منٹو وہ بے رحم افسانہ نگار تھا جو مکروہ شکلوں اور سڑاند زدہ معاشرے کے قالین کے نیچے دبے گند کو دکھاتا تھا۔ اس پر مقدمے بنے، اسے فحش نگار قرار دیا گیا لیکن وہ لکھتا رہا۔ ایک مختصر افسانہ ”کھول دو“ بھی تھا۔ جس میں تقسیم ملک کے وقت اپنوں کے ہاتھوں جگہ جگہ جنسی درندگی کا شکار بنی لٹی پٹی سکینہ آزار بند کھول کے شلوار نیچے سرکا دیتی ہے۔
منٹو کی یہ کہانی اس بدبودار سماج کی کہانی ہے جس کے مکروہ چہرے پر پاکیزگی اور تقدیس کی ملمع کاری ہے۔ نام نہاد دانشور جس کے قصیدے پڑھتے نہیں تھکتے اور انہیں پورے لباس میں کھیلتی خواتین کے جنسی اعضا بے حال کیے دیتے ہیں۔ جس معاشرے کے لئے مثال دینے کو فاطمۃ الزہرا جیسی بیٹی ہے لیکن حقیقت میں اس کے اعمال میں ہر روز کوئی زینب ہے تو کوئی موٹر وے والی خاتون، بنکوں میں کام کرتی عورتیں ہیں ہسپتال میں علاج کے لئے گئی مریضائیں اور قبرستان میں دفن لاشیں ہیں اور ہاں کشمور کی ننھی کلی ہے جس نے ماں کے اشارے پہ کیمرے کے سامنے اپنی شلوار کھول کے نیچے سرکا دی ہے۔
Read more