گڈ مارننگ میسج اور ہراسمنٹ

ایک پاکستانی سیاستدان کے بیان نے انوکھی بحث چھیڑ دی ایسی کہ لوگ ہنس ہنس بے حال ہو گئے۔ اکثریت کو اس بے تکی بات نے خوب لطف دیا۔ کیا یہ بات اتنی ہی بے تکی ہے؟کیا روزانہ کے گڈ مارننگ، گڈ ڈے کے میسج ہراسمنٹ کے زمرے میں آتے ہیں؟ کیا عورتوں کی ڈی پی پر ماشاءاللہ، حسین، خوبصورت چہرہ جیسے کلمات لکھنے ہراسمنٹ ہے، کیا غیر ضروری میسجز، واٹس آپ، فرینڈ ریکوئسٹس بھیجنا، پھر قبول نہ ہونے کی صورت میں میسجز بھیجنا کہ پلیز فرینڈ شپ قبول کی جائے ہراسمنٹ ہے؟ عوام الناس کی اکثریت، پکڑنا، روکنا، چھونا اور دبوچنا سے کم پر کسی چیز کو ہراسمنٹ ماننے کے لئے تیار ہی نہیں اور نہ ہی جنسی ہراسمنٹ سے کم پر بات کرنے پر آمادہ ہے۔ یہ سچ ہے کہ جہاں اس قدر انتہائیں ہوں کہ عورت باہر نکلے تو بغیر پریشان ہوئے گھر کو لوٹ نہ سکے وہاں یہ چھوٹی چھوٹی باتیں یقینا نظر انداز ہوتی ہیں مگر اس کے باوجود ان کی موجودگی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

Read more

روتی عورت کے سرہانے سوئی ریاست

پاکستان میں موجود صرف دو فی صد آبادی پر مشتمل ہندو برادری پر چند فقرے بولے گئے اور وزیراعظم پاکستان نے وزیر سے استعفی طلب کر کے پوری دنیا میں واہ واہ کروا لی۔ لیکن پاکستان کی 49 فی صد آبادی پر مشتمل عورت پر پچھلے تین چار دن سے ہر سمت سے ہر طرح کے حملے چل رہے اور حکومت خموش بیٹھی تماشا دیکھ رہی ہے۔ کوئی عورت کی حمایت میں اس کا تماشا بنا رہا تو کوئی اس کی مخالفت میں۔ کیا عورت کی طرف اس ریاست کی کوئی ذمہ داری نہیں؟

کیا عورت کے سلسلے میں ریاست کسی کو بھی جواب دہ نہیں؟ پچھلے کچھ دنوں کے خصوصاً دونوں طرف برپا ایک طوفان بدتمیزی میں سب کچھ نظر آیا سوائے حکومت کی طرف سے عورت کے لئے کسی بھی قسم کی داد رسی کے۔ عورت کا وہ تشخص، کردار اور اس کا وجود جو ان کچھ دنوں میں مسخ کر کے رکھ دیا گیا۔ جس طرح کشمیر اور پاکستان کی جنگ میں کشمیر پس کر رہ گیا اسی طرح لبرلزم اور کنزرویٹو، کی اس لڑائی میں جس میں جانے کن کن قوتوں نے اپنا حصہ ڈالا قربانی کی گائے بننا اسی مشہور زمانہ گائے کے حصے میں آیا جس کا نام عورت ہے۔

Read more

آزادی مارچ، عورت اور حقوق

سو وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ عورت کا عالمی دن ایک کلنک کے ٹیکے کی طرح سب عورتوں کے منہ پر لگا دیا گیا۔ ایک ایسے گھٹیا اور بھونڈے طریقے سے منانے والوں نے منایا، دکھانے والوں نے دکھایا اور تبصرے کرنے والوں نے تبصرے کیے کہ اب سال بھر جو بھی عورت عورتوں کے حقوق کی بات کرے گی اس کے نام کے ساتھ لعنت اسی دن کی پڑے گی۔ سارا سال ان نعروں کے ساتھ عورتوں کے استحصال کو تقویت دی جاتی رہے گی۔ ”میرا جسم میری میری مرضی“ ، ”لو بیٹھ گئی“ ، ”ماں بہن“ جیسے فقرے سارا سال ہمارے چہروں پر تھپڑوں کی طرح پڑتے رہیں گے۔نہ فیکٹری میں کام کرنے والی عورت کی تنخواہ میں اضافہ ہوا، نہ مزدور عورتوں کو روک کر کھانا پیش کیا گیا، نہ کسی دفتر کسی ادارے میں اس دن کے احترام میں ایک ڈے کئیر قائم کیا گیا، نہ کسی باپ بھائی نے بیٹیوں میں وراثت تقسیم کی ، نہ بیٹیوں کو چند سال اور تعلیم کی اجازت دی گئی، نہ کسی بہن بیٹی سے منگنی یا شادی کرتے اس کی رضا پوچھی گئی، نہ کسی کے سر سے تہمت اتاری گئی نہ کسی کا الزام جھوٹا قرار پایا، بس ایک عالمی دن منایا گیا اور پاکستان کی پسی ہوئی عورت کی عزت کو مزید روند ڈالا گیا۔

Read more

انڈیا کی پسماندہ فوج اور جنونی میڈیا

نیویارک ٹائمز کی آج کی اشاعت میں ایک بہت اہم رپورٹ شائع ہوئی جس نے انڈین آرمی کو بہت فرسودہ اور پسماندہ قرار دیا اور اس کی سٹریٹیجک پاور اور اسلحہ جات کو بوگس اورناکام قرار دیتے ہوئے اس کے پرانے جہازوں، بڑی فوج کے ساتھ قدیم اسلحہ کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ جلد ہی یہ خبر دھڑا دھڑ ہر نیوز چینل اور ہر صحافی کی وال پر دھڑا دھڑ پھیلنے لگی تا کہ تمام پاکستانیوں کو اس بات کی خبر اور خوشخبری دے دی جائے کہ دنیا پر ہماری برتری ثابت ہو گئی ہے۔یہاں تک تو بات ٹھیک ہے کہ بھارت اور بھارت کے پیچھے سے ہماری لگامیں کسنے کی خواہش مند طاقتوں کے لئے ایک شٹ اپ کال چلے گئی ہے اور ان پر یہ واضح ہو گیا کہ پاکستان کسی کے لئے بھی ایک تر نوالہ نہیں۔ مگر اس ناکامی اور کمزوری کی ایک کھلے عام تصدیق کی بنا پر بھارت اپنے طاقتور دوستوں کے سامنے ان کے حصے کی جنگ لڑنے والا ایک مظلوم سپاہی بھی ثابت ہو گیا جسے ان ساری طاقتوں کے اسلحہ جات میں، فنڈز میں اور وسائل میں شدید مدد کی ضرورت ہے۔

Read more

دس برس کی بارش اور یوسف کی قمیص

ایسا کیا کہا تھا میں نے کہ میرا دوست زور وشور سے مجھے بھاشن دینے لگا تھا۔ عمر تنخواہ، بچے بیوی، حقوق و فرائض سب کچھ ہی تو اس نے انگلیوں پر گِنوا دیا تھا اس نے، مجھے یوں لگا جیسے میں نے امریکہ پر حملہ کرنے کا ارادہ کر لیا تھا کہ وہ جذباتی…

Read more

جہنم میں ایک عورت کے ساتھ چار مرد

کسی نے کہا کہ جہنم میں ایک عورت اپنے ساتھ چار مردوں کو لے کر جائے گی۔ باپ بھائی بیٹا اور شوہر۔ یعنی ان سب کو اس لئے لے کر جائے گی کہ جب وہ برائی کر رہی تھی تو ان تمام تعلق دار مردوں نے اسے روکا نہیں۔ اس لئے بہترین حل یہ ہے…

Read more

مستنصر حسین تارڑ کا بہاؤ

بہاؤ زندگی کا نام ہے وہ زندگی جو پانی کے سنگ بہتی ہے، پانی کے ساتھ ٹھہرتی ہے اور پانی کے ساتھ ہی کوچ کر جاتی ہے۔ یہ زندگی کے، وقت کے، تہذیب اور فطرت کے سفر کا نام ہے کہ یہ سب ایک تغیر میں ہیں، ہونے سے نہ ہونے اور گم ہو جانے سے پھر سے دوبارہ طلوع ہو جانے تک کے سفر کا۔ مستنصر حسین تارڑ کا ناول بہاؤ زندگی کے ہر بنیادی عنصر کی علامت کو بیان کرتا ہے، یہ امید سے نا امیدی تک اور خشکی سے تری تک کا سفر ہے۔

بہاؤ اس قدر نئے معانی آپ پر آشکار کرتا ہے کہ انسان سوچتا ہی رہ جاتا ہے کہ اس نے کیا پڑھا، کیا سمجھا اور کیا جانا، اور جو سمجھا شاید ادھورا سجھا، جو جانا بہت ہی کم جانا۔ میں نے یہ ناول آج پڑھا جب اس ناول میں پیش کی گئی تعبیریں ہماری زمین پر حقیقت ہو کر اترنے لگی تھیں اور اس میں چھپائی گئی پہلیاں کھلی آنکھوں سے دیکھے جانے کے قابل ہونے لگی تھیں۔

Read more

سیکورٹی ادارے، ملتان ائیرپورٹ اور سیکورٹی

چند دن پہلے لگ رہا تھا کہ ہم رشوت دیتے بال بال بچ گئے ہیں آج لگا کہ نہیں ہم تو مرتے مرتے بال بال بچے ہیں۔ وہ جو ذرا سا تھا وہ دراصل بہت کچھ اور بھی ہو سکتا تھا۔ ہوا اس بار یہ تھا کہ اس بار ٹکٹس کے مسائل میں الجھ کر…

Read more

حامد میر اور جھکی جھکی نگاہیں

سچ کہنا اور سچی بات کرنا واقعی بہت اچھی بات ہے اور سچ کا سامنا کرنا اس سے بھی اچھی بات۔کیا واقعی ہر سچ کا پرچار کرنے والا سچ کا سامنا کرنے کی ہمت رکھتا ہے؟ میر صاحب آپ بھی تیس سالہ غلاظت کا سارا بوجھ پی ٹی آئ کی حکومت پر ڈالنے کی کوشش…

Read more

ایگزٹ ویسٹ پر تبصرہ

”جب ہم ہجرت کرتے ہیں تو ہم اپنی زندگیوں میں سے ان لوگوں کا قتل کردیتے ہیں جو ہم سے بہت پیچھے رہ چکے ہوتے ہیں۔ “

ہجرت کے ایک معانی زندگی سے سیکھے دوسرے محسن حامد کی کتاب سے۔ ایگزٹ ویسٹ ہجرت کا المیہ ہے مگر صرف ہمارے جیسے ہزاروں محفوظ مستقبل کی خاطر اپنی بنیادوں سے اکھڑ کر نئی جگہ پر جنم لینے والے تارکین وطن کا ہی نہیں، بلکہ اس سے کہیں آگے بڑھ کر ان لوگوں کا جن کی زمین کا دامن آگ پکڑ لے، آسمان پر ستاروں کی بجائے گولہ بارود چمکنے لگے، گلیوں میں موت رقص کرنے لگے، پاؤں زمین میں دھنسنے لگیں اور انسان کو صرف اور صرف زندگی کی خاطر اپنی زمین سے اکھڑنا پڑے۔ وہ اک بے نام محرومی اور کسک جو اک مہاجر کے قدموں میں ہر وقت بیٹری بنکر پڑی رہتی ہے تب کئی گنا بھاری اور خون آلود ہو جاتی ہے جب اس ہجرت کا مطلب ایک زمین سے اکھڑ کر دوسری زمیں پر اگنا نہیں بلکہ ہواؤں میں ٹوٹنا بکھرنا، گمشدہ ہو جانا، اور محض سانس کی تلاش میں ہر آنے والے دن کے لئے پہلے سے زیادہ بے حال ہو جانا ہو۔ یہی محسن حامد کی ایگزٹ ویسٹ کا موضوع ہے۔

Read more