سرمہ ہے ميری آنکھ کا خاک مدينہ و نجف
اب یہ تھا کہ قطاروں میں بیٹھے مسلسل یہی دعا کر نے کا عمل تھا کہ مالک یہاں سے اتنی محنت کے بعد اب خالی ہاتھ نہ لوٹائیں۔آدھ پون گھنٹے کے بعد دو بجے دروازے کھلنے شروع ہوے تو کرم یہ ہوا کہ سب دروازے ذرا زرا سے فرق سے کھلتے چلے گئے اور کچھ مناسب وقت میں اس بار میں جالی کے اسقدر قریب جا پہنچی کہ جتنی پہلی دونوں بار میں نہ ہو سکی تھی۔اس بار مبارک جالی تک پہنچی،روضہ کی دیوار کو چھوا ،اسکے ساتھ کھڑے ہو کر ایک بار پھر وہ ساری مرادیں نکال کر پیارے نبی کے قدموں میں ڈھیر کئیں جنکا وزن میں ہر طرف ساتھ ساتھ اٹھاے پھرتی تھی۔اگر جو میں اس بار نہ آتی تو یہ سعادت تو ہر گز نہ پا سکتی تھی کہ دیوار کے اس پار ایک ہاتھ کے فاصلے پر کھڑی تھی ، اتنی قریب کہ یہاں سے سرگوشی بھی کرتی تو اندر ضرور سنای دیتی۔ اب جو مڑ کر دیکھتی ہوں تو اپنی ساری مرادیں محفوظ ہاتھوں میں پاتی ہوں۔۔کہ اس سے بڑھ کر انسان کا سہارا کیا ہو گا،اس ہاتھ کو تھام کر تو انساں بند آنکھوں سے پل صراط پار کر جائے گا یہ تو مجھ بیکار وجود کی کچھ حقیر سی التجائیں تھیں۔ابھی تک پیروں کے نیچے سبز قالین دکھائی نہ دیتا تھا۔ہجوم میں پھنسے کبھی یوں بھی لگا کہ کہیں ناکام ہی نہ لوٹنا پڑ جاے کہ ہجوم ہمیشہ کی طرح اس قدر تھا کہ کھوے سے کھوا چھلتا تھا۔پیچھے سے دھکے لگتے رہے اور میں ادھر ادھر گرتے آگے کو دھکیلی جاتی رہی۔نظریں کبھی جالی اور کبھی سبز قالین کو تلاشتی پھرتیں۔ کئی بار بیچ میں اپنی آخری حد سمجھ کر کھڑے کھڑے اشاروں سے نوافل بھی پڑھے۔ مگر یہ آخری حد نہ تھی کہ جس ریاض الجنتہ کی تسبیح کرتے ہم سارا مدینہ پھرے تھے اب اس تک رسائی کے بغیر نکالے جاتے بھلا یہ دنیا کے سخی ترین اور پوری کائنات کے لیے رحمت بن کر آئے پیارے نبی کے شایان شان کہاں تھا۔ ایسے ہی گھسٹتے گھسٹتے ایک بار پاوں کے نیچے سبز قالین جھانکنے لگا تو یوں لگا کہ جیسے تپتی دھوپ میں اچانک کوئ نخلستان آ گیا ہو۔آہ! میرے مولا !۔۔۔۔۔۔وہ کیا لمحہ تھا جب قدموں تلے ہرا قالین،ہاتھ بھر کے فاصلے پر نور سے بھری سبز جالی اور میرے بالکل سامنے ایک سجدے کے لئے خالی جگہ تھی ایسے جیسے وہ جگہ صرف میرے ہی لئے گھیر کر رکھی گئی تھی ۔میں ساتھ والی خاتون سے اجازت طلب کرتی وہاں پہنچی اور پہلی بار میں نے اشاروں کی بجائے سر فرش پر ٹکا کر، جنت کی زمیں پر اپنا پہلا سجدہ کیا۔ اک ایسا سجدہ کہ جسکے بعد انساں چاہتا ہے کہ بس آج اسی لمحے اس زندگی اس کائنات کا انت ہو جاے، آج زندگی کی گھڑیاں جامد ہو جائیں اور وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ ابدیت کے سفر پر جا نکلے، وہ گھڑی جب انسان کا اپنے آپ سے اس دنیا سے اور اس زمین کی ہر چیز سے جی بھر جاتا ہے اور وہ مڑ کر واپس لوٹنے سے بیزار آگے بڑھ کرفنا ہو جانا چاہتا ہے۔یہ جنت ہے جس میں داخل ہو کر انسان کو دنیا کی ہر نعمت،ہر خوشی اور ہر محبت سے نفرت ہو جاتی ہے۔
تحریر و فوٹوگرافی: صوفیہ کاشف



