عاطف میاں کی آمد بہت معنی خیز ہے


ان کے پاس ایک جادو کی چھڑی ہے گھمائیں گے پاکستان کی برامدات جنگی رفتار سے بڑھنا شروع ہو جائیں گی۔ جب برامدات بڑھ جائیں تو ادائیگیوں کے توازن کامسئلہ چٹکی بجاتے ہی حل ہو جاتا ہے۔ پھونک ماریں گے بیرون ملک مقیم پاکستانی دھڑا دھڑ اپنی تمام جمع پونجی پاکستان بھیجنا شروع کر دیں گے۔ ان کی آنکھ کا ایک اشارہ ہو گا بیرون ملک چھپائے گئے اربوں ڈالر پاکستان آجائیں گے۔ یہ اپنی چھڑی سے ان تمام جگہوں کی نشاندہی کر دیں گے جہاں تیل اور گیس کے بہت بڑے ذخائر موجود ہیں۔ یہ جادو گر ہیں پھونک ماریں گے تمام ادارے آئین اور قانون کے مطابق اپنے اپنے دائرہ کار میں چلنے لگیں گے۔ ملک میں سیاسی افراتفری ختم ہو جائے گی۔ حصص بازار میں بے پناہ سرمایہ کاری کا آغاز ہو جائے گا۔ عالمی ریٹنگ ایجنیسوں کی ایسی کی تیسی پاکستان کی معاشی ریٹنگ ایشیا میں سب ممالک سے بڑھ جائے گی۔

عاطف میاں عالمی بینک کے سابق نائب صدر اور ملک معراج خالد دور کے نگران وزیر خزانہ شاہد جاوید برکی کے شاگرد ہیں اور شاہد جاوید برکی وزیراعظم عمران خان کے کزن ہیں۔ امریکہ میں مقیم دنیا کے یہ عظیم معاشی ماہر جب پاکستان کی معاشی کایا پلٹنے نگران وزیر خزانہ بنے تو انہوں نے معیشت کے مختلف شعبوں کی بحالی کے لئے خود سے کچھ کم تر معاشی ماہرین پر مشتمل ایک مشاورتی کمیٹی بنائی تھی۔ اس کمیٹی کی متعدد ذیلی کمیٹیاں تھیں جنہوں نے اپنی رپورٹیں تیار کی تھیں اور وہ رپورٹیں آج بھی وزارت خزانہ کی فائلوں میں موجود ہیں۔

ہمیں شک ہے شاہد جاوید برکی نے اپنے ہونہار شاگرد کی سفارش کی ہو گی کہ جو کام وہ وزارت کے دوران نہیں کر سکے ان کا ہونہار شاگرد کر گزرے۔
امریکی پاکستان سے بہت پیار کرتے ہیں اور ہمارے فوجی بھائی امریکیوں سے بے پناہ محبت کے اظہار میں نہیں ہچکچاتے۔ ان دنوں سی پیک کی وجہ سے کچھ مسائل ہیں اور کچھ معاملات افغانستان کے ہیں اور کچھ چینیوں کے قرضوں کا معاملہ ہے اور کچھ 12 ارب ڈالر کے لگ بھگ عالمی ادائیگیاں ہیں اس لئے امریکیوں سے ماضی کی طرح کھلے عام اظہار محبت میں چند مسائل درپیش ہیں۔ لیکن راستے موجود ہیں،

ایک جنرل صاحب کی مدد امریکیوں نے معین قریشی نامی ماہر معیشت کے ذریعے کی تھی۔ ان صاحب نے وزیراعظم بن کر پاکستانی معیشت خوب ہی مستحکم کی تھی اور وزارت عظمی سے فراغت کے بعد اپنے آبائی وطن امریکہ واپس چلے گئے تھے۔ پھر ایک بھارتی کمپنی کو بھی اپنے خاص معاشی جوہر سے فیض پہنچایا تھا اور بھاری تنخواہ بھی وصول کی تھی۔

امریکیوں نے پاکستان کی محبت میں ایک اور جنرل صاحب کی مدد کے لئے شوکت عزیز نامی اڑن طشتری کو پاکستان بھیجا تھا، ان صاحب کے لئے لندن کلب اور پیرس کلب کے قرضے ری شیڈول کیے گئے تھے۔ افغانستان پر امریکی حملہ کے دوران دنیا پھر کے ترقی یافتہ مغربی ممالک کے اعلی سطحی وفود روز ہی پاکستان آتے تھے کوئی اپنے 100 ملین اور کوئی دو سو ملین اور کوئی زیادہ رحم دل 300 ملین ڈالر کے قرضے سماجی شعبہ کیی ترقی کی گرانٹس میں تبدیل کرنے کا اعلان کرتا تھا۔ یہ صاحب پھر وزیراعظم پاکستان بنائے گئے اور اپنی وزارت عظمی سے فراغت کے بعد اپنے آبائی وطن امریکہ واپس سدھار گئے تھے۔

اب عاطف میاں آئے ہیں۔ یہ صاحب بھی فراغت کے بعد اپنے پیشروں کی طرح غالب امکان ہے امریکہ واپس پدھار جائیں گے۔ عاطف میاں کی آمد بہت معنی خیز ہے، جب پہلے والے دو آئے تھے یا بھیجے گئے تھے اس وقت معاملات اور تھے۔ آج معاملات اور ہیں۔ امریکی کھلے عام چین کے ون بیلٹ ون روڈ کی مخالفت کر رہے ہیں، بھارتی کھلے عام سی پیک کی مخالفت کر رہے ہیں۔ امریکی سی پیک کے روٹ کو متنازعہ علاقہ کا منصوبہ قرار دے چکے ہیں، بھارتی سی پیک کو متنازعہ علاقہ کا منصوبہ قرار دے چکے ہیں۔

چینی ون بیلٹ ون روڈ منصوبے میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری 39 ارب ڈالرسی پیک پر کر چکے ہیں۔ امریکی جامعہ میں عاطف میاں نامی پروفیسر کی امیج بلڈنگ کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے اور دنیا کا نامور ماہر معیشت قرار اس طرح دیا جا رہا ہے گویا ان کے پیچھے پیچھے ڈالروں کا ایک سیلاب آ رہا ہے۔

عاطف میاں کی قرضوں کی متعلق ایک کتاب کو ایک جادو نگری قرار دیا جا رہا ہے لیکن کوئی یہ نہیں بتاتا سو فیصد قرضوں میں ڈوبے امریکیوں نے اس کتاب کے مندرجات پر عمل کرتے ہوئے اپنی معیشت کے سو فیصد قرضوں سے نجات کیوں حاصل نہیں کی۔

پاکستان کو اپنی بین الاقوامی ادائیگیوں کے لئے آئی ایم ایف کا پروگرام درکار ہے اور یہ پروگرام امریکیوں کی اجازت کے بغیر نہیں ملے گا۔ امریکی وزیر خارجہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں آئی ایم ایف پروگرام سی پیک کے چینی قرضوں کی ادائیگی کے لئے لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

کیا اب یہ ہو گا عاطف میاں ائی ایم ایف پروگرام کے لئے سی پیک منصوبوں پر نظر ثانی کریں گے؟ کیونکہ اس کے بغیر تو آئی ایم ایف پروگرام نہیں ملے گا اور یہ پروگرام نہ ملا تو پاکستان کو نادہنگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کیا سعودی عرب درکار نو ارب ڈالر فراہم کرے گا، زرمبادلہ کے موجودہ زخائر سے تین ارب دالر کا بندوبست کیا جا سکتا ہے، کیا چینی جو سی پیک کے متعدد منصوبوں کے لئے فنڈنگ روک چکے ہیں وہ عالمی ادائیگیوں کے لئے درکار پیسے دیں گے۔ دونوں باتیں ممکن نہیں افغانستان میں ایرانیوں کے ساتھ نئے ہنی مون کی وجہ سے سعودی بھی ناراض نظر آتے ہیں اور چینی تو برکس کانفرنس مین حقانی نیٹ ورک کو دہشت گرد قرار دے کر، تاسک فورس کے اجلاس مین پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالنے کی اجازت دے کر اور سی پیک کی فنڈنگ روک کر اپنے غصے کا اظہار کر چکے ہیں وہ اگر مدد کریں گے تو سی پیک کی شرائط پر۔

اگر چینیوں کے اضطراب کا احساس کیا جاتا تو سی پیک پر جنگی رفتار سے عملدرآمد کرانے والے نواز شریف کو وزارت عظمی سے فارغ نہ کرایا جاتا۔ ہمیں خوف ہے وزارت خزانہ کی مشاورتی کمیٹی کی سربراہی عاطف میاں نامی معاشی جادوگر کو دی جائے گی اور سی پیک کے تابوت میں اخری کیل ٹھوکنے کا ہتمام کیا جائے گا۔ لیکن کیا یہ اتنا آسان ہو گا۔ کیا چینی اتنی آسانی سے ون بیلٹ ون روڈ کے اہم ترین جزو سی پیک کو امریکی سازشوں کا شکار ہونے کی اجازت دیں گے؟ امریکی دور ہیں اور چینی بہت قریب۔ امریکی جہاز ڈوب رہا ہے اور چینی ابھر رہے ہیں، ہم سمجھتے ہیں امریکیوں کو چینیوں پر وقتی سبقت حاصل ہوئی ہے اور جب چینیوں نے بھی پاکلستانی میڈیا پر سرمایہ کاری شروع کر دی اور بڑے بڑے لوگوں پر دشت شفقت رکھ دیا تو پھر کیا ہو گا؟

Facebook Comments HS