احمدی بڑے چالاک ہیں
شاید مسئلہ بہت سادہ ہے جسے بہت پیچیدہ بنا دیا گیا ہے۔ یک طرفہ بات کہی اور یک طرفہ سنی گئی ہے جس کی وجہ سے تحقیق سے عاری ہماری قوم بہت سے خود ساختہ اور خود سوچتہ باتوں کے فریب میں جکڑی جا چکی۔ ایسے ایسے قصے کہانیاں سنائی گئیں کہ کوئی اس کے مقابل حقیقت کو دیکھنے اور پرکھنے کو تیار نہیں۔
جرمنی میں بوسنیا کے باشندے مہاجر ہو کر آئے، ان میں مسلمان ہونے کے باوجود کزن میرج کا تصور نہیں تھا۔ ان سے جب بات ہوتی کہ دیکھو اسلام میں جائز ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے ثابت ہے تو ان کا جواب ہوتا ہمیں حضورکا پتہ نہیں ہم تو وہی صحیح سمجھتے ہیں جو حوجا (امام یا مولوی) ہمیں کہتا ہے۔ لگتا ہے ہم بھی بوسنیا کے مسلمانوں کی صف میں داخل ہوچکے ہیں۔
کسی کو یہ غرض نہیں کہ عاطف میاں کون ہے؟ اس کو کوئی نوکری دی جارہی ہے ؟ ایڈوائزر کا کام کیا ہوتا ہے؟ بس کسی نے لکھ دیا یہ قادیانی مبلغ ہے ، کسی نے تحریر فرمایا یہ احمدی خلیفہ مرزا مسروراحمد کا مالیاتی مشیر ہے۔ایک لایعنی بحث جاری ہے کہ احمدیوں نے ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالا ہے، یہ ختم نبوت کو نہیں مانتے، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کر تے ہیں، عاطف میاں پہلے آئین کے مطابق اپنے آپ کو غیر مسلم مانے پھر ہم اسے مشیر مانیں گے۔ وغیرہ وغیرہ
اسی بحث میں ایک دوست نے، جو احمدی نہیں ہے، فیس بک پر یہ شعر لکھا اور دانستہ شاعر کا نام نہیں لکھا۔
وہ پیشوا ہمارا جس سے ہے نور سارا
نام اس کا ہے محمد دلبر میرا یہی ہے
ہر طرف سے داد وتحسین کے نعرے بلند ہوئے ۔ لبیک یارسول اللہ والوں نے بھی دل کھول کر داد دی۔ شرعی داڑھی والے علماء بھی آگے بڑھے اور واہ واہ کیا۔ کوئی ایک گھنٹے بعد مذکورہ دوست نے دوبارہ لکھا کہ یہ شعر مرزا غلام احمد صاحب کا ہے۔
مجھے اس پر ایک واقعہ یاد آگیا ۔ سر فضل حسین متحدہ ہندوستان کی سیاست میں ایک بہت بڑا نام تھے انہیں پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ چوہدری سر محمد ظفراللہ خان صاحب کا سیاسی مربی بھی کہا جاتا ہے۔ اس وقت کے علماء ان کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ آپ ظفر اللہ خان سے بڑی محبت کرتے ہیں اور اسے دل سے لگاتے ہیں حالانکہ وہ جس شخص کا ماننے والا ہے وہ تو گستاخ رسول ہے۔ سر فضل حسین اٹھے اور اپنی لائیبریری سے مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی نظموں کی کتاب ” درثمین ” اٹھا لائے اور کہنے لگے پہلے یہ کتاب پڑھ لیجئے اس کے بعد مرزا صاحب پر باقی جو مرضی الزام لگائیں مجھے اعتراض نہیں لیکن گستاخی رسول کا الزام آپ نہیں لگاسکتے۔ یہ کتاب انٹرنیٹ پر بھی موجود ہے اور اس کتاب میں جابجا مرزا صاحب نے اپنے آپ کو غلامِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم لکھا ہے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو افضل الانبیاء اور خیرالمرسلین لکھا ہے۔
جہاں تک ختم نبوت کو نہ ماننے والی بات کا تعلق ہے، احمدی جماعت کے سربراہ/خلیفہ نئے آنے والے سے جو بیعت لیتے ہیں جو یقیناًعاطف میاں نے بھی کی ہوگی۔ یہ بیعت ہر سال جماعت احمدیہ کے جلسوں پر براہ راست ٹی وی پر نشر کی جاتی ہے اور یوٹیوب وغیرہ پر بھی موجود ہے۔ اس بیعت میں کلمہ شہادت پڑھ کر دوسرے فقرے ہی میں یہ الفاظ دہرائے جاتے ہیں کہ ”میرا پختہ اور کامل ایمان ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین ہیں۔”
مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہم اصول اور ضابطے کے مطابق بحث اور مکالمے کے عادی نہیں رہے اور یک طرفہ الزامات کی رو میں بہتے چلے جارہے ہیں ۔
ایک اور واقعہ سن لیجئے ، پچھلے دنوں ایک ویڈیو وائرل ہوئی کہ قادیانی حضرات اپنا قرآن کریم گوگل سٹور کے ذریعے ڈاون لوڈ کرنے کے لئے پیش کررہے ہیں، یہ قادیانیوں کا قرآن ہے اس سے سادہ لوح مسلمان ہوشیار رہیں وغیرہ۔ ایک دوست نے مجھے بھی وہ ویڈیو بھجوائی ۔ میں نے جواب دیا کہ وہ قرآن کریم میں نے اپنے فون پر ڈاون لوڈ کیا ہے مجھے تو ایک زیر زبر کا بھی فرق نظر نہیں آیا جہاں تک ترجمے کا تعلق ہے وہ تو کوئی سے دو مترجم بھی ایک ہی طرح کے لفظ نہیں لکھتے ترجمے کے مفہوم میں فرق نہیں ہونا چاہیئے۔ پڑھ کر نشاندہی کردیں کہ کہاں فرق ہے کہ اسے قادیانی قرآن سمجھا جائے۔ کافی دیر بعد جواب آیا ”یہ احمدی بڑے چالاک ہیں ابھی یہ اصل قرآن ہی ڈاون لوڈ کروا رہے ہیں جب کافی سارے لوگ ڈاؤن لوڈ کرلیں گے تو یہ اپ گریڈ میں اپنا قرآن ڈال دیں گے۔”
احمدی لٹریچر پر پابندی لگا چکے۔ ان کا روزنامہ بند ہوچکا ۔ ان کا اپنا لٹریچر، اپنے ہی لوگوں کو فروخت کرنے کے ”جرم” میں نوے سالہ شکور بھائی کئی سالوں سے جیل میں پڑے ہیں، ان کی ویب سائیٹس پر پابندی لگ چکی۔ اب حق اور سچ کیسے سامنے آئے۔ میری تو خواہش ہے کہ احمدی لٹریچر ، ویب سائیٹس اور ویڈیوز پر پابندی اٹھائیں وہاں سے ثبوت کے ساتھ چیزیں ہم جیسے ناسمجھوں کے لئے سامنے لے کر آئیں تاکہ ہم بھی آپ کے ساتھ مل کر احمدیوں پر تبرا کرسکیں ورنہ یہ احمدی بڑے چالاک ہیں۔


