سکرپٹ کا قیدی

آدم اپنی لائبریری میں بیٹھا حسبِ معمول ایک ناول پڑھ رہا ہے۔ یہ ایک بڑی لائبریری تھی جس میں اس کے علاوہ کوئی داخل نہیں ہوسکتا تھا، ایک بڑا ہال ہے جس کے تین اطراف میں چھت کو چھوتی ہوئے ہوئے شیلف کتب سے بھرے ہوئے ہیں۔ ہال کی ایک دیوار آدم کے پسندیدہ ادیبوں…

Read more

علم کی دُنیا کے دو اسیر

آج سے کوئی بیس برس قبل ایک دوست میرے پاس ایک نوجوان کو لائے اور اس کا تعارف کراتے ہوئے بولے کہ نوجوان حقیقی متلاشی ہے، ہر وقت علم و دانش کی تلاش میں رہتا ہے، تمہارے کچھ خیالات اور ذوقِ مطالعہ کی خبر اس تک پہنچی ہے تو تم سے ملنے آیا ہے۔ نوجوان کی عمر کوئی سولہ برس تھی اور وہ اس وقت میٹرک کا طالب علم تھا۔ اس نے کچھ سوالات کیے تو پیشگی عرض کی کہ میں تو ابھی خود طالب علم ہوں، ان سوالات کا جو بھی جواب دوں گا، وہ جواب ہوگا جو میں اس وقت تک، اس لمحے تک درست سمجھتا ہوں۔ میری تلاش کا سفر بھی ابھی جاری ہے، میرے دیے ہوئے کسی جواب پر رُک نہ جائیے گا اور اگر رُک گئے تو کل کلاں مجھ سے یہ تقاضا مت کیجئے گا کہ میں کیوں آگے بڑھ گیا ہوں اور اپنے ہی پرانے جواب کا قائل کیوں نہیں رہا۔ میں نہ آپ کے سوال کا قیدی ہوں اور نہ ہی اپنے جواب کا۔

Read more

روزہ کیوں نہیں رکھا؟

جب سے ملتان چھوڑا ہر سال ایک یکم رمضان کو اور پھر ماہِ رمضان کے دوران کم سے کم دومرتبہ ملتان سے ایک فون ضرور آتا ہے ۔ مسکرا کر ہیلو کہتا ہوں تو جواب میں سوال پوچھا جاتا ہے ، ’’روزہ رکھا ہے؟‘‘ ۔ پوچھنے والا کا لہجہ پنجاب پولیس کے ایس ایچ او…

Read more

عہد ساز مغربی سیکولر صوفی کے افکار اور یادداشتیں

23 اپریل کی شب ہالینڈ سے تعلق رکھنی والی یورپ کی ایک عہد ساز شخصیت ڈاکٹر ایج۔ جے وٹوین (1921۔ 2019) کے انتقال کی خبر سنی تو بقیہ رات کا ہر لمحہ یاد در یاد جاگ کر گزرا۔ رات بھر ان سے ہونے والی ہر ملاقات اور اس طالب علم سے کی گئی ان کی…

Read more

عارفانہ حکومت اور معرفت کی باتیں

اس میں شک و شبے کی کوئی گنجائش نہیں کہ موجودہ حکومت ایک عارفانہ حکومت ہے اور غیبی طاقتوں سے براہ راست رہنمائی حاصل کر رہی ہے۔ اس کی پہلی دلیل یہ ہے کہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا میں پہلی بار مختلف وزارتوں کے لئے جب جواہر نایاب کے چناؤ کا وقت آیا تو…

Read more

جنگ کے موسم میں تاریخ کا پہلا ڈرافٹ

سرحدوں پر کشیدگی چل رہی ہو تو انتہاؤں کے ادب، معاندانہ تاریخ اور روایتی صحافت کے سانچوں پر ’بغرضِ خاص‘ ڈھالے گئے اذہان امن کی بات کرنے والوں کو یا تو غدار قرار دیتے ہیں پاپھر پوچھتے ہیں کہ اگر یہ صحافت ہے تو پھر کون سی صحافت ہے۔ جیسے پنجروں میں رہنے والے پرندوں…

Read more

ارتقا کے نظریات۔۔۔ ڈارون سے آگے

1960میں علم الحیوانات کی برطانوی ماہر جین گُڈآل (Jane Goodall) نے تنزانیا میں تانگانیاسکہ جھیل کے کنارے گومبی کے جنگلات میں قدم رکھا۔ وہ ان جنگلات میں ڈارون کے نظریہ ارتقا سے جڑے ایک اہم سوال کا جواب تلاش کرنے آئی تھیں ۔ وہ انسان کے ہم عصر جدِ امجد چمپنزی میں انفرادی و گروہی…

Read more

ایک گمنام اُستاد کے نام

دورانِ تعلیم میں تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ میں بھی کبھی استاد بنوں گا۔ یہ تصور نہ کرسکنے کی وجہ تدریس کو معمولی شعبہ قرار دینا نہیں بلکہ معاملہ ’ کہاں میں کہاں یہ مقام ‘ والا تھا۔ میں نے کبھی  اپنے آپ کو استاد ہونے کے اہل ہی نہیں سمجھا تھا۔ ماسٹرز کے…

Read more

ایک بوسے کا مول

فاسٹس اپنی لائبریری میں بیٹھا اپنے علم کا محاسبہ کررہا ہے۔ وہ اپنے دور کے ہر علم میں یکتا سہی مگر کوئی خلا ہے جو اُس کا علم بھی پُر نہیں کرپایا۔ یہ خلا ایک انوکھا مکالمہ جنم دیتا ہے۔ فاسٹس اکیلا ہے۔ وہ بیک وقت صادق بھی ہے اور سامع بھی۔ وہ علم کی…

Read more

گامے نے علامے کا گیان پانی میں بہادیا

گاما ہمارے گاؤں کے سالن روٹی بیچنے والے کا چھ سالہ اکلوتا بیٹا تھا۔ میں نے پہلی بار اسے اس وقت دیکھا جب میں بی اے کا امتحان پاس کرنے کے بعد درسی کتب سے آزادی کا جشن ان کتب کی بنیاد بننے والی کتابیں پڑھ کر منا رہا تھا۔ ان دنوں گاؤں کے ایک…

Read more
––>