بالآخر نیاگرا دیکھ آئے مگر وہاں نہیں، جہاں ربن بندھے تھے
واشنگٹن سے ٹورنٹو کا فاصلہ پانچ سو میل ہے۔ جاتے ہوئے ہم صبح چھ بجے گھر سے نکل گئے تھے۔ راستے میں ایک گیس اسٹیشن پر رکے، کار کی ٹنکی بھری، اپنی ٹنکی خالی کی اور چائے پی کر روانہ ہوگئے۔ سرحد پار کرنے میں پانچ منٹ بھی نہیں لگے۔ امیگریشن افسر نے سلیوٹ کیا اور پاسپورٹس پر مہر لگا کر الوداع کہا۔ شام پانچ بجے تک ہم منزل پر پہنچ چکے تھے۔
واپسی کی چاند رات بیوی اپنی امی اور بھابھی کے ساتھ ڈھائی بجے تک بین الاقوامی امور پر گفتگو رہی۔ صبح چھ بجے کون اٹھتا۔ آٹھ بجے کے بعد بیدار ہوئے اور نکلتے نکلتے ساڑھے دس بج گئے۔ پانچ سو میل کا سفر درپیش ہو تو ڈرائیور کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں۔ لیکن سواریوں نے شور مچایا کہ نیاگرا آبشار نہ دیکھا تو کیا دیکھا۔ چنانچہ گھڑی بند کرکے قطب نما کھولا تاکہ نیاگرا کا راستہ معلوم ہوسکے۔ یہ آبشار سرحد سے بیس میل دور ہے۔
آئی فون میں نقشوں کی ایپ بہت اچھی ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے گوگل یا کسی اور کی ضرورت نہیں۔ یہ ٹھیک راستہ اور سفر کا دورانیہ بتاتی ہے۔ اس بار بھی اس پر بھروسا کیا۔ لیکن نقشوں والی ایپ نے عجیب نقشے بازی کی۔ ایک پرانے قصبے کے بیچوں بیچ پہنچاکر آواز لگائی، ’’ارائیوڈ!‘‘
میں نے چوراہے پر گاڑی ایک طرف لگائی اور چاروں طرف گھوم کے دیکھا۔ سرخ اینٹوں والی ایک ڈیڑھ منزلہ عمارتوں کی قطاریں تھیں۔ میں نے سامنے ایک دکان دیکھی تو راستہ پوچھنے کے لیے اس میں داخل ہوا۔ وہاں ایک لڑکی فقط دو ربن پہنے کاؤنٹر پر بیٹھی تھی۔ ایک ربن نے بالوں کو سنبھالا ہوا تھا۔ دوسرے ربن نے بھی بے قابو جسم پر کچھ نہ کچھ ضرور سنبھالا ہوا ہوگا لیکن اس غریب کو دیکھنے کی تاب نہیں تھی۔ ہکلاتے ہوئے پوچھا کہ نیاگرا کہاں ہے؟ اس نے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا، یہاں!
میں نے کہا، محترم خاتون! میری بیوی باہر گاڑی میں بیٹھی ہے۔ وہ سیریل کلر ہے اور صرف حسین لڑکیوں کو تشدد کر کے مارتی ہے۔ اب بتاؤٴ، نیاگرا آبشار کہاں ہے؟ معصوم لڑکی نے کہا، بڑے میاں! کہہ تو رہی ہوں کہ یہاں ہے۔ اس قصبے کا نام نیاگرا ہی ہے۔

میں مایوس ہوکر باہر نکل آیا۔ بچوں نے پوچھا، کیا ہوا؟ میں نے بتایا کہ ایپ نے دھوکا دے دیا۔ ہم نیاگرا آبشار جانا چاہتے تھے۔ یہ ہمیں نیاگرا نام کے قصبے لے آئی۔ بچوں پر گھڑوں پانی پڑ گیا۔ میں نے کہا کہ اب بس۔ کسی اور موقع پر آبشار دیکھ لیں گے۔ واپسی کو دیر ہو رہی ہے۔ سرحد کی طرف چلتے ہیں۔
گاڑی موڑی اور ایک سڑک پر ڈال دی جس کے اختتام پر حضرت آدم کے زمانے کا گرجا گھر نظر آ رہا ہے۔ وہاں پہنچ کر تمام گاڑیاں بائیں جانب جاتی دکھائی دیں۔ ہم ان کے پیچھے چل پڑے۔ ایک کلومیٹر دور بازار تھا۔ بازار میں دکانیں تھیں سیاحوں کا دل لبھانے والی اشیا سے بھری ہوئی۔ رنگ برنگی عمارتیں تھیں کارٹون کیریکٹرز کے مجسموں سے سجی ہوئی۔ طرح طرح کے ریستوران بھی تھے۔ سچ یہ ہے کہ ایک ریسٹورنٹ پر حلال لکھا دیکھ کر بھوک چمک گئی۔
سڑک چھوٹی تھیں اور ٹریفک زیادہ۔ ایک پلاٹ پر پارکنگ کا بورڈ دکھائی دیا تو جھٹ اس میں گھس گئے۔ گاڑی کھڑی کرنے کی اجازت مل گئی۔ جرمانہ ادا کیا، دس ڈالر۔ پارکنگ بوائے نے مطلع کیا کہ دائیں جاکر بائیں مڑیں تو سامنے وہ آبشار ہے جسے دیکھنے کے لیے جوق در جوق لوگ آتے ہیں اور ڈالر لٹاتے ہیں۔
ہمیں ایک میل چلنا پڑا۔ دھوپ تیز تھی اور جب تک ہم آبشار پر پہنچے، ہمارے جسم سے بھی پسینے کا آبشار بہہ رہا تھا۔ پانی کو دریا میں گرتے دیکھنا دلفریب نظارہ تھا۔ ہم دریا کے دوسرے کنارے پر تھے۔ سامنے کچھ لوگ آبشار کے قریب بلکہ اس کے نیچے بھی گھومتے پھر رہے تھے۔
دس منٹ ٹھہر کے اور دس تصویریں کھنچنے کے بعد وہاں کھڑے رہنے کی وجہ سمجھ میں نہیں آئی۔ لہذا واپس ہوئے اور دائیں بائیں دکانیں اور میوزیم جھانکتے رہے۔ رابرٹ رپلے میوزیم، گینز ورلڈ ریکارڈ میوزیم، مومی مجسموں کا میوزیم، ڈریکولا میوزیم، ایک سڑک پر اتنا کچھ تھا کہ سرسری دیکھنے میں بھی گھنٹے لگ جائیں۔ لیکن پیٹ میں چوہے دوڑ رہے تھے اور سب کچھ دھندلا دکھائی دے رہا تھا۔
عربی ہوٹل پارکنگ کے سامنے تھا۔ ہم نے شوارما چاول، برگر اور پزا سے پیٹ پوجا کی۔ تربوز کا ٹھنڈا ٹھار جوس بھی پیا۔ اس کے بعد اپنی بوڑھی گاڑی کو تھپکی دی اور تانگے والا خیر منگدا گاتے ہوئے سرحد کا رخ کیا۔



