچک لی۔

میرے اوسان بحال ہونے تک گاما نہر کے دوسرے کنارے گھاس پر جا بیٹھا تھا اور تیزی سے کتاب کے ورق پلٹ رہا تھا۔ میں اٹھ کر کتاب نہیں چھین سکتا تھا کیونکہ مجھے ڈر تھا کہ وہ کہیں نہر میں چھلانگ نہ لگادے۔ کتاب بہہ بھی سکتی تھی اور گیلی ہوکر خراب بھی ہوسکتی تھی۔ پانی کے ساتھ وہ ’پرم گیان‘ بھی بہہ سکتا ہے جو، بقول مصنف، صرف اسی کتاب میں قید تھا۔ گامے سے کیا بعید، کچھ بھی کرسکتا تھا وہ ننگ تہذیب۔ ننگ اسلاف۔ جاہلوں کی اولاد۔ گونگوں کا بچہ۔ اس لئے میں اپنی کرسی پر بیٹھا بار بار یہی تقاضا کرتا رہا۔
میری کتاب واپس کرو۔

وہ میری بات پر توجہ دیے بغیر تیزی سے اوراق پلٹتا اور کن اکھیوں سے میری طرف دیکھتا رہا۔ جب کتاب کے تمام اوراق پلٹ چکا تو اٹھا، بے خطر اور پر اعتماد انداز میں چلتا ہوا میرے پاس آکر رک گیا۔ کتاب حقارت سے میرے ہاتھ میں تھمائی اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا :

” جھوٹ بولتے ہو تم۔ یہ کتا ب نہ تمہاری ہے نہ میری! اس میں نہ تمہارا قصہ ہے اور نہ میری کہانی؟ ‘‘
یہ کہہ کر وہ تو چلا گیا لیکن میں کافی دیر تک اس کے تین مختصر جملوں پر غور کرتا رہا۔ اس نے کتاب نہر میں نہ پھینکی لیکن اس کا سارا گیان ہمیشہ کے لئے بہا گیا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2