عقیدے کی آزادی اور خان صاحب کا یو ٹرن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل پاکستان میں ایک عقیدی مسئلے نے بہت شور مچا رکھا ہے.مجھے لگا تھا کہ پاکستان میں مہنگائی ,بے روزگاری,آبادی کا بڑھنا ,صاف پانی جیسے مسئلے غور طلب اور ہنگامی بنیادوں پہ حل طلب ہیں لیکن میں سب سے بڑے اور پیچیدہ مسئلے کو بھول گئی تھی کیونکہ مجھے لگا تھا کہ عقیدہ و مذہب ہر انسان کا ذاتی مسئلہ ہے اور کسی بھی ملک کا کوئی بھی شہری اپنے مذہب اور عقیدے کے مطابق آزادانہ زندگی گزار سکتا ہے تاہم یہ صرف اب کتابی باتیں لگتی ہیں.پاکستان میں ویسے ہی اقلیتوں کی زندگی مذہب کے نام نہاد ٹھیکیداروں نے اجیرن بنا رکھی ہے اور اب لگتا ہے کہ وزیراعظم پاکستان نے بھی مذہب کارڈ کا استعمال کرنا سیکھ لیا ہے اور یہ ایک سنگین غلطی ہے اور اس غلطی کا خمیازہ خان صاحب کو بہرحال بھگتنا پڑے گا اور اس کے نتائج بھی اتنے ہی بھیانک ہوں گے جتنی یہ غلطی خود.

الیکشن سے پہلے عمران خان نے اعلان کیا کہ حکومت میں آتے ہی میاں عاطف کو وزیر خزانہ بنا دوں گا پر حکومت میں آتے ہی اس دانش مندانہ فیصلے کی راہ میں رکاوٹیں آنی شروع ہو گئی اور خان صاحب نے یو ٹرن لیتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ میاں عاطف کو اقتصادی مشاورتی کونسل کا رکن بنا دیا گیا ہے اور پھر بعد ازاں اس اعلان سے بھی یو ٹرن لے لیا گیا.میاں عاطف کا شمار دنیا کے 25 بہترین ماہر معاشیات میں ہوتا ہے اور خان صاحب کے پہلے اور دوسرے اعلان سے یہ امید جاگی کہ یہ ایک عقلمندانہ فیصلہ ہے اور اب پاکستان کے معاشی حالات دن بہ دن بہتری کی جانب گامزن ہو گے لیکن صرف عقیدہ کی بنیاد پر کسی کی صلاحیت سے مستفید نہ ہونا کہاں کی عقلمندی ہے؟

خان صاحب سے اس قسم کے احمقانہ,سنگین اور ملک کی ساکھ کو عالمی سطح پہ متاثر کرنے والے فیصلے کی توقع ہرگز ہرگز نہیں تھی.اس وقت عالمی سطح پہ پاکستان کی جو ہرزہ سرائی ہو رہی ہے اس کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا خان صاحب کے یہ کہہ دینے سے کہ مجھے میاں عاطف کے عقیدہ کا پتا نہیں تھا ,بات ختم ہو جاتی ہے؟ شاید خان صاحب بھول رہے ہیں کہ انہوں نے اپنی پہلی تقریر میں پاکستا ن کو مدینہ منورہ جیسی فلاحی ریاست بنانے کا عزم ظاہر کیا تھا تو کیا مدینہ میں کسی کو عقیدہ کی بنیاد پہ رد کیا جاتا تھا؟ وزیراعظم نے نہ صرف عالمی سطح پہ پاکستان کی جگ ہنسائی کروائی ہے بلکہ دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ اسلام میں مذہب اور عقیدہ کی بنیاد پہ تفریق جائز ہے جبکہ اسلام یہ کہتا ہے کہ نہ کسی کے مذہب کا مذاق اڑاؤ اور نہ کسی کو زبردستی مذہب تبدیل کرنے پہ مجبور کرو تو یہ کون سا اسلام ہے اور کون سی فلاحی ریاست ہے جس کا تصور وزیراعظم پاکستان دنیا اور پاکستانیوں میں راسخ کرنا چاہتے ہیں.

خان صاحب شاید بھول رہے ہیں کہ اپنی کنٹینر پہ کی گئی ہر تقریر میں یورپی ممالک کی مثالیں دیا کرتے تھے اور یہ وہی یورپی ممالک ہیں جن کی حکومت کا بنیادی ڈھانچہ اسلام کے سنہری اصولوں میں قائم ہے.افسوس کا مقام ہے کہ فرنگیوں نے اسلام کے اصولوں پہ عمل کرتے ہوئے ترقی پا لی اور جو اسلام کے رکھوالے ہیں وہ ابھی تک عقیدوں کی جنگ میں پھنسے ہوئے ہیں. کیا حکومت پاکستان اتنی کمزور ہے کہ مذہب کے نام نہاد ٹھیکیداروں کے ہاتھوں ریاست کو یرغمال ہونے سے روک نہیں سکتی یا پھر وزیراعظم پاکستان میں فیصلہ کر کے اس پہ قائم رہنے کی صلاحیت نہیں؟ یہ ہر اس پاکستانی کا سوال ہے جو عقیدوں کی جنگ سے بالاتر ہو کر سوچتا ہے.بجائے آپ ایک ماہر معیشت دان کی صلاحیتوں سے مستفید ہونے کے عوام پہ ٹیکسوں کا بوجھ لاد رہے ہیں. بجلی اور گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے آپ اپنے لیے تو مشکلات پیدا کر ہی رہے ہیں عوام کو بھی مزید مہنگائی کے جہنم میں دھکیل رہے ہیں. اتنے اضافے کے بعد ایک دیہاڑی دار بندہ اپنا گزارہ کیسے کرے گا؟

 وزیراعظم پاکستان کو اب سمجھ جانا چاہئے کہ وہ اس ملک کے سربراہ منتخب ہو گئے ہیں لہذا کنٹینر کی سیاست کو چھوڑ کر خدارا عملی سیاست میں داخل ہو جائیے اور یو ٹرن لینے کی بجائے اس ملک کی فلاح و بہبود کی طرف نظر کیجئے نہ کہ عقیدہ کی بنیا د پہ اس ملک کی بنیادیں ہلائیں جائیں.

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •