ڈارون کا مذہب اور بیٹی کی موت

ڈارون ایک سلجھے ہوئے شریف انسان تھا۔ جھکی ہوئی اور اختلاف کی صورت میں بھی مسکراتی آنکھیں اور زبان پر خاموشی۔ کسی کے معاملات ٹانگ اڑانے اور آسمان سر پر اٹھائے رکھنے کی بجائے اپنی دھن میں سر دھننے والا مست نابغہ۔ وہ اپنے چھوٹے سے خاندان، دو بیٹیوں اور بیوی کے ساتھ رہتا تھا۔ یوں تو اسے بیوی اور بڑی بیٹی سے بھی بے حد محبت تھی لیکن اس کی دوسری بیٹی اینی اس کی آنکھوں کا نور تھی

Read more

محمد بن سلمان کون ہوتا ہے؟

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے حال ہی میں ایک عرب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ احادیث ماخذ دین نہیں اس لئے ان کی بنیاد پر قانون سازی نہیں کی جا سکتی۔ ان کے اس بیان کے بعد شیخ الازہر نے بھی ان کے اس بیان کی حمایت کی ہے اور امام کعبہ نے بھی انہیں اس صدی کا مجدد قرار دیا ہے۔ بیان کے بعد سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک انگریزی

Read more

مذہبی سیاست انسانی خوشی کی مخالف ہے

جب انگلستان میں جانوروں کی لڑائی پر پابندی کا بل پیش ہوا تو پہلی بار برٹرینڈرسل اور کلیسا بظاہر ایک ہی پیج پر دکھائی دیے۔ مذہبی قیادت بھی جانوروں کی لڑائی پر پابندی کے حق میں تھی اور رسل بھی۔ پہلی بار رسل اور کلیسا کسی ایک بل کی حمایت کر رہے تھے۔ اس صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے برطانیہ کےایک معروف نشریاتی ادارے نے رسل سے رابطہ کیا اور انہیں مشورہ دیا کہ وہ مذہبی قیادت کےساتھ مل کر

Read more

کیا آفات کا سبب بے حیائی ہے؟

کورونا وائرس کے لئے عطیات جمع کرنے کے لئے ہونے والی ٹیلی تھان کے اختتام پر مولانا طارق جمیل کی دُعا میں ایک طرف تو پاکستانی عوام اور میڈیا پر جھوٹا ہونے کا الزام لگا اور دُوسری طرف مولانا نے ایک بار پھر کورونا سمیت تمام قدرتی آفات کی وجہ بے حیائی بتائی۔ پہلے مسئلے پر بہت سے لوگ بات کرچکے ہیں اور مولانا ایک ٹی وی شو میں میڈیا سے معافی بھی مانگ چکے ہیں۔ اس لئے اس موضوع

Read more

گستاخِ اقبال کے چند سوالات

پروفیسر ہود بھائی کے لیکچر کے بعد صورتِ حال یہاں تک آن پہنچی ہے کہ اقبال پر نقد کرنے والوں کو اور انہیں فلسفی ماننے سے انکار کرنے والوں کو گستاخانِ اقبال کے ساتھ ساتھ سطحی و بدزبان تک کہا جارہا ہے کیونکہ ہمارے ہاں فکری افلاس اس قدر بڑھ چکا ہے کہ کسی کی گہرائی ماپنے کا جام اور سطحی پن ناپنے کا پیمانہ صرف اقبال ہیں۔ یہ سب کہنے والوں سے طالب علم نے چند روز قبل محض

Read more

کیا آپ ذہین انسان ہیں؟

ہمارے ہاں لوگوں سے اگر پوچھا جائے کہ کہ ان کے نزدیک ذہین لوگ کون ہیں تو وہ عام طور پر صرف سائنس دانوں کو ذہین سمجھتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سائنسی طرز فکر اور سائنسی علوم کا ماہر ہونے کی صلاحیتں یا مہارتیں ، ذہانت کی علامتیں ہیں ۔ تاہم پاکستان میں یا پھر دنیا بھر میں لوگ اس سوال کا یہ جواب اس لئے دیتے ہیں کیونکہ سائنسی ایجادات سب کے سامنے ہیں اور ان

Read more

منطقی جبر اور اقبال کا عقل و عشق

کئی بار ایسا ہوا کہ کسی لیکچر یا ٹریننگ کے دوران جونہی تنقیدی فکر کی اہمیت پر بات کرنا شروع کی تو جواب ملا کہ ہم تو اہلِ عشق ہیں ہمارا عقل سے کیا تعلق؟ ہم تو ہر معاملے میں بے خطر کُود پڑنے والے ہیں، ہمیں لبِ بام تماشا کرنے والی بزدل قوم نہ بنائیں۔ ہم مقامِ عقل سے صدیاں ہوئیں آسانی سے گزر آئے اور اب مقامِ عشق میں کھوئے ہوئے ہیں۔ المختصر، کئی بار تنقیدی فکر کی

Read more

عالم اور جاہل  میں فرق

دن کے ایک بجنے والے ہیں اور میں صبح آٹھ بجے سے اسلام آباد کی قریبی مارکیٹ سے واپسی کے بعد مسلسل قوالیاں سن رہا ہوں۔ اس وقت تک عزیز میاں قوال، صابری برادران اور نصرت فتح علی خان صاحب کی قوالیوں میں اُردو، فارسی اور عربی  نعتیہ کلام سن کے ہزاروں بار سر دُھن چکا ہوں ۔ یہ دُھن آج کیسے لگی، یہ عالم کیسے طاری ہوا، اس کی وجہ جاننے کے لئے آپ کو میرے ساتھ اُس مارکیٹ

Read more

سکرپٹ کا قیدی

آدم اپنی لائبریری میں بیٹھا حسبِ معمول ایک ناول پڑھ رہا ہے۔ یہ ایک بڑی لائبریری تھی جس میں اس کے علاوہ کوئی داخل نہیں ہوسکتا تھا، ایک بڑا ہال ہے جس کے تین اطراف میں چھت کو چھوتی ہوئے ہوئے شیلف کتب سے بھرے ہوئے ہیں۔ ہال کی ایک دیوار آدم کے پسندیدہ ادیبوں کی قدِ آدم تصاویر اور اس کی کرسی اور میز رکھی ہے جس پر ایک لیمپ، نوٹ پیڈ، قلم اور کچھ کتابیں رکھی ہیں۔ یہ

Read more

علم کی دُنیا کے دو اسیر

آج سے کوئی بیس برس قبل ایک دوست میرے پاس ایک نوجوان کو لائے اور اس کا تعارف کراتے ہوئے بولے کہ نوجوان حقیقی متلاشی ہے، ہر وقت علم و دانش کی تلاش میں رہتا ہے، تمہارے کچھ خیالات اور ذوقِ مطالعہ کی خبر اس تک پہنچی ہے تو تم سے ملنے آیا ہے۔ نوجوان کی عمر کوئی سولہ برس تھی اور وہ اس وقت میٹرک کا طالب علم تھا۔ اس نے کچھ سوالات کیے تو پیشگی عرض کی کہ میں تو ابھی خود طالب علم ہوں، ان سوالات کا جو بھی جواب دوں گا، وہ جواب ہوگا جو میں اس وقت تک، اس لمحے تک درست سمجھتا ہوں۔ میری تلاش کا سفر بھی ابھی جاری ہے، میرے دیے ہوئے کسی جواب پر رُک نہ جائیے گا اور اگر رُک گئے تو کل کلاں مجھ سے یہ تقاضا مت کیجئے گا کہ میں کیوں آگے بڑھ گیا ہوں اور اپنے ہی پرانے جواب کا قائل کیوں نہیں رہا۔ میں نہ آپ کے سوال کا قیدی ہوں اور نہ ہی اپنے جواب کا۔

Read more

روزہ کیوں نہیں رکھا؟

جب سے ملتان چھوڑا ہر سال ایک یکم رمضان کو اور پھر ماہِ رمضان کے دوران کم سے کم دومرتبہ ملتان سے ایک فون ضرور آتا ہے ۔ مسکرا کر ہیلو کہتا ہوں تو جواب میں سوال پوچھا جاتا ہے ، ’’روزہ رکھا ہے؟‘‘ ۔ پوچھنے والا کا لہجہ پنجاب پولیس کے ایس ایچ او کے لہجے جیسا ہوتا ہے مگر خوشگوار لہجے میں جواب دیتا ہوں ، ’’نہیں‘‘ وہ ایک بار پھر سوال کرتے ہیں ’’ کیوں نہیں رکھا؟‘‘

Read more

عہد ساز مغربی سیکولر صوفی کے افکار اور یادداشتیں

23 اپریل کی شب ہالینڈ سے تعلق رکھنی والی یورپ کی ایک عہد ساز شخصیت ڈاکٹر ایج۔ جے وٹوین (1921۔ 2019) کے انتقال کی خبر سنی تو بقیہ رات کا ہر لمحہ یاد در یاد جاگ کر گزرا۔ رات بھر ان سے ہونے والی ہر ملاقات اور اس طالب علم سے کی گئی ان کی باتیں یاد آتی رہیں،جن میں سے کچھ رُو برو ہوئیں تو کچھ بذریعہ برقی خط کتابت۔ ان کے انتقال کی خبر ایک دُکھ کی بات

Read more

عارفانہ حکومت اور معرفت کی باتیں

اس میں شک و شبے کی کوئی گنجائش نہیں کہ موجودہ حکومت ایک عارفانہ حکومت ہے اور غیبی طاقتوں سے براہ راست رہنمائی حاصل کر رہی ہے۔ اس کی پہلی دلیل یہ ہے کہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا میں پہلی بار مختلف وزارتوں کے لئے جب جواہر نایاب کے چناؤ کا وقت آیا تو غیبی طاقتوں سے مدد لی گئی اور پھر سب نے دیکھا کہ ہر ایک اپنے کام میں ایسا فٹ بیٹھا ہے جیسے انگلی میں انگوٹھی

Read more

جنگ کے موسم میں تاریخ کا پہلا ڈرافٹ

سرحدوں پر کشیدگی چل رہی ہو تو انتہاؤں کے ادب، معاندانہ تاریخ اور روایتی صحافت کے سانچوں پر ’بغرضِ خاص‘ ڈھالے گئے اذہان امن کی بات کرنے والوں کو یا تو غدار قرار دیتے ہیں پاپھر پوچھتے ہیں کہ اگر یہ صحافت ہے تو پھر کون سی صحافت ہے۔ جیسے پنجروں میں رہنے والے پرندوں کو پرواز بیماری لگتی ہے ایسے ہی معاندانہ ماحول میں پلے انسانوں کو امن کی بات کرنے والا کسی ذہنی عارضے کا شکار دکھائی دیتے

Read more

ارتقا کے نظریات۔۔۔ ڈارون سے آگے

1960میں علم الحیوانات کی برطانوی ماہر جین گُڈآل (Jane Goodall) نے تنزانیا میں تانگانیاسکہ جھیل کے کنارے گومبی کے جنگلات میں قدم رکھا۔ وہ ان جنگلات میں ڈارون کے نظریہ ارتقا سے جڑے ایک اہم سوال کا جواب تلاش کرنے آئی تھیں ۔ وہ انسان کے ہم عصر جدِ امجد چمپنزی میں انفرادی و گروہی تشدد کے رجحانات اور حرکیات کو سمجھتے ہوئے یہ جاننا چاہتی تھیں کہ لاکھوں برس پر محیط ارتقائی سفر طے کرنے کے بعد چمپنزی اور

Read more

ایک گمنام اُستاد کے نام

دورانِ تعلیم میں تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ میں بھی کبھی استاد بنوں گا۔ یہ تصور نہ کرسکنے کی وجہ تدریس کو معمولی شعبہ قرار دینا نہیں بلکہ معاملہ ’ کہاں میں کہاں یہ مقام ‘ والا تھا۔ میں نے کبھی  اپنے آپ کو استاد ہونے کے اہل ہی نہیں سمجھا تھا۔ ماسٹرز کے بعد میں نوکری کی تلاش میں تھا تو بڑے بھائی نے ایک فوجی تعلیمی ادارے میں انگریزی کے معلم کے طور پر درخواست جمع کرانے

Read more

ایک بوسے کا مول

فاسٹس اپنی لائبریری میں بیٹھا اپنے علم کا محاسبہ کررہا ہے۔ وہ اپنے دور کے ہر علم میں یکتا سہی مگر کوئی خلا ہے جو اُس کا علم بھی پُر نہیں کرپایا۔ یہ خلا ایک انوکھا مکالمہ جنم دیتا ہے۔ فاسٹس اکیلا ہے۔ وہ بیک وقت صادق بھی ہے اور سامع بھی۔ وہ علم کی سیڑھی لگا کر آسمان پر بیٹھنا چاہتا تھا مگر اب اُسے اعتراف ہوچلا ہے کہ وہ ایسا نہیں کرسکا۔ وہ خود سے ہم کلام ہوتا

Read more

گامے نے علامے کا گیان پانی میں بہادیا

گاما ہمارے گاؤں کے سالن روٹی بیچنے والے کا چھ سالہ اکلوتا بیٹا تھا۔ میں نے پہلی بار اسے اس وقت دیکھا جب میں بی اے کا امتحان پاس کرنے کے بعد درسی کتب سے آزادی کا جشن ان کتب کی بنیاد بننے والی کتابیں پڑھ کر منا رہا تھا۔ ان دنوں گاؤں کے ایک نوجوان دبئی سے خوب پیسے کما کر اور ایک دینی جماعت سے اس قدر متاثر ہوکر لوٹے تھا کہ انہوں نے سکندری نہر کے کنارے

Read more

مکالمے کی جیت

چند ماہ قبل ایک ری ٹریٹ کے دوران  ہمیں بہت سے  مذہبی رہنماؤں کے ساتھ مل کر ملک میں بڑھتے ہوئے تشدد  کی روک تھام کے لئے غوروخوض اور عملی منصوبے  تشکیل دینے کا موقع ملا ۔ ری ٹریٹ میں     مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکنان کے علاوہ  ہر مسلک کے علمائے کرام بھی شامل تھے۔  آخری صبح   ہر مسلک  کے ہاں دوسرے مسالک کے بارے میں پائے جانے والے منفی  تصورات پر بات ہونی تھی   

Read more

غصے کا سیانا: درپن بنا اُسامہ

  قصبے کے اکلوتے ہند و خاندان کا چشم و چراغ درپن انگریز سرکار کی آخری نشانی کینال ریسٹ ہاؤس میں ملازم تھا۔ ریسٹ ہاؤس سرکاری تھا مگر ایک طاقتور سیاسی گھرانے کے استعمال میں تھا جس کا اکلوتا بیٹا میرا دوست تھا۔ اس لئے میں جب بھی بغل میں کتابیں دبائے ریسٹ ہاؤس میں داخل ہوتا تو درپن گنگناتا ہوا لان میں میز کرسی لے آتا ، دن میں دو بار چائے پلاتا اور ایک بار اپنی سُریلی آواز

Read more

داستان خمیر فروشوں کی

جب بھی پاکستان کو مدینے کی ریاست بنانے کی بات ہوتی ہے تو ہمیں بے اختیار وہ دُکھی مائیں یاد آتی ہیں جو اگر اپنے زندہ بیٹے سے مایوس ہوجائیں تو اُس غنچے کو یاد کرکے روتی ہیں جو بن کھلے مرجھا گیا تھا۔ اگر وہ ہوتا ہے تو اُسے یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔ وہ ہوتا تو یہ کردیتا، وہ ہوتا تو وہ کردیتا۔ وہ اس نکھٹو سے اچھا نکلتا جس نے ہماری لٹیا ڈبو دی۔ پاکستان میں مدینے

Read more

ڈبے سے نکلی تہذیب

  ہم بڑے ہو رہے تھے اور ہمارا گاؤں دیہہ سے قصبے میں بدلتا جارہا تھا۔پہلے گاؤں سے شہر تک تانگہ جاتا تھا، پھر بس جانے لگی اور اب بسیں۔بسیں مقامی لوگوں کی ملکیت تھیں مگر ڈرائیور وغیرہ دوسرے دیہات اور قصبوں سے آئے ہوئے تھے جن کی تعداد کوئی دس پندرہ کے قریب تھی۔ان کے کھانے پینے کے لیے برگد کے درخت کے نیچے، برلب سڑک ایک ڈھابہ کھل گیا تھا جہاں صبح کو چنے پائے اور دوپہر کے

Read more

مذہبی سیاست انسانی خوشی کی دشمن ہے

جب انگلستان میں جانوروں کی لڑائی پر پابندی کا بل پیش ہوا تو پہلی بار برٹرینڈرسل اور کلیسا بظاہر ایک ہی پیج پر دکھائی دیے۔ مذہبی قیادت بھی جانوروں کی لڑائی پر پابندی کے حق میں تھی اور رسل بھی۔ پہلی بار رسل اور کلیسا کسی ایک بل کی حمایت کر رہے تھے۔ اس صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے برطانیہ کےایک معروف نشریاتی ادارے نے رسل سے رابطہ کیا اور انہیں مشورہ دیا کہ وہ مذہبی قیادت کےساتھ مل کر

Read more

عریانی کا خوف اور اس کے عریاں اثرات

مسلم ممالک میں کیا جانے والا سب سے بڑا سروے ورلڈ ویلیو سروے تھا ۔ جب اس سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ مسلم ممالک ڈیموس سے نہیں ایروس سے خوفزدہ ہیں ۔ یعنی جمہوریت اور جمہوری اقدار سے زیادہ انہیں یہ خوف لاحق ہے کہ جدید نظام ہائے سیاست اپنے ساتھ بے حیائی اور عریانیت لائیں گے ۔ ہمارے ہاں سیکولرازم کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈا میں جہاں سیکولرازم کو

Read more

مظلوم کا زمینی خدا

اس خاندان میں پڑھنے لکھنے کا کوئی رجحان نہ تھا اس لئے ہم اسے نسل انسانی کے ہم عصر آبا و اجداد کا کنبہ کہا کرتے تھے۔ آبادی اور رقبے کے لحاظ سے یہ ایک بڑا خاندان تھا اور محل وقوع کے لحاظ سے ہمارے گھر سے چند قدم کے فاصلے پر ایک بڑے پکے مکان میں مقیم تھا۔ یہاں فوتگی یا پیدائش معمول کا واقعہ تھا اس لئے کنبے کے افراد کی درست تعداد کسی کو معلوم نہ تھی۔

Read more

جہانِ یوسفی میں رزمیے کا تمسخر

بیسویں صدی کا آخری عشرہ، گورنمنٹ کالج ملتان، دو زبانیں، دو استاد اور دونوں کا خیال یہ کہ جو زبان وہ پڑھاتے ہیں ہم اُسی کے لئے بنے ہیں۔ یہ دو استاد اُردو زبان کے لیکچرر محی الدین اور انگریزی زبان کے پروفیسر چوہدری صدیق مرحوم تھے۔ چونکہ یہ سہولت موجود تھی کہ کالج میں دونوں کی کلاسز الگ الگ لگتی تھیں اس لئے ہم دو سال تک دونوں اساتذہ کو بیک وقت اپنی وفاداری کا عملی یقین دلانے کے

Read more

زمین زادے کا خواب

میدان خالی تھا۔ نہ کوئی پر تھا اور نہ کوئی پرندہ۔ مگر اب سب کے سب پرندے پرواز تیاگ کر نیچے کی طرف بہہ رہے ہیں۔ جیسے کوئی دودھ کی آبشار سنگلاخ میدان پر گرے اور سست رو ہوجائے۔ جیسے پہاڑ سے کوئی دیو سفید رنگ کا ریشم کا لاوا پگھلا کر انڈیل رہا ہو۔ لیکن یہ کیسے ہوا کہ پگھلے ہوئے سفید ریشم کا پانی بہنے کی بجائے مارچ کرنے لگا؟ ایک بار پھر منظر بدل گیا ہے۔ پیچھے

Read more

اقبال کی شاعری میں نیکی کا عسکری تصور

اقبال کے اُردو کلام سے وہ تمام اشعار الگ کیجئے جن میں اقبال نے مومن کا تذکرہ کیا ہے تو یہ دیکھ کر شاید آپ حیران رہ جائیں کہ اُن کا مردِ مومن زیادہ تر اشعار میں انسانی معاشروں کے برعکس میدانِ جنگ میں ’نیکی‘ کے جوہر دکھا رہا ہے ۔وہ انسانی بستیوں سے غائب مگر میدانِ جنگ میں ہر وقت حاضر ہے۔ کہیں وہ ’حق و باطل‘ کی اضداد میں پھنسا فولاد کی طرح بے لچک ہے اور اس

Read more

جانے کب کون کسے مار دے کافر کہہ کے

جب پہلی بار موجودہ’ ہئیر سٹائل‘ اختیار کرنے کی غر ض سے نائی کے پاس گیا تو وہ میری ہدایات غور سے سننے کے بعد فرمانے لگا کہ اگر میں مطلوبہ سٹائل کی بجائے اُس کی مرضی کا سٹائل اور داڑھی رکھ لوں تو مجھے بھی ثواب ہوگا اور اُسے بھی۔ میں نے عرض کی۔ اگر مجھے گناہ و ثواب، خیر و شر اور جائز و ناجائز کا مسئلہ لاحق ہوتا تو میں کسی نائی کے پاس نہیں کسی مفتی

Read more

ختم نبوت پر سیاست کا انجام

آنے والے انتخابات میں ختم نبوت کے عقیدے کے گرد گھومنے والی سیاست کسی فلسفی کی یاد تازہ کررہی ہے جس نے کہیں لکھا تھا کہ مرتبان میں وہ اقدار اور تصورات رکھیں جنہیں ایک معاشرہ یا گروہ مستقل اقدار سمجھتا ہے پھر اُن سے وہ اقدار اور تصورات نکال لیں جو دوسرے معاشروں میں مستقل اقدار اور قابلِ احترام تصورات نہیں سمجھے جاتے، آپ دیکھیں گے کہ جو ڈبہ کچھ دیر قبل اقدار اور تصورات سے بھرا پڑا تھا،

Read more