الف، آڈیو اور عمیرہ احمد

جس دن میری دوست نے مجھے عمیرا احمد کا نیا ناول الف پڑھنے کے لئے بھیجا۔ میں ذرا چلتے پھرتے کاموں میں لگی تھی۔ میرے پاس ان کے ناول کی آڈیو کا لنک آیا تھا۔ میں نے سوچا چلتے پھرتے کام کرتے ساتھ ساتھ سن لیتی ہوں۔ میں نے اسے آن کیا۔ مگر پھر کچھ…

Read more

ڈینگی اور ہماری ذمہ داری

سفید دھبوں والی لمبی کالی ٹانگوں کے ساتھ وہ میری آستین پر بیٹھا تھا اور کمرے کی سفید ٹیوب لائٹ روشنی میں اپنی قاتل بدصورتی کھل کر آشکار کر رہا تھا۔ میری ایک دم گھبراہٹ سے وہ اڑا اور پھر سے میرے ہی کپڑوں پر آ بیٹھا۔ اس بار میں نے اپنی پوری طاقت سے…

Read more

زرگزشت از مشتاق یوسفی

”ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب انسان میں اپنے آپ پر ہنسنے کا حوصلہ بھی نہیں رہا، اور دوسروں پر ہنسنے سے اسے ڈر لگتا ہے۔ “ مشتاق یوسفی اپنے آپ پر ہنسنے سے پہلے انسان کو بہت بہادر بننا پڑتا ہے۔ اپنی شکستہ حالت کو قبول کرنا ہوتا ہے اپنی خستہ حالی کو تمغے…

Read more

فطرت کا تحفظ آپ پر فرض ہے

جن کی زمین پر شدید تر محنت کے بعد بھی درخت سانس نہیں بھر پاتا! جن کی مٹی سے سر پھوڑ کر بھی رنگ تو دور سبزہ تک جنم نہیں لے پاتا! ان سے پوچھیں اس پھولوں سے لدی سرزمین کی قیمت کیا ہے؟ جو سرحد سرحد ایک ہریالی کی تلاش میں پھرتے ہیں, ہوا…

Read more

ڈزنی کی فلم الہ دین

ریویو: صوفیہ کاشف رنگ، انداذ، موسیقی، رقص اور عرب تہزیب میں خوبصورتی سے گندھی ہوئی محسور کن منظر نگاری، اور دلکش ڈائریکشن، ڈزنی کی الہ دین بچوں کے ساتھ ساتھ ان کے والدین اور بڑوں کے لئے بھی ایک مکمل ٹریٹ ہے۔ الہ دین (میناء مسعود) ، یاسمین (مومی اسکاٹ) اور چراغ کا جن (…

Read more

پاکستان کے یتیم مسکین عوام اور لاڈلے اماراتی

مہینے کے شروع کے دن ہیں اور ورکنگ ڈے، منگل۔ مگر ابوظہبی کی ایک عرب آبادی والے علاقے کی سپر مارکیٹ ایسے بھری ہے عوام سے کہ جیسے جمعہ بازار لگا ہو یا مفت مال بانٹا جا رہا ہو۔ ایک ایک ہاتھ میں کئی کئی ٹرالیاں، لدی پھدی، لائن میں لگی، راستہ روکے کھڑیں، تھیلوں کے تھیلے، کریٹ کے کریٹ! ہاں! مگر خریدار سب اماراتی ہیں۔ ہم جیسے باہر سے روزگار کی تلاش میں آنے والے تو اپنی ایک ایک ٹرالی لئے بیچ میں پھنسے شرما رہے ہیں، گھبرا رہے ہیں کہ ان میں ہماری باری جانے کب آئے۔ کچھ کچھ حسد سے، کچھ کچھ افسوس سے، کچھ حسرت سے دل میں اک آہ ابھرتی ہے ”ہائے، ہم یتیم مسکین پاکستانی! “

Read more

ڈاکٹر فرحت ہاشمی سے کچھ سوالات

ڈاکٹر فرحت ہاشمی کا میریٹل ریپ سے متعلقہ وڈیو لیکچر جو مجھے کسی نے خاص طور پر دیکھنے کے لئے بھیجا دیکھنا ایک اذیت کا عمل بن گیا۔ حیرت بھی ہوئی، افسوس بھی! ۔ ان کے درس پر بات کرنا اس لئے بہت ضروری ہے کہ پاکستان میں ان کی بات ہزاروں لاکھوں مرد و عورت بہت غور سے سنتے ہیں۔ صرف ان کی بات ہی نہیں بلکہ ان کی طالبات کی ایک کثیر تعداد ان سے یہی علم حاصل کر کے اپنے دور دراز کے چھوٹے سے چھوٹے شہروں اور علاقوں تک اسی علم پر مبنی ادارے چلا رہی ہیں اور مدرسہ سسٹم کی طرح الھدی سسٹم بھی معاشرے کی جڑ تک اپنی جڑیں گہری کرتا جا رہا ہے۔

Read more

آزادی اظہار کا عذاب اور کم حوصلہ معاشرہ

بچوں کے سکول سے چھٹیاں ہوئیں تو جو تھوڑا بہت وقت اپنے لئے نکلتا تھا وہ بھی گیا۔ لکھنا بھی اور پڑھنا بھی تو بالآخر شامت چلتے پھرتے تبصروں کی آ گئی۔ ایک دو سٹیٹس اپ ڈیٹ، ایک دو لوگوں سے چلتے پھرتے سوشل میڈیا پر اختلاف رائے اور ایک ہی دن میں کئی دوست…

Read more

میں نے ممی کی ڈائری کیوں لکھی؟

اگر تین سال پہلے مجھ سے کوئی پوچھتا کہ میری قابلیت کیا ہے تو میں کہتی ”ممی“۔ میرا کام، میری نوکری، ذمہ داری، فرض میرا ہنر میری مہارت سب کچھ میرا ممی ہونا ہی تھا۔ چونکہ بارہ سال میں نے صرف اور صرف ممی ہڈ mommyhood کو دیے ہیں۔ صرف ممی بننا سیکھا اور صرف اسی…

Read more

زینب سے فرشتے

دو ہزار بارہ یا تیرہ کا ذمانہ تھا جب میرے دونوں بچے ننھے منے خرگوشوں جیسے تھے۔ ہنستے مسکراتے ماں کے ہاتھ کے سجے سنورے ہر وقت فوٹو بنوانے کے لئے تیار۔ ہمارا کوالٹی ٹائم اکثر بچوں کی فوٹوگرافی کی نظر ہو جاتا۔ ان کی مسکراہٹوں، خوبصورت حرکتوں کی تصویر کشی میرا مرغوب مشغلہ تھا۔ ایک ایک نشست میں سو پچاس تصاویر بناتی اور سب کی سب فیس بک میں بھر دیتی۔ جب تک کہ کچھ آرٹیکلز اور رپورٹس میری نظر سے نہ گزریں۔ یہ زینب اور قصور کے بچوں سے بہت پہلے کی بات ہے۔وہ کالمز اور رپورٹس پیرنٹنگ کے انٹرنیشنل میگزینز میں چھپے تھے اور یہ نہ پاکستان کی کہانی تھی نہ یو اے ای کی۔ یہ امریکہ اور برطانیہ کی کہانیاں تھیں۔ ان جدید دنیا کی امریکی انگریز ماؤں کی کہانیاں جن کے چھ سات سالہ بچے سکولوں کے سامنے سے اٹھائے گئے، ان کے ریپ کیے گئے، جسموں کو بیدردی سے کاٹا گیا اور مار کر کہیں پھینک دیا گیا۔

Read more