آزادی اظہار کا عذاب اور کم حوصلہ معاشرہ

بچوں کے سکول سے چھٹیاں ہوئیں تو جو تھوڑا بہت وقت اپنے لئے نکلتا تھا وہ بھی گیا۔ لکھنا بھی اور پڑھنا بھی تو بالآخر شامت چلتے پھرتے تبصروں کی آ گئی۔ ایک دو سٹیٹس اپ ڈیٹ، ایک دو لوگوں سے چلتے پھرتے سوشل میڈیا پر اختلاف رائے اور ایک ہی دن میں کئی دوست…

Read more

میں نے ممی کی ڈائری کیوں لکھی؟

اگر تین سال پہلے مجھ سے کوئی پوچھتا کہ میری قابلیت کیا ہے تو میں کہتی ”ممی“۔ میرا کام، میری نوکری، ذمہ داری، فرض میرا ہنر میری مہارت سب کچھ میرا ممی ہونا ہی تھا۔ چونکہ بارہ سال میں نے صرف اور صرف ممی ہڈ mommyhood کو دیے ہیں۔ صرف ممی بننا سیکھا اور صرف اسی…

Read more

زینب سے فرشتے

دو ہزار بارہ یا تیرہ کا ذمانہ تھا جب میرے دونوں بچے ننھے منے خرگوشوں جیسے تھے۔ ہنستے مسکراتے ماں کے ہاتھ کے سجے سنورے ہر وقت فوٹو بنوانے کے لئے تیار۔ ہمارا کوالٹی ٹائم اکثر بچوں کی فوٹوگرافی کی نظر ہو جاتا۔ ان کی مسکراہٹوں، خوبصورت حرکتوں کی تصویر کشی میرا مرغوب مشغلہ تھا۔ ایک ایک نشست میں سو پچاس تصاویر بناتی اور سب کی سب فیس بک میں بھر دیتی۔ جب تک کہ کچھ آرٹیکلز اور رپورٹس میری نظر سے نہ گزریں۔ یہ زینب اور قصور کے بچوں سے بہت پہلے کی بات ہے۔وہ کالمز اور رپورٹس پیرنٹنگ کے انٹرنیشنل میگزینز میں چھپے تھے اور یہ نہ پاکستان کی کہانی تھی نہ یو اے ای کی۔ یہ امریکہ اور برطانیہ کی کہانیاں تھیں۔ ان جدید دنیا کی امریکی انگریز ماؤں کی کہانیاں جن کے چھ سات سالہ بچے سکولوں کے سامنے سے اٹھائے گئے، ان کے ریپ کیے گئے، جسموں کو بیدردی سے کاٹا گیا اور مار کر کہیں پھینک دیا گیا۔

Read more

خان صاحب اور جھاڑو والی سرکار

تھکے ہارے خان صاحب پسینے سے بھری قمیض اور دھونی کی طرح چلتے ہوئے سانسوں کے ساتھ مسجد میں جا کر سجدے میں گر گئے اور دھاڑیں مار مار رونے لگےاے میرے اللہ !میں کام کر کر کے تھک گیا،میں نے راتوں کی نیند اور دن کا چین حرام کر لیا تیری اس مملکت کو ٹھیک کرنے میں،میں نے اپنی ساری شہرت اور نیک نامی چولہے میں جھونک دی اس لئے کہ تیری دی اس نعمت جیسی مملکت خدادا میں امن،انصاف،ایمانداری،صداقت اور لیاقت کو فروغ دے سکوں! میں نے ساری دنیا کی مخالفت اور دشمنی مول لی تا کہ اپنے ملک کے بے بس لوگوں کو اختیارات،طاقت ،علم اور شعور دے سکوں مگر دیکھ آج میرا کیا حال ہو چکا۔میری ساری نیک نییتی،نیک نامی اور ایمانداری کو اس ملک کے لوگوں نے ،میرے دشمنوں اور دوستوں جیسے دشمنوں نے خاک میں ملا دیا۔اب کیا کروں میرے مالک!”

Read more

پائلو کاہلو کی Adultery، مولانا رومی اور محبت کے چالیس اصول

ایلا کی شناخت میرے ذہن میں ہمیشہ ایک سطر سے رہتی ہے۔ ”ایک دن خموشی سے وہ اپنا گھر، بچے، بے وفا شوہر، اور ہمسائے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر دنیا کے خطرناک راستوں پر اکیلی نکل جائے گی۔ “ اور ایک دن وہ واقعی یہ سب چھوڑ کر چلے جاتی ہے۔ انسان کے…

Read more

پاکستان کیسے دبئی بنے گا؟

متحدہ عرب امارات میں رمضان کیا شروع ہوتا ہے کہ رنگ و روشنی کی بہار امڈ آتی ہے۔ شہر کی گلیوں میں، عمارتوں پر، بڑی شاہراہوں پر رمضان کریم کے نام کے قمقمے جلنے بجھنے لگتے ہیں اور ہر کونہ خوبصورت چاند ستاروں اور لالٹینوں کی چمکتی روشنیوں سے جگمگا جاتا ہے تو اس روحانیت…

Read more

آزاد میڈیا، صاحب اور صاحبہ

میڈیا کی آزادی کا ابتدائی زمانہ تھا۔ کچھ نئے نئے چینل اس نئی نئی آزادی کے ترانے گا رہے تھے اور پرائم ٹائم کا وقت ڈراموں کی بجائے مذاکروں کی نذر ہونے لگا تھا۔ میڈیا کی آزادی کی اہمیت پر کراچی میں ایک سیمنار ہوا اور بہت سے دوسرے بڑے ناموں کے ساتھ اس میں حامد میر اور انور مقصود صاحبان نے بھی خطاب کیا۔ اس سیمنار میں اپنے موقف اور بیان کو حامد میر صاحب نے اگلے دن کے اپنے آرٹیکل میں بیان کیا۔ ان کا سارا آرٹیکل مجھے قائل کرتا رہا، سچ کی ترویج، لوگوں تک حقائق کی ترسیل، انسانی شعور اور بالیدگی سمیت ہر بات ان کی بھر پور تھی۔ مگر اپنے آرٹیکل کے آخر میں انہوں نے اپنے مخالف موقف رکھنے والے انور مقصود کی صرف ایک بات لکھ دی جس نے ان کے سارے دلائل کو ایک ہی لائن میں چاروں شانے چت کر ڈالا!

”جس ملک کی اٹھانوے فی صد آبادی ان پڑھ ہو وہاں آزاد میڈیا نہیں ہونا چاہیے۔ “

یہ آرٹیکل اور یہ موقف تب پڑھا اور آج پورا آرٹیکل بھول چکی ہوں مگر یہ ایک لائن آج بھی میرے دماغ میں روشن اور زندہ ہے۔ اور کوئی پندرہ بیس سال کی مسافت کے بعد انور مقصود صاحب کی وہ بات روز روشن کی طرح حقیقت نظر آتی ہے۔

Read more

اورحان پاموک کی دی ریڈ ہیرڈ وومن

تاریخ کے گرد گھما پھرا کر داستان کہنا یا پھر کسی گھمبیر کلاسک تھیم کو لے کر اس کے گرد ایک نئی کہانی بننا نئے زمانے میں اپنی جڑیں گہری کرتا جا رہا ہے پھر چاہے ایلف شفق کی فورٹی رولز آف لو ہو یا اورحان پاموک کی ریڈ ہیرڈ ویمن۔ اورحان پاموک نے بھی اپنے اس نئے ناول میں اسی فارمولے کو اپنایا ہے اور دو مشہور زمانہ کلاسک ایڈیپس ریکس اور شہنشاہ نامہ میں رستم و سہراب کی حکایت پر پرکار کا سرا رکھ کر دوسرے سرے سے اس کے گرد دائرہ بنا ڈالا ہے۔ایک انتہائی عام سے ینگ نوجوان سیم کی کہانی جس کے شعور سنبھلتے ہی اس کے کندھے پر زندگی کی ذمہ داریاں اپنا بوجھ ڈالنے لگیں اور اسے اپنے خوابوں کی تعبیر کے لئے ایک کنویں کھودنے والے محمد کے ساتھ مزدوری کرنی پڑی تا کہ وہ اپنی پڑھائی کے لئے مطلوبہ رقم حاصل کر سکے۔

Read more

گڈ مارننگ میسج اور ہراسمنٹ

ایک پاکستانی سیاستدان کے بیان نے انوکھی بحث چھیڑ دی ایسی کہ لوگ ہنس ہنس بے حال ہو گئے۔ اکثریت کو اس بے تکی بات نے خوب لطف دیا۔ کیا یہ بات اتنی ہی بے تکی ہے؟کیا روزانہ کے گڈ مارننگ، گڈ ڈے کے میسج ہراسمنٹ کے زمرے میں آتے ہیں؟ کیا عورتوں کی ڈی پی پر ماشاءاللہ، حسین، خوبصورت چہرہ جیسے کلمات لکھنے ہراسمنٹ ہے، کیا غیر ضروری میسجز، واٹس آپ، فرینڈ ریکوئسٹس بھیجنا، پھر قبول نہ ہونے کی صورت میں میسجز بھیجنا کہ پلیز فرینڈ شپ قبول کی جائے ہراسمنٹ ہے؟ عوام الناس کی اکثریت، پکڑنا، روکنا، چھونا اور دبوچنا سے کم پر کسی چیز کو ہراسمنٹ ماننے کے لئے تیار ہی نہیں اور نہ ہی جنسی ہراسمنٹ سے کم پر بات کرنے پر آمادہ ہے۔ یہ سچ ہے کہ جہاں اس قدر انتہائیں ہوں کہ عورت باہر نکلے تو بغیر پریشان ہوئے گھر کو لوٹ نہ سکے وہاں یہ چھوٹی چھوٹی باتیں یقینا نظر انداز ہوتی ہیں مگر اس کے باوجود ان کی موجودگی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

Read more

روتی عورت کے سرہانے سوئی ریاست

پاکستان میں موجود صرف دو فی صد آبادی پر مشتمل ہندو برادری پر چند فقرے بولے گئے اور وزیراعظم پاکستان نے وزیر سے استعفی طلب کر کے پوری دنیا میں واہ واہ کروا لی۔ لیکن پاکستان کی 49 فی صد آبادی پر مشتمل عورت پر پچھلے تین چار دن سے ہر سمت سے ہر طرح کے حملے چل رہے اور حکومت خموش بیٹھی تماشا دیکھ رہی ہے۔ کوئی عورت کی حمایت میں اس کا تماشا بنا رہا تو کوئی اس کی مخالفت میں۔ کیا عورت کی طرف اس ریاست کی کوئی ذمہ داری نہیں؟

کیا عورت کے سلسلے میں ریاست کسی کو بھی جواب دہ نہیں؟ پچھلے کچھ دنوں کے خصوصاً دونوں طرف برپا ایک طوفان بدتمیزی میں سب کچھ نظر آیا سوائے حکومت کی طرف سے عورت کے لئے کسی بھی قسم کی داد رسی کے۔ عورت کا وہ تشخص، کردار اور اس کا وجود جو ان کچھ دنوں میں مسخ کر کے رکھ دیا گیا۔ جس طرح کشمیر اور پاکستان کی جنگ میں کشمیر پس کر رہ گیا اسی طرح لبرلزم اور کنزرویٹو، کی اس لڑائی میں جس میں جانے کن کن قوتوں نے اپنا حصہ ڈالا قربانی کی گائے بننا اسی مشہور زمانہ گائے کے حصے میں آیا جس کا نام عورت ہے۔

Read more
––>