الوداع۔۔۔۔کلدیپ نئیر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”ہمارا میڈیا ابھی مکمل طور پر آزاد نہیں“ یہ پہلا فقرہ تھا جو بے حد معروف صحافی کلدیپ نیئر کی زبان سے سنا۔
عرصہُ طویل سے میں اقوامِ متحدہ کی جانب سے ایشیاء بحرالکاہلی خطے ( APAC) میں ”یوتھ میپنگ پراجیکٹ“ کا سفیر رہا ہوں۔ اس بابت ہمیں مختلف ایشیائی ممالک کے دورے کرائے جاتے ہیں۔ یہ 2011 کی بات ہے جب ہمیں بھارت جانے کا اتفاق ہوا۔ ہمارا قیام بھارتی دارالحکومت دہلی کے ایک بڑے ہاٹل“ لیٹ نیو“ میں تھا۔

کانفرنس کاآغاز ہوا تو ایک صاحب تشریف لائے۔ وہ انتہائی نفیس اور شائستہ شخصیت کے مالک تھے۔ قد درمیانہ تھا اور زرد رنگ کے کرتے شلوار میں ملبوس تھے۔ ابھرتا ہوا گندمی رنگ، جھریوں بھرے چہرے پر سیاہ فریم والی چکور عینک لگا رکھی تھی۔ ان کے سر پر سجی جناح کیپ تھوڑی اوپر کو اٹھی تھی۔ جب ان کو دعوتِ خطاب دی گئی تو معلوم ہوا کہ یہ کلدیپ نیئر صاحب ہیں۔ نام اور کام سے تو میں واقف تھا مگر اجلت میں پہچان نہ سکا۔ المختصر، خوب توجہ سے سنا۔ انہوں نے میڈیا، صحافت اور ادب کی آزادی اور اس کا پاک بھارت تعلقات کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے پر زور دیا۔ جب وہ بولتے تو بے پناہ علم چھلکنے لگتا اور ماحول کی ہر شے ان کے غیر معمولی علمی وقار اور دبدبے سے ہمہ تن گوش ہوجاتی۔

کلدیپ نیئر 14 اگست 1923 میں پنجاب، سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ یہاں بھی تعلیم حاصل کی اور وظیفے کی بنا پر یورپ کے بڑے تعلیمی اداروں کی بھی خوب زیارت کی۔ اسی لیے ان کی گفتگو، تحریروں اور چال ڈھال میں انگریزی رنگ نمایاں تھا۔ وہ آزاد شخصیت کے مالک تھے۔ ہر شے کو آزاد خیالی کے تناظر میں تولتے اور مذہب وقومیت سے بالاتر ہوکر اس کا تجزیہ کرتے۔ بھارتی دنیائے صحافت میں انہیں ”لبرل ازم“ کا استعارہ سمجھا جاتا ہے۔

ابتدا زبانِ اردو کے رپورٹر کی حیثیت سے کی۔ بعدازاں ایک انگریزی اخبار ”The Statesman“کے دہلی ایڈیشن میں لکھاری رہے۔ انہوں نے اکثر سرمایہ داری اور شرکتِ تجار کو موضوع بنایا جس کے سبب ان کے کالم چودہ زبانوں میں ترجمہ ہوکر دنیا بھر کے قریباً اَسی اخبارات میں شائع ہوتے۔ ان پاکستانی اخبارات میں ڈان، دی نیوز اور ایکسپریس سرِ فہرست ہیں۔ سیاست پر وہ بے جھجک لکھتے اور ڈنکے کی چوٹ پر حقائق بیان کرتے۔ 1971 میں قیامِ بنگلہ دیش کے حوالے سے انہوں نے اپنی کئی تحریروں میں پاکستانی افواج کو قصوروار ٹہرایا ہے۔ اپنے مسودے میں انہوں نے کئی تاریخی شخصیات بالخصوص جواہرلعل نہرو، ڈانئل اسمتھ اور بیرے مینی لو کے نقائص وخصائل پر بحث کی ہے۔ وہ جواہر لعل نہرو سے بے حد متاثر تھے۔ حتیٰ کہ اس موضوع پر ایک کتاب بھی سپردِ قلم کرچکے ہیں۔

1996 میں وہ اقوام متحدہ میں بھارتی وفد کے رکن بنے۔ انہیں اگر“ امن کا پیامبر“ کہا جائے تو بے جانہ ہوگا۔ پاک بھارت تعلقات پر انہوں نے ہمیشہ غیرجانبدارانہ اور مثبت رویہ اختیار کیا۔ پاکستان اور بھارت دونوں کے یومِ آزادی کے موقع پر وہ امرتسر کے نزدیک واہگہ بارڈر کے مقام پر شمعیں روشن کرتے۔ علاوہ ازیں وہ پاکستان میں موجود معصوم بھارتی قیدی اور بھارتی جیلوں میں قید کاٹتے مظلوم پاکستانیوں کی مؤثر آواز تھے۔ وہ نئے جنوبی ایشیاء کا خواب رکھتے تھے جہاں پاکستان اور بھارت رفیقِ خاص ہوں۔ انہوں نے کم وبیش پندرہ معرکتہ الآرا کتابیں تصنیف کیں۔
پروگرام کے اختتام پر جب مصافحہ ہوا تو مسکراتے ہوئے انتہائی محبت سے ملے۔ ان کی آنکھوں میں امید کی نمی اور لرزتی آواز میں آس کا رنگ تھا۔ ایک دم طبیعت بشاش ہوگئی۔ لاتعداد علمی، ادبی اور معاشرتی کاوشوں کی بنا پر انہیں سدا یاد رکھا جائے گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں