گستاخِ اقبال کے چند سوالات

پروفیسر ہود بھائی کے لیکچر کے بعد صورتِ حال یہاں تک آن پہنچی ہے کہ اقبال پر نقد کرنے والوں کو اور انہیں فلسفی ماننے سے انکار کرنے والوں کو گستاخانِ اقبال کے ساتھ ساتھ سطحی و بدزبان تک کہا جارہا ہے کیونکہ ہمارے ہاں فکری افلاس اس قدر بڑھ چکا ہے کہ کسی کی…

Read more

کیا آپ ذہین انسان ہیں؟

ہمارے ہاں لوگوں سے اگر پوچھا جائے کہ کہ ان کے نزدیک ذہین لوگ کون ہیں تو وہ عام طور پر صرف سائنس دانوں کو ذہین سمجھتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سائنسی طرز فکر اور سائنسی علوم کا ماہر ہونے کی صلاحیتں یا مہارتیں ، ذہانت کی علامتیں ہیں ۔ تاہم پاکستان…

Read more

منطقی جبر اور اقبال کا عقل و عشق

کئی بار ایسا ہوا کہ کسی لیکچر یا ٹریننگ کے دوران جونہی تنقیدی فکر کی اہمیت پر بات کرنا شروع کی تو جواب ملا کہ ہم تو اہلِ عشق ہیں ہمارا عقل سے کیا تعلق؟ ہم تو ہر معاملے میں بے خطر کُود پڑنے والے ہیں، ہمیں لبِ بام تماشا کرنے والی بزدل قوم نہ…

Read more

عالم اور جاہل  میں فرق

دن کے ایک بجنے والے ہیں اور میں صبح آٹھ بجے سے اسلام آباد کی قریبی مارکیٹ سے واپسی کے بعد مسلسل قوالیاں سن رہا ہوں۔ اس وقت تک عزیز میاں قوال، صابری برادران اور نصرت فتح علی خان صاحب کی قوالیوں میں اُردو، فارسی اور عربی  نعتیہ کلام سن کے ہزاروں بار سر دُھن…

Read more

سکرپٹ کا قیدی

آدم اپنی لائبریری میں بیٹھا حسبِ معمول ایک ناول پڑھ رہا ہے۔ یہ ایک بڑی لائبریری تھی جس میں اس کے علاوہ کوئی داخل نہیں ہوسکتا تھا، ایک بڑا ہال ہے جس کے تین اطراف میں چھت کو چھوتی ہوئے ہوئے شیلف کتب سے بھرے ہوئے ہیں۔ ہال کی ایک دیوار آدم کے پسندیدہ ادیبوں…

Read more

علم کی دُنیا کے دو اسیر

آج سے کوئی بیس برس قبل ایک دوست میرے پاس ایک نوجوان کو لائے اور اس کا تعارف کراتے ہوئے بولے کہ نوجوان حقیقی متلاشی ہے، ہر وقت علم و دانش کی تلاش میں رہتا ہے، تمہارے کچھ خیالات اور ذوقِ مطالعہ کی خبر اس تک پہنچی ہے تو تم سے ملنے آیا ہے۔ نوجوان کی عمر کوئی سولہ برس تھی اور وہ اس وقت میٹرک کا طالب علم تھا۔ اس نے کچھ سوالات کیے تو پیشگی عرض کی کہ میں تو ابھی خود طالب علم ہوں، ان سوالات کا جو بھی جواب دوں گا، وہ جواب ہوگا جو میں اس وقت تک، اس لمحے تک درست سمجھتا ہوں۔ میری تلاش کا سفر بھی ابھی جاری ہے، میرے دیے ہوئے کسی جواب پر رُک نہ جائیے گا اور اگر رُک گئے تو کل کلاں مجھ سے یہ تقاضا مت کیجئے گا کہ میں کیوں آگے بڑھ گیا ہوں اور اپنے ہی پرانے جواب کا قائل کیوں نہیں رہا۔ میں نہ آپ کے سوال کا قیدی ہوں اور نہ ہی اپنے جواب کا۔

Read more

روزہ کیوں نہیں رکھا؟

جب سے ملتان چھوڑا ہر سال ایک یکم رمضان کو اور پھر ماہِ رمضان کے دوران کم سے کم دومرتبہ ملتان سے ایک فون ضرور آتا ہے ۔ مسکرا کر ہیلو کہتا ہوں تو جواب میں سوال پوچھا جاتا ہے ، ’’روزہ رکھا ہے؟‘‘ ۔ پوچھنے والا کا لہجہ پنجاب پولیس کے ایس ایچ او…

Read more

عہد ساز مغربی سیکولر صوفی کے افکار اور یادداشتیں

23 اپریل کی شب ہالینڈ سے تعلق رکھنی والی یورپ کی ایک عہد ساز شخصیت ڈاکٹر ایج۔ جے وٹوین (1921۔ 2019) کے انتقال کی خبر سنی تو بقیہ رات کا ہر لمحہ یاد در یاد جاگ کر گزرا۔ رات بھر ان سے ہونے والی ہر ملاقات اور اس طالب علم سے کی گئی ان کی…

Read more

عارفانہ حکومت اور معرفت کی باتیں

اس میں شک و شبے کی کوئی گنجائش نہیں کہ موجودہ حکومت ایک عارفانہ حکومت ہے اور غیبی طاقتوں سے براہ راست رہنمائی حاصل کر رہی ہے۔ اس کی پہلی دلیل یہ ہے کہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا میں پہلی بار مختلف وزارتوں کے لئے جب جواہر نایاب کے چناؤ کا وقت آیا تو…

Read more

جنگ کے موسم میں تاریخ کا پہلا ڈرافٹ

سرحدوں پر کشیدگی چل رہی ہو تو انتہاؤں کے ادب، معاندانہ تاریخ اور روایتی صحافت کے سانچوں پر ’بغرضِ خاص‘ ڈھالے گئے اذہان امن کی بات کرنے والوں کو یا تو غدار قرار دیتے ہیں پاپھر پوچھتے ہیں کہ اگر یہ صحافت ہے تو پھر کون سی صحافت ہے۔ جیسے پنجروں میں رہنے والے پرندوں…

Read more