ٹیکس سسٹم: خامیاں، اصلاحات کی تجاویز اور مشکلات
آج کل ٹیکسوں کے نظام کی اصلاح کا بہت چرچا ہے۔ امریکی امداد کے بند ہونے اور کم سود والے قرضے کی عدم دستیابی کے باعث یہ معاملہ اور بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ہر چند کہ گزشتہ پانچ سال میں ایف بی آر کے جمع کردہ ٹیکس قریب 1900 ارب سے بڑھ کر 3800 ارب سے متجاوز ہوچکے ہیں اور ٹیکس (ایف بی آر)جی ڈی پی تناسب بھی قریب قریب 9 فیصد(2013) سے موجودہ 12 فیصد کو چھو رہا ہے، پھر بھی ہمارے محصولات کی مقدار ہمارے ملک کی تعمیرو ترقی اور دفاعی ضروریات سے خاصی کم رہ جاتی ہے۔ ہمارا ہمسایہ ملک اپنی قومی آمدن کا ایک چوتھائی سے زائد حکومتی اخراجات (ترقیاتی، غیر ترقیاتی، دفاعی) پر خرچ کرتا ہے جب کہ ہماری حکومت اس طرح کے خرچ کے لئے قومی آمدن کا لگ بھگ پانچواں حصہ خرچ کرتی ہے، جس میں سات فی صد کا بجٹ خسارا بھی شامل ہوتا ہے۔ یعنی ہمارے قومی وسائل کی مقدار قومی آمدن کے صرف 14 فیصد تک محدور ہے۔
ان وسائل میں صوبائی ٹیکس اور نان ٹیکس محصولات (سرکاری کارپوریشنز کی آمدن /خسارہ، پیٹرولیم لیوی، گیس سرچارج وغیرہ ) بھی شامل ہیں۔ سرکاری وسائل(قرض اور نوٹ چھاپنے کے علاوہ) کا تقریباً 85 فیصد انحصار ایف بی آر کے جمع شدہ محاصل پر ہی رہتا ہے۔ اگر ہمیں معاشی اور معاشرتی ترقی کی طرف جانا ہے تو اس کا راستہ دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ ٹیکسوں کے نظام کی بہتری کی شاہراہ سے گزرے بغیر ممکن نہیں۔
یہاں پر سمجھنے کی دو بہت ضروری باتیں ہیں۔ نمبر ایک یہ کہ ملک کی اقتصادیات وزارت خزانہ کے ماہرین یا ایف بی آر کے افسران نہیں چلاتے بلکہ اس کے اصل سرخیل وہ نو کروڑ صنعتی، کاروباری، تنخواہ دار اور مزدور ہیں جو ہر روز اپنے روزگار کی تلاش میں نکلتے ہیں اور اپنے خاندان کے لئے رزق کماتے ہوئے ملک کی معیشت کی گاڑی کو بھی دھکا لگا دیتے ہیں۔ ایف بی آر یا دیگر ٹیکس /نان ٹیکس آمدن اکٹھا کرنے والے ادارے ان لوگوں کے پیدا کیے ہوئے منافع میں سے کچھ حصہ اجتماعی خرچ کے لئے حاصل کرتے ہیں اور وزارت خزانہ اور دیگر حکومتی ادارے ان رقوم کو عوامی فلاح پر خرچ کرنے کے راستے وضع کرتے ہیں۔
یہ نو کروڑ پیسہ کمانے والے حکومت کے کہنے پر رزق کی تلاش میں نہیں نکلتے۔ بلکہ ان کو روپیہ کمانے کے لئے صرف اچھی امید، بے یقینی کی عدم موجودگی، امن وامان، انفراسٹرکچر (سڑک، بجلی، گیس) اور کاروباری تنازعات کے جلد فیصلوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ سو ہر ٹیکس پالیسی بناتے وقت یہ بات مدنظر رکھنا چاہیے کہ حکومت کوئی ایسا قدم نہ اٹھائے جس سے کاروباری لاگت میں ناقابل برداشت اضافہ ہو جائے یا بے یقینی کی فضا قائم ہو۔ اسی طرح سے انفراسٹرکچر مہیا کرنے پر اور امن و امان کی صورتحال میں بہتری سے کاروبار پھلتے پھولتے ہیں اور قومی آمدن میں اضافہ ہوتا ہے۔
جب بھی ملک کے محصولات کو بڑھانے کی بات ہوتی ہے تو ہم عمومی طور پر ٹیکس جمع کرنے والے اداروں کو غیض و غضب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جب کہ ہمیں یہ بات نہیں بھولنا چاہئیے کہ ٹیکس معاشی سرگرمی کا بائی پروڈکٹ ہوتے ہیں اور اگر کسی وجہ سے معیشت کا پہیہ سست روی کا شکار ہو تو ٹیکس جمع کرنے والے اداروں کے سخت گیر اقدامات قومی پیداوار اور روزگار پر منفی اثرات ڈالتے ہیں۔
ان تمام باتوں کے باوجود اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ہماری قومی اور صوبائی ٹیکس نظام میں بہتری کی بے تحاشا گنجائش موجود ہے۔ اس سلسلے میں اصلاح کاروں کے ذہن میں دو فوری خیالات آتے ہیں۔
اول، ٹیکس جمع کرنے والی مشینری بے تحاشا بے ایمان ہے اور ان کی مدد کے بغیر ٹیکس چوری ممکن نہیں۔
دوئم ہماری ٹیکس مشینری نالائق لوگوں پر مشتمل ہے، چنانچہ کسی بھی پالیسی تبدیل کرنے سے ٹیکس وصولی پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔
ہر چند کہ یہ دونوں باتیں مکمل طور پر غلط نہیں ہیں مگر ربع صدی سے زائد اس خارزار میں گزارنے کہ بعد میرا اپنا اندازہ یہ ہے کہ جب تک ہم اپنا تمام تر فوکس صرف ان دو باتوں پر رکھیں گے تو ہمارے ٹیکسوں کے نظام میں خاطر خواہ بہتری متوقع نہیں۔ اسی سوچ کے تحت پہلے 1973 میں بھٹو نے اور 2000 میں جنرل مشرف نے ایف بی آر افسران کی ایک بڑی تعداد کو نوکری سے نکالا تھا مگر تاریخ گواہ ہے کہ ایسے اقدامات سے نظام میں مزید بگاڑ پیدا ہوا۔
ٹیکسوں کی کم وصولی کے بارے میں ایک تیسرا پہلو بھی ہے جس کی طرف شاید سب سے زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔ یعنی ممکن ہے کہ ٹیکس میں کم وصولی کی اصل وجہ ٹیکس پالیسی میں موجود سقم، ٹیکس متعین اور وصول کرنے کے نظام میں خامیاں اور ٹیکس کارندوں کی تعداد، استعداد اور وسائل کی کمی ہو۔
اگر اس تیسرے پہلو پر غور کیا جائے تو اس نظام میں بہتری کے بہت سے امکانات دکھائی دینے لگ جاتے ہیں۔ مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ پالیسی ساز، ٹیکس وصول کرنے والی مشینری سے پوچھیں کہ آخر وہ کیا معروضی حالات ہیں جس کے باعث ہماری ٹیکس وصولی میں قریب قریب ایک سے ڈیڑھ کھرب کا مزید گنجائش عملی صورت حاصل نہیں کر پاتی۔ چونکہ ٹیکس وصولی ایک قومی عادت اور کلچر سے بہت زیادہ جڑی ہوئی ہوتی ہے اس لئے غیر ملکی تجربات اور نری متداول تھیوریز ٹیکس وصولی کے نظام میں خاطر خواہ بہتری نہیں لا سکتے۔
ہمارے وفاقی اور صوبائی ٹیکسوں کے نظام اور مشینری اپنی موجودہ صورت میں کاروباری لاگت میں بے وجہ اضافے کا سبب ہیں۔ صوبائی ٹیکس قریب پانچ صوبائی وزیروں کے تحت پانچ الگ الگ محکموں(محکمہ مال، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، خزانہ، معدنیات اور انرجی )سے وصولکیے جاتے ہیں جن کا آپس میں کوئی تال میل نہیں۔ وفاق میں 2011 کی اصلاحات کے بعد تینوں خانگی ٹیکس ( انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز) ایک ہی دفتر وصول کرتا ہے۔ مختلف محکمہ جات اور ان کے آپس کے رابطے کے فقدان سے پچھلے سات برس میں ٹیکس کی کاروباری لاگت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔
ہر صوبے کی خدمات پر ٹیکس وصولی کے ادارے پی آر اے (پنجاب ریونیو اتھارٹی )، ایس آر بی (سندھ ریونیو بورڈ، کے پی پی آر اے (خیبر پختونخواہ وغیرہ) اپنی بیوروکریسی کا سائز بڑھاتے جا رہے ہیں اور نئی نئی قانونی موشگافیوں سے وفاق اور دوسرے صوبوں کے ٹیکس وسائل پر متجاوز ہو رہے ہیں جس سے محصولات کی تقسیم کے فارمولے کو بالواسطہ طریقے سے بائی پاس کیا جا رہا ہے۔
بھارت میں حال ہی میں خدمات اور اشیا پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس کو آئینی ترامیم کے ذریعے سے یک جان کیا گیا ہے جبکہ ہمارا نظام اس طرح کی ٹیکسیشن کو ایک دوسرے سے دور اور مسابقت آمیز بنا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں جس کمپنی کو ایف بی آر معاملات کے لئے چار ملازم رکھنے پڑتے تھے، اب اسی کمپنی کو چار اور اتھارٹیز کے لئے مزید سولہ لوگ بھرتی کرنا پڑ رہے ہیں۔ یورپ میں عمومی طور پر ایک ہی ٹیکس دفتر میں وفاقی، صوبائی اور لوکل ٹیکس اکٹھے کیے جاتے ہیں اور ایک فارمولے کے تحت ان ٹیکسوں کو بانٹ دیا جاتا ہے۔ موجودہ ٹیکنالوجی نے ٹیکسوں کی تقسیم کو اور بھی آسان بنا دیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پی آر اے کی انفارمیشن ٹیکنالوجی بھی ایف بی آر کا ذیلی ادارہ پرال(PRAL) ہی چلا رہا ہے۔ تین سے پانچ سال کی مدت میں ہمیں ایک ملک گیر ٹیکسیشن سروس کی طرف جانا ہے یا پھر ٹیکسوں کی وصولی اور تخمینے کو ایک ادارے کے سپرد کرنا ہے جس کو صوبوں کے تحفظات دور کرنے کے لئے مشترکہ مفادات کی کونسل کے تحت رکھا جا سکتا ہے۔ ایسا کیے بغیر ہم ٹیکسوں کی وصولی کی لاگت میں اضافہ کرتے رہیں گے جو ہمارے ملکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہوگا۔ کسی بھی ٹیکس ریفارمز میں صوبائی اور وفاقی ٹیکسوں کی تال میل اور ایک جگہ وصولی ایک بنیادی نکتے کی حیثیت رکھتی ہے۔
اس سلسلے میں دوسرا اہم نکتہ تمام ملک میں موجود ڈیٹا بیسز کی درستگی ہے۔ آج بھی بجلی اور گیس کے بل 50 سال پرانے مالک کے نام پر وصول ہوتے ہیں۔ اسی طرح بینگ اکاونٹ ملازموں اور غیر موجود لوگوں کے نام پر چلانے کا چلن ِخاصا عام ہے جس کی وجہ سے ہمیں ایف اے ٹی ایف (Financial Action Task Force) سے بھی خاصی سرزنش ہوتی رہتی ہے۔ زمین جائیداد میں بھی بے نامی کے بھی دیرینہ مسائل ہیں۔ ہر چند کہ یہ کام مشکل ہے مگر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے موثر استعمال کے لئے یہ سب درست کرنا بے حد ضروری ہے۔ اس قسم کی ڈیٹا کلینزنگ موبائل فون کے سلسلے میں پہلے ہی کامیابی کے ساتھ کی جاچکی ہے۔ اس طرز کی شناختی کارڈ اور بائیومیٹرک تصدیق سے انفارمیشن میچنگ میں مدد ملے گی اور اخراجات اور اثاثوں کی چھان بین آسانی سے ممکن ہو جائے گی۔
تیسری اہم بات ٹیکس کے محکمے کی کاروبار کے حجم کی مانیٹرنگ ہے۔ اس کے لئے فیکٹریوں میں پیداوار کی الیکٹرانک مانیٹرنگ اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ یہ نظام ترکی اور دوسرے ممالک میں کامیابی سے جاری ہے اور تھوڑی سی سرمایہ کاری سے پاکستان میں بھی لایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ریٹیل سیل پر انوائس مانیٹرنگ کا نظام جنوبی کوریا میں بہت کامیابی سے جاری ہے۔ اس نظام کو بڑی آسانی سے بڑے ریٹیل اور ہول سیل سٹورز پر لگایا جا سکتا ہے۔ اگرچہ اس سلسلے میں بڑے تاجروں کئی جانب سے مزاحمت ہوگی مگر اگر یہ نظام سب پر ایک طرح سے لاگو ہو تو مزاحمت کم کرنے میں آسانی ہوگی۔
برلن شہر میں ٹیکس کے اٹھارہ دفتر ہیں جبکہ لاہور جو برلن سے رقبے اور آبادی میں بڑا ہے، تمام شہر کو پرانی انارکلی اور میکلوڈ روڈ پر موجود دو دفاتر سے مانیٹر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ساری دنیا میں ٹیکسیشن ”موقع پر آنکھوں اور لوگوں کی موجودگی“ کے اصول پر مروج ہے۔ جب کہ ہمارے ملک میں ٹیکسوں کا مرکزی نظام صرف پندرہ بڑے شہروں تک محدود ہے۔ ٹیکس اہلکاروں پر کڑی نگاہ رکھتے ہوئے انہیں فیلڈ میں بھیجنا ایک ایسا ضروری عمل ہے جس کے بغیر تاجر اور صنعتکار کو ٹیکس چوری سے روکنا قریب قریب ناممکن ہے۔
اسی طرح سے ٹیکس کا انتظامی ڈھانچہ بھی ایک بڑی تعداد کے ٹیکس گزاروں کی آمدن اور سیل کا درست تخمینہ لگانے کے لئے ناکافی ہے۔ موجودہ ایک افسر، ایک انسپکٹر اور ایک آڈیٹر کا نظام، ٹیکسوں کی وصولی میں سست روی اور نیم فعالیت کا سبب ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ڈھانچے کو تبدیل کرکے سترہ گریڈ کے افسر کے ماتحت گریڈ سولہ کے آئی آر او اور سینئیر آڈیٹر سے آڈٹ رپورٹس بنوائی جائیں اور گریڈ سترہ کا افسر ایڈجوڈیکیشن کا کام کرے۔ اس طریقے میں آڈیٹرز اور انسپکٹرز کی تعداد بھی موجودہ تعداد سے تقریباً ڈھائی گنا زیادہ چاہیے ہوگی مگر اس سے ٹیکس وصولی خرچے سے کئی گنا زیادہ ہو گی۔
اسی طرح ٹیکس انفراسٹرکچر کی مد میں ٹرانسپورٹ، دفاتر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی پر سرمایہ کاری کافی عرصہ سے موقوف چلی آرہی ہے۔ واضح رہے کہ داخلی ٹیکسوں میں حکومتی خرچ وصولیوں کے اعشاریہ پچاس فیصد سے بھی کم ہے جوکہ اس درجہ کی ریونیو وصولی میں شاید ایک ورلڈ ریکارڈ کی حیثیت رکھتی ہے۔ جب تک ہم اس شعبے پر پیسے خرچ کرنے سے گریز کرتے رہیں گے، ہماری ٹیکس وصولی اسی طرح دس بارہ فیصد کے قریب گھومتی رہے گی۔
اس سلسلے میں آخری نکتہ ٹیکس پالیسی کی درستگی ہے۔ سیلز ٹیکس میں اس وقت کوئی پچاس کے قریب مختلف نظام ہیں جس میں درجہ وار فل ریٹ ٹیکس کے علاوہ بہت سے اور نظام اور طریقے بھی رائج ہیں جو کہ معاشی نظام کی کارکردگی کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ زیرو ریٹنگ، ایگزمپشن ، ریٹیل پرائس ٹیکس، ایکسٹرا ٹیکس، برآمدات والے سیکٹرز کا خصوصی نظام، سپیشل پروسیجرز اور ریٹس نے تمام نظام کا حلیہ بگاڑ دیا ہے۔ میرا اندازہ ہے کہ اگر ہم یہ پیچیدگیاں ختم کرکے ایک جنرل ریٹ پر ٹیکس وصول کریں تو سیلز ٹیکس کا ریٹ دو سال میں سترہ فیصد سے بارہ فیصد پر لایا جا سکتا ہے۔
اسی طرح تیزی سے قیمتوں کے اتار چڑھاؤ والے سیکٹرز میں ایکسائز ڈیوٹی کا سمجھداری سے استعمال سرکاری محصولات میں اتار چڑھاؤ سے محفوظ رکھتا ہے۔ انکم ٹیکس میں بی ایم آر اور نئی سرمایہ کاری پر بے جا چھوٹ نے اس ٹیکس کی افادیت بے حد کم کر دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ودہولڈنگ ٹیکس کے روز بروز بڑھتے ہوئے جال نے بھی معاشی سرگرمیوں پر برا اثر ڈالا ہے۔ تین سے پانچ سال میں ماہانہ ایڈوانس انکم ٹیکس کے نظام کے ساتھ آدھے سے زیادہ ودہولڈنگ نظام سے جان چھڑانا ممکن ہے۔
یاد رہے کہ یہ تمام تجاویز دیکھنے میں بہت سادہ ہیں مگر ان کی تفصیل مشکل بھی ہے اور پیچیدہ بھی۔ اور یہ کام ایک تفصیلی وسط مدتی پلان کے تحت ہی کیا جاسکتا ہے جس میں میکرواکانامک صورتحال اور ٹیکس گزاروں کی ترجیحات کو سمجھنا ضروری ہو گا۔ یاد رہے کہ ایک بے جا سختی کرنے والا ٹیکس نظام آج کے دور میں سرمائے کی منتقلی کی آسانی کی وجہ سے، فائدے کی بچائے الٹا معاشی نظام میں خرابی کا باعث بنتا ہے۔


