ڈیم کو چھوڑو گالی بکنا سیکھو!


گالی بکنا ایک آرٹ ہے اور یقین کیجیے بہت کم لوگ یہ آرٹ جانتے ہیں۔ مرزا اسد اللہ خاں غالب پر الحاد کے فتوے لگتے تھے تو لوگ بے رنگ خط بھیجتے جس میں مغلظات کی بھرمار ہوتی۔ ایک دن الطاف حسین حالی اپنے استاد یعنی مرزا غالب کو ڈھکے چھپے لفظوں میں آخرت سنوارنے کی تلقین کر رہے تھے کہ ایسا ہی ایک خط موصول ہوا۔ مرزا نے حالی سے کہا کہ اونچی آواز میں خط کو پڑھیں۔ حالی نے دل میں جو خط پڑھنا شروع کیا تو شرم سے لال ہوتے گئے اور وہ خط باآواز بلند نہ پڑھ سکے۔ مرزا نے کہا جن لوگوں کی جھوٹی اخلاقیات کا درس حالی انہیں دینے کی کوشش کر رہے تھے انہیں تو گالی بھی بکنا نہیں آتی۔ ”مجھ بوڑھے آدمی کو ماں کی گالی بکتے ہیں حالانکہ بوڑھے کو بیٹی کی اور جوان کو بہن کی گالی بکنی چاہیے “۔

عمران خان اور تو شاید کچھ کر سکیں نہ سکیں ایک بات تو طے ہے کہ جیسی نسل اپنے اندھے مقلدین کی انہوں نے پیدا کی ہے وہ ضیا الحق کی اس نسل سے بھی زیادہ بدہیت ہے جن کی ساری توجہ، یونیورسٹیوں میں لڑکے اور لڑکی کے سماجی میل جول پر نظر رکھنا، روسی ریچھ کے خلاف بک بک کرنا، جہاد کا رومانوی تصور مسلط کرنا، شلواروں کے پائنچوں کے اوپر نیچے کرنے پر ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی مسجدیں تعمیر کرنے پر ہوتی تھی اور آپ دیکھ لیجیے کیا لنگڑی لولی نسل پیدا ہوئی ہے۔

او! بھائی مشرف نے اپنی غیر دستوری حکومت کو بچانے کے لیے مغربی آقاؤں کے تلوے چاٹے ہیں۔ اس سے پہلے آپ سامراج کی کرایے کی جنگ لڑ چکے ہیں۔ کس بات کی شاباش اور کیا قربانی۔ انہوں نے ڈالر پھینکے اور آپ کی غیر دستوری حکومتوں کو سنبھالا دیا۔ آپ نے ہزاروں لوگ مروانے تھے یا جنگوں کی قیمت وصول کرنی تھی تو ڈالروں سے رقبے الاٹ کرنے یا چند خاندانوں کے بزنس بڑھانے کی بجائے ڈیم بنا لیتے، ادارے بنا لیتے، بجلی بنا لیتے، گیس نکال لیتے، معدنیات نکال لیتے۔

آ ج عمران خان کی کنٹینروں پر ناچتی نسل گالیاں بکتی ہے کہ میں ڈیم فنڈ اکٹھا کرنے پر قنوطیت پسندی کی کہانیاں گھڑ رہا ہوں اور مجھے گاؤں دیہاتوں کے وہ کرکٹ ٹورنا منٹ یاد آتے ہیں جب ایک مہمان خصوصی اچھی بیٹنگ کرنے والے کے لیے اپنی جیب سے انعام کا اعلان کرتا ہے اور اس کی دیکھا دیکھی بہت سے کنگلے بھی مائیک پر آکر اعلانات کر دیتے ہیں کہ وہ فلاں کو اتنا انعام دیں گے، فلاں کو اتنا دیں گے۔

سمجھدار کھلاڑی تو شکریہ ادا کر ادھر ادھر ہو جاتے ہیں لیکن کچھ معاشی اور ذہنی غربت کے مارے سائیکل اٹھا کر نام نہاد مخیر حضرات کی دکان، گھر اور دفاتر کے چکر لگانا شروع کر دیتے ہیں لیکن سوائے پھٹکار کے ملتا کچھ نہیں۔ احمق بنے لوگ کسی شاہد خان کے ایک بلین ڈالر کی دہائی دے رہے ہیں اور اس بے چارے کو پتہ بھی نہیں۔

فیس بک پر اسے حاتم طائی بنا کر پیش کیا جارہا ہے اور مین سٹریم میڈیا اس کی سخاوت پر نازاں ہے۔ ایسا ہی ایک ہیرو علیم ڈار ہے جو پیشہ کے اعتبار سے امپائر ہے اور امپائر تو ویسے ہی تحریک انصاف والوں کو بہت راس ہیں۔ ان کی تو انگلی ہی پر خان لورز مر مٹتے ہیں، اگر پورا امپائر مل جائے تو سونے پہ سہاگہ۔ کچھ دن ہر ٹٹو ٹیرے کو مسیحائی کا دیوتا بنا کر پیش کیا جائے گا اور اگر مجھ جیسے نے مایوسی کا اظہار کیا تو اپنی بدتہذیبی کا سارا گند باہر انڈیل دیں گے۔

کچھ لوگ چرچ میں عبادت کر رہے تھے کہ نٹشے کا گزر ہوا۔ اس نے پوچھا کہ لوگ کیا کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ خدا کو ڈھونڈ رہے ہیں۔ نٹشے نے لالٹین اٹھائی اور اندھیرے میں زور زور سے چلانے لگا، ”خدا! کہاں ہو تم؟ یہ بے چارے تمہیں ڈھونڈ رہے ہیں“۔ فکر و عمل، خودداری و خود انحصاری سے ماورا بھیڑوں کی ایک نسل مسیحائی کی متلاشی ہے اور اگر کوئی سمجھانے کی کوشش کرے کہ بھائی اوورسیز کا دل تو آپ کے پیچھے رہنے پر کڑھتا ہے لیکن ان میں زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو کالے اور گورے سیٹھوں کے استحصال کا شکار ہیں۔ وہ کہاں بھیجیں گے چودہ سو ارب اور اگر بھیج بھی دیں تو ڈیم بنا کر آپ سستی شہرت تو حاصل کر لیں گے لیکن ایک منگتی نسل اپنے گلے پڑوا لیں گے۔

اب تک تو آپ سرکاری سطح پر کشکول لیے پھرتے رہے ہیں لیکن آج کے بعد ایک پوری نسل بھیک کی افیون پیے گی اور دنیا میں کوئی فری لنچ نہیں ہوتا۔ یہ اوورسیز شاید وطن سے دوری کا دکھ کم کرنے کی کوشش میں ایک یا دو ارب ڈالر بھیج دیں لیکن آپ نے تو کہا تھا کہ لوٹی ہوئی دولت ہی اتنی ہوگی کہ ڈالروں کے ڈھیر تلے بڑی بڑی قامت والے بھی بونے نظر آئیں گے حالانکہ بونا بے چارہ خود اپنی قامت بڑھانے کے جتن کر رہا ہے۔

”ترے وعدہ پہ جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا/ کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا“۔
ایک اور ڈرامہ چل رہا ہے کہ جو پیسہ بھیجا جائے گا وہ محفوظ ہوگا اور ٹھیک جگہ پر لگے گا۔ اگر پیسہ پورا ہی نہیں ہوگا تو اس پیسے سے سٹہ بھی کھیلا جاسکتا ہے تا کہ پیسہ پڑا پڑا ڈی ویلیو نہ ہو جائے۔ ایک نیا تماشا یہ شروع ہو گیا ہے کہ چیف صاحب نے خود ہی خود کو صادق اور امین ڈیکلیئر کر دیا ہے۔ پنڈ وسیا نہیں تے ” چوکیدار“ پہلے آگئے نیں۔ ایک سٹے آرڈر پر طاقتور ہزاروں لوگوں کو یرغمال بنا لیتا ہے اور چیف صادق صاحب شدید غلط فہمی کا شکار ہیں کہ،
” ان آبلوں کے پاؤں سے گھبرا گیا تھا میں / جی خوش ہوا ہے راہ کو پرخار دیکھ کر“۔

ریٹائرمنٹ کے بعد چیف صادق صاحب ڈیم کے پیسوں کی حفاظت کریں گے۔ حضور! لاہور کے واحد کڈنی اور لیور انسٹیٹیوٹ کا آپ کی انا نے بیڑہ غرق کر دیا ہے۔ ٹکے کا ثقافتی ورثہ نہیں تھا جس کے لیے آپ نے اورنج ٹرین پراجیکٹ کو تباہ کر دیا اور مجال ہے رتی بھر بھی ملال ہو آپ کو۔ ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی آپ کو دوسری بار پانی بھی نہیں پوچھے گا اور آپ بیماری کی حد تک غلط فہمی کا شکار ہیں کہ ہمارے پیسے کی حفاظت کریں گے۔ دبئی میں پیسہ پڑا ہے، زرداری اور نواز شریف مبینہ طور پر منی لانڈرنگ کرتے رہے ہیں۔ صرف وہ نہیں ایک جج سمیت چار سو سینتیس افراد کے نام ہیں پاناما میں، نکلوائیں ایک ایک ناجائز پائی ان سے۔ صرف وچ ہنٹنگ نظر نہیں آنی چاہیے، انصاف نظر آنا چاہیے۔

تماشا یہیں ختم نہیں ہوتا خام خیالی اور رومانوی بڑھکوں کا کوئی شمار نہیں اور میں مغلظات میں مٹی ہوئی کنٹینر نسل پر حیران ہوں جو یہ سوال نہیں اٹھاتی کہ کوہ گراں جناب عمران خان صاحب مذہب کو پوائنٹ سکورنگ کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں اور آج خود اسی ذہنیت کے ہتھے چڑھ گئے عاطف میاں کے مسئلہ پر۔ خود طالبان کے حمایتی رہے اور مدرسوں کو کروڑوں روپے فنڈنگ کرتے رہے، مولانا کے مقابلے پر سمیع الحق کی حمایت کرتے رہے اور آج یو ٹرن لینا پڑ گیا۔ آپ کریں ڈیم کے لیے فنڈ اکٹھا اور وقتی و سستی شہرت سے آگے بڑھ جائیں تو ہم مان جائیں گے۔

یاد رکھیں ڈیم ریوینیو بڑھانے سے بنیں گے اور ریوینیو سیاحت، روشن خیالی، تزویراتی لچک، تحفظ دینے سے بڑھیں گے۔ گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں بہت قیمتی پتھر اور دھاتیں ہیں۔ وہاں سیاح ڈالر خرچ کرنا چاہتا ہے۔ ہزاروں ڈالرز صرف ٹرافی ہنٹنگ پر خرچ کرتا ہے۔ دریا بہتے چلے جا رہے ہیں۔ فیریز چلائیں جناب۔ آپ کے گھر میں دولت کے خزانے ہیں اور آپ چلے ہیں بھیک مانگنے اور روتے ہیں قربانیوں کو منوانے کے لیے۔ خدارا! اس ذہنی طور پر اپاہج قوم کو مزید گمراہ نہ کریں۔ ہمیں مغلظات سننے کی عادت ہے لیکن آپ کو سچ سننے کی عادت ڈالنی ہو گی ورنہ تماشا بن جائے گا آپ کا۔

Facebook Comments HS