ممی کی ڈائری: ممی اور امید

وہ بہترین نہیں ہے! ” مگر میں نے اسے چنا نہیں ہے! ایک دن کسی نے مجھ سے کہا آگے بڑھو! دوڑو! تم سخت پتھروں پر گر جاؤ گے لیکن تمھیں اس کی عادت ہو جائے گی تمھارے کچھ پر ٹوٹ بکھریں گے لیکن یہ تمھاری زندگی ہے جو وہ وعدے پورے نہیں کر سکے گی جو اس نے تم سے کیے لیکن وہ کچھ معجزے بھی کرے گی تم اسے سمجھ نہیں سکو گی یہ ”شاید“ سے بنی ہے

Read more

ممی کی ڈائری: ممی اور بچوں پر کنٹرول

فاطمہ کی طبیعت کئی دن سے خراب چل رہی تھی۔ ممی کی ذمہ داریاں بڑھ گئی تھیں۔ لگے ہاتھوں آمنہ اور محمد بھی آگے پیچھے بیمار پڑ گئے۔ موسم بدلنا رنگ لا رہا تھا۔ ایک وائرس گھر میں آتا اور باری باری سب کے سب بیمار پڑتے چلے جاتے۔ اب صورتحال یہ تھی کہ صبح شام دیگچے بھر بھر پانی ابل رہا تھا اسٹیم کے لئے۔ تینوں بچوں کی باری باری شفٹ لگ رہی تھی مگ بھر بھر گرین ٹی

Read more

ممی کی ڈائری: بچے بڑے ہونے لگیں تو مائیں بھی بڑی ہو جاتی ہیں

بچے بڑے ہونے لگیں تو مائیں بھی بڑی ہو جاتی ہیں مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ مدرہڈ آسان ہونے لگتی ہے بلکہ بڑے ہوتے ہوتے تو یہ اور بھی مشکل ہونے لگتی ہے جب وہی گود میں ساری رات جھولا لینے والے بچے کہنے لگتے ہیں Mama, you are toxic! وہی جن کے نہلاتے دھلاتے شہزادے شہزادیاں بناتے مائیں سالہا سال منہ دھونا، نہانا کپڑے بدلنا تک بھول جاتی ہیں ان کو ایک دم ماں ان کی ساری

Read more

مٹی کے گھروندے

مٹی کے گھروندے کبھی آپ نے بھی بنائے ہوں گے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی سمندر یا دریا کے قریب رہتا ہے یا صحرا میں ریت کا گھروندا کہیں بھی بن سکتا ہے اور مٹی سے کھیلنے والے کہیں نہ کہیں اس کے لئے ریت ڈھونڈ ہی لیتے ہیں۔ ہم بڑے ہو جاتے ہیں مگر گھروندے بنانا نہیں چھوڑتے! جانے کیوں یہ ہماری عادت ثانیہ بن جاتی ہے کہ ہم چلتے پھرتے زندگی میں ہر طرف، ہر

Read more

کھڑکیاں اور اکتوبر

کھڑکی کے باہر ایک پوری دنیا آباد ہوتی ہے! چاہے وہ کمرے کی کھڑکی ہو جو باہر آپ کے لان میں کھلتی ہو، یا باہر کی طرف کھلنے والی دوسری کھڑکی ہو جو سڑک کی طرف کھلتی ہو۔ میری یہ کھڑکی باہر ٹیرس پر کھلتی ہے جس پر میرا سجایا ہوا پورا باغ نظر آتا ہے۔ یہ چھوٹا ہے مگر میرے لئے پورا باغ ہی ہے جسے میں دو سال سے محنت سے سیج رہی ہوں۔ میری شدید خواہش ہے کہ

Read more

کتاب تبصرہ: خوشبو کی دیوار کے پیچھے از محمد حمید شاہد

”زندگی بھیدوں بھری کتاب ہے یہ ہاتھ لگے اور کھولنے کا وقت نہ ملے تو ورق ورق دیمک چاٹ جاتی ہے۔ کھول لیں تو اس کی اپنی زبان سیکھے بغیر اسے پڑھا اور سمجھا نہیں جا سکتا۔ ” محمد حمید شاہد بھیدوں بھری اس کتاب میں کیا کچھ ہو سکتا ہے یہ ہر انسان کے ذاتی تخیل پر مبنی ہے۔ خوشبو کی دیوار وہ پردہ ہے جو ایک سے دوسرے انسان کے بیچ پڑا ہے، یہ پردہ ہٹے تو کون

Read more

پنجر از امرتا پریتم

یہ وہ امرتا نہیں تھی جسے میں نے امرتا کے افسانوں میں دیکھا تھا، خوبصورتی، محبت اور نسوانیت سے لبریز، یہ تو بہت ہی بے باک، نڈر اور دو ٹوک امرتا تھی جو ہاتھ میں آئینہ لئے اس میں اتنا ہی بدصورت چہرہ انسان اور انسانیت کا دکھا رہی تھی جتنا بذات خود انسان اور انسانیت کا تھا اور ہے! پنجر میں امرتا کی لفاظی اور اس کے جملوں اور تحریر کی خوبصورتی شاید اس لئے بھی غیر حاضر ہے

Read more

کتاب تبصرہ: آنگن از خدیجہ مستور

خدیجہ مستور کے ناول کی کہانی کوئی تاریخی کہانی نہیں، یہ ہر دور کی کہانی ہے۔ یہ آج کی کہانی ہے۔ اسے پڑھتے آپ کو لگے گا یہ آپ کے شہر آپ کی آج کی ریاست کی کہانی ہے۔ یہ دو نظریوں میں جینے اور ان کے ٹکراؤ کی زد میں آ کر ٹوٹ بکھرنے کی کہانی ہے۔ یہ شراب کی تلاش میں نکلتے اور اس کی چاہ میں مٹ جانے کی کہانی ہے۔ اس ناول کا ہر کرداروں علامتی

Read more

”کیا ہو اگر موت کے بعد انسانی دماغ کچھ اور منٹ تک چلتا رہے؟ صرف دس منٹ اور اڑتیس سیکنڈ ہی سہی!“

انہی کچھ منٹس کی کہانی ہے جو ناول کے مرکزی کردار تاکیلہ لیلی نے مرنے کے بعد سانسیں بھرتے دماغ کے ساتھ گزارے ہیں وہ دس منٹ جس میں زندگی بھر کے چلتے ہوئے قدموں پر سے اسے ایک بار پھر گزرنا پڑا، جب صرف دس منٹ میں اسے اپنی زندگی کا عذاب پھر سے جینا پڑا، سر سے اتار پھینکنے سے پہلے اس بوجھ کو برق رفتاری سے ہی سہی مگر دوبارہ کاندھے پر اٹھانا پڑا۔

تاکیلہ لیلی کون ہے؟ یہ ایک طوائف کی لاش ہے جس نے لاش بننے سے پہلے ایک طوائف اور طوائف ہونے سے پہلے ایک بیٹی اور ایک بیٹی ہونے کے بعد چائلڈ ابیوز کا سامنا کیا ہے۔ زندگی میں طوائف ہونا بھی آسان کام نہیں، اس سے پہلے ہزار عذابوں سے عورت گزرتی ہے تب آ کر بازار میں سجتی ہے۔ طوائف کا کوٹھا بہتی نہر میں لگی وہ جالی ہے جو ٹوٹی پھوٹی لاشوں کو رستے میں پکڑ کر کچھ اور سانسوں کے لئے سطح آب پر لے آتی ہے اور پھر عورت سب کچھ ہار کر محض زندگی کی خاطر یہ زندگی جیتی ہے۔ مگر یہ صرف طوائف کی کہانی نہیں۔ یہ اس بیٹی کی بھی کہانی ہے جس کے پیدا ہوتے ہی مڈ وائف کے منہ سے بدشگونی نکلی کہ

Read more

تعلیمی اور خاندانی نظام کے بدلنے کا وقت

دعا کاظمی کیس پاکستانی خاندانی اور تعلیمی نظام کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔ وہ خاندانی نظام جس کے برکتیں شمار کرتے ہماری انگلیاں نہیں گھستیں۔ اور وہ نظام تعلیم جسے حاصل کرنے سے پہلے بچے بالغ ہو جاتے ہیں اس سے پہلے کہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں وہ گھر بنانے کے خواب دیکھنے لگتے ہیں۔ گھر جو ڈراموں فلموں اور رسالوں کے مطابق کوئی پریوں کی داستان کا حصہ ہیں۔ جس میں پھولوں کی راہگزر بچھی ہے

Read more

اماں حاجرہ کا طواف اور ہماری تعبیرات

ہمیں ہر سنت کو معجزہ بنانے کی اور ہر عظیم ہستی کو فرشتہ مان لینے کی عادت ہے۔ ہم فوراً سے پیشتر پیغمبروں کو انسان سے اوپر کی مخلوق مان کر سنگھاسن پر بٹھا دیتے ہیں، ان کو عام انسانوں سے بہتر مرتبہ پر فائز کر دیتے ہیں چنانچہ نتیجہ کار ان کی سنت کو اپنے لئے یہ سوچ کر متروک کر لیتے ہیں کہ وہ تو پیغمبر تھے ہم عام انسان ہیں۔ ہم نے پیغمبروں کی زندگی کے قوانین

Read more

عورت مارچ کی مخالفت: یہ حیا کا نہیں، ناانصافی کا سوال ہے

عورت کا عالمی دن قریب ہے۔ عورت مارچ اور حیا مارچ کا جھگڑا، جلوس اور متنازعہ پلے کارڈ کا وائرس، بحث اور مباحثے شروع ہوئے چاہتے ہیں۔ عورت مارچ میں مرد اور حیا مارچ میں بھی مرد، عورت مارچ میں عورتیں اور حیا مارچ میں بھی عورتیں۔ سو یہ بحث تو بیکار ہے کہ یہ عورت اور مرد کی لڑائی ہے۔ یہ تو ایک سوچ کی لڑائی ہے دو انتہاؤں کا جھگڑا ہے۔ عورت مارچ کی سب سے اہم کردار

Read more

جہنم میں ایک عورت کے ساتھ چار مرد

کسی نے کہا کہ جہنم میں ایک عورت اپنے ساتھ چار مردوں کو لے کر جائے گی۔ باپ بھائی بیٹا اور شوہر۔ یعنی ان سب کو اس لئے لے کر جائے گی کہ جب وہ برائی کر رہی تھی تو ان تمام تعلق دار مردوں نے اسے روکا نہیں۔ اس لئے بہترین حل یہ ہے کہ عورت کو لمبے لمبے، کھلے گھیرے دار برقعے پہناو، تا کہ نہ وہ کسی کو دیکھ سکے نہ کوئی اسے، اسے گھر، خاندان، محلے

Read more

لاہور یونیورسٹی اور عورت کا حق

آج سے پچیس سال پہلے میں پنجاب کے آخری کنارے پر واقع ایک چھوٹے سے شہر میں رہتی تھی جس کا نام تک اکثر بڑے شہروں میں لوگ جانتے نہ تھے۔ رحیم یار خان شہر کے سرکاری اسکول سے میں نے میٹرک کیا۔ اس وقت اس شہر کا واحد پرائیویٹ اسکول آرمی پبلک اسکول تھا جہاں سے امیر گھرانوں کی لڑکیوں کی اکثریت مڈل کے بعد مخلوط تعلیم سے ڈر کر ہمارے سرکاری اسکول ٹرانسفر کر دی جاتی۔ رابعہ میری ایسی ہی ایک دوست تھی نویں اور دسویں میں ہم دونوں نے اسکول کے ہر لمحے میں ایک ہی خواب دیکھا۔

Read more

دوسری شادی اور ہمارا معاشرہ(قسط دوم)

یہ بات سمجھنے کی ہے کہ نکاح ایک کنٹریکٹ ہے جو دو باشعور اور بالغ لوگوں کی مرضی سے بنتا اور اسی مرضی سے قائم رہتا ہے۔ اگر دو میں سے ایک کی مرضی نہ ہو تو یہ کنٹریکٹ نہیں بن سکتا اور اگر ایک اس معاہدے کو برقرار نہ رکھنا چاہے تو یہ کالعدم ہو جاتا ہے۔ اس معاہدے میں اپنی خوشی سے اپنی زندگی جب تک ممکن ہو سکے دوسرے فریق کے ساتھ بانٹنے کا وعدہ ضرور ہوتا

Read more

دوسری شادی اور ہمارا معاشرہ(قسط اول)۔

ایک شہر میں ہسپتال تھے اور ان میں ڈاکٹر تھے، دوائیاں تھیں، علاج تھے آلات تھے مگر پھر بھی سارا شہر بیماری میں مبتلا تھا، صحت مند نہ ہو پاتا تھا۔ کیوں؟ کیونکہ جب کوئی مریض درد کی تکلیف لے کر جاتا تو اسے کہہ دیا جاتا کہ درد روحانیت کی پہلی سیڑھی ہے ، برداشت کرو! اور مریض روحانی بلندی کا تصور کر کے روتا بلکتا واپس آ جاتا چنانچہ سارا شہر ہی گلتا سڑتا جا رہا تھا۔ کوئی بھی یہ نہ کہہ پاتا کہ شفاء نہیں مل سکتی تو یہ ہسپتال کس کے لئے ہیں، یہ اتنے ڈاکٹر کیوں بھرے ہیں، دوائیں اور آلات کیوں رکھے ہیں اگر سارے عوام کو روحانی بلندی پر ہی چڑھنا ہے تو؟

Read more

ایلف شفق: Ten minutes 38 Seconds in This Strange World

”کیا ہو اگر موت کے بعد انسانی دماغ کچھ اور منٹ تک چلتا رہے؟ صرف دس منٹ اور اٹھتیس سیکنڈ ہی سہی!“ اور ایلف شفق کا ناول Ten minutes,38 seconds in this strange world انہی کچھ منٹس کی کہانی ہے جو ناول کے مرکزی کردار تاکیلہ لیلی نے مرنے کے بعد سانسیں بھرتے دماغ کے ساتھ گزارے ہیں وہ دس منٹ جس میں زندگی بھر کے چلتے ہوئے قدموں پر سے اسے ایک بار پھر گزرنا پڑا، جب صرف دس

Read more

افسانہ _دیس نکالے

صبح دھوپ پھیلنے سے پہلے کوئی بالکنی پر نکلتا اور اس پر سجائے تمام پودوں کو پانی سے سیراب کرتا تو چھت سے لٹکی گل دوپہری کی پتلی پتلی ہتھیلیوں سے پانی کے قطرے نیچے کو گرنے لگتے۔ عمارتوں کے آس پاس سیاہ فاختائیں ہر وقت اپنی اداس لے میں کوئی گیت گاتی رہتیں، جسے لوگ موسیقیت سمجھتے، کوئی نہ جان سکتا تھا کہ ماتم بھی ہو سکتا تھا۔ سورج عمارتیں پھلانگتے آدھا دن لگا دیتا اور دن کے عین وسط میں عمارت سے آگے بڑھ کر رخ روشن عیاں کرتا تو بالکنی پر لگی نم دیدہ گل دوپہری بازو پھیلائے ایک طویل انگڑائی لیتی، شاخوں کو جھٹکتی، پتیوں کو سنوارتی کہ بالآخر دن کی روشنی کو کئی گھنٹوں تک سامنے والی عمارت پر تکتے رہنے کے بعد اب تمازت پنکھڑیوں تک پہنچی تھی۔

Read more

اردو ادب کا ٹائی ٹینک ڈوب رہا ہے؟

حالات بتاتے ہیں کہ شاید اگلے پانچ سے دس سال میں دنیا میں اسکولز، کالجز اور یونیورسٹی کی عمارتیں چھوٹے چھوٹے کمپیوٹر سے سجے کیبنوں میں بدل جائیں۔ جدید ترین امیر ملکوں میں پہلے ہی آن لائن کلاسز اور سکول کالجز نئے نارمل کا حصہ بن رہے ہیں جسے جلد یا بدیر اپنانا تیسری دنیا کے چھوٹے ملکوں کے لئے مجبوری بن جائے گا۔ ایسی صورتحال میں اردو ادب کا کیا مستقبل ہے؟ اب آپ سوچیں گے آن لائن کلاسز

Read more

افسانہ___انتہا

بل کھاتی ندیوں کے ٹھنڈے تازہ پانی کی بہتی لہروں میں سے چھینٹے اڑاتے مجھے جس کے سنگ گزرنا تھا، کوئی تھا ایسا جس کے ساتھ میں مجھے پھولوں کی طرح کھلنا اور کلیوں کی طرح چٹکنا تھا، ستاروں کی صورت چمکنا تھا۔ بلند پہاڑوں کی خاک رنگ خاموشیوں میں، ہواؤں کے سنگ بہتے چشموں کی گنگنا ہٹ میں، جس کے لبوں کی سرگوشیوں پر کان دھرنے تھے، اونچی چوٹیوں سے بہت نیچے دکھتی سفید روئی کی نرم نرم بدلیوں

Read more

ممتازمفتی کی یاد میں

گیارہویں جماعت میں سب روایتی نوجوانوں کی طرح ڈاکٹر بننے کی کوشش میں چار و ناچار جتی ہم کچھ دوستوں کے ہاتھ لبیک لگی تھی۔ جس پر ہم سب کا گروپ ایمان لے آیا تھا۔ کالے کوٹھے پر براجمعان سفید نورانی چہرے کے ساتھ نمزدہ آنکھیں لیے بیٹھا اپنا اپنا سا لگتا رب دیکھ کرہماری محفل میں اک طوفان برپا ہو گیا تھا۔ ایف ایس سی کے دو سال فزکس کیمسٹری اور باییو کو رٹا لگانے کی بجائے ہم نے

Read more

بلاول بھٹو صاحب! عاصمہ شیرازی کے ساتھ ہماری بھی سنیں

جناب عالی! آپ نے خواتین صحافیوں کی ہراسمنٹ کا نوٹس لیا ہے تو آج کل سچ کی آواز اٹھانے والی خواتین کی ایک اور بھی مخلوق پائی جاتی ہے جنہیں بلاگر کے کھاتے میں ڈالا جاتا ہے۔ وہ چونکہ صحافی نہیں کہلاتیں اس لیے ان کو کسی بھی ادارے سے کوئی تنخواہ یا اعزازیہ نام کی کوئی چیز نہیں دی جاتی جب تک کہ وہ کسی نہ کسی ایڈیٹر کی چہیتی یا تعلق دار نہ ہوں۔ چونکہ وہ ٹک ٹاک

Read more

مکی ماؤس کے خالق والٹ ڈزنی سے ملیے

ایک اینیمیٹر کے طور پر اپنے کیریئر کا پہلا پراجیکٹ کرتے اور ہزاروں ڈالر کا مقروض ہوتے ہوئے، بین۔ Beans کے ڈبوں پر گزارا کرتے اور آفس کے کاغذات اور کینوس کے ڈھیر میں سوتے جب والٹ سے یہ پوچھا جاتا کچھ پسہ بھی کمایا تو وہ ہنستا اور کہتا ” نہیں! ۔۔۔۔۔ لیکن مجھے مزا خوب آیا“ ۔ مکی ماوس کے باپ اور ڈزنی لینڈ کے خالق والٹ ڈزنی سے کون واقف نہیں۔ والٹ ڈزنی جو خود کو والٹ

Read more

چاند کی بھول

دن بھر کا تھکا ہارا اپنی آستین سے چہرہ صاف کرتے گھر کے پورچ میں گاڑی سے نکلا تو پہلا جھونکا ٹھنڈی ہوا کا لگا جو اپریل کے اوائل کی خوبصورت بہار بھری خوشبو دار رات کے نغمے گنگناتا مجھے چھوتا ہوا گزر گیا۔ اور دوسرا جلوہ مشرق سے ابھرتے ہوئے اس پورے چاند کا تھا جس کی چاندی جیسی چمکتی چاندنی ٹارچ کی لہروں کی طرح زمین کی ہر سمت میں رواں دواں تھیں اور وہ پورا چاند۔ ۔

Read more

بچوں کو پڑھنا سکھائیں

اگر آپ چاہتے ہیں اور آپ میں ایسا سوچنے اور خواہش کرنے کی ہمت ہے کہ زندگی کے ہر محاذ پر بچے آپ سے چار قدم آگے جا کر سوچیں، اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے اپنے آس پاس والے معصوم، بھولے اور نا سمجھ دوستوں کی نصیحتوں اور اسباق پر زندگی تعمیر کرنے کی بجائے زندگی کے اعلی مقاصد کو سمجھیں اور ان کو زندگی میں شامل کر سکیں، اگر آپ چاہتے ہیں کہ زندگی کے کسی

Read more

پائلو کوئلو: گہر ہونے تک

اس سے پہلے کہ کیمروں کی فلیش لائٹس اور ریفلیکٹرز کی نیلی ڈسکو اسٹائل چمک کے بغیر پائلو کوئلو کے قدم اٹھنے سے بیزار ہو جائیں، رپورٹرز اور پاپا رازیوں کے ہجوم کے بغیر اس کا سانس دوبھر ہونے لگے، انٹرویوز، سیلفیاں اور آٹوگراف اس کے لیے زندگی کی اہم ترین خوشیاں بن جائیں اور وہ ایک عام انسان کی طرح عام بے نیاز لوگوں میں اک بے اثر بے نیازی کے ساتھ چل نہ سکے، ا س مشہور زمانہ

Read more

گٹھڑی اور گھڑی

ٹرین میں بیٹھی حنا کی زندگی کسی ٹرین ہی کی طرح بھاگتی دوڑتی دھواں دیتی، مسافتیں ناپتی منزلیں سر کرتی آخری منزل کی طرف بڑھے جا رہی تھی۔ اور اس ٹرین میں کھڑکی کے شیشے سے لگی وہ ایک بوسیدہ گٹھڑی اور ایک درذیدہ گھڑی سینے سے لگائے بیٹھی تھی۔ بوسیدہ پھٹی پرانی اڑے ہوئے رنگوں والی گٹھڑی جس میں بہت سی یادیں بندھی تھیں۔ کچھ ٹوٹ چکے خواب، ایک گمشدہ محبت، سالوں کی دھوپ میں سڑ چکے کچھ خوبصورت

Read more

سجدہ سہو

سعدیہ پانچوں نمازیں پڑھتی اور پانچوں وقت سجدہ سہو کرتی۔ انتہای توجہ سے نماز کا آغاز کرتی۔ رکوع سجود میں آہستگی برتتی، الگ الگ لفظ ادا کرتی مگر نہ جانے لڑی کہاں سے ٹوٹتی، موتی کدھر سے بکھرتے کہ آخیر تک پہنچتے پہنچتے گمشدہ ہو جاتی۔ کتنی رکعت ہو گییں اور کتنے سجود کچھ حساب نہ رہتا۔ فقط رہ جاتی اک نارسای۔ ایسی ٹوٹی پھوٹی عبادتوں کو جوڑ لگانے کا ایک ہی طریقہ تھا اس کے پاس، سجدہ سہو! تین

Read more

سڈنی شیلڈن: خود کشی سے مقبول ترین فکشن رائٹر تک

”سترہ سال کی عمر میں شکاگو میں ڈرگ سٹور پر ایک سامان پہنچانے والے لڑکے کے طور پر کام ایک بہترین نوکری تھی۔ کیونکہ اس کے ذریعے خودکشی کے لیے نیند کی گولیاں چرانا ممکن تھا۔“ منصوبہ بندی کے عین مطابق سڈنی نے گھر میں بیس گولیاں اور شراب اکٹھی کرلی کیونکہ نیند کی گولیاں اور شراب ایک مار دینے والا جوڑ ہیں۔ گھر کی تنہائی میں سڈنی جب منصوبے کی تکمیل کے لیے ہاتھ میں گولیاں لیے موت سے

Read more

کیا کرنل کی بیوی کو سزا مل سکے گی؟

سوال یہ ہے کہ کیا اس کرنل کی بیوی کو اصل میں سزا مل سکے گی؟ آپ نے بھی ضرور کرنل کی بیوی کا تیز ترین ٹرینڈ ملاحظہ کیا ہو گا۔ خدا اس ٹرینڈ کو مزید طاقت دے اور اس کی آواز وہاں تک پہنچائے کہ جہاں لوگوں سے اس کی وضاحت دینی نا ممکن ہو جائے۔ کم سے کم ایک بڑی نسل کو سچ اور جھوٹ، غلط اور صحیح کا شعور ہی ملے۔

Read more

کورونا: مفروضے اور حقائق

کورونا کے خوف نے جتنی تیزی اور شدت سے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے کر جکڑ لیا ہے اس نے دنیا، انسان اور زمین کے مستقبل پر کئی طرح کے سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ پوری دنیا سازشی تھیوریز کی زد میں ہے۔ فائیو جی، بل گیٹس اور انسانوں کے جسموں میں نصب ہونے والی چپ کے ہر سو چرچے ہیں تو امریکہ اور چین جیسے ہاتھیوں کی عالمی جنگ کا ذکر بھی زبان زد عام ہے اور یہ

Read more

میں ڈاکٹر نہیں ،مجھے مار دیجیے

کالج کے زمانے میں کسی عقلمند لڑکی نے مجھے بتایا کہ ڈاکٹر بن جائیں تو رشتے اچھے ملتے ہیں۔ میں نے محض اچھے رشتے کی خاطر اتنی محنت کرنے سے گریز کیا۔ مجھے ڈاکٹر اچھے لگتے تھے مگر دور سے، مجھ سے بند آنکھوں سے ہل ہل کر رٹے نہیں لگتے تھے، میں دن کے بیس گھنٹے کتاب میں سر دے کر نہیں بیٹھ سکتی تھی، مجھے ہنسنا، گپ شپ لگانا پینٹنگز کرنا، موسم کے نظارے دیکھنا اور کتابیں پڑھنا

Read more

بدصورت عورت

وہ دنیا کی سب سے بدصورت عورت تھی۔ جب جوان تھی تب جانے کیسی تھی مگر جب سے سب نے اسے دیکھا وہ تب سے ہی بڈھی اور بدصورت تھی۔ چہرہ ہمیشہ لٹکا ہوا اور بیزار، آنکھیں ہمیشہ غیر دلچسپ اور اجنبی، ماتھے پر تیوریوں کا ڈھیر، زبان میکانکی، اٹھ جاؤ بیٹھ جاو، کھا لو، پی لو سو جاؤ! اس کا ہر کام ایسا تھا جیسے کسی نے کمپیوٹر میں فیڈ کر کے ربورٹ چلا دیا ہو اور وہ بغیر

Read more

ایسی دھوپ اور ایسا سویرا پھر نہیں ہو گا

اس شہر میں اترنا اور تنہا اترنا ایڈوینچر تھا، شوق، یا جستجو۔ ضرورت تھی کہ سیاحت؟ کچھ بھی تھا میں اس منزل سے گزر گئی تھی۔ جہاز کی کھڑکی سے نیچے نظر آتی وادی نما شہر اسلام آباد پر نظر ڈالتے نہ کوئی خوشی تھی نہ غم۔ پلکیں بھیگی تھیں اور دل میں خدشات کی تیز ندی بہہ رہی تھی۔ ایک انجان شہر کی انجان گلیوں میں، انجانے لوگوں کے بیچ مگر بس یہی احساس تھا کہ میری شناخت کے

Read more

تئیس مارچ اور حب الوطنی

میں دوبئی میں ہی تھی تو وہاں سے دوستوں کو میسج کر رہی تھی کہ مجھے 23 مارچ کی پریڈ دیکھنی ہے اور بچوں کو دکھانی ہے۔ پاسز کا پتا کریں۔ احباب کہہ رہے تھے دیر ہو گئی اب نہیں مل سکتے۔ میں چاہتی تھی میرے بچے وہ سب دیکھیں محسوس کریں جس کی ان کی زندگی میں کمی ہے۔ اس بات کی تفصیلات سے پہلے مجھے اس کا پس منظر بتانے دیں۔ ساری اسکولنگ، کالج یونیورسٹی ملی نغمے اور

Read more

میں نے عورت مارچ دیکھا

جب سے عورت مارچ ہو رہا ہے میں اس کے خلاف لکھ رہی ہوں۔ میں نے عورت مارچ کے بارے میں ہمیشہ میڈیا اور سوشل میڈیا سے جانا، اور ٹی وی مناظروں سے جہاں دونوں پارٹیاں، مخالفت اور حق میں ایک دوسرے کو کھینچ کر انتہائی لیول پر لے جاتی ہیں اور دونوں کے نظریات کا حشر نشر کر دیتی ہیں۔ اس لئے میری رائے مکمل طور پر فیمنسٹ ہونے کے باوجود ان کے طریقے کے خلاف رہی ہے۔ اس

Read more

عورت کو مارچ نہیں چاہیے!

سچ تو یہ ہے کہ پاکستان میں جب بھی کوئی تحریک اناڑی لوگوں کے پاس آ جاتی ہے جن کے پاس زمینی حقائق نہیں ہوتے ،معاشرے کا صحیح رخ واضح نہیں ہوتا،تو اس تحریک کا مقصد  نیست و نابود کرنے کے لئے تحریک کا  وجود ہی کافی  ہوتا ہے۔سچ تو یہ بھی ہے کہ عورت مارچ اور مولانا حضرات کا مقابلہ محض دو کم عقل، کج فہم طبقوں کی لڑائی ہے ۔ایک ذاتی عناد اور حقائق سے دوری ہے۔وہ مولانا

Read more

After the Prophet: A book by Lesley Hazelton

لیزلی ہیزلٹن کی کتاب ”after the Prophet“ اسلام کے دو بڑے حصوں میں ٹوٹ جانے کی وجوہات کی ایک مکمل داستان ہے۔ The first Muslim میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی داستان حیات کو ایک مکمل اور زندہ صورت میں پیش کرنے کے بعد یہ کتاب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کا احاطہ نہیں کرتی بلکہ ان تمام مراحل، حالات و واقعات کے گرد گھومتی ہے جو آپ کے وصال کے بعد اہل بیت، آپ

Read more

پاکستانیوں کو ووہان سے واپس کیوں نہیں آنا چاہیے!

اس کی سب سے بڑی ایک دلیل تو وہ حدیث ہے جو کسی وبائی علاقے میں جانے اور وہاں سے آنے سے منع کرتی ہے اور دنیا کا سب سے پہلا اور اہم طبی اصول طے کرتی ہے اور جسے ایسے وقت میں جہاں اس کے نفاذ کی سب سے اہم ضرورت ہے وہاں اس کے استعمال کو طعنہ اور بزدلی اور ناکامی گردانا جا رہا ہے۔ صحت کے شعبے کا سب سے اہم اصول احتیاط ہے جو پوری دنیا

Read more

اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ پرایک دن!

کاش کہ ہم ڈیپارچر لاونج میں کچھ اور لیٹ آتے اور گھنٹہ بھر مزید کافی شاپ کی کرسیوں پر سکون سے بیٹھے رہتے! مگر ایسا ہوتا تو ضرور ہم جلدی جہاز کے اندر نہ پہنچ پاتے، اس کی وجہ یہ نہیں کہ مجھے بھی اوروں کی طرح جہاز میں فٹا فٹ پہنچ جانے کی جلدی تھی۔ جہاز پر لیٹ پہنچنے کا سب سے بڑا نقصان یہ تھا کہ میں اکیلی خاتون اپنے بچوں کے ساتھ سفر کرتے اپنا سفری سامان

Read more

نوجوانی کی جسمانی ضروریات، شادی اور تعلیمی نظام

ترکی کے صدر اردگان کا ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے ترکی میں نوجوانوں کے جلدی شادی نہ کر نے پر تنقید کی تھی۔ اس سے پہلے ترکی میں جلدی شادی کو قانون بنانے کی بھی کوششیں کی گئیں جو اگرچہ ایک الجھے ہوئے نظام کا حصہ ہونے کی وجہ سے کافی حد تک متنازع ہوئیں۔ لیکن کیا آج واقعی اسلامی دنیا کو اس مشکل کے لئے سر جوڑ کر بیٹھنے اور اپنے ذہین دماغوں کو اس

Read more

اوپرا ونفرے کی زندگی کے چند واقعات

ننھی اوپرا کیلے کی چھال سے بنی بوری کے کپڑے پہنے اپنی غریب نانی کو گندے کپڑے پانی میں ابالتے ہوے دیکھتی اس لیے کہ غربت کی مہربانی سے ان کے ہاں کپڑے دھونے کا کوئی انتظام نہ تھا۔ چناچہ کپڑے پانی میں ابال کر صاف کیے جاتے۔ اس تکلیف سے ناخوش اس کا دل کہیں لاشعور کی تہوں سے گواہی دیتا : ”میرا مقدر ایسا نہیں ہو گا! “ ساٹھ کی دہائی میں افریقی لوگوں کے امریکی علاقوں میں

Read more

اورحان پاموک کی کامیابی کا سفر

”میں نے اپنی کتابیں بھرپور توجہ، صبر اور خلوص نیت سے لکھیں اور ہر ایک کتاب پر یقین رکھتے ہوئے لکھیں! کامیابی، شہرت اور کامیابی کا سکون میرے پاس اتنی آسانی سے نہیں آیا۔ “ قلم تھام لینا، انگلیوں کو اس کا عادی بنانا اور پھر عمر بھر کے لیے وفا نبھانا بہت مختلف چیزیں ہیں۔ بہت سارے ہاتھوں میں قلم آتے ہیں اور پھر طبیعت کی کاہلی اور غیر سنجیدگی، معاشی اور سماجی مجبوریوں یا رحجانات کے بدلاؤ کے

Read more

تبدیلی کے خواب مہنگے پڑ گئے

تبدیلی کے دیوانوں کے ساتھ بھی وہی ہوا جو ایک نسل پہلے روٹی کپڑا اور مکان والوں کے ساتھ ہوا تھا۔ نہ روٹی ملی نہ کپڑا نہ مکان، بس نسلوں کی غلامی مل گئی۔ ایسے ہی ہماری نسل نے دیکھا تھا ایک نئے پاکستان کا خواب، نئی رتوں، نئے لوگوں کا خواب۔ مگر کیا کیجیے کہ پاکستان میں جو چیز سب سے مہنگی بکتی ہے وہ خواب ہی ہیں، بھوکے کو راٹی کے خواب، ترسے کو محبت کے خواب، پردیسی

Read more

ان کی ڈگریاں کینسل کریں

ان کی ڈگریاں کینسل کریں اور مریضوں کی جان لینے والوں کو سزائے موت دیں! پاکستانی قوم کے پاس ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کی پہلے ہی شدید کمی ہے، یہاں مسیحاؤں کی کمی ہے، غنڈوں اور بدمعاشوں سے تو یہ زمین بھری پڑی ہے۔ اور اس قوم کی بدقسمتی میں، ان کے خوف میں، عدم تحفظ میں مزید اضافہ کرنے والوں کو سزائیں دیں! وزیر اعظم کی کرسی جو قانون کے مطابق سب سے اونچی ہے، آرمی چیف جن کو دنیا

Read more

کرتار پور راہدری بمقابلہ ایودھیہ

عین اس روز جب پاکستان کرتار پور راہداری منصوبے کا افتتاح کرنے جا رہا تھا انڈین اعلی عدلیہ کی طرف سے بابری مسجد کی جگہ ہندوؤں کے حوالے کرنے کا فیصلہ یقینی طور پر ایک سیکولر عدل پسند عدلیہ کا فیصلہ نہیں بلکہ انڈین حکومت اور دفاعی اداروں کی طرف سے ایک مشترکہ فیصلہ ہے جس پر وہاں کی عدلیہ نے بہت تابعداری سے نہ صرف من وعن عمل کیا ہے بلکہ ان کی سیاسی جماعتوں سمیت انٹرنیشل میڈیا نے

Read more

الف، آڈیو اور عمیرہ احمد

جس دن میری دوست نے مجھے عمیرا احمد کا نیا ناول الف پڑھنے کے لئے بھیجا۔ میں ذرا چلتے پھرتے کاموں میں لگی تھی۔ میرے پاس ان کے ناول کی آڈیو کا لنک آیا تھا۔ میں نے سوچا چلتے پھرتے کام کرتے ساتھ ساتھ سن لیتی ہوں۔ میں نے اسے آن کیا۔ مگر پھر کچھ ہی دیر میں اسے بند کر دیا۔ یہ آڈیو اس قابل قطعی نہ تھی کہ اسے چلتے پھرتے نمٹا دیا جاتا۔ خوبصورت آواز میں ناول

Read more

ڈینگی اور ہماری ذمہ داری

سفید دھبوں والی لمبی کالی ٹانگوں کے ساتھ وہ میری آستین پر بیٹھا تھا اور کمرے کی سفید ٹیوب لائٹ روشنی میں اپنی قاتل بدصورتی کھل کر آشکار کر رہا تھا۔ میری ایک دم گھبراہٹ سے وہ اڑا اور پھر سے میرے ہی کپڑوں پر آ بیٹھا۔ اس بار میں نے اپنی پوری طاقت سے اس کا نشانہ لگایا اور زندگی میں پہلا شکار میں نے جس مچھر کا کیا وہ ڈینگی کا پلا پلایا بڑے سائز کا مچھر تھا۔

Read more

زرگزشت از مشتاق یوسفی

”ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب انسان میں اپنے آپ پر ہنسنے کا حوصلہ بھی نہیں رہا، اور دوسروں پر ہنسنے سے اسے ڈر لگتا ہے۔ “ مشتاق یوسفی اپنے آپ پر ہنسنے سے پہلے انسان کو بہت بہادر بننا پڑتا ہے۔ اپنی شکستہ حالت کو قبول کرنا ہوتا ہے اپنی خستہ حالی کو تمغے کی طرح سینے پر سجانا پڑتا ہے۔ تبھی تو ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا! کھل کر رونے کے بعد ہی ہنسنے کی باری

Read more

فطرت کا تحفظ آپ پر فرض ہے

جن کی زمین پر شدید تر محنت کے بعد بھی درخت سانس نہیں بھر پاتا! جن کی مٹی سے سر پھوڑ کر بھی رنگ تو دور سبزہ تک جنم نہیں لے پاتا! ان سے پوچھیں اس پھولوں سے لدی سرزمین کی قیمت کیا ہے؟ جو سرحد سرحد ایک ہریالی کی تلاش میں پھرتے ہیں, ہوا اور سائے کی تلاش میں مہنگی مہنگی مشینوں سے دھرتی کو بھر لیتے ہیں ان سے پوچھیں کہ اس ہریالی کی قیمت کیا ہو گی؟

Read more

ڈزنی کی فلم الہ دین

ریویو: صوفیہ کاشف رنگ، انداذ، موسیقی، رقص اور عرب تہزیب میں خوبصورتی سے گندھی ہوئی محسور کن منظر نگاری، اور دلکش ڈائریکشن، ڈزنی کی الہ دین بچوں کے ساتھ ساتھ ان کے والدین اور بڑوں کے لئے بھی ایک مکمل ٹریٹ ہے۔ الہ دین (میناء مسعود) ، یاسمین (مومی اسکاٹ) اور چراغ کا جن ( ول اسمتھ) اپنے کرداروں میں نگینوں کی طرح فٹ ہیں جو یقینا ڈزنی لینڈ کی روایت ہے۔ ڈزنی سیریز ہمیشہ اپنے اوج کمال پر ہونے

Read more

پاکستان کے یتیم مسکین عوام اور لاڈلے اماراتی

مہینے کے شروع کے دن ہیں اور ورکنگ ڈے، منگل۔ مگر ابوظہبی کی ایک عرب آبادی والے علاقے کی سپر مارکیٹ ایسے بھری ہے عوام سے کہ جیسے جمعہ بازار لگا ہو یا مفت مال بانٹا جا رہا ہو۔ ایک ایک ہاتھ میں کئی کئی ٹرالیاں، لدی پھدی، لائن میں لگی، راستہ روکے کھڑیں، تھیلوں کے تھیلے، کریٹ کے کریٹ! ہاں! مگر خریدار سب اماراتی ہیں۔ ہم جیسے باہر سے روزگار کی تلاش میں آنے والے تو اپنی ایک ایک ٹرالی لئے بیچ میں پھنسے شرما رہے ہیں، گھبرا رہے ہیں کہ ان میں ہماری باری جانے کب آئے۔ کچھ کچھ حسد سے، کچھ کچھ افسوس سے، کچھ حسرت سے دل میں اک آہ ابھرتی ہے ”ہائے، ہم یتیم مسکین پاکستانی! “

Read more

ڈاکٹر فرحت ہاشمی سے کچھ سوالات

ڈاکٹر فرحت ہاشمی کا میریٹل ریپ سے متعلقہ وڈیو لیکچر جو مجھے کسی نے خاص طور پر دیکھنے کے لئے بھیجا دیکھنا ایک اذیت کا عمل بن گیا۔ حیرت بھی ہوئی، افسوس بھی! ۔ ان کے درس پر بات کرنا اس لئے بہت ضروری ہے کہ پاکستان میں ان کی بات ہزاروں لاکھوں مرد و عورت بہت غور سے سنتے ہیں۔ صرف ان کی بات ہی نہیں بلکہ ان کی طالبات کی ایک کثیر تعداد ان سے یہی علم حاصل کر کے اپنے دور دراز کے چھوٹے سے چھوٹے شہروں اور علاقوں تک اسی علم پر مبنی ادارے چلا رہی ہیں اور مدرسہ سسٹم کی طرح الھدی سسٹم بھی معاشرے کی جڑ تک اپنی جڑیں گہری کرتا جا رہا ہے۔

Read more

آزادی اظہار کا عذاب اور کم حوصلہ معاشرہ

بچوں کے سکول سے چھٹیاں ہوئیں تو جو تھوڑا بہت وقت اپنے لئے نکلتا تھا وہ بھی گیا۔ لکھنا بھی اور پڑھنا بھی تو بالآخر شامت چلتے پھرتے تبصروں کی آ گئی۔ ایک دو سٹیٹس اپ ڈیٹ، ایک دو لوگوں سے چلتے پھرتے سوشل میڈیا پر اختلاف رائے اور ایک ہی دن میں کئی دوست خفا ہوئے، کچھ نے گروپ چھوڑا کچھ لوگ فیس بک پر بلاک کر گئے اور صرف دوست ہی نہیں کئی ڈیپی دیکھ کر چپکے سے

Read more

میں نے ممی کی ڈائری کیوں لکھی؟

اگر تین سال پہلے مجھ سے کوئی پوچھتا کہ میری قابلیت کیا ہے تو میں کہتی ”ممی“۔ میرا کام، میری نوکری، ذمہ داری، فرض میرا ہنر میری مہارت سب کچھ میرا ممی ہونا ہی تھا۔ چونکہ بارہ سال میں نے صرف اور صرف ممی ہڈ mommyhood کو دیے ہیں۔ صرف ممی بننا سیکھا اور صرف اسی میں مہارت حاصل کی۔ کیا میں ایک ایکسپرٹ ممی بن سکی؟ اس بات کا جواب تو وقت دے سکے گا، میں نہیں۔ چونکہ ماں اپنی

Read more

زینب سے فرشتے

دو ہزار بارہ یا تیرہ کا ذمانہ تھا جب میرے دونوں بچے ننھے منے خرگوشوں جیسے تھے۔ ہنستے مسکراتے ماں کے ہاتھ کے سجے سنورے ہر وقت فوٹو بنوانے کے لئے تیار۔ ہمارا کوالٹی ٹائم اکثر بچوں کی فوٹوگرافی کی نظر ہو جاتا۔ ان کی مسکراہٹوں، خوبصورت حرکتوں کی تصویر کشی میرا مرغوب مشغلہ تھا۔ ایک ایک نشست میں سو پچاس تصاویر بناتی اور سب کی سب فیس بک میں بھر دیتی۔ جب تک کہ کچھ آرٹیکلز اور رپورٹس میری نظر سے نہ گزریں۔ یہ زینب اور قصور کے بچوں سے بہت پہلے کی بات ہے۔وہ کالمز اور رپورٹس پیرنٹنگ کے انٹرنیشنل میگزینز میں چھپے تھے اور یہ نہ پاکستان کی کہانی تھی نہ یو اے ای کی۔ یہ امریکہ اور برطانیہ کی کہانیاں تھیں۔ ان جدید دنیا کی امریکی انگریز ماؤں کی کہانیاں جن کے چھ سات سالہ بچے سکولوں کے سامنے سے اٹھائے گئے، ان کے ریپ کیے گئے، جسموں کو بیدردی سے کاٹا گیا اور مار کر کہیں پھینک دیا گیا۔

Read more

خان صاحب اور جھاڑو والی سرکار

تھکے ہارے خان صاحب پسینے سے بھری قمیض اور دھونی کی طرح چلتے ہوئے سانسوں کے ساتھ مسجد میں جا کر سجدے میں گر گئے اور دھاڑیں مار مار رونے لگےاے میرے اللہ !میں کام کر کر کے تھک گیا،میں نے راتوں کی نیند اور دن کا چین حرام کر لیا تیری اس مملکت کو ٹھیک کرنے میں،میں نے اپنی ساری شہرت اور نیک نامی چولہے میں جھونک دی اس لئے کہ تیری دی اس نعمت جیسی مملکت خدادا میں امن،انصاف،ایمانداری،صداقت اور لیاقت کو فروغ دے سکوں! میں نے ساری دنیا کی مخالفت اور دشمنی مول لی تا کہ اپنے ملک کے بے بس لوگوں کو اختیارات،طاقت ،علم اور شعور دے سکوں مگر دیکھ آج میرا کیا حال ہو چکا۔میری ساری نیک نییتی،نیک نامی اور ایمانداری کو اس ملک کے لوگوں نے ،میرے دشمنوں اور دوستوں جیسے دشمنوں نے خاک میں ملا دیا۔اب کیا کروں میرے مالک!”

Read more

پائلو کاہلو کی Adultery، مولانا رومی اور محبت کے چالیس اصول

ایلا کی شناخت میرے ذہن میں ہمیشہ ایک سطر سے رہتی ہے۔ ”ایک دن خموشی سے وہ اپنا گھر، بچے، بے وفا شوہر، اور ہمسائے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر دنیا کے خطرناک راستوں پر اکیلی نکل جائے گی۔ “ اور ایک دن وہ واقعی یہ سب چھوڑ کر چلے جاتی ہے۔ انسان کے اندر خالی پن ہو تو اسے سناٹوں کی بازگشت ہمیشہ سنائی دیتی رہتی ہے۔ بستیاں سوکھنے لگیں تو وہ جانتی ہیں کہ ایک دن ان

Read more

پاکستان کیسے دبئی بنے گا؟

متحدہ عرب امارات میں رمضان کیا شروع ہوتا ہے کہ رنگ و روشنی کی بہار امڈ آتی ہے۔ شہر کی گلیوں میں، عمارتوں پر، بڑی شاہراہوں پر رمضان کریم کے نام کے قمقمے جلنے بجھنے لگتے ہیں اور ہر کونہ خوبصورت چاند ستاروں اور لالٹینوں کی چمکتی روشنیوں سے جگمگا جاتا ہے تو اس روحانیت کا احساس ضرور ہوتا ہے جو تلاشنے کی خاطر پاکستان میں جستجو کا آغاز ہو چکا۔ مگر کیا کیجیے کہ کچھ تاثیر کن اخلاق واعمال

Read more

آزاد میڈیا، صاحب اور صاحبہ

میڈیا کی آزادی کا ابتدائی زمانہ تھا۔ کچھ نئے نئے چینل اس نئی نئی آزادی کے ترانے گا رہے تھے اور پرائم ٹائم کا وقت ڈراموں کی بجائے مذاکروں کی نذر ہونے لگا تھا۔ میڈیا کی آزادی کی اہمیت پر کراچی میں ایک سیمنار ہوا اور بہت سے دوسرے بڑے ناموں کے ساتھ اس میں حامد میر اور انور مقصود صاحبان نے بھی خطاب کیا۔ اس سیمنار میں اپنے موقف اور بیان کو حامد میر صاحب نے اگلے دن کے اپنے آرٹیکل میں بیان کیا۔ ان کا سارا آرٹیکل مجھے قائل کرتا رہا، سچ کی ترویج، لوگوں تک حقائق کی ترسیل، انسانی شعور اور بالیدگی سمیت ہر بات ان کی بھر پور تھی۔ مگر اپنے آرٹیکل کے آخر میں انہوں نے اپنے مخالف موقف رکھنے والے انور مقصود کی صرف ایک بات لکھ دی جس نے ان کے سارے دلائل کو ایک ہی لائن میں چاروں شانے چت کر ڈالا!

”جس ملک کی اٹھانوے فی صد آبادی ان پڑھ ہو وہاں آزاد میڈیا نہیں ہونا چاہیے۔ “

یہ آرٹیکل اور یہ موقف تب پڑھا اور آج پورا آرٹیکل بھول چکی ہوں مگر یہ ایک لائن آج بھی میرے دماغ میں روشن اور زندہ ہے۔ اور کوئی پندرہ بیس سال کی مسافت کے بعد انور مقصود صاحب کی وہ بات روز روشن کی طرح حقیقت نظر آتی ہے۔

Read more

اورحان پاموک کی دی ریڈ ہیرڈ وومن

تاریخ کے گرد گھما پھرا کر داستان کہنا یا پھر کسی گھمبیر کلاسک تھیم کو لے کر اس کے گرد ایک نئی کہانی بننا نئے زمانے میں اپنی جڑیں گہری کرتا جا رہا ہے پھر چاہے ایلف شفق کی فورٹی رولز آف لو ہو یا اورحان پاموک کی ریڈ ہیرڈ ویمن۔ اورحان پاموک نے بھی اپنے اس نئے ناول میں اسی فارمولے کو اپنایا ہے اور دو مشہور زمانہ کلاسک ایڈیپس ریکس اور شہنشاہ نامہ میں رستم و سہراب کی حکایت پر پرکار کا سرا رکھ کر دوسرے سرے سے اس کے گرد دائرہ بنا ڈالا ہے۔ایک انتہائی عام سے ینگ نوجوان سیم کی کہانی جس کے شعور سنبھلتے ہی اس کے کندھے پر زندگی کی ذمہ داریاں اپنا بوجھ ڈالنے لگیں اور اسے اپنے خوابوں کی تعبیر کے لئے ایک کنویں کھودنے والے محمد کے ساتھ مزدوری کرنی پڑی تا کہ وہ اپنی پڑھائی کے لئے مطلوبہ رقم حاصل کر سکے۔

Read more

گڈ مارننگ میسج اور ہراسمنٹ

ایک پاکستانی سیاستدان کے بیان نے انوکھی بحث چھیڑ دی ایسی کہ لوگ ہنس ہنس بے حال ہو گئے۔ اکثریت کو اس بے تکی بات نے خوب لطف دیا۔ کیا یہ بات اتنی ہی بے تکی ہے؟کیا روزانہ کے گڈ مارننگ، گڈ ڈے کے میسج ہراسمنٹ کے زمرے میں آتے ہیں؟ کیا عورتوں کی ڈی پی پر ماشاءاللہ، حسین، خوبصورت چہرہ جیسے کلمات لکھنے ہراسمنٹ ہے، کیا غیر ضروری میسجز، واٹس آپ، فرینڈ ریکوئسٹس بھیجنا، پھر قبول نہ ہونے کی صورت میں میسجز بھیجنا کہ پلیز فرینڈ شپ قبول کی جائے ہراسمنٹ ہے؟ عوام الناس کی اکثریت، پکڑنا، روکنا، چھونا اور دبوچنا سے کم پر کسی چیز کو ہراسمنٹ ماننے کے لئے تیار ہی نہیں اور نہ ہی جنسی ہراسمنٹ سے کم پر بات کرنے پر آمادہ ہے۔ یہ سچ ہے کہ جہاں اس قدر انتہائیں ہوں کہ عورت باہر نکلے تو بغیر پریشان ہوئے گھر کو لوٹ نہ سکے وہاں یہ چھوٹی چھوٹی باتیں یقینا نظر انداز ہوتی ہیں مگر اس کے باوجود ان کی موجودگی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

Read more

روتی عورت کے سرہانے سوئی ریاست

پاکستان میں موجود صرف دو فی صد آبادی پر مشتمل ہندو برادری پر چند فقرے بولے گئے اور وزیراعظم پاکستان نے وزیر سے استعفی طلب کر کے پوری دنیا میں واہ واہ کروا لی۔ لیکن پاکستان کی 49 فی صد آبادی پر مشتمل عورت پر پچھلے تین چار دن سے ہر سمت سے ہر طرح کے حملے چل رہے اور حکومت خموش بیٹھی تماشا دیکھ رہی ہے۔ کوئی عورت کی حمایت میں اس کا تماشا بنا رہا تو کوئی اس کی مخالفت میں۔ کیا عورت کی طرف اس ریاست کی کوئی ذمہ داری نہیں؟

کیا عورت کے سلسلے میں ریاست کسی کو بھی جواب دہ نہیں؟ پچھلے کچھ دنوں کے خصوصاً دونوں طرف برپا ایک طوفان بدتمیزی میں سب کچھ نظر آیا سوائے حکومت کی طرف سے عورت کے لئے کسی بھی قسم کی داد رسی کے۔ عورت کا وہ تشخص، کردار اور اس کا وجود جو ان کچھ دنوں میں مسخ کر کے رکھ دیا گیا۔ جس طرح کشمیر اور پاکستان کی جنگ میں کشمیر پس کر رہ گیا اسی طرح لبرلزم اور کنزرویٹو، کی اس لڑائی میں جس میں جانے کن کن قوتوں نے اپنا حصہ ڈالا قربانی کی گائے بننا اسی مشہور زمانہ گائے کے حصے میں آیا جس کا نام عورت ہے۔

Read more

آزادی مارچ، عورت اور حقوق

سو وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ عورت کا عالمی دن ایک کلنک کے ٹیکے کی طرح سب عورتوں کے منہ پر لگا دیا گیا۔ ایک ایسے گھٹیا اور بھونڈے طریقے سے منانے والوں نے منایا، دکھانے والوں نے دکھایا اور تبصرے کرنے والوں نے تبصرے کیے کہ اب سال بھر جو بھی عورت عورتوں کے حقوق کی بات کرے گی اس کے نام کے ساتھ لعنت اسی دن کی پڑے گی۔ سارا سال ان نعروں کے ساتھ عورتوں کے استحصال کو تقویت دی جاتی رہے گی۔ ”میرا جسم میری میری مرضی“ ، ”لو بیٹھ گئی“ ، ”ماں بہن“ جیسے فقرے سارا سال ہمارے چہروں پر تھپڑوں کی طرح پڑتے رہیں گے۔نہ فیکٹری میں کام کرنے والی عورت کی تنخواہ میں اضافہ ہوا، نہ مزدور عورتوں کو روک کر کھانا پیش کیا گیا، نہ کسی دفتر کسی ادارے میں اس دن کے احترام میں ایک ڈے کئیر قائم کیا گیا، نہ کسی باپ بھائی نے بیٹیوں میں وراثت تقسیم کی ، نہ بیٹیوں کو چند سال اور تعلیم کی اجازت دی گئی، نہ کسی بہن بیٹی سے منگنی یا شادی کرتے اس کی رضا پوچھی گئی، نہ کسی کے سر سے تہمت اتاری گئی نہ کسی کا الزام جھوٹا قرار پایا، بس ایک عالمی دن منایا گیا اور پاکستان کی پسی ہوئی عورت کی عزت کو مزید روند ڈالا گیا۔

Read more

انڈیا کی پسماندہ فوج اور جنونی میڈیا

نیویارک ٹائمز کی آج کی اشاعت میں ایک بہت اہم رپورٹ شائع ہوئی جس نے انڈین آرمی کو بہت فرسودہ اور پسماندہ قرار دیا اور اس کی سٹریٹیجک پاور اور اسلحہ جات کو بوگس اورناکام قرار دیتے ہوئے اس کے پرانے جہازوں، بڑی فوج کے ساتھ قدیم اسلحہ کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ جلد ہی یہ خبر دھڑا دھڑ ہر نیوز چینل اور ہر صحافی کی وال پر دھڑا دھڑ پھیلنے لگی تا کہ تمام پاکستانیوں کو اس بات کی خبر اور خوشخبری دے دی جائے کہ دنیا پر ہماری برتری ثابت ہو گئی ہے۔یہاں تک تو بات ٹھیک ہے کہ بھارت اور بھارت کے پیچھے سے ہماری لگامیں کسنے کی خواہش مند طاقتوں کے لئے ایک شٹ اپ کال چلے گئی ہے اور ان پر یہ واضح ہو گیا کہ پاکستان کسی کے لئے بھی ایک تر نوالہ نہیں۔ مگر اس ناکامی اور کمزوری کی ایک کھلے عام تصدیق کی بنا پر بھارت اپنے طاقتور دوستوں کے سامنے ان کے حصے کی جنگ لڑنے والا ایک مظلوم سپاہی بھی ثابت ہو گیا جسے ان ساری طاقتوں کے اسلحہ جات میں، فنڈز میں اور وسائل میں شدید مدد کی ضرورت ہے۔

Read more

دس برس کی بارش اور یوسف کی قمیص

ایسا کیا کہا تھا میں نے کہ میرا دوست زور وشور سے مجھے بھاشن دینے لگا تھا۔ عمر تنخواہ، بچے بیوی، حقوق و فرائض سب کچھ ہی تو اس نے انگلیوں پر گِنوا دیا تھا اس نے، مجھے یوں لگا جیسے میں نے امریکہ پر حملہ کرنے کا ارادہ کر لیا تھا کہ وہ جذباتی ہو کر اس احمقانہ سوچ پر مجھے باتوں پر باتیں سناتا چلا گیا۔ اتنی سی ہی تو بات تھی کہ میں دوسری شادی کرنا چاہتا

Read more

مستنصر حسین تارڑ کا بہاؤ

بہاؤ زندگی کا نام ہے وہ زندگی جو پانی کے سنگ بہتی ہے، پانی کے ساتھ ٹھہرتی ہے اور پانی کے ساتھ ہی کوچ کر جاتی ہے۔ یہ زندگی کے، وقت کے، تہذیب اور فطرت کے سفر کا نام ہے کہ یہ سب ایک تغیر میں ہیں، ہونے سے نہ ہونے اور گم ہو جانے سے پھر سے دوبارہ طلوع ہو جانے تک کے سفر کا۔ مستنصر حسین تارڑ کا ناول بہاؤ زندگی کے ہر بنیادی عنصر کی علامت کو بیان کرتا ہے، یہ امید سے نا امیدی تک اور خشکی سے تری تک کا سفر ہے۔

بہاؤ اس قدر نئے معانی آپ پر آشکار کرتا ہے کہ انسان سوچتا ہی رہ جاتا ہے کہ اس نے کیا پڑھا، کیا سمجھا اور کیا جانا، اور جو سمجھا شاید ادھورا سجھا، جو جانا بہت ہی کم جانا۔ میں نے یہ ناول آج پڑھا جب اس ناول میں پیش کی گئی تعبیریں ہماری زمین پر حقیقت ہو کر اترنے لگی تھیں اور اس میں چھپائی گئی پہلیاں کھلی آنکھوں سے دیکھے جانے کے قابل ہونے لگی تھیں۔

Read more

سیکورٹی ادارے، ملتان ائیرپورٹ اور سیکورٹی

چند دن پہلے لگ رہا تھا کہ ہم رشوت دیتے بال بال بچ گئے ہیں آج لگا کہ نہیں ہم تو مرتے مرتے بال بال بچے ہیں۔ وہ جو ذرا سا تھا وہ دراصل بہت کچھ اور بھی ہو سکتا تھا۔ ہوا اس بار یہ تھا کہ اس بار ٹکٹس کے مسائل میں الجھ کر ہمیں ملتان ائیرپورٹ پر اترنا پڑا اور اس بہانے ملتان یاترا کا بھی نادر موقع ملا۔ ملتان انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر اترنے سے لے کر واپس

Read more

حامد میر اور جھکی جھکی نگاہیں

سچ کہنا اور سچی بات کرنا واقعی بہت اچھی بات ہے اور سچ کا سامنا کرنا اس سے بھی اچھی بات۔کیا واقعی ہر سچ کا پرچار کرنے والا سچ کا سامنا کرنے کی ہمت رکھتا ہے؟ میر صاحب آپ بھی تیس سالہ غلاظت کا سارا بوجھ پی ٹی آئ کی حکومت پر ڈالنے کی کوشش نہیں کر رہے؟ آپکا موقف بہت واضح ہے مگر کیا یہ موقف ان تمام قارئین نے اسی طرح سمجھ لیا ہے جس طرح سے آپ

Read more

ایگزٹ ویسٹ پر تبصرہ

”جب ہم ہجرت کرتے ہیں تو ہم اپنی زندگیوں میں سے ان لوگوں کا قتل کردیتے ہیں جو ہم سے بہت پیچھے رہ چکے ہوتے ہیں۔ “

ہجرت کے ایک معانی زندگی سے سیکھے دوسرے محسن حامد کی کتاب سے۔ ایگزٹ ویسٹ ہجرت کا المیہ ہے مگر صرف ہمارے جیسے ہزاروں محفوظ مستقبل کی خاطر اپنی بنیادوں سے اکھڑ کر نئی جگہ پر جنم لینے والے تارکین وطن کا ہی نہیں، بلکہ اس سے کہیں آگے بڑھ کر ان لوگوں کا جن کی زمین کا دامن آگ پکڑ لے، آسمان پر ستاروں کی بجائے گولہ بارود چمکنے لگے، گلیوں میں موت رقص کرنے لگے، پاؤں زمین میں دھنسنے لگیں اور انسان کو صرف اور صرف زندگی کی خاطر اپنی زمین سے اکھڑنا پڑے۔ وہ اک بے نام محرومی اور کسک جو اک مہاجر کے قدموں میں ہر وقت بیٹری بنکر پڑی رہتی ہے تب کئی گنا بھاری اور خون آلود ہو جاتی ہے جب اس ہجرت کا مطلب ایک زمین سے اکھڑ کر دوسری زمیں پر اگنا نہیں بلکہ ہواؤں میں ٹوٹنا بکھرنا، گمشدہ ہو جانا، اور محض سانس کی تلاش میں ہر آنے والے دن کے لئے پہلے سے زیادہ بے حال ہو جانا ہو۔ یہی محسن حامد کی ایگزٹ ویسٹ کا موضوع ہے۔

Read more

پردیس میں پسنجر سیٹ سے کارگو تک کا سفر

زندگی اس وقت اک بیکار شے لگتی ہے جب انسان مٹی کی کھدی قبر کے سرہانے کھڑے ہو کر دیکھے۔ مگر اس وقت تو کمال ہی بیکار لگتی ہے جب انسان ہوائی جہاز کی پیسنجر سیٹ پر بیٹھ کر چمکتے دمکتے شیشے جیسے ملک میں جائے، بڑی اونچی اونچی گاڑیوں میں پھرے، کارپڈڈ سڑکوں پر سفر کرنے کا عادی ہو جائے، دنیا کے مہنگے ترین کپڑے، خوبصورت ترین گھر، اجلے روشن علاقے مگر جب واپس جائے تو ایک تابوت میں بند ہو کر کارگو کے جہاز پر سامان کے ساتھ ڈھو کر، ”فلاں فلاں کی انسانی باقیات“ کی شہہ سرخی کے ساتھ۔

تب اس کارگو کو سنبھالنے والوں ڈھونے والوں کو محسوس ہوتا ہے کہ ان کی زندگی کتنے بڑے گھاٹے کا سودا رہی ہے۔ زندگی کتنا بڑا دھوکا ثابت ہوتی ہے جب اس کے منہ سے نقاب الٹا جاتا ہے۔ کسی بھی وجہ سے، سہانے مستقبل کی خاطر یا ڈراؤنے حال سے ڈر کر پردیس اور پردیسی زندگی کی سختیاں تو ہم دن رات دیکھتے اور سمجھتے رہتے ہیں مگر اس کی انتہا کا اندازہ تب ہوتا ہے جب آپ کا کوئی قریبی بیمار پڑ جائے یا رحلت فرما جائے۔ زندگی تب ایک بار پھر چیخ چیخ کر دہائی دیتی ہے کہ یہ تھی وہ لش پش والی چمکدار زندگی جس کا مصنوعی لبادہ ہم سالوں چہرے پر ماسک کی طرح لپیٹے خود کو اور دوسروں کو آسائشیں دکھاتے اور ستائشیں سمیٹتے رہے۔

Read more

فورٹی رولز آف لو پر تبصرہ

”محبت زندگی کا پانی ہے اورمحبوب کی روح آگ ہے، اور جب اسی آگ کو پانی سے محبت ہو جائے تو کائنات کا رخ بدل کر رہ جاتا ہے“۔

ایک جادوئی، مسحورکن، دل کی تہوں میں طوفان برپا کر دینے والی تحریر جو ایک ترکش مصنفہ ایلف شفق کے قلم سے نکلتی ہے اور قاری پر اپنی ایسی تاثیر چھوڑ تی ہے کہ آپ پہلے لفظ سے خود کو بھول کر مصنفہ کے وجود میں سرایت کر جاتے ہیں اور اس کی تحریر کی دھڑکن کے ساتھ ساتھ رہڑکنے لگتے ہیں۔ قاری ایک ہی وقت میں اکسویں صدی کی یہودی عورت کی گھریلو، خوبصورت اور مکلمل زندگی کے ستم سہتا اور اس کی شناخت کے سفر میں اس کے حوصلے دیکھتا ہے تو ساتھ ہی ساتھ تیرہویں صدی عیسوی کے درویش کے ساتھ صحراوں کی خاک چھانتا، عشق کے عین سے قاف تک کے سبق سکھاتا، فلسفی کو اس کے مرتبے سے اتار کر شاعر، رقاص اور ملنگ بناتا، تڑپاتا، سِسکتا اور فنا ہو جاتا ہے۔ قاری دو مختلف صدی کے دو مختلف کرداروں میں ایک روح ایک وجود کی شبیہ دیکھتا ہے۔ ایمان اور یقین جو دنیاییں بدل دیتا ہے لہروں کے رخ موڑ دیتا ہے اور۔ عشق حقیقی جو توڑ کر جوڑ دیتا ہے، بگاڑ کے بعد تعمیر دیتا ہے اور فناییت کے بعد امر ہو جاتا ہے۔

Read more

کمزور مائیں، غیر محفوظ بچے

بہت ہی پرانی بات ہے کہ ”ملک کی پچاس فی صد سے زائد عورت کی تعداد کو مضبوط کیے بغیر کوئی ریاست ترقی نہیں کر سکتی“۔ نئی بات یہ ہے کہ ”مضبوط عورت کے بغیر آپ کی فیملی محفوظ نہیں ہو سکتی“۔ محفوظ بچوں کے لئے ایک مضبوط ماں بہت ضروری ہے۔ ہمارے ملک کی عورت کی اکثریت اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اپنے بچوں کی تصاویر لگاتی ہیں اور اپنی چھپاتی ہیں۔ کتنی کثیر تعداد خود دروازے کے پیچھے

Read more

عرب امارات اور ڈرائیونگ لائسنس

سونے کے لئے لیٹتی ہوں تو ہزاروں چھوٹی بڑی گاڑیاں سر کے اوپر سے بھاگنے لگتی ہیں۔ ڈراونے ٹرالر، موٹے موٹے ڈرم مکسر، لوڈرزاور خوفناک ڈراؤنی آنکھوں والی اونچی اونچی کرینیں، گاڑی کے بیک ویو مرر سے غرانے لگتے ہیں اور جو گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ مجھے سستانے کو ملتا ہے میں اس میں ساری ٹریفک کے بیچ میں پھنسی اپنی چھوٹی سی گاڑی کسی کھائی میں، کسی لینڈ سلائیڈنگ کی نکڑ پر یا کسی گہری کھائی کی پگڈنڈی پر چلانے کی کوشش کرتی رہتی ہوں۔

یہ میرے کوئی ڈراؤنے خواب نہیں بلکہ ڈرائیونگ ٹرینگ کلاس کے بعد آنے والے وہ ہچکولے ہیں جو اگلے کئی گھنٹوں تک جاگتے میں یا سستاتے مجھے جھٹکے دیتے رہتے ہیں خصوصاً تب جب میں کم سے کم دو تین گھنٹے کی نیند کے بعد خود کو تازہ دم نہ کر سکوں۔ اس کی وجہ وہ ڈرائیونگ کی ٹرینگ کلاس ہے جو مجھے مسلسل دو گھنٹے کے لئے شہر کی مصروف ترین موٹر ویز پر بڑی بڑی لینڈ کروزرز، رینج روور، پیٹرول اور شہر کی بدترین ٹریفک والے انڈسٹریل ایریا میں دنیا کے بھاری بھاری دیوہیکل ٹرالرز کے بیچ چلانی پڑتی ہے۔ اور یہ ڈرائیونگ ٹرینگ کلاس جو مجھے ایک کار لائسنس لینے کے لئے درکار ہے، کوئی خالہ جی کا باڑہ نہیں، اس کی ایک خطرناک کہانی ہے۔

Read more

بشریٰ بی بی اور پاکستانی عورت کو پڑنے والی گالی

تو پاکستان میں یہ رسم ٹھہری کہ مرد کے حصے کی گالی ہمیشہ عورت ہی کھائے گی۔ چاہے کسی مرد کا قتل ہو، کسی عورت کا ریپ ہو، کسی کے گھر ڈاکہ ڈکیتی ہو، یا کوئی ذاتی، سماجی اور سیاسی دشمنی ہو سزا کے لئے عورت کو ہی چنا جائے گا۔ الہٰی تو نے برصغیر کی عورت کو تاوان بنا کر کیوں پیدا کیا؟ وہ عورت چاہے ماڈرن ریحام خان ہو (ان کے موقف سے اختلاف کے باوجود) باوقار کلثوم

Read more

سرمہ ہے ميری آنکھ کا خاک مدينہ و نجف

روضہ رسول سے اٹھ کر واپس ہوٹل کی طرف لوٹنا اک کڑا مرحلہ تھا مگر ستم یہ تھا کہ دن بھر کے سفر کی تھکاوٹ تھی ، تہجد کی نماز مسجد نبوی میں ادا کرنے کی شدید چاہت تھی تو اسی دوپہر عمرے کی روانگی بھی تھی ۔گھڑی دو گھڑی کا آرام نہ کرتے تو عمرہ کی افادیت تھکاوٹ کی نذر ہو جاتی۔ نبی کے در پر حاضری کے بعد رب کعبہ کے در پر حضوری میں بھی اتنی ہی

Read more

زہے مقدر حضور حق سے سلام آیا، پیام آیا

1۔ زہے مقدر: کیا واقعی دو ہفتے بعد میری زندگی بدلنے والی ہے؟ اس کتاب کا وہ صفحہ الٹنے والا ہے جس کی راہ میں ہزارہا قسم کے مسائل الجھے ہوئے تھے۔ یہ سوال میں نے اپنے جرنل پر تب لکھا جب مجھے شکے تھا کہ میاں صاحب کا ارادہ بدلے گا، ویزہ نہیں لگے گا، چھٹی کہاں ملے گی، بچوں کے امتحان یا کوئی بھی بیکار کا مسئلہ ہمارے قدموں سے الجھے گا اور خدا کی عظیم ترین سرزمین

Read more

اکیسویں صدی کے لیڈر کی نیلے چاند سی تقریر

صبح جب سارا پاکستان اسمبلی کے اہم ترین اجلاس کے لئے ٹی وی کے سامنے بیٹھا لمحہ لمحہ کی کارروائی پر نظر ٹکائے ان اہم لمحات کا منتظر تھا جس کے خواب کم سے کم اکیسویں صدی کی نسل کی پلکوں پر اک عرصے سے پل رہے تھے تو نوجوت سنگھ سدھو کی پاکستان آمد نے بھی خاصی دیر خوب رونق لگائی۔دوست کے حق میں بیانات اور اس کی کامیابی کے لئے نیک خواہشات اور دعاؤں کے ساتھ سدھو کی

Read more

تبدیلی ابھی نہیں آئے گی

یہ اخذ کیا ہم نے جب الیکشن کے روز ملنے جلنے والے سب سمجھدار ،باشعور،اعلی تعلیم یافتہ،ہر خبر پر نظر رکھنے والے،ہر بحث میں حصہ لینے والے ،ہر نئی کتاب پڑھنے والے،بڑے بڑے ناموں اور کتابوں کے حوالے دینے والے سب احباب سے انکے ووٹ کی داستان سننا چاہی کہ ہم تو ٹھہرے پردیسی ہمارا حق تو ہمیں پچھلے پانچ سال میں بھی نہ مل سکا مگر وہ جو پڑھا لکھا ملک کا باشعور طبقہ پاکستان میں ہے وہ ہماری

Read more

بے شعور ووٹ کی کوئی توقیر نہیں

الیکشن کے دن جیسے جیسے قریب آ رہے ہیں ہر شخص ،ہر فرد اور ہر ادارے نے جان توڑ کوشش کر رکھی ہے کہ جس طرح سے ممکن ہو سکے اپنے اختیار، اپنی اہلیت اور اپنی طاقت کی طاقت کو جس حد تک ممکن ہو سکے استعمال کر لے۔ اگر کوئی صحافی یا لکھاری ہے تو دھڑا دھڑ اپنی پسندیدہ جماعت اور شخصیت کی جیت کی پیشن گوئیاں کیے چلا جا رہا اور اس کوشش میں ہے کہ زیادہ سے

Read more

سوری ریحام خان اور مبارکباد منیب فاروق

میاں صاحب نے گھر میں آتے ہی دھماکہ کیا کہ ریحام خان کی کتاب آ چکی ایمازون پر، خریدو فوراً۔ اور میں حیرت سے میاں کی طرف دیکھوں کہ خریدوں؟ کیوں؟ مانا میں بہترین بک ریڈر ہوں مگر میں گھٹیا لٹریچر نہیں پڑھتی، پھر میرے کتابی کیڑے چھوٹے بچے، جن کی موجودگی میں میں کسی بھی صورت کسی بھی وجہ سے ایسی کتاب گھر میں نہیں لا سکتی۔ میاں کو حوصلہ دیا کہ صبر کریں ابھی چار دن میں سوشل

Read more

میرے ٹشوز جن سے میں روز آنکھیں پونچھتی ہوں

”زندگی میں سب سے مشکل کام اعتراف ہوتا ہے، ، ہار جانے کا اعتراف، ناکامی کا اعتراف، نا اہلی کا اعتراف، ۔ محبت کا اعتراف!لوگ سمجھتے ہیں صرف ٹیڑھے میڑھے راستوں میں چلنا ٬اونچی نیچی گھاٹیوں کو پار کرنا٬ ڈوبنا اور ابھرنا ہی مشکل ترین امر ہے۔ لوگ نہیں جانتے کہ اپنی ذات کے ٹیڑھے میڑھے راستے دریافت کرنا سب سے مشکل امر ہے، اپنے غرور ہستی کی اونچی نیچی گھاٹیوں کو پار کرنا سب سے مشکل ایڈوینچر ہے، کسی

Read more

فادرز ڈے مبارک ابی جی

یہ اک ماں کی نہیں، اک باپ کی کہانی ہے ۔ اک سخت گیر باپ کی جس کی دفتر سے گھر کے گیٹ پر آمد ہم ساروں کو بھگا کر اپنے کمروں میں پہنچا دیتی، باجیاں دوپٹے اوڑھ لیتیں، بھائی تابعدار ہو کر کمروں میں کتابیں کھول کر بیٹھ جاتے۔ کوئی اجازت کوی فرمائیش کوئی ضرورت طلب کرنا اک مسلئیہ تھی کون کہے کیسے کہے۔ ڈانٹ پڑے یا نہیں والد صاحب کا خوف اور رعب اس قدر زیادہ تھا کہ

Read more