چیف جسٹس ڈیم کو کس سے بچانے کے لئے پہرہ دیں گے؟


ہمارے نہایت ہی عزت مآب چیف جسٹس نے فرمایا ہے کہ ”ریٹائرمنٹ کے بعد ڈیم پر پہرہ دوں گا اور اگر وہاں جھونپڑی بنا کر رہنا پڑا تو رہوں گا“۔ چیف جسٹس کا یہ بیان سن کر اتھلی سوچ والے افراد ہنسیں گے اور ذی شعور افراد یہ سن کر روئیں گے۔ سوال یہ ہے کہ ڈیم پر پہرہ کس لئے دینا ہے؟ آئیے اس سوال کے بعض جوابات پر نظر دوڑاتے ہیں۔

ایک خطرہ یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی مٹی پتھر نہ چرا کر لے جائے۔ آپ شہری آبادیوں کے نواح میں دیکھتے رہتے ہوں گے کہ ویران پڑی سرکاری اور غیر سرکاری زمینوں سے جرائم پیشہ بلڈرز مٹی چرا کر لے جاتے ہیں اور شہر میں مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں۔

یہ بھی اندیشہ ہے کہ کوئی پانی چرا کر نہ لے جائے۔ ہم اکثر اخبارات میں پانی کی چوری کے بارے میں پڑھتے رہتے ہیں۔ جیسے شہروں میں کنڈا ڈال کر بجلی چوری کی جاتی ہے، ویسے ہی دیہات میں پانی چوری کی وارداتیں بھی ہوا کرتی ہیں۔ بلکہ دیہات کیا، سنا ہے کہ کراچی میں ایک بہت بڑی واٹر مافیا ہے جو پانی چرا کر لے جاتی ہے اور پھر ہزاروں روپے کا ایک ٹینکر بیچتی ہے۔

کہیں کوئی مچھلی چرا کر نہ لے جائے۔ ڈیم بنے گا تو اس میں مچھلی بھی آئے گی۔ مچھلی چوری کی وارداتیں بھی عام ہیں۔ ہمارے ایک جاننے والے نے اپنے ڈیرے سے کچھ فاصلے پر مچھلی فارم بنایا تھا۔ ایک صبح ادھر گیا تو دیکھا تالاب میں ایک بھی مچھلی نہیں ہے۔ پتہ چلا رات کو چند چور آئے اور ڈائنامائیٹ سے سب مچھلیوں کو قتل کر دیا۔ جب ان کی لاشیں پانی پر تیرنے لگیں تو سب کو سمیٹ کر اپنے ٹرک میں لے گیا۔ ڈیم میں مچھلی چوری کی ایسی واردات بڑے پیمانے پر ہو سکتی ہے۔

ایک مسئلہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ڈیم میں کوئی بدمعاشی کرے تو اس کا موقع پر ہی انصاف کر دیا جائے۔ آپ نے شاید سنا ہو کہ بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو کھا جاتی ہے۔ ڈیم میں اس بدمعاشی کا سدباب ضروری ہے اور ادھر ویسے ہی نگران موجود ہونے چاہئیں جیسے شہروں میں ہوتے ہیں۔

لیکن سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ کوئی بلڈر ڈیم کی اس پر فضا لوکیشن پر ہاؤسنگ سوسائٹی نہ بنا دے۔ آپ کو شاید اس بات پر یقین نہیں آئے گا مگر پنڈی میں ایسا ہو چکا ہے جس کا مقدمہ 2010 سے سپریم کورٹ میں چل رہا ہے۔ فیصلہ نہیں آ رہا۔

پنڈی کے ساتھ ہی ایک پنجاب حکومت کا ایک ڈیم کا منصوبہ ہے۔ اس علاقے کا نام کسی کو اردو میں نہیں آتا۔ کوئی اخبار اسے دادوچہ لکھتا ہے، کوئی دادچہ، کوئی ڈاڈوچہ، کوئی ڈھاڈوچہ تو کوئی ڈڈوچہ۔ ہماری رائے میں اس کا نام ڈڈوچہ ہی ہو گا۔ ادھر پانی کھڑا رہتا ہو گا تو ظاہر ہے کہ مینڈکوں کی بڑی تعداد ادھر رہنے لگی ہو گی۔ مینڈک کو پنجابی زبان میں ڈڈو کہتے ہیں۔ ان مینڈکوں کے سبب اس کا نام ڈڈوچہ پڑ گیا ہو گا۔

بہرحال سنہ 2010 میں لیفٹننٹ کرنل ریٹائرڈ طارق کمال نے سپریم کورٹ میں مقدمہ کر دیا کہ ڈڈوچہ ڈیم کی جگہ پر ڈی ایچ اے نے پلاٹنگ کر دی ہے اور بحریہ ٹاؤن کو اس کی ڈیویلپمنٹ کا ٹھیکہ دے دیا ہے۔ مقدمہ چلتا رہا۔ ہاؤسنگ سوسائٹی نے ڈیم کسی دوسری جگہ پر بنانے کی آفر کی مگر پنجاب حکومت ہٹ دھرمی دکھاتی رہی کہ ڈیم یہیں بنے گا۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنے زمانے میں حکم دے دیا کہ ڈیم اصل سائٹ پر ہی بنایا جائے۔

اب نہایت ہی عزت مآب چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے سپریم کورٹ نے بھی سپریم کورٹ نے راولپنڈی کے داڈوچہ ڈیم کی عدم تعمیر کا نوٹس لیا ہوا ہے اور اس نے پنجاب حکومت سے جواب طلب کر لیا کہ بتایا جائے اتنا عرصہ گزر چکا ہے ابھی تک ڈیم کی تعمیر شروع کیوں نہیں کی۔ ہاؤسنگ سوسائٹی کے وکیل اعتزاز احسن نے جواب دیا کہ بحریہ سائٹ ون پر تھا اور اس کے بدلے بحریہ ٹاؤن نے سائٹ ٹو پر ڈیم بنانے کی پیشکش کی تھی، یہ ڈیم کورنگ نالے پر ہے لیکن سپریم کورٹ نے سائٹ ٹو پر ڈیم بنانے کی بات نہیں مانی بلکہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے سائٹ کی اصل جگہ پر ہی ڈیم بنانے کا حکم دے دیا تھا۔

بہرحال سپریم کورٹ میں یہ مقدمہ چل رہا ہے۔ امید ہے کہ چیف جسٹس انصاف کا بول بالا کریں گے اور ڈی ایچ اے اور بحریہ کو ڈیم کی سائٹ پر ہاؤسنگ سوسائٹی بنانے سے روک کر پنڈی والوں کو پانی پانی کر دیں گے۔ شاید اسی تناظر میں نہایت ہی عزت مآب چیف جسٹس کو خیال آیا ہو گا کہ بھاشا ڈیم کی لوکیشن نہ صرف ڈڈوچہ ڈیم سے کہیں زیادہ بڑی ہے بلکہ کہیں زیادہ خوبصورت بھی ہے تو اس کا پہرہ دینا چاہیے ورنہ ادھر بھی ہاؤسنگ سوسائٹی بن جائے گی۔

سپریم کورٹ کی بغل میں موجود ڈڈوچہ ڈیم کی ساڑھے تین ہزار ایکڑ زمین واگزار کروانے میں سپریم کورٹ کو آٹھ برس سے کامیابی حاصل نہیں ہوئی تو دور دراز کے علاقے میں واقعہ بھاشا ڈیم کی لاکھوں ایکڑ زمین کو ہاؤسنگ سوسائٹی سے واگزار کرنا تو بالکل ہی ناممکن ہو گا۔ غالباً اسی خطرے کے پیش نظر نہایت ہی زیادہ عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان جناب مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار صاحب اس ڈیم پر نہ صرف خود پہرہ دینے کے لئے پرعزم ہیں بلکہ ضرورت پڑی تو ادھر جھونپڑا بھی ڈال دیں گے۔ اگر وہ مناسب سمجھیں تو پنڈی کے سیشن جج صاحب کو بھی ڈڈوچہ ڈیم پر ایک جھونپڑا ڈال کر پہرہ دینے کا حکم دے دیں۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar