سیکورٹی ادارے، ملتان ائیرپورٹ اور سیکورٹی

چند دن پہلے لگ رہا تھا کہ ہم رشوت دیتے بال بال بچ گئے ہیں آج لگا کہ نہیں ہم تو مرتے مرتے بال بال بچے ہیں۔ وہ جو ذرا سا تھا وہ دراصل بہت کچھ اور بھی ہو سکتا تھا۔ ہوا اس بار یہ تھا کہ اس بار ٹکٹس کے مسائل میں الجھ کر…

Read more

حامد میر اور جھکی جھکی نگاہیں

سچ کہنا اور سچی بات کرنا واقعی بہت اچھی بات ہے اور سچ کا سامنا کرنا اس سے بھی اچھی بات۔کیا واقعی ہر سچ کا پرچار کرنے والا سچ کا سامنا کرنے کی ہمت رکھتا ہے؟ میر صاحب آپ بھی تیس سالہ غلاظت کا سارا بوجھ پی ٹی آئ کی حکومت پر ڈالنے کی کوشش…

Read more

ایگزٹ ویسٹ پر تبصرہ

”جب ہم ہجرت کرتے ہیں تو ہم اپنی زندگیوں میں سے ان لوگوں کا قتل کردیتے ہیں جو ہم سے بہت پیچھے رہ چکے ہوتے ہیں۔ “

ہجرت کے ایک معانی زندگی سے سیکھے دوسرے محسن حامد کی کتاب سے۔ ایگزٹ ویسٹ ہجرت کا المیہ ہے مگر صرف ہمارے جیسے ہزاروں محفوظ مستقبل کی خاطر اپنی بنیادوں سے اکھڑ کر نئی جگہ پر جنم لینے والے تارکین وطن کا ہی نہیں، بلکہ اس سے کہیں آگے بڑھ کر ان لوگوں کا جن کی زمین کا دامن آگ پکڑ لے، آسمان پر ستاروں کی بجائے گولہ بارود چمکنے لگے، گلیوں میں موت رقص کرنے لگے، پاؤں زمین میں دھنسنے لگیں اور انسان کو صرف اور صرف زندگی کی خاطر اپنی زمین سے اکھڑنا پڑے۔ وہ اک بے نام محرومی اور کسک جو اک مہاجر کے قدموں میں ہر وقت بیٹری بنکر پڑی رہتی ہے تب کئی گنا بھاری اور خون آلود ہو جاتی ہے جب اس ہجرت کا مطلب ایک زمین سے اکھڑ کر دوسری زمیں پر اگنا نہیں بلکہ ہواؤں میں ٹوٹنا بکھرنا، گمشدہ ہو جانا، اور محض سانس کی تلاش میں ہر آنے والے دن کے لئے پہلے سے زیادہ بے حال ہو جانا ہو۔ یہی محسن حامد کی ایگزٹ ویسٹ کا موضوع ہے۔

Read more

پردیس میں پسنجر سیٹ سے کارگو تک کا سفر

زندگی اس وقت اک بیکار شے لگتی ہے جب انسان مٹی کی کھدی قبر کے سرہانے کھڑے ہو کر دیکھے۔ مگر اس وقت تو کمال ہی بیکار لگتی ہے جب انسان ہوائی جہاز کی پیسنجر سیٹ پر بیٹھ کر چمکتے دمکتے شیشے جیسے ملک میں جائے، بڑی اونچی اونچی گاڑیوں میں پھرے، کارپڈڈ سڑکوں پر سفر کرنے کا عادی ہو جائے، دنیا کے مہنگے ترین کپڑے، خوبصورت ترین گھر، اجلے روشن علاقے مگر جب واپس جائے تو ایک تابوت میں بند ہو کر کارگو کے جہاز پر سامان کے ساتھ ڈھو کر، ”فلاں فلاں کی انسانی باقیات“ کی شہہ سرخی کے ساتھ۔

تب اس کارگو کو سنبھالنے والوں ڈھونے والوں کو محسوس ہوتا ہے کہ ان کی زندگی کتنے بڑے گھاٹے کا سودا رہی ہے۔ زندگی کتنا بڑا دھوکا ثابت ہوتی ہے جب اس کے منہ سے نقاب الٹا جاتا ہے۔ کسی بھی وجہ سے، سہانے مستقبل کی خاطر یا ڈراؤنے حال سے ڈر کر پردیس اور پردیسی زندگی کی سختیاں تو ہم دن رات دیکھتے اور سمجھتے رہتے ہیں مگر اس کی انتہا کا اندازہ تب ہوتا ہے جب آپ کا کوئی قریبی بیمار پڑ جائے یا رحلت فرما جائے۔ زندگی تب ایک بار پھر چیخ چیخ کر دہائی دیتی ہے کہ یہ تھی وہ لش پش والی چمکدار زندگی جس کا مصنوعی لبادہ ہم سالوں چہرے پر ماسک کی طرح لپیٹے خود کو اور دوسروں کو آسائشیں دکھاتے اور ستائشیں سمیٹتے رہے۔

Read more

فورٹی رولز آف لو پر تبصرہ

”محبت زندگی کا پانی ہے اورمحبوب کی روح آگ ہے، اور جب اسی آگ کو پانی سے محبت ہو جائے تو کائنات کا رخ بدل کر رہ جاتا ہے“۔

ایک جادوئی، مسحورکن، دل کی تہوں میں طوفان برپا کر دینے والی تحریر جو ایک ترکش مصنفہ ایلف شفق کے قلم سے نکلتی ہے اور قاری پر اپنی ایسی تاثیر چھوڑ تی ہے کہ آپ پہلے لفظ سے خود کو بھول کر مصنفہ کے وجود میں سرایت کر جاتے ہیں اور اس کی تحریر کی دھڑکن کے ساتھ ساتھ رہڑکنے لگتے ہیں۔ قاری ایک ہی وقت میں اکسویں صدی کی یہودی عورت کی گھریلو، خوبصورت اور مکلمل زندگی کے ستم سہتا اور اس کی شناخت کے سفر میں اس کے حوصلے دیکھتا ہے تو ساتھ ہی ساتھ تیرہویں صدی عیسوی کے درویش کے ساتھ صحراوں کی خاک چھانتا، عشق کے عین سے قاف تک کے سبق سکھاتا، فلسفی کو اس کے مرتبے سے اتار کر شاعر، رقاص اور ملنگ بناتا، تڑپاتا، سِسکتا اور فنا ہو جاتا ہے۔ قاری دو مختلف صدی کے دو مختلف کرداروں میں ایک روح ایک وجود کی شبیہ دیکھتا ہے۔ ایمان اور یقین جو دنیاییں بدل دیتا ہے لہروں کے رخ موڑ دیتا ہے اور۔ عشق حقیقی جو توڑ کر جوڑ دیتا ہے، بگاڑ کے بعد تعمیر دیتا ہے اور فناییت کے بعد امر ہو جاتا ہے۔

Read more

کمزور مائیں، غیر محفوظ بچے

بہت ہی پرانی بات ہے کہ ”ملک کی پچاس فی صد سے زائد عورت کی تعداد کو مضبوط کیے بغیر کوئی ریاست ترقی نہیں کر سکتی“۔ نئی بات یہ ہے کہ ”مضبوط عورت کے بغیر آپ کی فیملی محفوظ نہیں ہو سکتی“۔ محفوظ بچوں کے لئے ایک مضبوط ماں بہت ضروری ہے۔ ہمارے ملک کی…

Read more

عرب امارات اور ڈرائیونگ لائسنس

سونے کے لئے لیٹتی ہوں تو ہزاروں چھوٹی بڑی گاڑیاں سر کے اوپر سے بھاگنے لگتی ہیں۔ ڈراونے ٹرالر، موٹے موٹے ڈرم مکسر، لوڈرزاور خوفناک ڈراؤنی آنکھوں والی اونچی اونچی کرینیں، گاڑی کے بیک ویو مرر سے غرانے لگتے ہیں اور جو گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ مجھے سستانے کو ملتا ہے میں اس میں ساری ٹریفک کے بیچ میں پھنسی اپنی چھوٹی سی گاڑی کسی کھائی میں، کسی لینڈ سلائیڈنگ کی نکڑ پر یا کسی گہری کھائی کی پگڈنڈی پر چلانے کی کوشش کرتی رہتی ہوں۔

یہ میرے کوئی ڈراؤنے خواب نہیں بلکہ ڈرائیونگ ٹرینگ کلاس کے بعد آنے والے وہ ہچکولے ہیں جو اگلے کئی گھنٹوں تک جاگتے میں یا سستاتے مجھے جھٹکے دیتے رہتے ہیں خصوصاً تب جب میں کم سے کم دو تین گھنٹے کی نیند کے بعد خود کو تازہ دم نہ کر سکوں۔ اس کی وجہ وہ ڈرائیونگ کی ٹرینگ کلاس ہے جو مجھے مسلسل دو گھنٹے کے لئے شہر کی مصروف ترین موٹر ویز پر بڑی بڑی لینڈ کروزرز، رینج روور، پیٹرول اور شہر کی بدترین ٹریفک والے انڈسٹریل ایریا میں دنیا کے بھاری بھاری دیوہیکل ٹرالرز کے بیچ چلانی پڑتی ہے۔ اور یہ ڈرائیونگ ٹرینگ کلاس جو مجھے ایک کار لائسنس لینے کے لئے درکار ہے، کوئی خالہ جی کا باڑہ نہیں، اس کی ایک خطرناک کہانی ہے۔

Read more

الف، آڈیو اور عمیرہ احمد

جس دن میری دوست نے مجھے عمیرا احمد کا نیا ناول الف پڑھنے کے لئے بھیجا۔ میں ذرا چلتے پھرتے کاموں میں لگی تھی۔ میرے پاس ان کے ناول کی آڈیو کا لنک آیا تھا۔ میں نے سوچا چلتے پھرتے کام کرتے ساتھ ساتھ سن لیتی ہوں۔ میں نے اسے آن کیا۔ مگر پھر کچھ…

Read more

بشریٰ بی بی اور پاکستانی عورت کو پڑنے والی گالی

تو پاکستان میں یہ رسم ٹھہری کہ مرد کے حصے کی گالی ہمیشہ عورت ہی کھائے گی۔ چاہے کسی مرد کا قتل ہو، کسی عورت کا ریپ ہو، کسی کے گھر ڈاکہ ڈکیتی ہو، یا کوئی ذاتی، سماجی اور سیاسی دشمنی ہو سزا کے لئے عورت کو ہی چنا جائے گا۔ الہٰی تو نے برصغیر…

Read more

سرمہ ہے ميری آنکھ کا خاک مدينہ و نجف

روضہ رسول سے اٹھ کر واپس ہوٹل کی طرف لوٹنا اک کڑا مرحلہ تھا مگر ستم یہ تھا کہ دن بھر کے سفر کی تھکاوٹ تھی ، تہجد کی نماز مسجد نبوی میں ادا کرنے کی شدید چاہت تھی تو اسی دوپہر عمرے کی روانگی بھی تھی ۔گھڑی دو گھڑی کا آرام نہ کرتے تو…

Read more