رائزنگ انڈیا کے کھوکھلے نعرے

قوموں کی ترقی کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ آج کی مہذب اورترقی یافتہ قومیں بھی کبھی شدیدجنگی جنون میں مبتلا رہی ہیں۔ کینیڈا اور امریکہ کے درمیان باقاعدہ جنگ لڑی گئی، فرانس اور انگلستان بھی کبھی ازلی دشمن تھے، جرمنوں نے تو خیر انگریزوں کے علاوہ پوری دنیا ہی کو تگنی کا ناچ نچائے رکھا۔ آئر لینڈ انگلستان کئی دہائیاں باہم برسر پیکار رہے۔ جاپانی بھی جنگی جنون میں مبتلا رہے اور ہر دوسری قوم کے ساتھ ان کی لڑائیاں رہیں۔ لائپزگ، واٹرلو، سٹالن گراڈ، ٹرافیلگر، پرل ہاربر، ہیروشیما، ناگاساکی وغیرہ۔ انہی قوموں کی جنگی داستانیں ہیں۔

لیکن جیسے جیسے قوموں نے شعوری اور علمی ترقی کی اورخوشحالی کی شاہراہ پر قدم آگے بڑھایا وہ تنازعات اور جنگوں وجدل سے دور ہوتی گئیں۔ بدلوں کی آگ، ازلی دشمنی، تباہی و بربادی جیسے لفظ بتدریج ان کی لغت سے نکلتے گئے اور افہام و تفہیم، بات چیت، تحمل وبردباری جیسے لفظ پوری شان کے ساتھ ان کی روزمرہ زندگی میں جگمگانے لگے۔

Read more

کینیڈا کیوں اور کیسے

فیس بک پروفائل پر ٹورانٹو، کینیڈا لکھا دیکھ کر بھی کچھ لوگ، خصوصاً نوجوان فرینڈ ریکویسٹ بھیجتے ہیں۔ دوست بننے کے بعد ان باکس تشریف لاتے ہیں۔ یہ زیادہ تر کینیڈا جانے کے خواہشمند ہوتے ہیں۔ ان کی دلچسپی کے لئے کافی دنوں سے ایک معلوماتی مضمون لکھنا چاہ رہا تھالیکن سستی آڑے آتی رہی۔ آج اوپر تلے دو لوگوں کی طرف سے کیے گئے سوالات نے مجبور کر دیا کہ یہ نیک کام جلدی کروں۔ پہلے آج کی گفتگو ملاحظہ فرمائیں۔ (اس وضاحت کے ساتھ کہ میں امیگریشن ایکسپرٹ نہیں ہوں، میری رائے مخلصانہ ضرور ہوگی پروفیشنل نہیں ) ۔

”کیاحال ہے؟ “ جی ٹھیک ہوں۔ ”کیا ہو رہا ہے؟ “ میری طرف سے خاموشی۔ ”آپ مصروف ہیں؟ “ نہیں ویلا، فرمائیے۔ ”آپ کینیڈا ہوتے ہیں؟ “ جی۔ ”آپ کینیڈا کیسے گئے تھے؟ “ جہاز پر۔ ”میرا مطلب کس ویزے پر گئے تھے؟ “ جی کینیڈا کے ویزے پر۔ ”آپ نہیں سمجھے، بہرحال میں آنا چاہتا ہوں کینیڈا کچھ گائیڈ کریں۔ “

Read more

مرنے اور مارنے سے ارادے سرد نہیں ہوتے

فیض آباد کے اس پل کے نیچے سے گذر رہا ہوں جہاں بیٹھ کر سال بھر پہلے ایک "خادم" نے دارالحکومت کی شہ رگ بند کر دی تھی۔ آج وہاں ایک بڑا بینر لگا ہوا ہے جس پر جلی حروف میں تحریر ہے“ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے”۔ شہر اقتدار میں انڈین فورسز کی…

Read more

ایک شام، حاشر ابن ارشاد کے نام

حاشر ابن ارشاد کی تحریریں ہمیشہ دل و دماغ پر ایک عجیب اثر چھوڑتی رہی ہیں۔ یہ نہیں کہ حاشر کوئی مافوق الفطرت شخصیت یا خاتم العلما ہیں کوئی صوفی ہیں یا موٹیویشنل اسپیکر۔ لیکن ان کی تحریر یا بحث، فکر کے نئے دروازے ضرور کھولتی ہے اور ہم جیسے طالب علموں کو سیکھنے اور…

Read more

سب بچوں کے امی ابو ہوتے ہیں۔۔۔

کل سے جب بھی آنکھیں بند کرتا ہوں، کتاب کھولتا ہوں، ٹی وی دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں، گھر کے سامنے پارک میں معصوم بچوں کو کھیلتے دیکھتا ہوں دو معصوم بچیوں کے چہرے آنکھوں کے سامنے گھوم جاتے ہیں۔ فرشتوں جیسی پاکیزگی اور معصومیت لیکن ڈری سہمی خاموش پرچھائیاں میرے سامنے نوحہ کناں ہیں۔…

Read more

جاگتے رہنا ہم غریبوں کی رقمیں لگی ہوئی ہیں

ہمارا پیارا بھائیوں جیسا دوست زبیر سیاف بحریہ کراچی میں پلاٹوں کا لین دین کرتا ہے۔ اس نوجوان نے بڑی محنت کے ساتھ اپنا مقام بنایا۔ پہلے کسی کمپنی کے ساتھ کام کرتا تھا اب اپنی کمپنی کھڑی کرلی ہے۔

کافی سالوں سے کہہ رہا تھا کہ بحریہ میں سرمایہ کاری کریں۔ اپنے کاروبار سے زیادہ اس کا مقصد یہ بھی تھا کہ لوگ بحریہ میں لاکھوں بنا رہے ہیں آپ کیوں محروم ہیں۔ اسے بتایا کہ یار جانی لوگوں کے پاس پیسہ ہے اور ساری عمر سے سن رکھا ہے پیسہ پیسے کو کھینچتا ہے۔ ہمارے پاس پیسہ نہیں اس لئے ہم لاکھوں چھوڑ ہزاروں بھی نہیں بنا سکتے۔

Read more

کوا حلال ہے یا حرام

ایک واقعہ بچپن سے پڑھتے، سنتے آرہے ہیں کہ ہلاکو خان نے جب بغداد پر حملہ کیا تو وہاں کے علماء اس بحث میں مصروف تھے کہ کوا حلال ہے یا حرام۔

یہ واقعہ حقیقت پر مبنی ہے یا صرف حکایت، بہرطور قوموں کے زوال کی طرف ایک سچا اور تلخ اشارہ ضرور ہے۔ جب قوموں کے علماء اور افراد (علماء بھی انہی افراد میں سے ہوتے ہیں ) نان ایشوز پر زیادہ دھیان دیں اور فضول بحثوں میں پڑجائیں، مسائل کا تجزیہ اور انہیں حل کرنے کی بجائے مسائل بڑھانے والی لایعنی بحثوں میں الجھ جائیں تو ہلاکو چھوڑ کوئی کاکو بھی ہو تو ایسی قوموں پہ بھاری رہے گا۔

Read more

علم و کمال آپ کی میراث، کیا کہا

احتساب ہے یا سیاسی انتقام، جرم ہے یا محض دباؤ، چور ہے یا محض شور، نیب ہے یا غیب، بہرحال اتنا طے ہے کہ مجموعی صورتحال بڑی افسوسناک اور مضحکہ خیزہے۔ اس لئے کہ ایک سابق صدر، ایک پارٹی کا سربراہ اور ایک بڑے صوبے کے وزیراعلی کا نام ای سی ایل پہ ڈال دیا گیا ہے۔

قوم اپنا حساب خود لگا لے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ ایک وزیراعظم سات سال کے لئے جیل میں ہے، بدعنوانی کے بے شمار الزامات اس کے سر پر ہیں۔ پنجاب کے خادم اعلی کو نادم اعلی بنانے کی کوشش جاری ہے۔ متحدہ علما کونسل کے ”پان مارکہ“ سربراہ کو نیب طلب کرچکی اور نیب کی زیر حراست شخص اسمبلی میں نیب کی طلبی کررہا ہے۔

Read more

مومنین بنیادی باتوں سے آگے کب بڑھیں گے

مجھے ایک مغربی ملک میں ایک پاکستانی، پردہ دار عورت سے کیے گئے سوال کا جواب نہیں بھولتا۔ جب پوچھا گیا کہ کسی مارکیٹ یا پبلک پلیس پر آپ گوروں کی موجودگی میں تو پردے کی سختی سے پابندی نہیں کرتیں، کسی پاکستانی کو دیکھ لیں تو فوراً منہ سر لپیٹنے لگ جاتی ہیں بقول سہیل وڑائچ یہ کھلا تضاد نہیں؟ جواب ملا کہ ہم برقعہ پہنے ہوئے بھی ہوں تو کبھی کسی گورے نے ہماری طرف دیکھنا بھی نہیں جبکہ اپنے لوگ وہیں کھڑے پاوں کے ناخن سے لے کر سر کے بالوں تک ایکسرے کر جاتے ہیں۔ دیدے پھاڑے اپنی نگاہوں سے برقعے اور نقاب تک کو چیرنے کی کوشش کرتے ہیں اس لئے ان کی نگاہوں سے بچنے کے لئے پردہ کرنا زیادہ ضروری ہوجاتا ہے۔

Read more

ویڈیو کیمرا اور سستا انصاف

ویڈیو کیمرا بھی ایک حیرت انگیز ایجاد ہے۔ سینما کے لئے فلمیں بنانے والے بڑے بڑے کیمرے سمٹ کر موبائل فون کے ننھے سے لینز تک آپہنچے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے اس سفر میں مظلوم اور مجبورپاکستانیوں نے جس چیز سے سب سے زیادہ فائدہ حاصل کیا وہ یہی کیمرا ہے۔

اگرنواز شریف کے گارڈز پابند سلاسل ہیں، اگرخاتون کو پستول کے زور پر گالیاں بکنے والا واصف عباسی چین فرارہے، سیالکوٹ میں خواجہ سرا پر مردانگی دکھانے والا ججا بٹ نامی بدمعاش اگرقانون کی گرفت میں ہے، مری میں سیاحوں پر ہونے والے تشدد پر وزیر اعلی کا فوری ایکشن اور پولیس کی ”پھرتیاں“ ہیں، مسجد میں قاری کا بچوں پر پائپ کے ذریعے بہیمانہ تشدد اور گرفتاری ہے، تربت جیسے علاقے میں پولیس تشدد اور پولیس والے کی معطلی ہے اور ان جیسے چھوٹے بڑے تشدد کے واقعات میں طوہاً وکرہاً ہی سہی کچھ ہل جل ہوئی تو وہ ایسے ہی کیمروں کی بنائی گئی ویڈیوز کی مرہون منت ہے۔

Read more